Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183338
Published : 7/9/2016 22:8

عورت کا مقام اور مرتبہ

خواتین کو جتنا احترام دین اسلام نے دیا ہے اتنا دنیا کے کسی دوسرے مذھب نے نھیں دیا، اگرچہ بعض کج فھم نھج البلاغہ میں امیرالمؤمنین (ع) کی بعض تعبیرات کو سمجھے بغیر ان کی تفسیر اور تشریح بیان کرنا شروع کردیتے ہیں،لھذا خواتین کے متعلق نھج البلاغہ میں امیرالمؤمنین (ع) کے کلمات کو سمجھنے کے لئے انسان کو پھلے مرحلے میں سخن شناس ھونا چاھئے۔

معاشرتي لحاظ سے پوري تاريخ ميں ايسے بہت کم موضوع پائے جاتے ہيں جو عورت کي شخصيت يا ھويت کے موضوع کي بہ نسبت زيادہ تنقيد وغيرہ کا نشانہ بنے ہوں يا ان کے بارے ميں متعدد اور مختلف تشريحات کي گئي ہوں ابھي بھي يور پي اور مشرقي دنيا ميں عورت کے بارے ميں غلط  بے ڈھنگ اور گمراہ کن نظريات پائے جاتے ہيں۔
ان سب ميں صرف انبياء، اوصياء اور اھل حق کا واحد مکتب ہے کہ جس ميں : «من اخلاق الانبياء حبُّ النساء»؛ عورتوں سے محبت انبيائے الھی کے اخلاق ميں سے ہے۔اس مکتب کے سبب، افراط و تفريط کے بغير وحي اور خدا سے رابطہ کے ذريعہ اچھي طرح سے عورت کي منزلت کو بيان کيا جارہا ہے،اور اس کي صاف وشفاف اورھر قسمي تحريف کے بغير مکمل صورت اور پيغمبر اکرم (ص) اور آپ کے اھل بيت(ع) کی صحيح سیرت کے ذريعے عورت کي شخصيت، قدر ومنزلت اور اس کي حيثيت کو بيان کيا ہے قرآن و سنت کي بنياد پر، عورت کا خلقت اور پيدائش کے لحاظ سے مرد سے کسي قسم کا کوئي فرق نھيں ہے، البتہ مرد کے ساتھ بعض چيزوں ميں شريک ہونے کے باوجود خدائے متعال کي حکمت اور لطف کی بنا پر بعض چيزوں ميں اس کی استعداد، اس کے وظائف اور حقوق وغيرہ مردوں سے مختلف ہيں۔
قرآن کريم اور سنت سے جو کچھ ہميں ملتا ہے وہ يھي ہے کہ عورت لطيف اور رحمت ہے. اس کے ساتھ لطف و کرم اور مھرباني کي جائے، اچھا سلوک کيا جائے اس کے ساتھ ساتھ اس کے ظريف اور نازک وجود کي تعريف کي گئي ہے نہج البلاغہ ميں تقريباً 25 جگہوں پر خطبوں، خطوط اور کلمات قصار ميں عورتوں کے بارے ميں گفتگو کي گئي ہے جن ميں سے چند ايک موارد کو چھوڑ کر باقي ايسي احاديث، جملات يا کلمات ہيں کہ جن کا مطالعہ کرنے سے لوگ ابتدا ميں يہ محسوس کر سکتے ہيں کہ نہج البلاغہ ميں عورتوں کے متعلق منفي نظريہ پايا جاتا ہے اور يھي چيز کافي ہے کہ جوانوں اور خواتين کے درميان نہج البلاغہ کے بارے ميں شک و ترديد پيدا ہو جائےخاص کر آج کل کے زمانے ميں کہ جھاں عورتيں سياسي، تربيتي، ثقافتي اور اجتماعي امور ميں پيش پيش ہيں، اگر ھم اس سلسلے ميں ان ابھامات کو دور نہ کرسکيں، ان کے سوالوں کے جواب نہ دے سکيں