Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183301
Published : 4/9/2016 23:54

کبھی کبھی ہماری دعاکیوں قبول نھیں ہوتی؟

کبھی کبھی انسان لاکھ دعا کرنے کے بعد بھی محروم قبولیت ھی رھتاہے اس کا اصلی سبب ھمیں اپنے نفس کی گھرائی اور ضمیر کے نھاں خانے میں ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

سوال:کبھی کبھی ہماری دعاکیوں قبول نھیں ہوتی؟
جواب:دعا کی قبولیت کے شرائط کی طرف توجہ کرنے سے بھی بظاھر دعا کے پیچیدہ مسائل میں نئے حقائق آشکار ہوجاتے ہیں اور اس کے اصلاحی اثرات واضح ہوجاتے ہیں، اس ضمن میں ھم چند احادیث پیش کرتے ہیں:
۱۔ دعا کی قبولیت کے لئے ھر چیز سے پھلے دل اور روح کی پاکیزگی کی کوشش کرنا، گناہ سے توبہ اور اصلاح نفس ضروری ہے ، اس سلسلہ میں خدا کے بھیجے ہوئے رھنماؤں اور رھبروں کی زندگی سے الھام و ھدایت حاصل کرنا چاھئے۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: «جب تم میں سے کوئی اپنے ربّ سے دنیا و آخرت کی کوئی حاجت طلب کرنا چاہے تو پہلے خدا کی حمد و ثنا کرے، پیغمبر اور ان کی آل پر درود بھیجے، اپنے گناہوں کا اعتراف کرے اورپھر اپنی حاجت طلب کرے»(1)۔
۲۔ اپنی زندگی کی پاکیزگی کے لئے غصبی مال اور ظلم و ستم سے بچنے کی کوشش کریں اور حرام غذا نہ کھائیں، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے: «مَنْ اٴحَبَّ اٴنْ یُسْتَجَابَ دُعَائَہُ فَلْیَطِبْ مَطْعَمَہُ وَ مَکْسِبَہ»(2) یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ھو تو اس کے لئے اس کی غذا اور کار وبار کاحلال اور پاکیزہ ھوناضروری ہے۔
۳۔ فتنہ و فساد کا مقابلہ کرے اور حق کی دعوت دینے میں کوتاھی نہ کرے کیونکہ جو لوگ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کو ترک کردیتے ہیں ان کی دعا قبول نھیں ھوتی، جیسا کہ پیغمبر اسلام سے منقول ہے:«امر بالمعروف اور نھی عن المنکر ضرور کیاکرو ، ورنہ خدا تم پر نھایت ھی بُرے  اور فاسد لوگوں کو مسلط کردے گا، پھر تمھارے اچھے اور نیک  لوگ دعا بھی کریں گے تو ان کی دعا قبول نہیں ہوگی»(3)۔
حقیقت میں یہ عظیم ذمہ داری جو ملت کی نگھبان ہے اسے ترک کرنے سے معاشرہ کا نظام درھم و برھم ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں بدکاروں کے لئے میدان ھموار نظر آتا ہے، اس صورت میں دعا اس کے نتائج کو زائل نھیں کرسکتی کیونکہ یہ کیفیت ان کے اعمال کا قطعی اور حتمی نتیجہ ہے۔
۴۔ دعا قبول ھونے کی ایک شرط خدائی عھد و پیمان کو پورا کرنا ہے، ایمان، عمل صالح، امانت اور صحیح کام اس عھد و پیمان کا ایک حصہ ہیں، جو شخص اپنے پروردگار سے کئے گئے عھد کی  حفاظت اور پاس و لحاظ نھیں رکھتا اسے یہ توقع نھیں ھونی چاھئے کہ پروردگار کی طرف سے دعا قبول ہونے کا وعدہ اس کے شامل حال ہوگا۔
چنانچہ کسی شخص نے امیر المومنین علی علیہ السلام کے سامنے دعا قبول نہ ھونے کی شکایت کرتے ھوئے  عرض کی:یا امیرالمؤمنین!جبکہ خداوندعالم  قرآن مجید میں فرماتا  ہے کہ  تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا،لیکن اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ھم  ھر چند دعا کرتے ہیں لیکن ھماری دعائیں قبول نھیں ہوتیں؟
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: «إنَّ قُلُوبَکُم خَانَ بِثَمانِ خِصَالِ» ،تمہارے دل و دماغ نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے، ( جس کی وجہ سے تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی):
