Sunday - 2018 Oct. 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183280
Published : 2/9/2016 22:55

اسلام میں گھرانے کی تشکیل کا بنیادی مقصد

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک کمال اور عروج انسانی تک نھیں پھونچ سکتا جب تک کہ اس میں سکون نفس اطمئنان قلب جیسے اھم عناصر نہ پائے جائیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے کے افراد رشتہ ازدواج میں منسلک ھوکر ایک صالح نسل بشریت کے حوالے کریں

اسلام میں گھرانہ تشکیل دینے کا اھم مقصد
معاشرے میں اھم ترین اور اصلی رکن، گھرانہ اور خاندان کا تشکیل دینا ہے اور یھی انسانوں، قبیلوں اورامتوں کی خوشبختی و بدبختی کا سبب ہے، اسی لیے اسلام نے خصوصی طور سے گھرانہ اور خاندان کی سلامتی، رشد و تکامل کی طرف توجہ دلائی ہے۔
گھرانہ اور خاندان، ایسا سلسلہ ہے کہ جو مرد و عورت کی شادی کے ذریعہ وجود میں آتا اور نسل کے بڑھنے سے وسعت پاتاہے،ھر انسان کی شخصیت کی بنیاد اس کے گھرانہ سے رکھی جاتی ہے اسی وجہ سے اسلام نے گھرانہ اور خاندان کی بنیاد اور مضبوطی پر بہت تاکید کی ہے اور اس کو بربادی سے بچانے کے لیے بہت زیادہ راہنمائیاں بیان کی ہیں۔
یہ راہنمائیاں کہ جو وحی الھی اور انسانی فطرت کے فائق اصولوں کے مطابق ہیں دوسرے ادیان و مذاہب کے مقابلے  صرف اسلام سے مخصوص ہیں کہ ھم یہاں پر فقط انھیں کی طرف اشارہ کریں گے۔
اس میں کوئ  شک نھیں ہے کہ ان حقیقتوں تک پھنونچنے کے لیے اور صحیح و سالم گھرانہ اور خاندان اور اس کے نتیجے میں سالم و پر امن معاشرہ کے حصول کے لیے حضرات معصومین علیھم السلام کی تعلیمات اور گرانبھا فرمائشات کی طرف توجہ ضروری ہے۔ اس مقالہ میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ گھرانہ اور خاندان سے متعلق آیات و حضرات معصومین علیہم السلام کی احادیث پر بحث و تحقیق کی جائے۔

گھرانہ اور خاندان کا تقدس
گھرانہ اور خاندان کی تشکیل اسلام کے نقطہ نظر سے اس قدر زیادہ تقدس کی حامل ہے کہ کسی دوسری چیز سے قابل قیاس نھیں ہے  ایک حدیث میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا: « ما بنی بناء فی الاسلام احب الی اللہ من التزویج»
اسلام میں اللہ کے نزدیک شادی سے زیادہ محبوب تر کوئی بھی بنیاد نہیں رکھی گئی ہے۔
یہ کلام، اس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام کی نظر میں تمام  با اھمیت چیزوں کی اساس اور جڑ گھرانہ اور خاندان ہے، گھرانہ اور خاندان کی طرف یہ خاص توجہ  اس کی تقویت و مضبوطی کا سبب ہے اور اس کے کمزور و برباد ہونے سے بچاؤ کی ایک کوشش اور تقدس کی طرف  اشارہ ہے ، کہ جو اس بات  سے رکاوٹ ہے کہ عورت سے کوئی بازاری سامان کی طرح  سوءاستفادہ نہ کیا جائے،اسلام کی نظر میں عورت اسقدر عظیم مقام رکھتی ہے کہ جس کو طول تاریخ میں عظیم انسانوں کی تربیت گاہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، اس عظیم نظریہ کے مقابلے کہ جو گھرانہ اور خاندان کے متعلق اسلام میں پایا جاتاہے بعض مغربی ممالک میں گھرانہ اور خاندان کی پستی اور شکست کو بخوبی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے،کہ جو بھت سی روحی و نفسیاتی مشکلات کا سبب ہیں ان مغربی ممالک میں گھرانہ اور خاندان بہت ہی تزلزل کا شکار ہیں کہ جو اس کے تقدس کو برباد کرنے اور اس کی مرکزیت کو ختم کرنے سے وجود میں آیا ہے۔

