Tuesday - 2018 Dec 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183272
Published : 2/9/2016 14:10

امام محمد تقی علیہ السلام کی سوانح عمری

امام محمد تقی شیعیان اہل بیت علیہم السلام کے نویں امام ہیں،آپ کا نام محمد بن علی بن موسی اور آپ امام جواد کے لقب سے مشہور ہیں، آپ 10 رجب سن 195 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور 30 ذی قعدہ سن 220 ہجری میں شہید ہوئے جبکہ ابھی آپ کی عمر 25 برس ہی تھی۔
امام محمد تقی علیہ السلام کی سوانح عمری
امام محمد تقی شیعیان اہل بیت علیہم السلام کے نویں امام ہیں،آپ کا نام محمد بن علی بن موسی اور آپ امام جواد کے لقب سے مشہور ہیں، آپ 10 رجب سن 195 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد حضرت امام  علی رضا علیہ السلام ہیں کہ جو سلسلہ امامت کی آٹھویں کڑی ہیں جبکہ آپ کی والدہ  جناب سبیکہ خاتون ہیں کہ جن کا تعلق زوجہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ماریہ قبطیہ کے خاندان سےہے، البتہ بعض کتابوں میں ان کا نام خیزران اور ریحانہ بیان ہوا ہے(1)
آپ کی ولادت با سعادت کو  امام رضا علیہ السلام  نے مؤمنین اور اپنے شیعیوں کے لئے  باعث خیر و برکت قرار دیا(2)
آپ کی کنیت «ابو جعفر» ہے اور تاریخ و حدیث میں آپ کو « ابو جعفر ثانی » کہا جاتا ہے جبکہ «ابو جعفر اول» امام محمد باقر علیہ السلام کو کہتے ہیں(3)
کم سنی اور منصب امامت
امام تقی علیہ السلام کی عمر شریف اس وقت  آٹھ(8) برس کی تھی کہ جب آپ منصب امامت پر فائز ہوئے،لہذا کمسنی اور طفولیت کے باعث کچھ لوگوں نے آپ کی امامت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے لئے جاکر ایک دوسرا امام چن لیا ، لہذا طفولت اور کمسنی کے باعث مسئلہ امامت حل ہونے تک بعض لوگوں کو حیرت اور سرگردانی کا سامنا رہایہاں تک کہ ان کے لئے یہ مسئلہ حل ہوا اور وہ لوگ آپ کی امامت کے پھر سے معتقد ہوگئے ، چونکہ یہ مسئلہ ان شبہات میں سے ایک تھا جو امام رضاعلیہ السلام  کی زندگی میں بھی اور امام تقی علیہ السلام  کی امامت کے دور میں بھی بعض لوگوں نے اٹھایا اور دونوں اماموں نے اس کا جواب قرآن کریم کی آیات کے تناظر میں پیش کیا ،ان میں سے ایک جواب تو وہی ہے کہ جسے خداوندعالم نے حضرت یحیی بن زکریاعلیہ السلام کی نبوت کے سلسلے میں قرآن مجید میں بیان کیا ہے چنانچہ ارشاد خدائے منان ہوتا ہے:«وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيّاً»،ترجمہ: اور ہم نے اسے بچپنے میں ہی فرمان نبوت دیا (اور عقل عطا کی)  ] سورہ مریم :[12 ۔
جبکہ دوسرا جواب،حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کے لئے ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام کو ابھی پیدا ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے اور آپ اپنی مادر گرامی کے آغوش میں محو استراحت تھے اور بنی اسرائیل کے مفاد پرست حضرت مریم کے کردار پر انگشت نمائی کررہے تھے تو اس وقت گہوارے میں موجود عیسی علیہ السلام نے اپنی والدہ گرامی کی عصمت و عفت،نیز اپنی نبوت کی اس طرح سے گواہی دی کہ دشمن انگشت بدنداں رہ گئے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:   ولادت کے پہلے چند دنوں میں حضرت عیسی(ع) کے تکلم کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔[42] نیز ارشاد ربانی ہے: «قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيّاً (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكاً أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيّاً (31) وَبَرّاً بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّاراً شَقِيّاً (32)»، ترجمہ: اس نے کہا میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے،اور اس نے مجھے برکت والا قرار دیا ہے جہاں بھی میں ہوں اور مجھے مامور کیا ہے نماز اور زکوٰة پر، جب تک کہ میں زندہ رہوں،اور مجھے اپنی ماں کے ساتھ ، نیک سلوک کرنے کا بھی حکم دیا ہے، نیز نے اس نے بدنصیب سرکش نہیں بنایا ہے،]  سورہ مریم :30،31،32[ ،(4)