اور ان شبھات کا جو جوانوں اور خواتين کے ذھنوں ميں نھج البلاغہ کی بہ نسبت ايجاد ہوئے ہيں ،کا جواب نہ دے سکيں تو ھميں ان کے گمراہ اور اسلامی ثقافت سے منحرف رہنے کا شائبہ رھنا چاھئے. اور پھر اس گمراہي اور ضلالت کے ھم خود ہي ذمہ دار ہوں گے اس کے علاوہ ظاہر سی بات ہے کہ آئمہ معصومين (ع) خاص کر حضرت امير المومنين علي (ع) کے کلام مبارک کا کوئي تربيتي اثر نھيں ہوگا بلکہ اس طرح کے جوان اور ھمارہ معاشرہ آئمہ(ع) کے بارے ميں بد ظن ہو کر ان سے دوري اختيار کرے گا اور انھيں اپنے لئے اسوہ اور نمونہ بنانے سے اجتناب کرے گا۔
اس مضمون ميں نھج البلاغہ ميں عورتوں کے بارے ميں موجود عبارتوں کے بارے ميں کچھ نظريات ذ کر کيے گئے ہيں اور معاشرے پر اس کے کيا اثرات مرتب ہوسکتے ہيں اور ساتھ ہي آخر ميں اصلي اور صحيح نظريہ بھي بيان کيا گيا ہے. نيز اس کے بعض تربيتي پہلو بھي بيان کيے گئے ہيں اگر چہ محدوديت کي بنا پر اختصارسے کام ليا گيا ہے ليکن قارئين گرامي خود تحقيق کر کے اس کے دلائل سے آگاھی  حاصل کر سکتے ہيں۔
عورت کا شر ہونا
نھج البلاغہ کي بعض عبارتوں کو پڑھ کر يہ احساس ہوتا ہے کہ حضرت علي نے بھي عورت کو شرقرار ديا ہے.مثلاً حضرت علي فرماتے ہيں:
«المراة شرّ کلّھا و شرّ ما فيھا انّه لا بدّ منھا»، عورت کاپورا وجود شر ہے اور سب سے بڑا شر يہ ہے کہ اس کے بغير کوئي چارہ بھي نہيں ہے۔
نھج البلاغہ ميں اس طرح کے بھت سے موارد موجود ہيں کہ جن ميں اگر ابتدائي اور سطحي نظر سے ديکھا جائے تو مخاطب اس نتيجہ تک پھنچتا ہے کہ اس کتاب ميں بھي دوسري پرانی کتابوں کي طرح عورت کو ايک شر، آلودہ اور پليد وجودسمجھا گيا ہے يہ بات قابل ذ کر ہے کہ قديم زمانے ميں يہ نظريہ پھلے سے موجود تھا اور بھت پھلے سے انسانوں ميں يہ فکر (عورت کا شر يا پليد اور منحوس ہونا) رائج تھي بعض لوگ قائل تھے کہ عورت بائيں پسلي يا شيطان کي پسليوں سے پيدا ہوئي ہے اور يہ شيطان کي ايک آلہ کار ہے جو مردوں کو اغوا کرنے کيلئے استعمال کي جاتي ہے جيسا کہ عھد عتيق ميں صراحت کے ساتھ يہ نظريہ بيان کيا گيا ہے اسي وجہ سے مختلف قوموں، ملتوں، امتوں اور تھذيبوں ميں عورت کو «ام المفاسد» (فساد کی جڑ) کے نام سے ياد کيا جاتا تھ وہ قائل تھے کہ عورت فساد پيدا کرنے والی مخلوق ہے لہذااسے کنٹرول کيا جانا چاھئے ورنہ يہ پورے معاشرے کو فساد اور گمراھی ميں مبتلا کر سکتی ہے۔
