Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183372
Published : 10/9/2016 14:17

امن عالم کا قرآنی منشور

اگر انسان اس کائنات میں امن کا خواھاں ہے تو اسے پھلے اپنی اصلاح کرنی چاھئے،چونکہ انفرادی اصلاح کے سبب ھی کسی معاشرے اور سماج کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔


ولایت پورٹل:
اللہ نے انسان کو فطرت کے فائق اصولوں پر خلق کرکے اس کے تکامل اور رشد کے لئے نھایت ہی مناسب اقدام کئے ہیں تاکہ وہ  مکمل آزادی اور امن و سکون کے ساتھ اپنے اس دنیاوی سفر کو آخرت تک پہونچا سکے لہذا اس نے اس مقصد کی تکمیل کے لئے مکمل ضابطہ حیات بشکل قرآن مجید نازل  کیا تاکہ کسی کے پاس بہانے کا کوئی  موقع باقی نہ رہے اور اللہ کے سامنے  کسی طرح کی کوئی حجت پیش نہ کرسکے جس کو سعید بننا ہے تو وہ بھی کسی دلیل کے ساتھ بنے اور اگر رسوا اور خوار ہونا ہے تو بھی اس کے پاس کوئی دلیل ہونا چاہیئے  چونکہ اللہ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا اور وہ تبھی صحیح معنی میں منصب خلافت الھی پر فائز ہوسکتا ہے کہ جب اللہ کے تمام کمالات حسنہ کا مظہر بن جائے ورنہ  فرشتوں کا کیا ہوا  اعتراض تو انسان کے ماتھے کا کلنگ بن کر رہ جائے گا لہذا جب فرشتوں نے اعتراض کیا کہ کیا تو اپنے منصب خلافت کو ایسی مخلوق کے سپرد ررہاہے کہ جو روئے زمین کا امن و سکون چھین لے گی اور اسے فساد اور قتل و غارت گری کا ملجاء بنا دے گی لہذا ارشاد ہوتا ہے :( وَ إِذْ قالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَليفَةً قالُوا أَ تَجْعَلُ فيها مَنْ يُفْسِدُ فيها وَ يَسْفِكُ الدِّماءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ قالَ إِنِّي أَعْلَمُ ما لا تَعْلَمُون)(1)، [اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا : میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ، فرشتوں نے کہا : کیا تو زمین پر ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا ؟ جبکہ ہم تیری حمد و ثنا کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں ، اللہ نے فرمایا : جس چیز کو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ] لہذا اللہ تعالی نے ان کے اعتراض کا انکار نہیں کیا کہ تم غلط کہہ رہے ہو  لیکن فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے اس انسان میں وہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ یہ اپنے فساد اور ظلم کو سکون اور خیر سے بدل دے اور  تم میں وہ اختیار نہیں ہے کہ  جو ہم نے آدم اور اس کی اولاد کو دیا ہے صحیح کہ یہ مادہ سے بنا ہے اور مادہ کی طبیعت میں تزاحم پایا جاتا ہے لیکن تمہاری تقدیر میں نے بنائی ہے یہ اپنی تقدیر خود لکھے گا چونکہ میرا مقصد ہی یہ ہے کہ میں اس انسان کے ذریعہ ایک ایسا پر امن سماج اور ایسا عالم تشکیل  دوں جس میں ہر طرف عدالت  اور انصاف  کا بول بالا ہو کہ جو اپنی مثال آپ ہو جس میں احسان اور نیکی اور اخوت  جیسی صفات کار فرما ہوں  تاکہ ان کی دنیا و آخرت سعادت اور خوش بختی سے مملوء ہوجائے ، چنانچہ معصوم فرماتے ہیں:الدنیا مزرعة الآخرة(2) ،دنیا آخرت کی کھیتی ہے جو جیسا بوئے گا ویسا ہی کاٹے گا اور  جو اس دنیا میں دوسروں کے امن کا بیڑا اٹھالے گا یقیناً وہی آخرت میں مامون و محفوظ رہے گا۔