۱۔ تم نے خدا کو پھچان کر اس کا حق  معرفت ادا نھیں کیا، اس لئے تمہاری معرفت نے تمھیں کوئی فائدہ نھیں پہنچایا۔
۲۔ تم اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر پر ایمان تو لے آئے ھو لیکن اس رسول کی  سنت کی عملی طور پر مخالفت کرتے ھو، ایسے میں تمھارے ایمان کا کیا فائدہ ہے؟
۳۔ تم اس کی کتاب کو تو پڑھتے ہومگر اس پر عمل نھیں کرتے، زبانی طور پر تو کھتے ھو کہ ھم نے سنا اور اطاعت کی، لیکن عملی میدان میں اس کی مخالفت کرتے رھتے ھو!
۴۔ تم کھتے ھو کہ ھم خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی نافرمانی کی طرف قدم بڑھاتے ھو اور اس کے عذاب سے نزدیک ھوتے رہتے ھو۔
۵۔ تم کھتے ھو کہ ھم جنت کے مشتاق ہیں حالانکہ تم ھمیشہ ایسے کام کرتے ھو جو تمھیں اس سے دور لے جاتے ہیں۔
۶۔ نعمتِ خدا سے فائدہ اٹھاتے ھو لیکن اس کے شکر کا حق ادا نہیں کرتے!
۷۔ اس نے تمھیں حکم دیا ہے کہ شیطان سے دشمنی رکھو (اور تم اس سے دوستی کا نقشہ بناتے رھتے ھو) تم شیطان سے دشمنی کا دعویٰ تو کرتے ھو لیکن عملی طور پر اس کی مخالفت نھیں کرتے۔
۸۔ تم نے لوگوں کے عیوب کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور اپنے عیوب کو مڑکر بھی نھیں دیکھتے۔ ان حالات میں تم کیسے امید رکھتے ھو کہ تمھاری دعا قبول ھو جب کہ تم نے خود اس کی قبولیت کے دروازے بند کر دئیے ہیں ،تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو، اپنے اعمال کی اصلاح کرو، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو تاکہ تمہاری دعا قبول ہوسکے(4)۔
یہ پُر معنی حدیث صراحت کے ساتھ اعلان کررہی ہے کہ خدا کی طرف سے دعا قبول ھونے کا وعدہ مشروط ہے مطلق نھیں، بشرطیکہ تم اپنے عھد و پیمان پورا کرو حالانکہ تم آٹھ طرح سے پیمان شکنی کرتے ھو، تم عھد شکنی نہ کرو تو تمہاری دعا یقیناً قبول ہوجائے گی۔
مذکورہ آٹھ احکام جو دعا کی قبولیت کے شرائط ہیں انسان کی تربیت، اس کی توانائیوں کو اصلاح کرنے اور اسے ثمر بخش بنانے کے لئے کافی ہیں۔
۵۔ دعا کی قبولیت کے لئے ایک شرط یہ ہے کہ دعا کے ساتھ ساتھ ھمیشہ سعی و کوشش بھی کرنی چاھئیے ، حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کے کلمات قصار میں بیان ہوا ہے:«الداعی بلا عمل کالرامی بلا وتر! »(5) یعنی عمل کے بغیر دعا کرنے والا، بغیر کمان کے تیر چلانے والے کے مانند ہے۔
اس چیز کی طرف توجہ رکھنی چاھئے کہ چلہٴ کمان تیر کے لئے عامل حرکت اور ہدف کی طرف پھینکنے کا وسیلہ ہے اس سے تاثیرِ دعا کے لئے عمل کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔
مذکورہ پانچوں شرائط سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ مادی علل و اسباب کے بجائے دعا قبول نہیں ہوتی بلکہ قبولیت دعا کے لئے دعا کرنے والے کی زندگی میں ایک مکمل تبدیلی بھی ضروری ہے، اسے اپنی فکرکو نئے سانچے میں ڈھالنا چاہئے اور اسے اپنے گزشتہ اعمال پر تجدید نظر کرنا چاہئے۔
______________________________
 (1)۔سفینة البحار ، جلد اول صفحہ ۴۴۸و ۴۴۹ (68) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸، ۴۴۹
(2) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸و ۴۴۹
(3) سفینة البحار ، جلد اول ، صفحہ ۴۴۸
(4)نہج البلاغہ، حکمت نمبر ۳۳۷
(5) تفسیر نمونہ ، جلد اول ، صفحہ ۶۴۳۔
110 سوال اور جواب،مؤلف: حضرت آیت اللہ العظمٰی ناصر مکارم شیرازی
www.ahl-ul-bayt.org


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16