چنانچہ ابن ميثم بحرانی اسي حکمت (238) کے ذيل ميں لکھتے ہيں:عورت ،مرد کيلئے مکمل طور پر شر ہے، سے مراديہ ہے کہ چونکہ عورت کا نفقہ مرد پر واجب ہوتا ہے جو کہ ظاہر ہے يا پھر اس سے لذت حاصل کرنا مراد ہے،کيونکہ يہ بھی خود خدا سے اور اس کی اطاعت سے روکنے اور دور کرنے کا سبب بنتی ہے ہاں مرد کيلئے اس کے علاوہ کوئی چارہ کاربھی نہيں ہے،  اس کا مطلب يہ ہے کہ چونکہ انسان کی طبيعت اور اس دنياوي وجود کا تقاضا يھی ہے کہ انسان کو ھميشہ اس کي ضرورت رہے اور اپني ضروريات کو اس سے پورا کرے اور ان ہی ضرورتوں کي وجہ سے مرد عورت کو برداشت کرتا ہے. البتہ عورت کے باطن ميں شر کا وجودايک ايسي علت ہے جو معلول سے بھي قوي تر ہے ۔
وہ اسی طرح مولا علی کي اس فرمائش کے بارے ميں لکھتے ہيں:
«المرأة عقرب حلو الّلبس»، عورت بچھو کي طرح ہے کہ جس کا کاٹناميٹھا ہوتا ہے۔
بحراني کھتے ہيں:بچھو کا کام کاٹنا ہے اور چونکہ عورت بھی آزار و اذيت کرتی ہے لھذا اس کيلئے عقرب، استعارہ کے طور پر استعمال کيا گيا ہے صرف يہ کہ اس کے کاٹنے ميں لذت اور مٹھاس محسوس ہوتي ہے اور بالکل اس زخم کي طر ح ہے کہ جس کو مس کرنے یا کھجانے کے بعد تکليف ہوتی ہے ليکن کھجلاتے وقت اس سے خاص مزہ اور لطف آتا ہے ۔
تاريخ بشريت ميں عورت کے شر ہونے کا نظريہ اور عقيدہ بھت پرانا ہے سيد کمال الدين مرتضويان فارسانی جو کہ خود بھي اس نظريہ کے معتقد ہيں ،نے اپنے اس نظريہ کو ثابت کرنے کيلئے ايک کتاب بنام «ام المفاسد»  لکھی ہے جس ميں ضرب الامثال، اشعار، حکايات، دانشوروں کے کلام اور دوسرے مسائل وغيرہ درج کيے گئے ہيں اور يہ تمام مطالب عورت کے شر ہونے پر دلالت کرتے ہيں مثلاً مولوي کا ايک شعر ذ کر کيا ہے:
      ھر بلا کہ اندر جھان بيني عيان     باشد از شومی زن در ھر مکان
يعني مولوي کھتے ہيں کہ اس دنيا ميں جہاں بھي کوئي بلا اور مصيبت نظر آتي ہے تو وہ عورت کي نحوست کي وجہ سے ہے۔
اور اسے مختلف دانشوروں سے بھی نقل کيا ہے. مثلاًسقراط کھتے ہيں: ايک عورت کو ديکھا، بيما ر ہے، کہا: يہ شر ہے کہ جس نے شر کو روک کر رکھا ہے، يا کچھ عورتيں ايک عورت کی تشيع جنازہ کر رھی تھيں تو کہا: شر دوسرے شر کے مرنے پر غمگين ہے، وغيرہ اس کتاب کے نام سے ہی لگتا ہے کہ فارسانی نے عورت کي شخصيت کو بگاڑنے اور اس کي منزلت کو گرانے کے لئے يہ کتاب لکھي ہے جس ميں آسمانی کتابوں کی آيات (و عبارات)، انبياء، آئمہ، حکماء، شعراء،اور بادشاھوں وغيرہ سے عورت کي شخصيت اور اس کے شر ہونے کے بارے ميں کلام نقل کيا گيا ہے ظاہر ہے کہ اس کتاب کا مقصد عورتوں کو محدود کرنا اور چار ديواري ميں بند کرنا ہے، ليکن اس سے يہ نتيجہ نکلتا ہے کہ عورت کو کنٹرول کر کے اسے سياسی، اجتماعی، تربيتی، علمی ميدانوں ميں ترقي سے محروم کيا جائے. کيونکہ اگر ايسا نہ کيا گيا تو عورت کے وجود ميں پوشيدہ شر اور فساد کھل کر سامنے آئے گا .