گھرانہ اور خاندان کی بربادی، مغربی ممالک میں بھت سی مشکلات کے وجود پانے کا سبب بنی ہے جیسے ہم جنس پرستی ، جرائم، لڑکی و لڑکوں کا بھاگ جانا وغیرہ، ان مشکلات کا واحد علاج  صرف یھی ہےکہ گھرانہ اور خاندان کو تقویت دی جائے اور اس کو مرکزیت بخشی جائے ، اس سلسلے میں دین مقدس اسلام  گھرانہ اور خاندان کی تشکیل کی طرف خاص توجہ دیتا ہے اور اس کے احترام و تقدس کی حفاظت کرتا ہے اور اس سلسلہ میں ہر طرح کی بے توجھی ، انحراف و تزلزل کو انسانی شخصیت کا انحراف اور اس کے نتیجہ میں انسانی معاشرے کے سقوط کا سبب جانتاہے ۔

درحقیقت گھرانہ اور خاندان کے تشکیل کا مقصد کیا ہے  اور کیوں اسلام اس پر اس قدر تاکید کرتا ہے ؟  جو افراد گھرانہ اور خاندان کے تقدس اور احترام کے قائل نہیں ہیں وہ  گھرانہ اور خاندان کی تشکیل کو صرف جنسی لذات  کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھتے ، ان کی نظر میں مرد و عورت کا ایک دوسرے کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ استعمال و دخالت  صرف ایک دوسرے کی جنسی لذتوں کو پورا کرنا ہے ۔

اسی وجہ سے جو لوگ گھرانہ اور خاندان سے باھر اپنی اس جنسی ضرورت کو پورا کرلیتے ہیں  وہ گھرانہ اور خاندان کے  تشکیل کی طرف کوئی رغبت نہیں رکھتے  اس لیے کہ اس نظریہ کے مطابق  گھرانہ اور خاندان کی تاسیس سے بھت زیادہ ذمہ داریاں مرد و عورت کے اوپر پڑجاتی ہیں، اور آج کا ماڈرن انسان کہ جو آرام اور ہر طرح کی اضافی ذمہ داریوں سے فرار کی طرف مائل ہے طبیعتا گھرانہ اور خاندان کی تشکیل کی طرف نھیں جاتا۔
لیکن قرآن اور اسلامی احادیث کے نقطہ نظر سے گھرانہ اور خاندان کی تشکیل متعدد اخلاقی ، نفسیاتی، معاشرتی و دینی حکمتیں اور دلائل رکھتی ہے۔ اسلام ،معاشرہ کو اھمیت دینے کی نظر سے گھرانہ اور خاندان کی تاسیس  اور اس کے تقدس کو ایک ضرورت اور بہت بلند ورفیع اھداف کی صورت میں دیکھتا ہے ۔

نفسیاتی سکون
گھرانہ اور خاندان کی تاسیس کا اہمترین اور سب سے پھلی حکمت نفسیاتی سکون ہے، قرآن کریم نے اس کو صراحتا بیان فرمایا ہے: «و من آیاته ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیها و جعل بینکم موده و رحمه ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون»
اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تمہاری ہی جنسوں سے تمہارے لیے شریک حیات قرار دیں تاکہ ان کے ذریعہ سکون پاسکو اور تمہارے درمیان محبت و رحمت قرار دی۔ بیشک اس نعمت میں صاحبان فکر کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

