Monday - 2018 April 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183279
Published : 2/9/2016 21:19

امام جواد کا کریمانہ اخلاق

امام محمد تقی علیہ السلام اپنے زمانے کے سب سے بڑے کریم ، مھمان نواز اور آپ عطا اور بخشش کا گھرا سمندر تھے اسی سبب آپ کا ایک لقب جواد تھا
مكارم اخلاق و فضائل
ائمہ معصومين كى خصوصيتوں ميں سے ايک حقيقتوں كى شناخت اور اس كا ادراک عام لوگوں كى قوت ادراک سے زيادہ تھا ، اس ذاتى نبوغ اور عقلى فروغ كے ظہور كے لئے بچپن بھى مانع نہيں تھا ، اسى وجہ سے ان حضرات كى زندگى اور ان كى عادتيں پيدائشے ہى سے دوسروں كے لئے اسوہ اور نمونہ قرار پاتى ہيں، ان حضرات كى علمى برترى اور مراتب كمال كا علماء اور بزرگوں كا اعتراف ، اس حقيقت كى مؤيد ہیں ، امام محمد تقى (ع)كے اخلاقى فضائل كا گوشہ بيان كرنے سے پہلے اھل سنت كے علماء كاان كے بارے ميں نظريہ بيان كرنا ضرورى ہے _
سبط ابن جوزى فرماتے ہيں :محمد جواد (ع) علم ، تقوى ، پرہيزگارى اور سخاوت ميں اپنے والد بزرگوار كے راستہ پر تھے _(1)
ابن تيميہ كا بيان ہے كہ محمد ابن على،کہ جن كا لقب جواد تھا بنى ہاشم كے بزرگوں اور ممتاز شخصيتوں ميں سے تھے وہ سخاوت اور بزرگى ميں مكمل شھرت ركھتے تھے، اسى وجہ سے جواد نام پڑا_ (2)
الف _آپ کی سخاوت اور کرم
امام جواد علیہ السلام بخشش و عطا اور كرامت كا مكمل پیکر و مصداق تھے لوگ ان كے عطيوں او عنايتوں سے بھرہ ورہوتے تھے ،اس حقيقت كى نشان دھى « جواد»  كے لقب سے ہوتى ہے ، على بن ابراھیم قمی  اپنے والد بزرگوار سے نقل كرتے ہيں كہ ميں ایک روز امام جواد (ع) كى خدمت ميں تھا كہ  « صالح ابن محمد» قم كے اوقاف كے متولى (3) ، وہاں آئے اور عرض كيا : ميرے آقا وقف كى آمدنى ميں سے دس ھزار درھم حلال كر ديجئے ، اس لئے كہ ھم نے اس كو اپنے خاندان كے نفقہ ميں خرچ كرديا ہے _
امام نے خندہ پيشانى سے فرمايا : ميں نے حلال كيا _(4)
ب_ دوسروں كى مشكل كو حل كرنا
بست سجستانى (5) سے قبيلہ بنى حنيفہ كا ايک شخص نقل كرتا ہے كہ ميں معتصم كى خلافت كے ابتدائي زمانہ ميں مكہ كے سفر ميں امام (ع) كے ساتھ تھا، حكومت كے كچھ ذمہ دار افراد بھى دستر خوان پر حاضر تھے ،ميں نے امام (ع) سے عرض كيا كہ میں آپ پر قربان جاؤں ، ميرے علاقہ كا حاكم آپ كے خاندان كے دوستداروں ميں سے ہے اور خراج كے سلسلہ ميں ، ميں اس كے محكمہ كا قرضدار ہوں ليكن مجھ ميں ادا كرنے كى طاقت نہيں ہے، اگر آپ مصلحت سمجھيں تو اس كو ايک خط لكھ ديجئے تا كہ وہ اس سلسلہ ميں ہمارے حق ميں محبت كا ثبوت دے۔