جس سے معاشرے ميں فساد کا ڈر ہے اس نظريہ کا مطلب عورت کو کمزور اور ضعيف رکھنا اور قدم قدم پر اسے لگام کس کرکنٹرول کرنا ہے،اسی نظريہ کے مطابق عورت کيلئے بھترين نمونہ اور آئيڈيل يہ ہے کہ اپنے آپ کو مرد کا خادم اور وسيلہ سمجھے اور اپنے شوہر اور بچوں کي چار ديواري سے تجاوز نہ کرے اگر تاريخی حوادث پر سرسری نطر دوڑائي جائے تو يھی پتہ چلتا ہے کہ جب بھی عورت نے اپنے حدود اور دائرہ اختيار سے باھر قدم رکھا ہے تو معاشرہ فساد اور خرابی کا شکار ہوا ہے۔
افسوس تو يہ ہے کہ يہ فکر دينی ثقافت ميں بھي رسوخ کر گئي ، يہاں تک کہ بعض لوگ خواتين کو تعليم و تربيت سے محروم کرنے کي کوشش کرتے ہيں اور صراحت سے يہ کھتے ہيں کہ عورت کيلئے بھتر ہے کہ گھر کی چار ديواري ميں بند رہے بحار الانوار کي پھلي جلد ميں امام صادق(ع) سے روايت نقل ہوئي ہے:«انّ المرأة خلقت من الرجل و انّما ھمّتھا في الرّجال فاحبّوا نسائکم و انّ الرّجل خلق من الارض فانّما ھمّته في الارض»ـ
اس روايت کا مفھوم يہ ہے کہ آدم براہ راست مٹي سے بنائے گئے  ہیں اور ان کي اہليہ(حوا) حضرت آدم سے باقي بچی ہوئی مٹی سے بنائی گئيں اور ان دو ھستيوں کے درميان ايک ظاہرسا مادی فرق پايا جاتا ہے اور وہ يہ کہ مرد کي تمام ھمت، سعی اور کوشش زمين اور اس کو تسخير کرنا، اس کا حصول اور اس پر غلبہ ہے. جب کہ عورت کي ساری کوشش يہ ہوتی ہے کہ مرد کو پالے اور يہ اصل حرکت کي بنياد پر ھوتاہے ۔
بقول شاعر :
     ھر کسي کو دور ماند از اصل خويش     باز جويد روزگار وصل خويش
ہاں ان دونوں کی معنوی اور روحی ھمت و توان فقط خدا وند متعال کی ذات اور اس تک پھنچنا ہے .يعنی سير الي اللہ کيونکہ دونوں «نفخت فيہ من روحي»  کے مصداق ہيں، اور فقط دنياوي اور مادي لحاظ سے ان دونوں ميں فرق پايا جاتا ہے۔
لھذا علامہ مجلسي فرماتے ہيں:اب اگر عورت کي ساري تلاش مرد کے حصول ميں ہوتی ہے. پس اے مردوں (شوھروں!) اپنی بيويوں سے محبت کرو کيونکہ عورتوں کی زندگی کا دار و مدار تم پر ہے اور ان کا سارا ھمّ وغم مردوں کي ذات ہے جب کہ مرد ايسا نھيں ہے وہ اپني بيوي کے ساتھ رہتے ہوئے اپني اجتماعي منزلت کيلئے متفکر بھي ہے اور عورت سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے سے بھي وابستہ ہے اور وہاں پر اپنا ايک خاص مقام بنانے کي فکر ميں ہے،اور بعض کتابوں ميں اس روايت ميں «احبّوا»  کي جگہ «احبسوا» آيا ہے۔
اپني عورتوں کو بند رکھو ليکن يہ غالباً راوی کی نسخہ برداري يا فراموشی اور بھول کا نتيجہ ہو سکتا ہے۔
شہيد مطھري اپني کتاب «مسئلہ حجاب» ميں مختلف جگھوں پر تاکيد کرتے ہيں۔
اسلام راضي نھيں ہے کہ عورت پردہ کر کے گھر کي چار ديواري ميں محبوس ہو کر رہے اور آيات و روايات بھي اس مطلب کي نفي کرتي ہيں۔
