Monday - 2018 April 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183278
Published : 2/9/2016 21:29

اھل بیت علیھم السلام کون حضرات ہیں ؟

ھدایت اور نجات کا دار و مدار اھل بیت علیھم السلام کی معرفت اور اتباع ہے اگر ایک انسان کی زندگی میں ھر نعمت خدادادی ھو لیکن اھل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مودت سے خالی ھو گویا وہ شخص ابھی خالی ھاتھ ہے
اھل بیت علیھم السلام کون حضرات ہیں ؟
معنوی کمالات کا حصول اور عالمِ غیب سے رابطہ بر قرار کرنا انسان کی خلقت کا آخری ہدف اور مقصد ہے یہ وہ امر ہے جسے پروردگارِ عالم نے ہرانسان کی فطرت اور جبلّت میں قرار دیا ہے ۔
ان کمالات اور معنویات تک رسائی کا راستہ وہی صراطِ مستقیم ہے جس کی راہنمائی آسمانی ادیان اور شریعتوں نے کی ہے ۔ بلا شبہ ایسے راہنماوں کی راہنمائی کے بغیر جو اس راستہ کے پیچ و خم سے بخوبی واقف ہوں اور انبیائے الٰہی کی طرح برگزیدہ ، لائق، اور خدا اور اس کی مخلوق کے درمیان فیض کا واسطہ ہوں، اس راستہ کو طے کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ایسے افراد کو شریعت کی اصطلاح میں "امام" کہا جاتا ہے یہ سبھی افراد پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے خاندان سے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اہلبیت کہلاتے ہیں ۔
دینِ اسلام کی نگاہ میں امام کے وجود اور اس کی کارکردگی معاشرہ کی ظاہری قیادت اور سیاسی رھبری تک محدود نہیں ہے بلکہ امام ،دینی ، علمی، معنوی اور الٰہی ولایت کے شعبہ میں بھی امّت کا مرجع شمار ہوتا ہے ، بعثتِ انبیاء کےآخری ہدف تک پہنچنے میں امّتِ مسلمہ کی راہنمائی کرتا ہے ۔
بلاشبہ پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اھلبیت کی ولایت اور امامت دین کا اساسی ترین رکن ہے ،اھلبیت کی پیروی اور اطاعت شیعہ مذہب کا سب سے بڑا طرّۂ امتیاز ہے جو مذہبِ ہٰذا کو دیگر اسلامی مذاہب سے جدا کرتا ہے ۔
پیغمبرِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیاتِ طیّبہ میں بارہا اس کی اہمیت کی طرف توجّہ دلائی اور فرمایا: انّی تارک فیکم الثّقلین کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی ، ما ان تمسّکتم بھما لن تضلّوا بعدی : کتاب اللہ فیہ الھدیٰ والنّور حبل ممدود من السّماء الی الارض و عترتی اہل بیتی ، وانّ اللطیف الخبیر قد أخبرنی انّھما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض ؛ وانظروا کیف تخلّفونی فیھما ، (ترجمہ) میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اللہ کی کتاب اور میری عترت ،میرے اھلبیت ۔ جب تک تم ان دو چیزوں سے متمسّک رہو گے ہر گز گمراہ نہیں ہوگے ، اللہ کی کتاب میں ہدایت اور نور ہے اور وہ آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی رسّی ہے ، میری عترت میرے اھلبیت ہیں ، مجھے لطیف اور خبیر پروردگار نے اس بات کی خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہیں ہوں گے یہانتک کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات کر لیں ، پس تم اس بات کا خیال رکھنا کہ میرے بعد ان سے کیا سلوک کرو گے ۔
مذکورہ بالا حدیث میں قرآن کے ساتھ ساتھ اھلبیت[ع] کو بھی انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کا سبب قرار دیا گیا ہے ، قرآن مجید کے سورۂ احزاب کی تینتیسویں آیت بھی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اھلبیت کی عصمت ، طہارت اور ہدایت پر تاکید کررہی ہے ، ارشادِربّ العزّت ہے: انّما یرید اللہ لیذھب عنکم الرّجس اھل البیت و یطھّرکم تطھیرا، بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہلبیت تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔
پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے بھی متعدّد احادیث میں جنہیں شیعہ و سنّی محدّثین نے نقل کیا ہے ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت فاطمۂ زھرا، حضرت حسن ابن علی ، حضرت حسین ابن علی علیھم السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی نسل سے ۹ معصوم اماموں کو اپنے اھلبیت کے طور پر پہچنوایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں کی ہدایت کے ذمّہ دار ہیں ۔
پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور آپ کے اھلبیت[ع] ،مسلمانانِ عالم کے نزدیک سب سے حسین کلمہ اور سب سے برتر مخلوق ہیں ، بہت سے محقّقوں اور دانشوروں نے مختلف طریقوں سے دیگر اقوامِ عالم کو اھلبیت عصمت و طہارت سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے ، چونکہ ان بلند مرتبہ ہستیوں کی معرفت ،ان کی سیرت طیّبہ سے آشنائی بے شمار افراد کی ھدایت اورصحیح راستہ کے انتخاب کے لئے سازگار ماحول فراہم کرسکتی ہے ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 April 23