کٹھن دور
جب سن 203 ہجری میں امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت ہوئی اس وقت امام محمد تقی علیہ السلام کا سن مبارک آٹھ برس تھا، چنانچہ آپ نے اس کم سنی میں منصب امامت کی سنگین ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا،لہذا آپ کی امامت کے سلسلے میں شیعہ چند گروہوں میں تقسیم ہوگئے،کچھ افراد آپ کے والد ماجد امام رضا علیہ السلام کے بھائی احمد بن موسی بن جعفر کی امامت کے قائل ہوگئے، جبکہ کچھ لوگوں نے آپ کے والد ماجد علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی امامت ہی پر توقف  کو اپنے لئے مصلحت قرار دیا،ان کے اختلاف کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ منصب امامت میں بلوغ کو  بنیادی شرط سمجھتے تھے،جبکہ ایک تیسرا گروہ بھی ان لوگوں کے درمیان تھا کہ جو بنص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، آپ کو اس عہدے کا حقیقی منصب دار مان کر آپ کی اتباع کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے تھے۔
تاہم آپ نے اپنے شیعیوں کے سامنے اس کم سنی کے باوجود، اپنی امامت کے جواز پر،ان آیات قرآنی سے استدلال فرمایا کہ جو خداوندعالم نے حضرت یحیی بن ذکریا کی نبوت پر پیش فرمائی کہ ہم نے ان کو بچپن ہی میں علم و حکمت سے نوازا، اور اسی طرح وہ آیات کہ جن میں حضرت یوسف اور باشاہ کی بیوی کے درمیان بچے کا فیصلہ کرنا اور حضرت سلیمان کا کسی سے علم حاصل کئے بغیر فیصلہ کرنا وغیرہ شامل تھیں (5)۔
امام محمد تقی علیہ السلام کامناظرہ
تاریخ و سیرت کی کتابوں کے مطابق امام محمد تقی علیہ السلام کے،اس زمانے کے بہت سے درباری علما اور فقہا سے کئی علمی مناظرے ہوئے جن میں ہمیشہ آپ کو غلبہ حاصل رہا،مثلا:
مامون کے دربار میں آپ کا مناظرہ
جس وقت مامون عباسی نے ، امام تقی علیہ السلام کے ساتھ اپنی بیٹی ام الفضل کی شادی کا فیصلہ کیا تو اس وقت عباسی خاندان،رؤساء اور عمائدین نے مامون کی اس پیش کش پر اعتراض کرتے ہوئے اسے خاندان علی علیہ السلام سے دور رہنے پر زور دیا ،اس نے اپنی بات کے اثبات کے لئے معترضین سے کہا: تم ان [امام جواد] کا امتحان لے سکتے ہو اور انہیں آزما سکتے ہو، چونکہ میری نظر میں روئے زمین پر ان سے بڑا کوئی صاحب فضل نہیں ہے ،لہذا انھوں نے اس کی اس پیش کش کو قبول کیا اور فیصلہ کیا کہ دربار کے عالم ترین فرد اور امام جواد علیہ السلام کے درمیان مناظرے کا اہتمام کیا جائے تاکہ وہ امام علیہ السلام کا امتحان لے سکیں۔
چنانچہ مناظرے کا دن طئے ہوا اور بروقت قاضی القضاة یحیی بن اکثم دربار میں پہونچ گیا اور امام علیہ السلام بھی نبوی شان اور حیدری جلال کے ساتھ دربار مامون جلوہ افروز ہوئے ،لہذا یحیی ابن اکثم نے مناظرے کا آغاز کرتے ہوئے آپ سے سوال کیا:اگر کوئی شخص حالت احرام میں کسی حیوان کا شکار کرے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟[47] یہ سوال سن کر امام علیہ السلام نے یحیی کے سامنے اس مسئلے کی تمام تر صورتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور پھر اس سے پوچھا تم ان میں کون سی صورت کے متعلق حکم معلوم کرنا چاہتے ہو؟، یحیی ابن اکثم کے پاس کوئی جواب نہ  تھا ، اور وہ خاموشی کے ساتھ اپنی جگہ بیٹھا رہا تو امام علیہ السلام نے حالت احرام میں شکار کی مختلف صورتوں کے احکام الگ الگ بیان فرمائے ، یہ منظر دیکھ کر اہل دربار اور عباسی رؤساء اور عمائد نیز دربار میں حاضر تمام درباری علماء ،فقہاء،محدثین  انگشت بدنداں رہ گئے اور سبھی حاضرین نے آپ کے علم کا اعتراف کیا اور اس وقت مامون کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا چونکہ اسے اپنے انتخاب پر نہایت ہی مسرت و خوشی محسوس ہورہی تھی تو اس نے عباسی رؤساء کی طرف خطاب کیا اور کہا: میں اس نعمت عظمی پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کیونکہ جو میں نے سوچا تھا وہی ہوا،(6)۔