اب وہ امام جو مولائے کائنات اور امير المومنين ہيں، عورت کے بارے ميں فرماتے ہيں: «المرأة ريحانة و ليست بقھرمانة؛ عورت پھول کے مانند ہے اور خدمت گزار نہيں ہے، کيسے اس نظريہ کو قبول کر سکتے ہيں اور کہہ سکتے ہيں کہ حضرت اس نظريہ کے قائل ہيں؟
وہ علي جو پيغمبر اسلام (ص) کے سب سے بڑے اور ممتاز شاگرد اور سب سے بڑے مربی قرآن ہيں، کيسے ممکن ہے اس نظريہ کے قائل ہوں جبکہ قرآن حضرت مريم کے بارے ميں ارشاد فرماتا ہے:« وليس الذ کر کالانثي»،مرد عورت کے مانند نھيں ہو سکتا۔
جبکہ لوگوں کے درميان مرد اور عورت کي جنسيت کو معيار نھيں بناتا بلکہ اس کا معيار «انّ اکرمکم عند اللہ اتقاکم»،تقوي اور پرھيز گاری ہے پس يہ مربي قرآن، قرآن کے خلاف کوئي بات نھيں کہہ سکتا .لہذا يہ نظريہ صحيح نہيں ہے اور اسے امام کي طرف منسوب نہيں کر سکتے۔
عورت کا ناقص ہونا
ايک اور گروہ ہے جو عورت کے ذاتي شر يا شرور ہونے پر اعتقاد نھيں رکھتا بلکہ ان کا نظريہ يہ ہے کہ يہ شر عورت کے ناقص وجود کي وجہ سے ہے ان کے نظريہ کے مطابق عورت ناقص خلق کي گئي ہے اور اس وجہ سے اس کي عقل بھي ناقص ہے، اور مرد اس موجود سے ايک کامل ہستي کي اميد رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ عورت بھي اس کي طرح کمالات کي راہوں کو طے کرے ليکن عورت اس کمال تک نہيں پھنچ سکتي، لہذا مرد اس کا نام شر يا شرارت رکھتا ہے اور اسے شرارت کي نگاہ سے ديکھتا ہے،اور يہ وہي چيز ہے کہ جس کے وجود کو شر کہا جاتا ہے وہ يا تو نسبي ہے يا عَدَمي اور يہ دونوں چيزيں مادہ کے نقص اور اس کے ضعف کي وجہ سے ہيں اور اس مادي عالم کے نقائص اور محدوديتوں کي بنا پر دوسرے مادي موجودات کيلئے شر ايجاد ہوتا ہے اور شرارت کا سبب بنتا ہے اس بنا پر اگر ايسے ماحول اور فضا ميں کہ جہاں کامل وجود عمل کرے اور ايک عورت اس ميں مداخلت کرے تو اس کا منفي اثر اور منفي رد عمل ہوتا ہے جسے شرارت کہا جاتا ہے اسي وجہ سے عورت کے وجود کو شرارت کہا جاتا ہے جو اس کے نقص کي طرف پلٹتا ہے اور اس کے ناقص ہونے پر دلالت کرتا ہے اس نظريہ پر حضرت علي کي فرمائش ہمارے ليے بہترين دليل ہے، حضرت علي فرماتے ہيں:«» «معاشر الناس انّ النّساء نواقص الايمان، نواقص الحظ، نواقص العقول، فاما نقصان ايمانھنّ فقعودھنّ عن الصّل والصّيام في ايّام حيضھنّ، و امّا نقصان عقولھنّ فشھاد امرآتين کشھاد الرجل الواحد، و اما نقصان حظوظھنّ فمواريثھنّ علي الانصاف من مواريث الرجال»۔