امن پسند معاشرہ  کی تشکیل کا پہلا  قرآنی اصول
لہذا قرآن مجید نے ایک امن پسند معاشرہ کی تشکیل  میں  انفرادی امن اور سکون کو خاص اہمیت دی ہے چونکہ جب تک انسان  کی  انفرادی زندگی  میں  امن اور آزادی جیسی بلند اقدار نہ پائی جاتیں ہوں اس وقت تک وہ اپنے مطلوبہ کمال تک نہیں پہونچ سکتا اور جب ہر فرد کی انفرادی تربیت قرآنی اصولوں اور معصومین کے استخراج کردہ احکام پر ہوگی تو یہ فرد جب کل سماج کا ایک جزء بنے گا تو اس کے نتائج مثبت ہوں گے   اور جیسا کہ حکماء کا قول ہے کہ "الانسان مدني الطبع أي لا يمكن تعيشه الا باجتماعه مع ابناء نوعه ليقوم كل واحد بشيء مما يحتاجون اليه"(3)، [ہر انسان کی طبیعت یہ ہے کہ وہ کسی  اجتماع میں زندگی گذارے یعنی وہ ایک اجتماعی مخلوق ہے اور اس کے لئے سماج اور معاشرہ سے کٹ کر رہنا ممکن ہی نہیں ہے  تاکہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ  رہ کر زندگی کے لئے تک و دو کرے ] دنیا کا کوئی بھی کارخانہ یا فیکٹری جب تشکیل پاتی ہے تو اس میں آہستہ آہستہ کام اور مشاغل کے فروغ کے بعد نفری تعداد بڑھنا شروع ہوجاتی چونکہ  بقول شاعر:
 میں اکیلا ھی چلا تھا جانب منزل مگر
 لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
(4)
لھذا قرآن مجید  بھی اس سے پہلے کی پورے عالم کے امن کے حوالہ سے کچھ بیان کرے اس نےسب سے  پہلے انسان کی انفردی زندگی سے امن کا آغاز کیا ہے تاکہ جو فرد کسی معاشرہ کا جزء بننے کے لئے جارہا ہے  اس کا پہلے مرحلہ میں امن پسند ہونا بہت ضروری ہے اگر اس کی زندگی امن پسند عناصر سے خالی ہوئی تو  وہ کل اپنے معاشرہ کے امن کے لئے ایک بڑے  خطرہ کے روپ میں جلوہ گر ہوگا (وَابْتَغِ فيما آتاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَ لا تَنْسَ نَصيبَكَ مِنَ الدُّنْيا وَ أَحْسِنْ كَما أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ وَ لا تَبْغِ الْفَسادَ فِي الْأَرْضِ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُفْسِدين)(5)، [اور جو کچھ تمہیں خدا نے دیا ہے اس سے آخرت کے گھر کا انتظام کرو ، اور دنیا میں اپنا حصہ بھول نہ جانا اور تم بھی دوسروں کے ساتھ ویسے ہی نیکی کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ کی ہے اور زمین پر فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرنا چونکہ اللہ فساد کرنے ولوں کو پسند نہیں کرتا] لہذا قرآن انسان کو متوجہ کررہا ہے کہ دیکھو مالداری کے سبب تم میں غرور نہ آجائے چونکہ اکثڑ و بیشتر اس دنیا میں فساد انہیں لوگوں کی طرف سے سرآٹھاتا ہے کہ جن کو اس دنیا سے کچھ میسر آجاتا ہے ، یہ شراب کی دکانیں ، فلمی ٹھیٹر ، رقص گاہیں ، اور منشایات کا عالمی کاروبار سماج کے متمول طبقہ کی ناز برداریوں میں مصروف عمل ہے  اور وہ اپنی اوقات بھول کر امن عالم کو خطرہ میں ڈال رہے  ہیں لہذا اسلام نے اپنے اتباع کرنے والوں کی تربیت پر خاص توجہ دی ہے تاکہ وہ کل کسی کو نقصان نہ پہونچائیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کا بھی اقدام کریں  چونکہ جس سماج سے اچھائیاں اور نیکیاں ختم ہوجاتی ہیں تو آہستہ آہستہ اس سماج میں برے اور جرائم پیشہ لوگ جنم لے لیتے ہیں اور اگر  امر المعروف اور نہی عن المنکر کی دو دھاری تلوار سے ان جراثیم کا قلع قمع نہ کیا گیا تو سماج میں بدامنی کا طوفان