Monday - 2018 july 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183342
Published : 8/9/2016 16:30

سعودی مفتی کے توھین آمیز بیان پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا رد عمل، ایرانیوں کے اسلام کی سعودی اسلام سے کوئی شباھت نھیں

سعودیوں کی لفاظیوں نے نہ صرف غیرمنطقی اور گستاخ ہونے کی تمام حدوں کو پھلانگ لیا ہے بلکہ اس میں پاگل پن اور وھم کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے کہ جو نہ صرف قول میں بلکہ جنونی اقدامات میں بھی سب پر عیاں ہو چکا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے مفتی اعظم کے توھین آمیز بیان پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹر پیج پر سعودیوں کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل شیخ کے توہین آمیز بیان کا جواب دیا ہے۔ سعودیوں کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل شیخ نے منگل کے روز دعوی کیا تھا کہ ایرانی مسلمان نہیں ہیں۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ درحقیقت ایرانیوں اور مسلمانوں کی اکثریت کے اسلام کی اس نسل پرستانہ انتہا پسندی کے ساتھ کوئی مشابہت موجود نہیں ہے کہ جس کی تبلیغ دہشت گردی کے بانی سعودی عرب اور وہابی مفتی کرتے ہیں۔
یہ ایسے وقت میں ہے کہ دھشت گرد گروہ داعش کے عقائد اور نظریات کا سرچشمہ، سعودی عرب کے مفتیوں، وہابی فرقے اور حقیقی محمدی اسلام سے تضاد رکھنے والے فتوے اور نظریات ہیں، یہ ایسے فتوے ہیں کہ جنھوں نے دنیا میں اسلام کے چہرے کو مسخ کیا ہے اور شام، ،عراق، یمن اور دوسرے اسلامی ملکوں میں ہزاروں مسلمانوں کو خاک و خون میں غلطاں کیا ہے۔
سعودیوں کی لفاظیوں نے نہ صرف غیرمنطقی اور گستاخ ہونے کی تمام حدوں کو پھلانگ لیا ہے بلکہ اس میں پاگل پن اور وہم کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے کہ جو نہ صرف قول میں بلکہ جنونی اقدامات میں بھی سب پر عیاں ہو چکا ہے۔
سعودی اس وقت دلدل میں پھنس چکے ہیں اور وہ جتنے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اس میں مزید دھنستے چلے جا رہے ہیں۔
سعودیوں کو اس بےبنیاد لفاظی کے بجائے اپنے ماضی اور حال پر ایک نظر ڈالنی چاہیے تاکہ شاید انھیں نظر آ جائے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور وہ کہاں تک اس گندے کھیل کو آگے لے جا سکتے ہیں۔
سعودیوں کے پاس اس گندے کھیل میں تین ہتھکنڈے ہیں۔ ان میں سے ایک ہتھکنڈا حج ہے کہ جسے انھوں نے اپنی نااہلی، نالائقی اور بےتدبیری کے ساتھ غیرذمہ دارنہ میدان میں تبدیل کر دیا ہے اور خانہ خدا کے زائرین اور حاجیوں کا قتل عام کر کے انسانیت کے لیے امن و سلامتی کی پناہ گاہ کو حجاج کے مقتل میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ حقائق کو مسخ کر کے یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر چار سو چونسٹھ ایرانی حاجیوں سمیت سات ہزار سے زائد حجاج کرام گزشتہ سال عید قربان کے دن آل سعود کے حکام کے غلط انتظامات کی وجہ سے مظلومانہ انداز میں اور پیاسے اپنی جان کی بازی ہار گئے تو اس کا قصوروار ایران ہے کیونکہ وہ حج کو سیاسی رنگ دینا چاہتا ہے۔
اس گندے سیاسی کھیل میں سعودیوں کا دوسرا ہتھکنڈا فوجی اسٹریٹیجی اور حکمت عملی استعمال کرنا ہے کہ جس کا ہم یمن میں مشاہدہ کر رہے ہیں۔ سعودی، یمن پر جارحیت اور جنگ مسلط کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھیں یمن کے مستقبل اور وہاں جمہوریت کے بارے میں تشویش ہے اور وہ یمن کو بحران سے بچانا چاہتے ہیں، جبکہ وہ یمن کے عوام کو فاسورس بموں اور ممنوعہ ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر قتل کر رہے ہیں اور انھوں نے یمن کے خلاف جنگ کے لیے اتحاد بھی تشکیل دیا ہے۔
لیکن بحران کھڑے کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے میں سعودیوں کا تیسرا ہتھکنڈا اور ہتھیار تیل کا پیسہ ہے کہ جو انھوں نے اپنی نااہلی اور تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی اور بحران کھڑا کرنے کے سلسلے میں اپنے غلط اندازوں کی وجہ سے کھو دیا ہے اور اب خود انھیں ایک سو ارب ڈالر سے زائد کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔
ایسی صورت حال کے ساتھ سعودی عرب کو ایک اور بڑے چیلنج کا بھی سامنا ہے اور وہ یہ ہے کہ حج کا انتظام چلانے میں اسلامی ملکوں کو اس پر اعتماد نہیں رہا ہے۔ یہ اتنی بڑی ضرب ہے کہ جو خاندان سعود سے برداشت نہیں ہو رہی ہے اور اسی بنا پر وہ سیاسی ہنگامہ آرائی کر کے اس مسئلے سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے سعودی حکام بدستور پرانے اور لاحاصل کھیل کو آگے بڑھانے اور خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ انھیں حج کی سیکورٹی فراہم کرنے کے سلسلے میں اپنی ناکامی اور نااہلی کو قبول کرنا چاہیے اور منیٰ سانحہ کا غم سہنے والی قوموں کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
اس سانحہ کے رونما ہونے کے اسباب و عوامل کے بارے میں ایک جامع تحقیق ہی اس سلسلے میں اٹھنے والے  سوالات کے جواب دے سکتی ہے اور اس بارے میں پائے جانے والے ابہام کو دور کر سکتی ہے۔ سعودیوں نے حتی ایک بین الاقوامی اسلامی تحقیقاتی وفد کی تشکیل سے بھی انکار کیا ہے اور وہ اب اس سال ایرانیوں حاجیوں کے حج سے محروم رہ جانے میں ایران کو قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بلاشبہ سانحہ منیٰ کی ذمہ داری ان حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے کہ جنھوں نے نہ صرف بیت اللہ الحرام کے ہزاروں حاجیوں کے مارے جانے پر نہ صرف افسوس کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ وہ بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر علاقے کی مسلمان قوموں کو اپنے فریب کارانہ سیاسی کھیل کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔
www.abna24.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 july 23