Sunday - 2018 April 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183300
Published : 4/9/2016 21:50

دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ھاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟

دعا کرتے وقت اللہ کی طرف سے حکم یہ ہے کہ آسمان کی طرف ھاتھوں کو بلند کئے جائیں ورنہ خداوندعالم کی قدرت اور اس کا دائرہ ملک ھر شئ پر محیط ہے۔
سوال:دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ھاتھ کیوں بلند کرتے ہیں؟
جواب:اکثر اوقات عوام الناس کے ذھن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب خداوندعالم کے لئے کوئی (خاص) محل و مکان نہیں ہے تو پھر دعا کرتے وقت آسمان کی طرف ہاتھ کیوں اٹھاتے ہیں؟ کیوں آسمان کی طرف آنکھیں متوجہ کی جاتی ہیں؟ نعوذ بالله کیا خداوندعالم آسمان میں ہے؟
(قارئین کرام!) یہ سوال حضرات ائمہ معصومین علیھم السلام کے زمانہ میں بھی ہوتا تھا، جیسا کہ ہمیں تاریخ میں ملتا ہے کہ «ھشام بن حکم»  کھتے ہیں: ایک زندیق حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور اس نے درج ذیل آیت کے بارے میں سوال کیا:«اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی»،یعنی خدائے رحمٰن عرش پر اختیار اور اقتدار رکھنے والا ہے ۔
لھذا امام علیہ السلام نے اس کے شبھہ کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: خداوندعالم کو کسی جگہ اور کسی مخلوق کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ تمام مخلوقات اس کی محتاج ہے۔
سوال کرنے والے نے عرض کی: تو پھر کوئی فرق نھیں ہے کہ (دعا کے وقت) چاہے ہاتھ آسمان کی طرف بلند ہوں یا زمین کی طرف؟!
اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ موضوع خداوندعالم کے علم و احاطہ میں برابر ہے (اور کوئی فرق نھیں ہے) لیکن خداوندعالم نے اپنے انبیاء اور صالح بندوں کو خود حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان اور عرش کی طرف اٹھائیں، کیونکہ معدنِ رزق وہیں ہے، جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے ہم اس کو ثابت مانتے ہیں جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اپنے ہاتھوں کو  خداوندعالم کی بارگاہ میں بلند کرو، اس بات پر تمام امت کا اتفاق اور اجماع ہے۔
اسی طرح کتاب خصال (شیخ صدوق علیہ الرحمۃ) میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے: «اذَا فَرغَ اٴحدکُم مِنَ الصَّلوٰةِ فَلیرفعُ یدیہِ إلیٰ السَّمَاءِ، ولینصَّب فِي الدعاءِ» ،جب تم نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرو اور دعا میں مشغول ہوجاؤ۔
اس وقت ایک شخص نے عرض کیا: یا امیر المومنین! کیا خداوندعالم ھر جگہ موجود نہیں ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں! وہ ھر جگہ موجود ہے۔
اس شخص نے عرض کیا: تو پھر بندے آسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کوکیوں اٹھائیں؟
اس موقع پر امام علیہ السلام نے درج ذیل آیہٴ شریفہ کی تلاوت فرمائی:«وَفِی السَّمَاءِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ»
«اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جن باتوں کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے (سبب کچھ موجودہے) »۔
ان روایات کے مطابق چونکہ انسان کا اکثر رزق آسمان سے ہے، ( بارش؛ جس سے بنجر زمین زراعت کے لائق بنتی ہے، آسمان سے نازل ہوتی ہے، سورج کی روشنی جو کہ زندگی اور حیات کا مرکز ہے، آسمان سے آتی ہے ، ہوا بھی آسمان میں ہے جو کہ زندگی کے لئے تیسرا اہم سبب ہے) اور آسمان رزق اور برکات الٰھی کا معدن و مرکز ہے، لہٰذا دعا کے وقت آسمان کی طرف توجہ کی جاتی ہے اور رزق و روزی کے مالک و خالق سے اپنی مشکلات کے حل کی کی دعا کی جاتی ہے۔
اگرچہ بعض روایات میں اس کام کے لئے ایک دوسرا فلسفہ بھی بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہے خداوندعالم کی بارگاہ میں خضوع و تذلل کرنا، کیونکہ ھم کسی شخص یا کسی شئ کے سامنے تواضع کے اظہار کے وقت اور تسلیم ہوتے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں۔
110 سوال اور جواب،مؤلف: آیۃ اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی
www.ahl-ul-bayt.org


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 April 22