Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183321
Published : 7/9/2016 7:32

بچوں کی تربیت کے بعض مجرب اصول

اس تحرير ميں ایسے چند امور کا تذکرہ ہے کہ اگر ان کا خيال رکھا جائے تو بچوں کی تربیت کرنا کوئی مشکل امر نھیں ہوگا بلکہ آپ آسانی کے ساتھ اپنے بچوں کو ایک دوسرے کا تعاون اور مدد کرنے کے لئے آمادہ کرسکتے ہیں۔
بچوں کي موجودگی ميں گھر يا کسی بھی جگہ کا صاف ستھرا رہ جانا بھت ہي مشکل کام ہے، اس کيفيت سے ھم بچوں کي تريبت کرنے ميں مدد لے سکتے ہيں، اسی جگہ کی صفائی کے دوران ھم بچوں سے مدد لے سکتے ہيں تاکہ ان کو صفائی کی اھميت کا پتہ چلے،ھم اس تحرير ميں چند کاموں  اور باتوں کا ذکر کريں گے جن کا خيال رکھتے ہوۓ ھم بچوں کو بھت ساري  اچھي عادات سکھا سکتے ہيں –
گھر کي صفائي:
کپڑے دھونا : دو سال کي عمر کے بعد بچہ بڑي آساني کے ساتھ اپني چيزوں کو جدا جدا کرنا سيکھ ليتا ہے، اکثر ھم ديکھتے ہيں کہ بچے اپنے کھلونوں کو  بڑے معصومانہ انداز ميں ادھر سے ادھر رکھ رہے ھوتے ہيں، جب بچہ تھوڑا سا بڑا ہو تو اسے اسي کي چيزوں کو مرتب انداز ميں رکھنے کي مشق کروانھ چاھيۓ، ايسے بچے جو سکول جاتے ہيں ، ان کو اپنے کپڑوں کو تہہ کرنے اور کپڑے دھونے والي مشين ميں کپڑوں کو ڈالنے اور نکالنے کي تربيت ديں - 8 سے 10  برس کي عمرکے بـچے بڑي آساني کے ساتھ ايسے کام انجام دے سکيتے ہيں
برتنوں کي صفائي:
 برتنوں کي صفائي ہماري روز مرّہ زندگي کا ايسا کام ہے کہ جو ختم ہونے کا نام ھي نھيں ليتا ،اگر بچوں کو برتن دھونے کي تربيت دي جاۓ تو گھر ميں وہ اپني ماں کا ھاتھ  بٹا سکتے ہيں ،پانچ سے چھ سال کي عمر کا بچہ يہ سيکھ سکتا ہے کہ اسے اپني پليٹ کو کيسے صاف کرنا ہے اور کیسے  اس پر پاني ڈالنا ہے  سات سے آٹھ سال کا بچہ برتنوں کو ان کي اصل جگہ پر رکھنا سيکھ سکتا ہے اور 9 سال کي عمر ميں بہت بہتر انداز ميں تمام کے تمام متعلقہ کاموں کو بھت بھتر انداز ميں انجام دينے کي صلاحيّت اس میں پیدا ہوجاتی ہے، گھر ميں احتياطي تدابير کے نکات بھي اپنے بچوں کو بتائيں اور ان کو يہ چيز بڑي اچھي طرح سے بتائيں کہ چاقو کو استعمال کرنے اور دھونے کے بعد کس انداز ميں رکھنا ہے۔
سونے کے بستر کو مرتب کرنا:
ہر روز صبح  نيند سے اٹھنے کے بعد اپنے بستر کو تہہ کرنا بھت ہي ذمہ داري کا کام ہے اور بہت اچھي عادت بھي، يہ ضروري نہيں ہے کہ آپ کا بچہ  ہر روز خود اس کام کو انجام دے - بچوں ميں اکثر اوقات لاپرواھي کا عنصر زيادہ پايا جاتا ہے جس کي وجہ سے اگر ان کو وقت پر نہ روکا جاۓ تو ان کي عادات کے خراب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، اس ليۓ بھتر يھي ہے کہ بچے کو ابتدائي عمر سے ہي ان باتوں کي طرف راغب کريں اور انھيں سکھائيں کے نيند سے اٹھنے کے بعد ، دن  بھر کے کاموں کي طرف مصروف ہونے سے قبل کس انداز ميں اپنے بستر کو سنوارہ جاتا ہے، ابتداء ميں آپ خود اپنے بچوں کو ان کا بستر ٹھيک کرکے ديں ليکن وقت کے ساتھ ساتھ يہ کام خود بچوں کو اپني نگراني ميں کرنے ديں ،بچپن ميں بچے اس بات سے خوش ہوتے ہيں کہ وہ اپنے تکيۓ يا اپنے کھلونوں کو اپني مرضي کي جگہ پر صحیح انداز ميں رکھيں –
گھر ميں جھاڑو دينا:
يہ کوئي سادہ کام نہيں ہے بلکہ اس کے ليۓ بھي ايک اچھي خاصي مھارت کي ضرورت ہوتي ہے، بچہ چونکہ ناسمجھ ہوتا ہے اس ليۓ ممکن ہے کہ جھاڑو لگاتے ہوۓ وہ کوڑے کرکٹ کو بکھير دے، اس ليۓ ضروري ہے کہ اس کام کے ليۓ بچے کو تيار کريں اور اسے  بھتر طرح سے سکھائيں، اگر  الیکٹرونک جھاڑو کو استعمال کيا جا رہا ہو تب بھي اسے سکھائيں کہ کس انداز ميں اور کيسے الیکٹرونک جھاڑو کو  ايک جگہ سے دوسري جگہ تک لے جانا  ہے، سات سے آٹھ سال کي عمر کے بچے بڑي آساني سے اس طرح  کے کام کو انجام دے سکتے ہيں –
بچوں کو اس بات کي بھي اجازت ديں کہ وہ ان کاموں کي انجام دھي کے دوران کھيل کود ميں بھي مصروف رہيں ،ان کاموں کو انجام ديتے ہوۓ بچوں سے مشورہ ليتے رہيں کہ کن کاموں کو کرنا چاھيۓ اور کن کو نھيں، اضافي وسائل کو باھر پھينکتے ہوۓ بھي بچے سے پوچھيں کہ کس چيز کو استعمال ميں رکھا جاۓ اور کس کو گھر سے باہر نکال ديا جائے۔
tebyan.net


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19