Tuesday - 2018 Dec 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183283
Published : 3/9/2016 12:38

ازدواجی زندگی ایک حسین بندھن ،اگر شک اور غصے سے پرھیز کیا جائے

اسلام میں شادی بیاہ ایک نھایت ھی حساس ذمہ داری کا نام ہے کہ جو آپسی میل محبت کے سھارے ھی ایک معتبر گھرانے کی تشکیل میں معاون ثابت ھوتی ہے۔

ازدواجی زندگی ایک حسین بندھن ،اگر شک اور غصے سے پرھیز کیا جائے
ایک کھاوت ہے کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں، مگر ان کا ملاپ زمین پر ہوتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شادی موتی چور کا لڈو ہے جو کھائے پچھتائے جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے اور اس سے بھی انکار نھیں کہ رشتہ ازدواجی میں بندھنے کے بعد میاں بیوی کی زندگی کی گاڑی کے دو پھئیے بن جاتے ہیں، مگر پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اس ملاپ پر لب بام شکوے اور ناراضگیاں لڈو کی لذت میں کمی کر کے پھیوں کو بھی غیر متوازن بنا دیتے ہیں ، جس سے ازدواجی زندگی سھل کی بجائے مشکل ہوجاتی ہے،تو ایسا کیا کیا جائے کہ یہ زندگی خوش و خرم اور کامیاب گزرے شادی ایک دن یا ایک مھینے یا ایک سال کی بات نھیں بلکہ اس بندھن کی ڈور تو سانسوں سے جڑجاتی ہے،اور اسے اس وقت تک،کامیابی سے نھیں گزار سکتے جب تک دونوں فریق ایک دوسرے سے تعاون اور سمجھوتہ نہ کریں۔
 جبکہ اکثر یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ سمجھوتوں پر ساری زندگی نھیں گزاری جا سکتی،جبکہ حقیقت اور سچائی بھی ہے کہ ہمیں قدم قدم پر سمجھوتوں پر کام لینا پڑتا ہے تو پھر اس دوامی رشتے میں اس سے انکار کیوں؟ شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے میں مرد اور عورت دونوں برابر کے حصے دار ہیں اس لیے دونوں کا آپس میں تعاون اور مخلص ہونا بھت ضروری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ خلوص کی کمی اس رشتے کو کمزور کردے۔
ابتدا میں خصوصًا یہ ذمہ داری شوھر پر عائد ھوتی ہے کہ بیوی جو اس کی خاطر بابل کے گھر کو الوداع کرتی ہے اور اس سے وابستہ تمام نئے رشتوں کو بھی قبول کرتی ہے۔
جس سے وہ انجان تھی لھذا شوھر نامدار کو ایسے وقت میں اسکی مکمل دلجوئی کرنی چاہئے۔
جب اپنوں سے دوری کا غم نیا ماحول اور نئے لوگ ھوں تو بیوی کا خاص خیال رکھنا شوھر کی ذمہ داری ہے۔