لوگوں! عورتيں ايمان، ارث (وراثت) اور عقل کے لحاظ سے ناقص ہيں ان کا ايمان کے لحاظ سے نقص يہ ہے کہ وہ حيض کے دنوں ميں نماز اور روزہ سے محروم ہيں اور عقل کے لحاظ سے ان کا نقص يہ ہے کہ دو عورتوں کي شہادت ايک مرد کي شہادت کے برابر ہے اور ارث کے لحاظ سے ان کا نقص يہ ہے کہ انہيں مردوں کا نصف ارث ملتا ہے۔
اسي وجہ سے لوگوں ميں يہ اصطلاح زيادہ رائج ہے اور جب عورت کو کچھ کہنا ہو تو ناقص العقل کہا جاتا ہے اس نظريہ سے چند ايک نتيجے نکل سکتے ہيں :
1۔ عورتوں کے عقل اور ايمان کے لحاظ سے ناقص ہونے کي وجہ سے انہيں اجتماعي کاموں ميں مردوں سے آگے جانے کي اجازت نہيں دي جاني چاھئے يا انہيں اصلي اور مقام ومنزلت نہيں دينا چاھئے اور ان کے نقائص پر توجہ کرتے ہوئے ان کے مشورہ پر عمل نہيں کرنا چاھئيے۔
2 ۔ عورتوں کو اپنے اس ذاتي نقص پر توجہ کرتے ہوئے ايسے عمل کرنا چاھئے کہ اس معاشرے پر کوئي برا اثر مترتب نہ ہو، لہذا انہيں اپنے فرائض پر توجہ کرني چاھئے۔
3۔ ايسے امور ميں کہ جہاں غور و فکر کي زيادہ ضرورت ہے،عورتوں کو شامل نھيں کرنا چاھئے۔
عورت اور مرد کا برابراور مساوي ہونا
گزشتہ دونوں نظريوں کے مقابلے ميں ايک اور نظريہ بھي ہے اور انھوں نے نھج البلاغہ کے کلام کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے اس سے بالکل ھٹ کر ايک اور نظريہ ذ کر کيا ہے اس گروہ نے قرآن يا نہج البلاغہ نيز احاديث کو ديکھنے سے پہلے ہي ايک الگ قسم کا طرز فکر اختيار کيا ہے اور اس نظريہ کو آج کل کي موجودہ فضا اور روشن فکري کا نتيجہ کہہ سکتے ہيں اس گروہ کے مطابق مرد اور عورت کے وجود، ان کي ذات اور خلقت و غيرہ ميں کسي قسم کا فرق نہيں پايا جات اس گروہ کا عقيدہ يہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں انساني صفات کے حامل ہيں اور ان کي خلقت ميں کسي قسم کا فرق نہيں پايا جاتا. بلکہ اگر فرق ہے بھي تو ان کے کردار اور ان کي توليد مثل (نسل کشي) ميں اس بنا پر خانداني، اجتماعي، فکري، روحي مسائل اور حقوق يا مختلف کرداروں ميں ان دونوں کے درميان کوئي فرق نہيں ہے اور معاشرے ميں ہر طرح کا موجود فرق، ہماري نامناسب تربيت کا نتيجہ اور معاشرے ميں غلط رفتاري کا اثر ہے جہاں پر بھي ايک فکري يا ثقافتي انقلاب وجود ميں آيا ہے ياجب بھي عورتوں ميں ايک تغيير و تحول وجود ميںياہے وہاں پر اس قسم کے تمام اختلافات کو مٹايا گيا ہے، اور اس طرح کے معاشرے ميں عورتيں اعلي مقام و منزلت ہر فائز ہوئي ہيں اور صاحب نظر بھي بني ہيں۔
يہ نظريہ کيمينسٹوں کے ذريعہ وجود ميں آيا ہے اور انہوں نے ہي اس نظريہ کو رائج کيا ہے انٹرنيشنل سطح پر اقوام متحدہ کے کنونشنوں اور انساني حقوق کي تنظيموں نے بھي اس کي تائيد کي ہے اس نظريہ کے ماننے والے جب نھج البلاغہ اور مولا علي کے کلام مبارک پر نظر ڈالتے ہيں اور اسے اپنے نظريہ کے خلاف ديکھتے ہيں توامام کي کلام کي مختلف قسم کي تآويليں کرتے ہيں:
