Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183331
Published : 7/9/2016 17:32

شیطان کے غلبہ سے بچنے کا نسخہ

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے درس خارج میں موجود علماء و دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے انھیں شیطان کے فریبی جال سے نجات کا ایک بھترین نسخہ امام جعفر صادق (ع) کی حدیث کی روشنی میں تعلیم فرمایا۔

قائد انقلاب اسلامی نے فقہ کے اجتھادی و استنباطی درس «درس خارج» سے قبل حسب معمول فرزند رسول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا ایک قول مع تشریح بیان کیا،اس روایت میں شیطان کے غلبے سے بچنے کا طریقہ بتایا گيا ہے، یہ قول زریں، اس کا ترجمہ اور شرح پیش خدمت ہے؛ کتاب الفقیہ میں منقول ہے؛«قَالَ الصَّادِقُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ (ع) مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَاعِظٌ مِنْ قَلْبِهِ وَ زَاجِرٌ مِنْ نَفْسِهِ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ قَرِينٌ مُرْشِدٌ اسْتَمْكَنَ عَدُوَّهُ مِنْ عُنُقِه»،شافی، صفحه 652 ترجمہ و تشریح: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ دشمن (یھاں مراد شیطان ہے) کے مقابلے میں انسان کو استقامت اور تقویت عطا کرنے والی اور اسے دشمن کے تسلط میں جانے اور اس سے مغلوب ہونے سے بچانے والی سب سے پھلی چیز ہے؛ «واعظ من قلبه» انسان کا ناصح قلب و دل اگر بیدار و متنبہ ہو تو انسان کو نصیحت کرتا رہتا ہے، انسان کے دل کو اپنی نصیحت پر آمادہ کرنے اور اپنی ذات کے لئے واعظ بنانے میں صحیفہ سجادیہ اور دیگر کتب میں منقول دعاؤں اور اسی طرح صبح کی بیداری کا بھت اھم کردار ہے، یہ چیزیں انسان کے دل کو اس کے لئے ناصح اور واعظ بنا دیتی ہیں، تو پھلی چیز ہے ناصح قلب۔
دوسری چیز ہے؛ «زاجر من نفسه»، یعنی انسان کے اندر کوئی روکنے والا، منع کرنے والا اور خبردار کرنے والا ہو، اگر یہ دونوں چیزیں نہ ہوں اور «ولم یکن لہ قرین مرشد»،رھنمائی کرنے والا کوئی ساتھی بھی نہ ہو جو اس کی رھنمائی اور مدد کر سکے، کہ جو شیطان کے غلبے سے بچانے والی تیسری چیز ہے، (تو عین ممکن ہے کہ اس پر شیطان غالب آ جائے)، اگر انسان کے اندر کوئی طاقت ایسی نھیں ہے جو اس کی ہدایت کرے، اس کے نفس کو قابو میں رکھے تو اسے کسی دوست اور ھمنوا کی شدید ضرورت ہے، ایسا ھمنوا جس کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ «من یذکرکم اللہ رؤیته» جس کا دیدار تمھیں اللہ کی یاد دلائے، اگر وہ شخص ایسے دوست سے بھی محروم ہے تو «استمکن عدوہ من عنقه»،اس نے خود کو اپنے دشمن کا مطیع بنا لیا ہے، اپنے اوپر دشمن کو مسلط کر لیا ہے، دشمن سے مراد شیطان ہے، تو یہ چیزیں ضروری ہیں، انسان کا ضمیر اسے نصیحت دیتا ہے،کسی بھی انسان کے لئے بھترین ناصح خود اس کا ضمیر ہے کیونکہ انسان کبھی اپنے ضمیر کی بات کا برا نھیں مانتا، اگر کسی اور نے نصیحت کی اور لھجہ ذرا سا سخت اور تند ہوا تو انسان برا مان جاتا ہے لیکن جب انسان کا ضمیر نصیحت کرتا ہے، ملامت کرتا ہے، خود کو تنبیہ اورسرزنش کرتا ہے تو یہ چیز بھت مؤثر واقع ھوتی ہے، یہ نصیحت اور موعظہ بھت ضروری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہی یا اس خصوصیت کے فقدان کی صورت میں ایسے دوست اور ھمدرد کا ہونا ضروری ہے جو انسان کی مدد کرے۔
www.http://leader.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12