اگر خدا نخواستہ انجانے میں کوئی بات نا خوشگوار لگے تو وسیع القلبی اور خوش دلی سے سمجھاتے ہوئےنظر انداز کردینی چائیے تاکہ نہ تو گھر کا ماحول خراب ہو اور نہ دوسروں کو موقع ملے کہ وہ آپ کی ازدواجی زندگی میں خلل ڈال سکیں۔
دوسری جانب لڑکی پر یہ ذمہ داری عائد ھوتی ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرےکہ بیٹیاں جو والدین کے جگر کا ٹکڑا ھوتی ہیں لیکن ہر صورت میں انھیں جتنا جلد ممکن ھو اپنے آپ کو نئے رشتوں اور ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بالخلوص اپنے شوھر کی عادت و مزاج کو سمجھے اور اگر کوئی بات ناگوار لگے تو کسی فوری ردعمل اور بحث و مباحثے کی بجائے نرم مزاجی اور دانشمندی سے اس سے احساس دلائے اور اگر شوھر غصے کا تیز ھو تو کوشش کریں کہ آپ دونوں کے غصے کاٹکراؤ نہ ھو، کھیں ایسا نہ کہ یہ حالات کو سنگین بنادے۔
جبکہ شوھر نامدار کو بھی اس بات کا علم ہونا چاھیئے کہ غصہ حرام ہے اور اسلام میں حرام چیز کی اجازت نھیں۔
لہذا بلاوجہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنے سے پر ھیز کرے، ھر بیوی کو یہ احساس بھی ہونا چاھیئے کہ میرا شوہر محنت اور خلوص سے جو پیسے کما رہا ہے مجھے اس کی کمائی کو سوچ سمجھ کر خرچ کرنا چاھیئے، یہ نہیں بلکہ روزانہ نت نئے فرمائشی پروگرام چلانے سے بھی گریز کرنا چاھئے۔
جبکہ شوھر بھی شریک حیات کو گھر کا مالکہ سمجھے نہ کہ خادمہ،کیوں کہ ھمارے مذہب میں بھی شوھر اور بیوی کے یکساں حقوق ہیں اور بھتر ماحول اور تمام ضروریات زندگی کی فراھمی شوھر کا فرض ہے۔
شوھر کے لئے ضروری ہے کہ وہ علالت کی صورت میں اپنی مجازیت کو نظر انداز کرتے ھوئے ایک مسیحا کی طرح بیوی کی تیماداری کرے تاکہ بیوی کو بھی یہ احساس ہو کہ اس کا شوھر اسے بھت محبت کرتا ہے،جبکہ بیوی کو بھی یہ چاہئے کہ اپنے شوھر کی ھر ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے اپنا فرض سمجھتے ہوئے انجام دیے،ناشتہ کر کے آفس جانے تک کی تیاری خود ذمہ داری سے انجام دے نہ کہ لمبی تان کر خواب گرشی کے مزے لیں اور شوھر نامدار کو پھر سے Bacholar زندگی گزارنے پر مجبور کرے،میاں کی واپسی کے وقت ادَھر اُدھر جانے کے بجائے گھر پر رہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ گھریلوخواتین پر یہ ذمہ داری بھی عائد ھوتی ہے کہ وہ اپنے بناؤ سنگھار کا بھی خیال رکھیں اور یہ میرا خیال ہے کہ بننا سنورنا عورت کا پیدائشی حق بھی ہے۔
اور اپنے اس حق پر مان رکھتے ہوئے یہ کوشش ھونی چاہئے کہ شوھر کے دل میں وہ مقام حاصل کرلے جس پر کوئی دوسری عورت ڈاکہ نہ ڈال سکے محبت بڑھانے کے لیئے یہ بھی ضروری ہے کہ جی سنئے،دیکھئے، یا کسی بھی بچے کے نام کے حوالے سے بلانے کی بجائے نام لے کر ًمخاطب کیا جائے، ویسے بھی ہمارے مذہب میں نام لینے میں کوئی ممانعت نھیں بلکہ یہ حقیقت ہے کہ نام لے کر پکارنے سے عجیب اپنایئت اور محبت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور جس سے محبت ھو اس کا نام لے کر پکارا جائے تو فطری طور پرخوشی بھی ھوتی ہے۔
لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نھیں کیا جا ساکتا کہ ٹی وی ڈراموں میں عورت کو جس طرح حسین سے حسین روپ میں دیکھانے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اس نے مرد حضرات کی کچھ زیادہ ھی آنکھیں کھول دی ہیں۔ ایسے میں شوہر حضرات پر یہ ذمہ داری عائد ھوتی ہے کہ وہ اس بات کو ذھن نشین کر لیں کہ شادی شدہ زندگی کسی چینل پر چلنے والا کوئی ڈرامہ نھیں جس کا انحصار محدود وقت پر ھو، شادی کے بعد شوھر اور بیوی دونوں کے رویوں اور نظریات میں بدلاؤ بھت ضروری ھوتا ہے جھاں عورت کے بغیر زندگی بے رونق اور ویران ھوتی ہے وھیں شوھر کے نام سے معاشرے میں بیوی کا مقام اونچا ہوتا ہے لھذا اس بات کو سمجھنے کی ضرورت اور انا پرستی کو چھوڑنے کی ضرورت ہے، اگر دونوں میں برداشت کا مادہ نھیں ہے یا برداشت کرنا سیکھ لیا جائے تو یقیناً زندگی کا یہ سفر محبت بھری چھاؤں میں انتھائی پر سکون انداز میں گزرے گا اور آپکے مسائل کم سے کم ہونگے۔
اردو کھکشاں


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 18