خداوندعالم نے مرد و عورت کو اس طرح خلق فرمایا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو مرحلہ تکمیل تک پہونچانے والے ہیں اور اس وجہ سے جب تک گھرانہ اور خاندان کی صورت میں یہ دونوں ایک دوسرے سے وصال حاصل نہ کریں تب تک سکون حاصل نہیں ہوسکتا اسی سکون کے ذریعہ سے مرد و عورت ایک دوسرے کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں اور اس طرح مرحلہ کمال تک پہونچ جاتے ہیں، عصر حاضر میں اس کرہ زمین پر اکثر لوگ آرام و سکون کی تلاش میں ہیں اور اس سلسلہ میں بھت زیادہ پیسہ خرچ کرنے کو تیار ہیں تاکہ سکون و آرام مل جائے ، طرح طرح کے سفر پر جاتے ہیں مخلتف و متنوع طریقوں کی تفریحات کا تجربہ کرتے ہیں اور مادی و دنیوی مخلتف قسموں کی لذتوں کا مزہ چکھتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے کھوئے ہوئے آرام و سکون کی تلاش میں  سرگردان و پریشان ہیں۔

لیکن اسلام  ، آرام و سکون حاصل کرنے کی عوامل و اسباب میں سے شریک حیات کا انتخاب اور زندگی کے مرکز کی تاسیس کو ایک اہمترین سبب جانتا ہے ، جس وقت خداوندعالم چاہتا ہے کہ گھرانہ اور خاندان کے تاسیس اور شادی کی حکمت کوبیان کرے تو یہ نھیں کہتا کہ شریک حیات و گھرانہ اور خاندان کی تاسیس کی حکمت نسل کی بقاء یا نیک اولاد، یا فسق و فساد سے حفاظت یا اخلاقی و معاشرتی ویا اسلامی اھم ترین نظریات کی توسیع وغیرہ ہے،بلکہ ایک ایسی حکمت کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ جس کے بغیر انسانی خلقت کا کوئی بھی مقصد قابل تحقق نھیں ہے اور وہ نفسانی سکون ہے ، سکون نفس  کے بغیرکسی بھی  جوان سے تقوی و دینداری کی توقع نھیں  کی جاسکتی ، سکون نفس  کے بغیر نہ ھی صحیح و سالم اور صالح نسل وجود میں آسکتی ہے اور نہ ھی اخلاقی و معاشرتی زندگی وجود پاتی ہے اور نہ ھی دینی اہمیتیں و توحیدی آرمان وسعت پاتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں اگر کسی جوان کو سکون و آرام کا احساس نہ ہوتو اخلاقی فسادو معاشرتی بداخلاقیوں میں پڑنے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اگر کوئی جوان سکون نفس کا احساس نہ کرے تو  وہ کسی طرح کی خلاقیت و ابتکار اور ذاتی استعداد کو  نھیں سنوار سکتا ، وحشتناک جنایتیں،جرائم اور خودکشیاں  اضطراب اور روح کے متعادل نہ ہونے کی وجہ سے پیش آتی ہیں لہذا اس سکون و آرام کے حصول کے ذریعہ معاشرے میں بھت سی برائیوں اور فساد کی کمی کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔
اب یہ دیکھنا چاھئے کہ کون سا گھرانہ اور خاندان ،زندگی میں سکون وآرام کا سبب بن سکتا ہے ؟اور کس طرح اس طرح کے گھرانہ اور خاندان کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے ؟
آرام و سکون بخش، گھرانہ اور خاندان کے لیے موانع و رکاوٹیں کیا کیا ہیں؟ اور کس طرح اس مقدس بنیاد کو بربادی سے روکا جاسکتا ہے ؟
اسلامی روایات کی طرف مراجعہ کرنے سے یہ درک کرسکتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم(ص) اور اھل بیت طاھرین علیھم السلام گھرانہ اور خاندان کی تاسیس کے لیے لوگوں کو کس قدرتشویق و ترغیب دلاتے تھے ، حضرت رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں: شادی کے وقت آسمان رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
اور دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں : کہ جو کوئی بھی میرے دستورات کو پسند کرتا ہے  اس کو چاہیے کہ وہ میری سنت کی پیروی کرے اور میری سنتوں میں سے ایک شادی کرنا ہے ، دوسری روایات میں شادی کے کچھ آثار و برکات  بیان ہوئے ہیں۔ حضرت رسول اکرم(ص)کا ارشاد گرامی ہے:« ایک شادی شدہ مرد کی دورکعت نماز خداوندعالم کے نزدیک کنوارے مرد کی ستر رکعت کے برابر ہے»۔
گھرانہ اور خاندان کی تاسیس کی اہمیت اس حدتک ہے  کہ بعض روایات میں والدین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر وہ اپنی اولاد کی شادی کے مقدمات و شرائط فراہم کرنے میں کوتاھی کریں تو گناہگار ہونگے، اس سلسلے میں حضرت رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:جس شخص کی اولاد شادی کے قابل ہوجائے اور وہ اس کی شادی کے امکانات رکھتا ہو لیکن اس کام کو انجام نہ دے اور اس کے بچے سے کوئی لغزش انجام پائے تو  اس کا گناہ والدین کی گردن پر ہے ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت میں آپ اپنے جدبزرگوار حضرت رسول اکرم(ص) سے نقل کرتے ہوے فرماتے ہیں: حضرت رسول اکرم(ص) نےعورتوں کو شادی نہ کرنے اور شوہر سے محروم  رہنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ایک روایت میں: شادی کو دلوں کے ملاپ کا ذریعہ اور ایک دوسرے کو آپس میں نزدیک ھونے کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر شادی کے بارے میں قرآنی کریم کی آیت ، رسول اکرم (ص) کی حدیث اور متعدد روایات نہ ھوتیں تو بھی  اس کے بھت سے آثار و برکات جیسے اپنے عزیزو اقارب  کے ساتھ نیکی، ایک دوسرے سے دور افراد کو اپس میں قریب کرنا، دلوں میں محبت و الفت ایجاد کرنا ، حقوق کی ادائیگی، نسل کو بڑھانا، مشکلات کو دور کرنا وغیرہ اور دیگر حوادث سے حفاظت کے لیے جو آثار وبرکات خداوندعالم نے قرار دئیے ہیں یھی کافی ہیں کہ عقلمند انسان اس کام کی طرف رغبت پیدا کرے اور ہوشیار و صحیح ھدایت یافتہ انسان اس کا م کی طرف جلدی کرتے ہیں۔
دوسری طرف جیسا کہ اشارہ کیا جاچکا ہے کہ شادی ، اخلاقی ، معاشرتی فساد سے بچاتی ہے حضرت رسول اکرم(ص) کا ارشاد گرامی ہے: جب کوئی جوان اپنی نوجوانی میں شادی کرتا ہے تو شیطان فریاد کرتا ہے کہ مجھ پر وائے ہو مجھ پر وائے ہوکہ   اس نے اپنے دین کا دو تہائی حصہ میرے  خطرے سے بچالیا ہے۔
بنابراین انسان صرف ایک تہائی دین میں خداسے تقوی اختیار کرے۔