1۔ امام علي کي تعبيريں، محدود اور چند خاص عورتوں کے متعلق تھيں اس گروہ ميں بعض لوگوں کا عقيدہ ہے کہ نہج البلاغہ ميں عورتوں کي مذمت کے بارے ميں جو جملے وارد ہوئے ہيں صدر اسلام کي بعض خاص عورتوں کے متعلق ہيں کہ جن کے اشتباہات اور لغزشوں کي وجہ سے بعض مسلمان منحرف اور گمراہ ہوگئے اس بنا پر يہ جملے سب عورتوں کو شامل نہيں ہوتے ليکن قرآن کي طرح اور عربوں کي رسم کے مطابق ان کے نام ذ کر نہيں کيے گئے ہيں بلکہ عمومي الفاظ کے ذريعے سب کو مخاطب قرار ديا گيا ہے پس ان عبارتوں کا يہ مفہوم نہيں نکالنا چاہيے کہ اس سے مراد سب عورتيں ہيں۔
2۔ يہ ان لوگوں کا نظريہ ہے جو حضرت علي اور نہج البلاغہ کو نمونہ کے طور پر قبول کرتے ہيں اور اپنے عقائد ميں سختي سے پابند ہيں،ليکن دوسري طرف سے عورتوں اور مردوں ميں مساوات کے قائل ہيں لہذا مجبور ہوکر اس طرح کا نظريہ پيش کرتے ہيں تاکہ ان کے دين و ايمان ميں بھي خلل وارد نہ ہو اور اپنے نظريہ ميں بھي کسي قسم کي مشکل پيش نہ آئے۔
2۔ امام علي کي تعبيريں اپنے زمانے کي عورتوں سے مخصوص تھيں: ايک اور گروہ کا عقيدہ ہے کہ اس زمانے کي خواتين، اس وقت کي ثقافت اور تھذيب و تمدن کي وجہ سے ان صفات و خصوصيات کي حامل تھيں ان کے عقيدے کے مطابق اس زمانے ميں عورتوں کے بارے ميں تنگ نظري سے کام ليا جاتا تھ وہ عورتيں تہذيب و تمدن، تعليم و تعلم، تفکر و اجتماع سے اتني دور تھيں کہ ہم انھيں اس قسم کي تعبيروں کا مستحق اور مصداق کہہ سکتے ہيں در حقيقت وہ ايک ايسے بچے کے مانند تھيں جو کئي سالوں سے اجتماع اور معاشرے سے دور رہے اور پھر اچانک ايک اجتماع يا معاشرے ميں وارد ہوجائے جب اس قسم کے افراد اچانک ايک معاشرہ ميں وارد ہوں تو انہيں رشد و کمال کيلئے کافي وقت کي ضرورت ہوتي ہے اور ان کيلئے يہي بہتر ہے کہ انہيں ان کي مشکلات کے بارے ميں ياد دہاني کرائي جائے تاکہ دوسرے لوگ ان سے معاشرتي نمونہ اور ماڈل بننے کي اميد نہ رکھيں اور اس قسم کي صفات سے خود کو بھي دور کريں اس گروہ کي نظر ميں مولا علي کا کلام جزئي نہيں بلکہ کلي ہے ليکن فقط مولا علي اور صدر اسلام کے زمانے کي عورتوں تک محدود ہے اور آج کل کي عورتوں پر جوکہ فہميدہ، دور انديش اور روشن فکر ہيں اور ان نقائص سے دور بھي ہيں،يہ قول صدق نہيں کرتاہے۔
