Sunday - 2018 Oct. 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183333
Published : 7/9/2016 18:55

ترقی یافتہ ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم وتربیت

عام طور پر لوگ لڑکی کی پیدائش کو بد شگون مانتے ہیں اور لڑکوں کو خاندان،گھر،اور آبائی سطوت کی علامت تصور کیا جاتا ہے،جبکہ اگر لڑکیوں کی تعلیم اور تربیت پر صحیح طریقے پر دھیان دیا جائے تو یہ صنف،خدادای طاقت اور استعداد کے سھارے لڑکوں کے دوش بدوش اپنے ملک اور قوم کا نام سربلند کرسکتی ہیں۔

ایسے میں جبکہ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ لڑکیوں کی ولادت معاشرے پر بوجھ ہے نیز لڑکا غربت میں اپنے خاندان کے کام آئے گا توعالمی سطح پر ترقی پذیر اور غریب ملکوں میں بسی ہوئی 60 کروڑ نوجوان لڑکیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے جبکہ پاکستا ن میں پانچ سال قبل آنے والے زلزلے نے لاکھوں افرادکی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی اور ان میں ایسی ہزاروں لڑکیاں بھی شامل ہیں جن کی تعلیم اور مستقبل بری طرح متاثر ہوئے۔اسی طرح دنیا کے بہت سے دیگر حصوں میں بھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم اور معاشی مواقعوں کی منتظر ہے،اس سلسلے میں ورلڈ بینک اور نائیکی فاؤنڈیشن World Bank-Nike Foundationمختلف ممالک کی حکومتوں کے تعاون سے ایک ایسے پروگرام پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد غریب اورترقی پذیر ملکوں کی لڑکیوں کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے قابل بنانا ہے۔اس سلسلے میں امریکی اداکارہ این ہاتھاوےAnne Hathaway نے ایک تقریب کے دوران بنگلہ دیش کی ایک غریب لڑکی سانچیتاSanchita کی کہانی کچھ اس انداز میں سنائی کہ سننے والے اس میں کھوکر رہ گئے۔سانچیتا کا تعلق بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں ایشورپور سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب میرے گاؤں میں جب بھی کوئی ولادت  ہونے والی ہوتی ہے تو سب یہی امید کرتے ہیں کہ لڑکا ہو۔ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکا غربت میں اپنے خاندان کے کام آئے گا۔
یہ وہ حالات ہیں جن کا سامنا نوجوان لڑکیوں کے لیے ورلڈ بینک کے اس پروگرام میں شامل لڑکیوں کو کرنا پڑتا ہے۔ ساچیتا کی طرح یہ لڑکیاں بھی اس پروگرام کے تحت دنیا کا دورہ کررہی ہیں جس کے ذریعے انھیں تعلیم کے ساتھ وہ مہارت بھی مہیا کرنا ہے جس کے ذریعے وہ ملازمت حاصل کر سکیں۔
سالہ ساچیتا کو ایک آرگنائزیشن نے تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا اور اس کے خاندان کو ایک گائے خریدنے کے لیے قرضہ دیا تاکہ وہ اپنا کاروبار کرسکیں۔ این ہاتھاوے کہتی ہیں کہ اب نہ صرف ان کا کاروبار چل پڑا ہے بلکہ ساچیتا اپنی اور اپنے بھائی کی اسکول کی فیس بھی خود دے سکتی ہیں۔ ان کے خاندان کے پاس کھانے کو ہے۔ اور اس کا کہناہے کہ اب وہ یہ فیصلہ خودکریں گی کہ انھیں شادی کب کرنی ہے جبکہ غریب گھرانوں کے والدین اپنی بیٹی کی جلد ازجلد شادی کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔اس کارگذاری کی طرح نوجوان لڑکیوں کے لیے شروع کیے گئے اس پروگرام کا مقصد دنیا کے ترقی پذیر اور غریب ملکوں کی 60 کروڑ نوجوان لڑکیوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،ان ممالک میں لڑکیوں کی ایک تہائی آبادی نہ تو پڑھتی اور نہ ہی کوئی ملازمت کر پاتی ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر رابرٹ زولیک کاکہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر دھیان نہ دینا ہی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، انھوں نے مزید کہا کہ غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی تعلیم بہت ضروری ہے، سیکنڈری اسکول میں ایک سال زیادہ کی پڑھائی ان کی کمائی کو 10 سے 20 فیصد تک اضافہ کرسکتی ہے،وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی کمائی بڑھے گی تو وہ نہ صرف اچھی صحت کے لیے بہتر سہولیات حاصل کرسکیں گی بلکہ اپنی شادی اور بچوں کے بارے میں بہتر فیصلے کرسکیں گی۔ اس سے خواندگی کی صورتحال بھی بہتر ہو گی۔ چنانچہ نوجوان لڑکیوں کی تعلیم اور ترقی پر سرمایہ کاری کے ذریعے غربت پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے،سرکاری اور غیر سرکاری شراکت اور 20 ملین ڈالر کے بجٹ کے ساتھ یہ پروگرام دنیا کے سات ملکوں میں کام کررہا ہے،اس پروگرام کا آغاز یمن اور ہیٹی میں بھی ہورہاہے،ماریہ بویویچ ورلڈ بینک کے جینڈر اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کی ڈائریکٹر ہیں،وہ کہتی ہیں کہ ہم کہاں ہیں، لائبیریا اور نیپال میں نوجوان لڑکیاں اپنی تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل کر رہی ہیں، جنوبی سوڈان کے چار صوبوں میں اس پروگرام کا آغاز ہو رہا، اردن میں خواتین کالج گریجویٹس کو ملازمت تک رسائی حاصل ہو رہی ہے، افغانستان اور روانڈا میں صورتحال کا جائزہ لیا جاچکا ہے اور تین مہینوں میں وہاں کام شروع ہو جائے گا،کابی کامارہ نے لائبیریا میں اس پروگرام کے تحت تربیت حاصل کی،وہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنا کاروبار شروع کرنا سیکھا، خود کفالت ، پیسہ بچانا اور اسے صحیح جگہ استعمال کرنا سیکھا۔ اور یہ کہ اپنے کاروبار کو کیسے بڑھانا ہے،انیس سالہ سارہ پونی کا تعلق سوڈان سے ہے وہ امریکہ میں تربیت کے لیے گئی ہیں،وہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے خیالات کو بہتر طریقے سے پیش کرنا سیکھا، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولنے سے مجھے لوگوں سے بات کرنے کا اعتماد ملا ہے۔ گویااب میں سارہ نہیں بلکہ کوئی اور ہوں،پر اعتماد سارہ اپنے وطن سوڈان واپس جاکر اپنی تربیت اور خود اعتمادی کے ذریعے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان کی زندگی کو بہتر بنانے کا خواب لیے ہوئے ہیں۔
تحریر:ایس اے ساگر
Pak.net


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Oct. 21