لیکن بنیادی اور اھم سوال یہ ہےکہ پھر کیوں بہت سے جوان شادی کی فکرمیں نھیں ہیں، یہاں پر شادی کے  کچھ موانع اور رکاوٹوں کی تحقیق پیش کرتے ہیں۔
بہت سے جوان غریبی و تنگدستی کی وجہ سے شادی نہیں کرتے حالانکہ خداوندعالم نے سورہ نور میں تنگدست و غریبوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ حالات میں کشائش پیدا کرے گا اور فرماتا ہے تم کو اپنے فضل و کرم سے بے نیاز کردوں گا،حضرت رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:«جو کوئی بھی غریب ہونے کے ڈر سے شادی نہ کرے اس نے گویا خداوندعالم پر برا گمان کیا ہے»۔
بھت سی دوسری  روایات میں شادی کو روزی میں برکت و وسعت کا ذریعہ اور خداوندعالم کو شادی شدہ افراد کی روزی کا ضامن اور متکفل  مانا گیا ہے۔
بھت سے دوسرے جوان، اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہونے یا غفلت برتنے کی وجہ سے اس مقدس کام میں سستی و تساہلی برتتے ہیں۔
چنانچہ ایک عورت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئی اور عرض کی:فرزند رسول! آپ پر سلام ہو میں تارک دنیا عورت ہوں، امام نے فرمایا: تیری تارک دنیا ہونے سے کیا مراد ہے؟
اس نے کہا: میں شادی نہیں کرنا چاہتی ۔
امام نے فرمایا: کیوں؟
اس نے کہا: اس کام کے ذریعہ فضیلت حاصل کرنا چاہتی ہوں۔
امام نے فرمایا: جاؤ اس ارادے سے باز آؤ اس لیے کہ اس کام میں اگر کوئی فضیلت ہوتی تو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا فضیلت حاصل کرنے میں تجھ سے زیادہ مستحق تھیں اور کوئی بھی ان پر فضیلت میں سبقت حاصل نھیں کرسکتا تھا۔
بھت سے دوسرے جوان، ذمہ داری سے فرار ھونے کی وجہ سے شادی نہیں کرتےوگھرانہ اور خاندان تشکیل نھیں دیتے۔
شاید اس طرح کے جوانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ شادی یعنی شخصی و معاشرتی آزادیوں کو محدود کرنا، حالانکہ شادی انسان کی بھت سے انفرادی و معاشرتی میدانوں  بھی بھترین معاون ثابت ہوتی ہے ،شادی شدہ جوان کو لوگ اچھی اور مثبت نگاہ سے دیکھتے ہیں اور معاشرے میں شادی شدہ افراد پر لوگوں کا اعتبار و اعتماد کنوارے جوانوں سے زیادہ ہے  اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سی معاشرتی ذمہ داریوں کو قبول کرنا شادی شدہ افراد کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ گھرانہ اور خاندان کی تاسیس ہی کے ذریعہ ایک جوان ترقی و رشد کرسکتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرسکتا ہے اور معاشرتی میدان میں بھتر فعالیت انجام دے سکتاہے۔
امید ہے کہ آیات قرآن اور اھل بیت(ع) کی روایات پر عمل پیرا ہوکر ہمارے عزیز جوان اسلامی گھرانہ اور خاندان کی بنیاد رکھیں اور واقعی کمال و رشد کو حاصل کریں اور اس کے نتیجے میں معاشرتی رشد و تکامل تک رسائی حاصل کریں۔