3۔ حضرت علي کے کلام سے مراد دين ميں مرد کي حکومت ہے: ايک اور گروہ کا عقيدہ ہے کہ حضرت علي کے زمانے ميں عورتوں کو معاشرے ميں کسي قسم کامقام و منزلت يا حيثيت حاصل نہيں تھي، دين ميں مرد ہي اصلي محور اور مرکز تھ لہذا حضرت نے بھي ناچار ہو کر ان حالات کے تحت عورتوں کے بارے ميں اس طرح کي تعبيريں استعمال کي ہيںظاہر ہے کہ يہ ايسے لوگوں کا نظريہ ہے جو آئمہ اطہار کے علم قدسي و علم لدني يا عصمت کے منکر ہيں ورنہ کوئي بھي اس قسم کا عقيدہ نہيں رکھ سکتا کہ ايک امام معصوم زمانے کے حالات اور شرائط سے متآثر ہوکر اوردباو ميں آکر ايسے بيانات جاري کر دے جو اس کي عصمت يا علم کے منافي ہوں. اور اس نظريہ سے يہ نتيجہ نکلتا ہے کہ اہل بيت ، خاص کر مولا علي عليہ السلام کا کلام ہمارے ليے تربيتي لحاظ سے نمونہ عمل اور آئيڈيل نہيں ہو سکتا۔
4۔  نھج البلاغہ کے جملات اور روايات ميں تحريف کا احتمال:ايک اور گروہ ايسا بھي ہے کہ جس کا عقيدہ يہ ہے کہ احاديث و روايات منجملہ نہج البلاغہ ميں تحريف واقع ہوئي ہے ان لوگوں کا اصرار ہے کہ ہماري بعض روايتيں اسرائيليات کا جزئ ہيں يا جھوٹ، و افترائ و بہتان ہيں، جن کي آئمہ(ع) کي طرف نسبت دي گئي ہے اور چونکہ حضرت امير کا عورتوں کے بارے ميں کلام بھي حقيقت سے دور ہے لہذا کہہ سکتے ہيں کہ اس ميں بھي تحريف واقع ہوئي ہے نتيجہ يہ کہ اس نظريہ کے مطابق بھي نہج البلاغہ کے کلام کو تربيتي لحاظ سے اپنے لئے نمونہ عمل قرار نہيں دے سکتے . کيونکہ تحريف شدہ اور غلط حديثوں پر مشتمل اور ناقابل تشخيص کلام ہے ۔
5۔ جس دين ميں اس قسم کي تعبيريں ہوں وہ تھذيب و تمدن سے خالي ہے: ايک اور گروہ جو زيادہ روي کا شکار ہے اور ايک خاص غرض سے اس کلام کو ديکھتا ہے، اس کي نطر ميں (معاذ اللہ) حضرت علي کي يہ تعبيريں اسلام کي پسماندگي اور دقيانوسي اور تھذيب و تمدن سے دورہونے کي علامت ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ اسلام اپنے زمانے ميں ايک ترقي يافتہ اور انساني دين مانا جاتا تھا ليکن آج کل کے دور ميں ذہنوں ميں ايجاد ہونے والے سوالات اور مشکلات کو ہر گز حل نہيں کر سکتا .لہذا ہميں چاہيے کہ جو دين ہمارے اصولوں سے دور ہو اس سے ہم بھي پرہيز کريں اور اس سے ہر گز کسي قسم کا کوئي رابطہ نہ رکھيں پس تيسرے نظريہ کے مطابق مرد اور عورت، لڑکي اور لڑکے ميں کوئي فرق نہيں ہے بلکہ دونوں ہر لحاظ سے برابر ہيں۔
عورت اور مرد کا شرافت اور کمالات ميں مساوي اور برابر ہونا
اس نظريہ ميں گزشتہ نظريوں کے تمام مثبت نکات موجود ہيں. جب کہ يہ نظريہ منفي نکات سے خالي اور عاري ہے اس کے علاوہ يہ نظريہ قرآن و سنت سے ليا گيا ہے جس کے مطابق نہج البلاغہ ميں عورتوں کے بارے ميں موجود روايات سے بحث کي جاسکتي ہے۔
تحریر: سيد ارشد حسين موسوی کشميری
www.ahl-ul-bayt.org


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19