Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183317
Published : 7/9/2016 6:21

خود اھل سنت علماء نے وھابیوں اور تکفیریوں سے برأت کا کیا اعلان

چیچنیا میں منعقد اھل سنت عالمی کانفرنس میں پوری دنیا سے تقریباً 200 علماء اور دانشوروں نے شرکت کی،اور اس کانفرنس میں آخری خطاب مفتی الازھر شیخ طیب کا ھوا کہ جنھوں نے بڑی صراحت کے ساتھ تکفیری اور وھابی نظریہ کے حاملین کو اھل سنت و الجماعت کے دائرہ سے باھر قرار دیا۔


اھلسنت اور شیعہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سرزمین حجاز پر امریکہ اور اسرائیل کے غلام خاندان آل سعود کا غاصبانہ قبضہ اور تسلط قائم ہوگیا ہے آل سعود حج کے دوران اپنے سیاسی اور ثقافتی خیالات و نظریات کو حاجیوں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حجاج کی تعظيم و تکریم کے بجائے انھیں اذيت اور آزار پہنچاتے ہیں لھذا آل سعود کے پاس حج کے انتظامی امور کی صلاحیت موجود نھیں اور منی کا المناک واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے، لھذا انھیں حج کے امورکو اسلامی ممالک کے حوالے کرنا جاھئیے۔

   مھاآباد کے اھلسنت امام جمعہ نے گذشتہ سال منی میں سعودی عرب کے بھیانک اور ہولناک جرائم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ منی کا المناک واقعہ سعودی عرب کے بھیاک جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہے انھوں نے کہا اھلسنت علماء نے سعودی عرب سے منسلک وہابی نظریہ کو اہلسنت سے خارج قراردیدیا ہے وہابیوں کا نظریہ محمد بن عبدالوہاب سے تو ملتا ہے لیکن حضرت محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) سے نہیں ملتا۔

اھلسنت ذرائع کے مطابق چیچنیا کے گروزنی شھر میں مصر، عراق، شام ، پاکستان  اور دیگر اسلامی ممالک کے200 سے زائد  اھلسنت علماء نے واضح طور پر وہابی علماء کو اہلسنت  سے خارج قراردیتے ہوئے ان کے نظریہ سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا ہے  اھلسنت علماء کا کہنا ہے کہ وھابیوں اور  اھل حدیث کا اھلنست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اھلسنت علماء ان کے نظریہ اور اعمال سے متنفر اور بیزار ہیں۔

   اھلسنت علماء کے مطابق طالبان، القاعدہ، داعش، بوکوحرام ، النصر فرنٹ، فتح الشام  اور الشباب جیسی تمام دھشت گرد تنظیموں کا تعلق سعودی عرب کےخونخوار  وھابی اور سلفی ٹولے سے ہے اور ان کا اھلسنت سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ لوگ اھلسنت کا پلیٹ فارم استعمال کرکے اسلام کے تشخص کو خراب کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔

اس اجلاس میں مصر کی معروف اسلامی یونیورسٹی  کے مفتی طیب بھی موجود تھے مفتی طیب نے بھی وھابیوں کو اھلسنت سے خارج قراردیا ہے۔

   ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی پیشوا حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے بھی اپنے حج کے اھم پیغام میں آل سعود کو امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ قراردیتے ہوئے مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ حرمین الشریفین کے انتظامی امور کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ کوئی فیصلہ کریں اور حرمین الشریفین پر سے امریکی اور اسرائیلی غلاموں کے قبضہ کو ختم کرنے کے سلسلے میں اپنی اسلامی ، اخلاقی اور انسانی ذمہ داریوں کو پورا کریں ،رھبر معظم انقلاب اسلامی نے واضح الفاظ میں آل سعود کو فاسد اور بے دین قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود نے حرمین الشریفین کے انتظامی امو رکو  اسرائیلی سکیورٹی کمپنی کے حوالے کرکے اپنے مکروہ چھرے کو عالم اسلام کے سامنے پیش کردیا ہے۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ آل سعود کے بھیناک چھرے کو خود بھی پھچانیں اور دوسروں کو بھی پھچنوائیں ۔

مھر نیوز


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12