نتیجہ
اسلام میں گھرانہ اور خاندان سے اھم تر اورمقدس تر کوئی بنیاد نہیں ہے اس عظیم رکن کے تقدس کو ختم کرنا بہت زیادہ خطرات و نقصانات کو پیش کرسکتا ہے کہ جن میں سے نفسانی مشکلات ، معاشرتی فساد اور اخلاقی برائیوں کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔
آیات و روایات میں جوانوں کے گھرانہ اور خاندان کی تاسیس کے لیے بھت زیادہ تاکید و ترغیب پائی جاتی ہے  اور ان کو رزق و روزی میں وسعت و برکت کے لیے الھی وعدہ دیا گیا ہے۔
اسلام  کے خلاف مغربی ثقافت میں لوگ گھرانہ اور خاندان کی تاسیس سے فاصلہ ایجاد کرنے کی وجہ سے بہت سی مشکلات میں گرفتار ہوچکے ہیں ان کی نظر میں شادی صرف جنسی لذتوں کے پورا کرنے کے لیے ہے جب کہ اسلام  کی نظر میں شادی جنسی و جسمی لذتوں کو پورا کرنے کے علاوہ اور بھت سی چیزوں کا سبب ہے کہ جن میں سے سکون نفس اور مرد عورت کے لیے معنوی تکامل و رشد ،اھم ترین چیزیں ہیں۔

منابع و مصادر
 1۔قرآن کریم
2 ۔بحارالانوار ، محمد باقر مجلسی
3 ۔الکافی ، محمد بن یعقوب کلینی
4 ۔من لا ینصره الفقیه ، ابن بابویه قمی (شیخ صدوق)
5 ۔تحکیم خانواده ، محمدی ری شهری ،قم : دارالحدیث 1387


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Oct. 21