آن کھڑا ہوگا کہ جو ہر خشک و تر کو اپنے ساتھ بہا کر لے جائے گا لہذا انسان کو اللہ نے تواضع جیسا حسن اخلاق اپنانے کے لئے وادار کیا ہے چونکہ اگر کسی شخص میں اپنے بڑے پن کا احساس ہوگیا تو پھر یہ آئندہ امن عالم کے لئے وبال جان بن جائے گا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ( تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُها لِلَّذينَ لا يُريدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَ لا فَساداً وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقينَ)(6)، [ ہم آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو زمین میں بالا دستی اور فساد پھیلانا نہیں چاہتے اور نیک انجام تو اہل تقوی کے لئے ہی ہے ] لہذا اللہ نے انسان کی ذہنی پرورش اس طرح کی ہے کہ اس میں ذرہ برابر بھی تکبر نہ آنے پائے اور اس کو بار بار متعدد آیات میں یہ تذکر دیا ہے کہ تمہیں اس دنیا میں صرف چند دن ہی رہنا ہے آخر تمہاری حقیقی منزل تو ہم ہی ہیں(إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون‏) اگر ہم نے تمہیں اس دنیا میں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے تو ان کا غلط استعمال نہ کرو اور ان کے سبب فساد پھیلانے کی کوشش نہ کرو بلکہ دوسروں کے ساتھ نیکی اور احسان کرو ۔
امن عالم کے لئے سب سے بڑا خطرہ کون ؟
جب انفرادی  زندگی کا سنگ بنیاد صلح و آشتی ، امن و  حریت  پر رکھ دیا جائے تو اب مرحلہ یہ آتا ہے کہ ان جراثیم کو پہچان لیا جائے  کہ جو کسی سماج کے امن و سکون کو برباد کردیتے ہیں  ترقی پسند عناصر کو  دیمک کے مانند چاٹ کر کھوکلا بنا دیتے ہیں تاکہ احتیاطی تدابیر عمل میں لائی جاسکیں چونکہ جب بھی شر اور باطل کے دلدادہ کوئی برا کام انجام دیتے ہیں تو وہ اس پر ترقی ، اقتصاد ، حریت  یا رفاہ عام کا خوبصورت ٹائٹل لگاتے ہیں تاکہ ان کے برے اعمال اور افعال کا جمہوری رجیسٹریشن ہوجائے اور  وہ سادہ لوح عوام کا دل کھول کر  استحصال کرسکیں کہیں پر نائیٹ کلب تو کہیں پر ٹھیٹر ، کہیں پر شراب اور منشیات کا دھندا تو کہیں پر حریت اور آزادی بیان کے نام پر لاکھوں لوگوں کا قتل عام ، اوردینی  مقدسات کی توہین (وَ إِذا قيلَ لَهُمْ لا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قالُوا إِنَّما نَحْنُ مُصْلِحُون)(7)، [اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں : ہم تو بس اصلاح کرنے والے ہیں ] فساد اور بد امنی کے ارکان کو پہچان لینے کے بعد ضرورت اس امر کا اقتضاء کرتی ہے کہ معاشرہ کے سنجیدہ لوگ اپنی سوج بوجھ اوتدبیر کو بروئے کار لاکر ان جراثیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور حقیقتا اصلاحی اقدام کریں اور اس موقع پر غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے بد امنی کا سد باب نہ کرنے والے بھی مقصر شمار ہوتے  ہیں چونکہ جس معاشرہ میں اصلاح کرنے والے اپنا دینی اور انسانی فریضہ ادا نہیں کرتے تو عنقریب یہ بد امنی کی آگ  ان کے خرمن وجود کو بھی جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیتی ہے چنانچہ قرآن مجید بابنگ دھل پکار رہا ہے : (وَ ما كانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرى‏ بِظُلْمٍ وَ أَهْلُها مُصْلِحُون)(8)، [اور آپ کا رب ان بستیوں کو ناحق تباہ نہیں کرتا اگر ان کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں ] غرض ! سماج  میں  مصلحین کی مثال وجود انسانی میں ریڑ کی ہڈی  کی طرح ہے جب تک یہ ہڈی صحیح اور سلامت ہے تو انسان  چل پھر سکتا ہے لہذا اس فریضہ کو ترک نہیں کرنا چاہیئے جو اس فریضہ کو بخوبی انجام دیتے ہیں در واقع وہ ایک امن پسند معاشرہ کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں چنانچہ امیرالمؤمنین فرماتے ہیں (من أمر بالمعروف شد ظهور المؤمنين.