امام (ع) نے فرمايا: كہ ميں اس كو نہيں پھچانتا ميں نے عرض كيا كہ:فرزند رسول! جيسا كہ ميں نے آپ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ وہ آپ كا عقيدت مند ہے اس لئے يقينى طور پر آپ كا خط ميرے لئے مفيد ہو گا ، امام (ع) نے كا غذ قلم اٹھا يا اور لكھا حامل رقعہ نے تمہارے عقيدہ كى تعريف كى ، جان لو كہ اگر تم احسان اور نيک كام كروگے وہ تمہارے لئے فائدہ مند ہو گا ، اس بنا پر اپنے برادران دينى كے ساتھ حسن سلوک اور نيكى كرو اور يہ جان لو كہ خداوند عالم ايک ذرہ برابر شئی كے بارے ميں بھى تم سے سوال كريگا(6)ميں نے خط ليا اور چل پڑا جب خط كى اور ميرے پھنچنے كى خبر سجستان كے انچارج كے پاس پہنچى تو وہ شھر سے دو فرسخ ، باھر ميرے استقبال كے لئے آيا اس نے خط ليا اس كو چوما اور اپنى آنكھوں سے لگايا اور پوچھا تمہارى كيا حاجت ہے؟ ميں نے اس سے اپنى پريشانى بيان كى اس نے حكم ديا كہ ميرا نام قرض والے رجسٹر سے نكال ديا جائے ، اور جب تک وہ انچارج كام پررہا ميرا ٹيكس معاف رہا ، اس كے علاوہ اس نے ميرى اچھى خاصى مدد كى اور جب تک وہ زندہ رہا اس خط كى بركت سے اس نے ميرے حق ميں نيكى اور حسن سلوک ميں كوئي كمى نہيں كى (7)
3_ محمد ابن سہل قمى، نقل كرتے ہيں كہ ميں مدينہ گيا اور امام جواد (ع) كے پاس پھنچا اور ميں نے چاھا كہ ان سے ايک لباس مانگ لوں ليكن ميں مانگ نہ سكا ، ميں نے اپنے دل ميں كہا كہ اپنى خواہش لكھ كردوں پھر ميں نے لكھ ديا ... ليكن ميرے دل ميں يہ بات گذرى كہ خط كو نہ بھيجوں ، ميں نے خط پھاڑ ڈالا اور مكہ كى طرف چل پڑا، اسى حال ميں ايک شخص كو ميں نے ديكھا كہ اس كے ہاتھ ميں ايک رومال ہے اور وہ قافلہ ميں مجھ كو ڈھونڈھ رہا ہے_ وہ مجھ تک پہنچا اور اس نے كہا: ميرے آقا نے تيرے لئے يہ لباس بھيجا ہے _(8)
منابع و مصادر
1۔و كان على منھا ج ابيہ فى العلم و التقى و الزھد و الجود ''تذكرة الخواص،ص، 321 ۔
2۔محمد بن على الجواد كان من اعيان بنى ھاشم و ہو معروف بالسخاء و السود ولھذا سمتى الجواد'' منھاج السنة ج 2/137۔
3۔ جو وقف حضرت كے نام سے تھا آپ اس وقف كے متولى تھے۔
4۔ بحار جلد 50/105منقول از كافى و غيبت شيخ۔
5۔ بست افغان كا ايك قديم شہر ہے جو بلوچستان او رھند كے راستہ ميں واقع ہے اس كا مركز سجستان تھا جس كا اطلاق وسيع علاقہ پر ہوتا تھا _ ہرات سے 80 فرسخ ہے _ر_ك ،معجم البلدان و المنجد باب اعلام ،كلمہ بست و سجستان۔
6۔ اما بعد فان موصل كتابى ھذا ذكر عنك مذھباًجميلاً و ان مالك من عملك ما احسنت فيہ فاحسن الى اخوانك و اعلم ان اللہ عزوجل سائلك عن مثاقيل الذر و الخردل۔
7۔بحار جلد 50 / 87_86،انوار البھيية/238_237۔
8۔ بحار جلد 50/44 منقول از خرائج راوندى۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 April 23