Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183284
Published : 3/9/2016 13:16

زوجہ کا احترام اھلبیت علیھم السلام کی نگاہ میں

اھلبیت علیھم السلام اپنے گھر والوں اور ازواج کے ساتھ کریمانہ سلوک کرتے تھے، ایسا سلوک جو عام طور پر عورت کی عظمت اور خاص طور سے ھمسر کی عظمت پر دلیل ہے۔

زوجہ کا احترام اھلبیت علیھم السلام کی نگاہ میں
اھلبیت علیھم السلام اپنے گھر والوں اور ازواج کے ساتھ کریمانہ سلوک کرتے تھے، ایسا سلوک جو عام طور پر عورت کی عظمت اور خاص طور سے ھمسر کی عظمت پر دلیل ہے۔ رسول خدا[ص] کا ایک نورانی کلام زوجہ کے ساتھ حسن سلوک کو واضح بیان کرتا ہے: خیر کم ، خیرکم لنسائہ و انا خیرکم لنسائی۔(1)
تم میں سے بھترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ بہھرین سلوکرتا ہے اور میں اپنی ازواج کے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والا ھوں ۔
نیز آپ نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: «خَيرُکم، خيرُکم لأَهْلِهِ وَ أَنَا خَيرُکم لأَهْلَي [2]؛ تم میں سے سب سے اچھا شخص وہ ہے جو اپنے اھل و عیال کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے اور میں سب سے زیادہ اپنے اھل و عیال اور گھر والوں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کا مظاھرہ کرتا ھوں۔
اسی طرح  سرکار ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شوھر پر زوجہ کے احترام کے سلسلہ میں ایک روایت نقل ہوئی ہے: «وَ مَنِ اتَّخَذَ زَوجَةً فَلْيکرِمْهَا[3]؛جو شخص کسی خاتون کو اپنی زوجہ کی حیثیت سے انتخاب کرے اسے چاھئے کہ اس کا احترام  بھی کرے۔
۱:زوجہ کا تعاون اور اس سے مشورہ
وہ ذوات مقدسہ اور عرش نشین ھستیاں اتنے عظیم مقامات کے مالک ہونے کے باوجود اپنے گھروں میں اپنی ازواج کے ساتھ گھر کے کاموں میں مدد کیا کرتے تھے۔ درج ذیل حکایت رسول خدا [ص] کی اپنے گھر والوں کے ساتھ ہمکاری اور مدد کرنے کی عکاسی کرتی ہے:
رسول خدا [ص] گھر کے کاموں میں اپنی ازواج کے ساتھ  شرکت فرمایا کرتے تھے ان کے ساتھ گوشت کٹواتے تھے اور تواضع کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے تھے [کھانے کے بعد] اپنی انگلیوں کو چاٹتے تھے اور ہرگز ڈکار نہیں لیتے تھے،خود بھیڑوں سے دودھ نکالتے تھے خود اپنے کپڑوں اور جوتیوں کو ٹانکتے تھے اور اپنے تمام ذاتی کاموں کو خود انجام دیتے تھے،گھر کی نظافت اور صفائی کرتے تھے ،اونٹ کو خود باندھتے تھے اور اس کے آگے چارہ ڈالتے تھے، آٹا پستے اور اسے گوندھتے وقت اپنے خادم کی مدد کرتے تھے، اور گھر کی ضروریات کو بازار سے خریدتے تھے اور گھر لاتے تھے،طھارت اور وضو کے برتن کو رات کے وقت اپنے ھاتھوں سے آمادہ کر کے رکھتے تھے، فقراء اور محتاجوں کے ساتھ بیٹھتے تھے اور بے سھارا لوگوں ساتھ  بیٹھ کر کھانا تناول فرماتے تھے اور انھیں اپنے دست مبارک سے کھانا اتار کر دیتے تھے۔[۴]
نیز امام حسین علیہ السلام سے نقل ھوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ہمارے والد محترم سے رسول خدا [ص] کی زندگی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:
«کانَ دُخُولُهُ لِنَفْسِهِ مَأذُوناً لَهُ فى ذلک فاذا آوى إلى منزلِهِ جَزَّأَ دُخُولَهُ ثلاثة أجزاء: جُزءٍ لِلّه، و جُزءٍ لأهْلِه و جُزءٍ لِنَفْسِه...[5]
آپ نے اپنی زندگی کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا ایک حصہ کو عبادت کے لیے مخصوص کیا تھا ایک حصہ کو گھر کے افراد کے لیے اور ایک حصہ کو اپنے ذاتی کامور کے لیے مخصوص کیا تھا۔۔۔
ان مسائل میں سے جو زندگی کو خوشگوار بنانے میں بھت مؤثر ہیں وہ صنف نسواں کے احترام کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ مشورہ کرنا ہے۔
اس میں کوئی شک نھیں کہ کبھی کبھی گھریلو زندگی میں نھایت ھی تلخ واقعات رونماں ہوجاتے ہیں کہ جنھیں انسان اکیلے سلجھانے پر قادر نھیں ہوتا، پس بہتر ہے کہ ایسے موارد میں مرد اور عورت آپس میں مل بیٹھ کر ایسے مسائل کا سد باب کریں۔
باھمی تعاون اور  مدد کا ایک طریقہ آپس میں مشورہ کرنا اور ایک دوسرے کی رائے جاننا ہے۔ لھذا بھتر ہے کہ انسان گھریلو زندگی میں اپنی زوجہ کے ساتھ مشورہ کرے گھریلو مسائل میں مشورہ کرنا اھلبیت[ع] کی سیرت میں بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے:
رسول خدا [ص] سے نقل ھوا ہے کہ آپ نے فرمایا: «البکر تستأمر والشيب تشاور قيل يا رسول اللّه ان البکر تستحى. قال: سکوتها رضاها[6]؛ اپنی دوشیزہ اور زوجہ کے ساتھ شادی کے معاملہ میں مشورہ کرو۔ پوچھا: دوشیزہ شرم و حیا کرتی ہیں۔ فرمایا: ان کا سکوت ان کی رضایت کی علامت ہے۔
۲: زوجہ کے لیے زینت
میاں بیوی کے وظائف میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دوسرے کے لیے زینت کریں ورنہ انسان دوسروں کی طرف تمایل پیدا کر لیتا ہے اور اجنبیوں کی طرف تمایل اور ان سے دل لگانا، گناہ کی وادی میں گرنے اور میاں بیوی کی زندگی میں دراڑ پڑنے کا سبب ہے، چنانچہ ایک روایت میں وارد ھوا ہےکہ:حسن بن جھم کھتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام موسی کاظم [ع] سے ملاقات ھوئی آپ نے اپنی ڈاڑھی کو خضاب کررکھا تھا اور آراستہ اور پیراستہ نظر آرھے تھے، میں نے  دریافت کیا، فرزند رسول! میں آپ پر قربان جاؤں،آپ نے آج کیوں اپنی ریش مبارک کو خضاب کررکھا ہے ؟ فرمایا: ہاں، مرد کی زینت اور اس کا آراستہ و پیراستہ ھونا عورت کی عفت کو محفوظ رکھتا ہے۔ یقنینًا بعض عورتیں اس وجہ سے  کہ ان کے شوھر نظافت اور زینت کی رعایت نہیں کرتے عفت کی حدود سے خارج ھو جاتی ہیں۔
اس کے بعد آنحضرت نے فرمایا: کیا تم اپنے لئے یہ پسند کرتے ھو کہ تمھاری بیوی تمھیں بری اور گندی حالت میں دیکھے؟
میں نے جواب دیا: نھیں، آپ نے فرمایا: عورت بھی اپنے شوھر کو گندا اور الجھی حالت میں نہیں دیکھنا چاھتی،اور ارشاد فرمایا :ومِن أخلاقِ الأنبياء التَّنَظُّفُ وَ التَّطَيّبُ وَ حَلْقُ الشَّعر».[7] نظافت رکھنا، خشبو لگانا اور بال بنوانا انبیاء کے اخلاق میں سے ہے ۔
۳: بیوی بچوں کو سفر پر لے جانا
سیرت  معصومین [ع] خواتین کے احترام کا ایک اور نمونہ یہ ہے کہ آپ اپنی ازواج کو اپنے ساتھ سفر پر لے جایا کرتے تھے۔ جہاں بھی شرائط مناسب ھوا کرتے تھے معصومین علیھم السلام اپنے بیوی بچوں کو اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کی کوشش کرتے تھے، اور سفر میں بھی اپنی ازواج کا خاص خیال رکھتے تھے، ان کے ساتھ عادلانہ سلوک ، سب کو ایک نگاہ سے دیکھنا صنف نسواں کے احترام کا ثبوت ہے، رسول خدا [ص] کبھی کبھی اپنی بعض بیویوں کو اپنے ساتھ سفر پر لے جایا کرتے تھے، اور ان کے انتخاب کے لیے ان کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے تاکہ کینہ اور کدورت ان کے دلوں  میں پیدا نہ ھونےپائے،چنانچہ اس سلسلہ میں ایک روایت جناب عایشہ سے نقل ہوئی ہے:  «کان رسول الله إذا أراده سفراً أقرع بين نسائه فايتهنّ خرج سهمُها خرج بها...[8]؛ جب رسول خدا [ص] سفر کا ارادہ کرتے تھے  تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے اور جس کا نام نکلتا تھا اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جاتے تھے۔
--------------------------------------------------------------
حوالہ جات
1۔ من لايحضره الفقيه، ج 3، ص 443، ح 4538؛ وسائل الشيعه، ج 20، ص 171، ح 25340.
2۔ من لايحضره الفقيه، ج 3، ص 555؛ وسائل الشيعه، ج 20، ص 171، ح 25337؛ مکارم الاخلاق، ص 216.
3۔ دعائم الاسلام، ج 2، ص 158؛ الجعفريات، ص157؛ مستدرک الوسائل، ج 14، ص 249، ح16617-2.
4۔ مناقب، ج 1، ص 145؛ بحارالانوار، ج 16، ص 226.
5۔ شيخ صدوق، معانى الاخبار، ج 1، ص 81؛ بحارالانوار، ج 16، ص 148؛ عيون اخبارالرضا، ج 1، ص 315؛مکارم الاخلاق، ص 13.
6۔ احمد بن حنبل، مسند، ج 2، ص 229.
7۔ اصول کافى، ج 5، ص 567؛ وسائل الشيعه، ج7، ص 446.
8۔بحارالانوار، ج 20، ص 309؛ القصص، جزائرى، ص10.


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13