من نهى عن المنكر أرغم أنوف الفاسقين)(9) "جس نے  امر بالمعروف کیا  اس نے صاحبان ایمان کی کمر کو مضبوط کیا اور جس نے نہی عن المنکر انجام دیا اس نے فسق و فجور کرنے والوں کی ناکوں کو زمین پر رگڑ دیا " اگر فساد کرنے والوں کو نہیں روکا گیا تو پھر ایک سالم معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا  لہذا سماج کی بد امنی کے جتنے ذمہ دار یہ فساد پھیلانے والے ہیں اتنے ہی وہ غیر جانبدار افراد بھی ہیں کہ جو اپنی جھوٹی شان و شوکت اور وہمی عزت کے خاطر ان فساد اور ظلم کے جراثیم کو نشو و نما ہونے کا موقع دیتے ہیں اور اب اس کے بعد قرآن مجید امن و سکون کے قسم خوردہ دشمن کی نشاندہی کررہا ہے جس کو پہچاننے کی سخت ضرورت ہے اگر اس کو روشناس نہ کیا گیا مبادا کہیں یہ تمہاری پشت میں منافقت کا مسموم حنجر نہ گھونپ دیں اگرچہ قرآن مجید کو نازل ہوئے چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے لیکن جہاں اس کے دوسرے اعجازی رخ ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ  قرآن وہ  آئنہ ہے کہ جس میں ماضی اور مستقبل کی سب تصویریں شفاف  نظر آتی ہیں لیکن معرفت اور بصیریت کی ضرورت ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:(مِنْ أَجْلِ ذلِكَ كَتَبْنا عَلى‏ بَني‏ إِسْرائيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّما قَتَلَ النَّاسَ جَميعاً وَ مَنْ أَحْياها فَكَأَنَّما أَحْيَا النَّاسَ جَميعاً)(10)، [اور اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل  کے لئے یہ حکم مقرر کردیا کہ جس نے کسی ایک کو قتل کیا جبکہ یہ قتل کسی قصاص اور زمین پر فساد پھیلانے کے جرم میں نہ ہو تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل عام  کیا اور جس نے کسی ایک کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی ] یہ آیہ کریمہ  پیغام دے رہی ہے کہ قوم بنی اسرائیل کا کسی کو بلا سبب قتل کردینا عام مشغلہ تھا جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے فساد اور ظلم پر متنبہ کیا اور دوسروں کو یہ پیغام دیا کہ بنی اسرائیل وہ شاطر قوم ہے جو بے بنیاد ہی انسانیت کا قتل عام کردیتی ہے  لہذا آج بھی بقائے انسانیت کو سب سے بڑا خطرہ اسرائیلیوں اور ان کی بساط شطرنج کے مہروں سے ہے کہ جو ان کے حقیقی نمک خوار ہیں یہی وہ قوم ہے کہ جو آج  تمام  انسانیت کا قتل عام کررہی ہے مسلمانوں گو گھروں سے بے گھر بنا رہی ہے اور انسانی اقدار اور کرامتوں کو پایمال کر دنیا کو بد امن بنا رہے ہیں ، دنیا کے  تمام ممالک میں فساد اور لہو لعب کے مراکز ان کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں ،  ہروئین ، افیم ،چرس  اور  جملہ منشیات کا سارا کاروبار انہیں کے ہاتھوں میں ہے جب چاہتے ہیں اور جس جگہ کو  چاہتے ہیں اسے  برباد کردیتے