شہادت
اگرچہ آپ کے متعدد مناظرے تاریخی کتابوں کی زینت ہیں اسی وجہ سے آپ کی شہادت کے اسباب کے حوالے سے، مروی ہے کہ بغداد کے قاضی ابن ابی داؤد نے معتصم عباسی کے ہاں چغل خوری کی اور اس سخن چینی کا اصل سبب یہ تھا کہ ایک مناظرہ کہ جو معتصم کے دربار میں وقوع پذیر ہوا، اس میں تمام دیگر فقہاء کے فتاوی کو نظر انداز کرکے صرف امام علیہ السلام کے حکم کی تعمیل عمل میں آئی تھی، کہ جس کا اصل مسئلہ چور کو دی جانے والی سزا کی تعیین کے سلسلے میں تھا، لہذا چور کا ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں امام علیہ السلام کی رائے پر عمل ہوا تھا اور یہ بات ابن ابی داؤد اور دیگر درباری فقہاء کی شرمندگی کا باعث ہوئی تھی،چنانچہ ابن ابی داؤد نے بادشاہ کو  امام علیہ السلام کی دشمنی پر وادار کیا اور وہ بھی اس کے بھکاوے میں آکر حضرت کو شہید کرنے کی فکر کرنے لگا جبکہ ابھی آپ علیہ السلام کی عمر شریف 25 سال سے زیادہ نہ تھی،چنانچہ اس نے 220 ہجری میں امام علیہ السلام کو مدینہ سے بغداد بلوا بھیجا ، اور وہ مسلسل آپ کو شہید کرنے کی تدبیریں کرتا رہا آخر کار اس نے اپنے ایک وزیر کی وساطت سے  اپنے برے اردے کو عملی جامہ پہنایا اس طرح امام علیہ السلام کو ذی قعدہ سن 220 ہجری میں زہر دغا دے کر شہید کردیا گیا،(7) البتہ بعض اہل تواریخ کی رائے یہ ہے کہ امام(ع) کو ام الفضل بنت مامون نے مسموم کیا تھا(8)
تاہم مسعودی اپنی تاریخ میں بیان کرتے ہیں کہ: معتصم عباسی اور ام الفضل کا بھائی جعفر بن مامون مسلسل امام(ع) کو مسموم کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔ چونکہ ام الفضل کی کوئی اولاد نہ تھی اور امام ہادی(ع) امام جواد(ع) کی دوسری زوجہ سے تھے۔ جعفر نے اپنی بہن کو اکسایا کہ آپ(ع) کو زہر دے کر قتل کردے، چنانچہ اس نے زہر کو انگور  میں پیوست کرکے امام محمد تقی علیہ السلام کو کھلا دیا،اور مسعودی کے بقول ام الفضل امام کو زہر دینے کے بعد پشیمان ہوئی اور رورہی تھی۔ اسی حال میں امام علیہ السلام  نے اس کو بد دعا دی اور آپ(ع) کی شہادت کے بعد ام الفضل بہت شدید مرض میں مبتلا ہوگئی(9)۔
منابع و مصادر
1۔  ابن ابی الثلج ، تاریخ الائمة، در مجموعة نفیسة فی تاریخ الائمة، چاپ محمود مرعشی ، قم : کتابخانہ آیت الله مرعشی نجفی ، 1406ق۔
2.شیخ مفید،محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد،ترجمہ ہاشم رسولی محلاتی، انتشارات علمیہ اسلامیہ، دوم۔
3۔  بیهقی، ابوالحسن علی بن زید، تاریخ بیہق،تہران، کتابفروشی فروغی، تصحیح و تعلیق احمد بهمنیار، با مقدمه محمد بن عبدالوهاب قزوینی۔
4۔ طبرسی، الاحتجاج، مصحح ابراہیم البہادری و محمد ہادی بہ، قم، انتشارات اسوه، الطبعہ الاولی، 1413ق۔
5۔عاملی، جعفر مرتضی، زندگانی سیاسی امام جواد (ع)۔
6۔جاسم، حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدهم،ترجمہ محمد تقی آیت اللہی،تہران،مؤسسہ انتشارات امیر کبیر، 1386ش۔
7۔عیاشی، ابی نصر محمد بن مسعود، التفسیر العیاشی،تہران، المکتبہ العلمیہ الاسلامیہ، تصحیح ہاشم رسولی محلاتی۔
8۔دمشقی، اسماعیل بن کثیر، البدایہ و النہایہ، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ط 1413/1993 و طبع 1408ق./1988م۔
9۔مسعودی، ابوالحسن علی بن الحسین بن علی، اثبات الوصیۃ للامام علی بن ابی طالب علیه السلام، قم: منشورات الرضی، 1404ق۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 18