ہیں لہذا ان بحرانوں سے نپٹنے کا قرآنی اصول یہی ہے کہ قوم کے ذمہ دار اور بزرگوں کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیئے اور امر بالمعروف اور نھی عن المنکر سے غافل نہ ہوں اور مذکورہ آیت میں یہ بھی صاف ہے کہ جب کسی معاشرہ میں امرالمعروف کرنے والے نہ رہیں تو اس پر عذاب نازل ہوجاتا اگرچہ  غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ سب بحران ایک عذاب ہی ہیں پھر کیوں ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے آسمان سے پتھر نازل ہونے کا انتظار کررہے ہیں !   ان کے ہاتھوں آج انسانیت  اس کھیلونے سے بھی زیادہ نازک ہے جسے کوئی بچہ مروڑ دیتا ہے ، آج کے دور میں اسلامی ممالک کے سبھی بحران انہیں کے ایجاد کردہ ہیں، غرض !  اس قوم نے انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی نظام  تک کو طلاطم خیز طوفانوں میں دھکیل دیا ہے کہ جہاں انسان اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے ۔
 قرآن مجید اس کے بعد ایک اور گروہ کے چہرے سے نقاب کھینچ رہا ہے کہ جو بنام دین لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور اس طرح اپنے ذوق بدامنی کی تسکین کرتے ہیں جن کے سبب سادہ لوح عوام باہمی خانہ جنگی میں مشغول ہوجاتے ہیں اور انہیں اس بات تک کی بھی خبر نہیں ہوتی  کہ ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے چنانچہ قرآن ان الفاظ میں اس گروہ کا تعارف  کرواتا ہے:(وَ قالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوني‏ أَقْتُلْ مُوسى‏ وَ لْيَدْعُ رَبَّهُ إِنِّي أَخافُ أَنْ يُبَدِّلَ دينَكُمْ أَوْ أَنْ يُظْهِرَ فِي الْأَرْضِ الْفَساد)(11)، [اور فرعون نے کہا : مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کردوں اور وہ اپنے رب کو پکارے ، مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا زمین میں فساد برپا کردے گا] اس آیہ کریمہ میں قرآن مجید فرعون اور اس کے حامیوں کی گفتگو نقل کررہا ہے  کہ جب  فرعون اپنے ہی دربار میں اپنے ہی کیرایہ کے ساحروں کے اقدام سے شکست کھا گیا تو اپنی خدائی کا رعب جھاڑنے کے لئے چلایا کہ مجھے جانے دو میں موسیٰ کو قتل کردوں گا اور اگر اس کا کوئی خدا ہے تو وہ اسے پکار کردیکھے  اور میں اس کو اس وجہ سے نہیں قتل کررہا ہوں کہ وہ میرے ہی ماننے والوں کو مجھ سے چھوڑا کر لے گیا شب و روز میری بندگی کے کلمہ گو  اور میری جھوٹی خدائی کو سرہانے والے میری حقیقت سے آگاہ ہوگئے  بلکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ وہ کہیں تمہارے دین کو نہ بدل دے اور روئے زمین کو بدامن نہ بناڈالے ، قارئین ! ملاحظہ فرمائیں  اگر خیرخواہ فرعون جیسا ہو تو اسے اپنے سے زیادہ دوسروں کے دین کی فکر ہوتی ہے  یہ فرعونی کردار کی صفت ہے کہ وہ جب بھی کہیں بھی فتنہ یا فساد پھیلانا چاہتا ہے تو بنام دین ہوتا ہے چونکہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ تمہاری کوئی اوقات نہیں صرف یہ منافع دین کا لیبل لگا کر ہی اٹھائے جاسکتے ہیں اور اس طرح تمہاری خدائی کی  کرسی بھی بچی رہے گی اور تمہارے دشمن کا بھی خاتمہ ہوجائے گا  لہذا یہ آیت تمام نافہم مسلمانوں کو آئنہ دکھا رہی ہے کہ تمہیں مذہب کے نام پر بیوقوف بنایا جارہا ہے ، تمہارے اختلاف کے پیچھے فرعونی افکار کارفرما ہیں تم  ایک اللہ کے ماننے والے ایک قرآن کے تابع ایک نبی کا کلمہ پڑھنے والے اور ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے والے ہو تم  آپس میں کیوں لڑرہے ہو ؟  کیوں ایک دوسرے کی تکفیر کرکے اپنی ہلاکت کا سامان مہیا کررہے ہو  لہذا جب تک آپس میں متحد ہوکر دشمن کے حربوں کو نہیں سمجھو گے اس وقت تک  دنیا  میں  امن بحال نہیں ہوسکتا۔
تحریک امن عالم کے عظیم  پرچم دار

دنیا میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے کہ جو اپنے مخالفین سے بھی  مروت اور نرم رویہ کا عملی مظاہرہ کرتا ہے اور جس کا رسول تمام عالمین کے لئے رحمت بن کر آیا ہے (وَ ما أَرْسَلْناكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعالَمين)(12)، [اے رسول ! ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے] جس نے آکر سسکتی  ہوئی انسانیت کو  اپنی چادر رحمت  کے سایہ میں لے لیا تاکہ اسے امن اور سکون کا سانس مل سکے  آپؐ  امن  اور اصلاح کے ان اعلیٰ مراتب پر فائز تھے کہ جان کے پیاسے  دشمن بھی آپﷺ کو صادق و امین کہہ کر پکارتے تھے  اگر ظہور اسلام کی تاریخ پر غور کریں تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ اس  دور میں  سرزمین حجاز کس بدامنی میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں انسانوں کو دوطبقوں ( غلام اور آقاؤں )میں تقسیم کرکے فاصلوں کی دیوار کھڑی کی ہوئی تھی جہاں بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا باعث افتخار ہواکرتا تھا ، جہاں لوٹ پاٹ ، بات بات پر جھگڑا چالیس چالیس سال کی جنگوں کا پیش خیمہ ہوتا تھا ، جہاں فحشاء اور منکر سرعام بانداز فخر انجام پاتے ہوں سرورکائنات(ص) نے اس جاہل اور غیر مہذب سماج میں اطمئنان کی وہ روح پھونک دی کہ اب جہاں غلام  اپنے آقاؤں کے ساتھ ایک دسترخوان پر کھانا کھانے لگے اور دونوں کے ذمہ کچھ فرآئض اور حقوق عائد کردئیے ،  مردہ  عورت کو سماج میں اس کا حق دیا ، لٹیروں کو تاجر بنادیا ، موروثی جنگوں میں جلنے والوں کو جہاد اکبر سے آشنا کیا غرض ! دنیا کا سب سے تاریک خطہ منور ہوگیا اور سب سے بد امن جگہ بلد امین بن گئی اور برائیوں کا دلداہ سماج " اعدلوا ھو اقرب للتقوی "  کا مجسم نمونہ  بن گیا۔
ہجرت کے بعد مدینہ کے دو مشہور قبائل جن میں برسوں سے دشمنی چلی آرہی تھی  اسلام کے دامن  عافیت پناہ میں آکر رشتہ اخوت میں منسلک ہوگئے اس طرح برسوں پرانا فساد اور بد امنی امن میں تبدیل ہوگئی  حکومت اسلامی کی بنیاد ڈالنے کے بعد سرکار ختمی مرتبت(ص) نے جو کچھ بھی کیا وہ اس  بد امن عالم کو ایک پرامن عالم بنانے میں مشعل راہ ہے  اگر آپ(ص) کی سیرت کو آج کا انسان اپنا لے تو پھر کسی جگہ اور کسی خطہ میں بھی فرقہ واریت جنم نہیں لے سکتی  چنانچہ آپ ؐ نے مدنیہ منورہ اور اس کے اطراف میں آباد بہت سے یہودی اور مسیحی قبائل کے ساتھ عہد و پیمان اور صلح نامہ تحریر کئے تاکہ اس  خطہ میں کسی کے پاس بھی  بنام مذہب فساد پھیلانے یا کسی کے مال و ناموس پر تجاوز کرنے کا کوئی جواز نہ رہے  اس طرح آپؐ نے مدینہ کے دوسرے مذاہب کے لوگوں کی امنیت  کو خود مسلمانوں کی امنیت پر ترجیح دی اور مسلمانوں کی باہمی امنیت کے تحفظ کے خاطر سب سے پہلا قانون یہ وضع کیا  "الْمُسْلِمُ‏ مَنْ‏ سَلِمَ‏ الْمُسْلِمُونَ مِنْ يَدِهِ وَ لِسَانِه‏"(13)، "حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان امان میں رہیں " نیز آپؐ نے ایک مؤمن کی حرمت کو کعبہ کی حرمت پر مقدم  کیا اور اسی طرح تمام اسلامی مملکت میں آباد بنی نوع بشر کے لئے ایک دفاعی محاذ قائم کیا تاکہ سرحدوں کے باہر سے آنے والے بدامنی  کے فاسد تعفن کو روک سکیں  اس دفاعی محاذ کا نام جہاد رکھا لیکن اس پرآشوب دور میں اس مقدس عنوان کی آڑ میں بہت سی ظالم اور فاسد طاقتیں بنام جہاد عالمی امن کی دھجیاں اڑا رہی ہیں اور اس طرح یہ مقدس عنوان دنیا کے لئے ناقابل فہم بنتا جارہا ہے شاید یہ لوگ خودکش بم دھماکوں کو ہی جہاد سمجھتے ہیں ، اگرچہ  جہاد کا معنی کسی کی جان لینا نہیں ہے  بلکہ  کسی بھی موجود کی زندگی بچانے کی جد و جہد کرنے کو جہاد کہتے ہیں  اور بد امن سماج میں امن بحال کرنے کی جد و جہد کو جہاد کہتے ہیں چونکہ دوسروں کے لئے وہی امن قائم کرسکتا ہے کہ جو پہلے خود امن پسند ذہنیت کا حامل ہو " فاقد الشئی لا یعطی " فاقد شئ معطی شئ نہیں ہوتا " چنانچہ جو اپنے ہی وجود کو مٹانے کے درپئے ہوں وہ دوسروں کی  کہاں سے جان بچا سکتا ہے !جن کی ذہنیت شر پسند جراثیم سے مملوء ہو وہ کہاں سماج میں  امن کی بحالی کا اقدام کرسکتے ہیں! اگرچہ اسلامی تعلیمات سے بے بہرہ  ، فلسفہ احکام سے نا آشنا اور  مغربی افکار سے متاثر ذہنیتیں مسلسل  یہ شبہ ایجاد کرنے  کی کوشش کرتے ہیں کہ بھلا وہ رسولؐ( نعوذ باللہ) کہ جس نے اپنے دس سالہ دور حکومت میں تقریباً اسی (80)  جنگیں  اور غزوات لڑیں ہوں کہ جن میں نہ جانے کتنے لوگوں کا خون بہاہوگا  بھلا کیسے رحمت ہوسکتا ہے ؟
اگرچہ متعدد مرتبہ علماءاس شبہ کا  جواب دے چکے ہیں  اور ہر بار یہ نئے الفاظ کے قالب میں بیان کیا جاتا ہے لیکن سادہ سے الفاظ میں اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت(ص) نے ان تمام جنگوں میں سے کسی ایک کو بھی نہیں لڑا بلکہ یہ وہ جنگیں ہیں جو کفر ، شرک اور فساد و ظلم کے بانیوں نے اسلام کے سر پر تھونپی تھیں جن کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کی نئی نئی حکومت کا خاتمہ کردیا جائے  اور مسلمانوں کو کاٹ کر خون کے دریا میں بہادیا جائے  لیکن قرآن مجید اور پیغمبر اکرم(ص) کے فرامین کے روشنی میں چل کر نہتے مسلمانوں نے ظلم کے ایوانوں میں طلاطم برپا کردیا اور بدامنوں کے تیار کردہ میدان جنگ کو خود  ان کی لاشوں سے پاٹ دیا لہذا کوئی بھی منصف مورخ یہ بات نہیں لکھ سکتا کہ سرکار ختمی مرتبت(ص) نے کسی پر خود چڑھائی کی ہو بلکہ آپؑ نے ایک غیرت مند حکمراں کی طرح اپنی مملکت کے باشندوں کو امن فراہم کیا یہ اصول انسانیت بھی ہے اور عین شرافت بھی کہ جب تمہارا جانی دشمن تمہارے گھر پر حملہ آور ہو تو  تم اپنا دفاع کرو ، اور جو قوم اپنا دفاع بھی نہیں کرپاتی تو تاریخ اسے بزدل  کہتی ہے دوسرے یہ کہ ان دل کے اندھوں کو رسول اکرم(ص) کی زندگی میں 80 غزوات تو نظر آگئے لیکن ہزاروں کی تعداد میں وہ صلح نامہ نظر نہیں آئے جو پیغمبر اکرم (ص)نے دوسری اقوام کے ساتھ کئے تھے جس کی سب سے روشن مثال صلح حدیبیہ کا وہ پیمان ہے کہ جسے آپؐ نے رہتی دنیا تک کے لئے مثال بنادیا ، نیز فتح مکہ  کے موقع پر آپؐ کا  شہر مکہ میں  فاتحانہ داخل ہونا کرامت اور  ہمدردی اورامن کے  وہ پیغام  ہیں جن کے ہوتے ہوئے انسانیت ہمیشہ  آپؐ کی احسانمند رہے گی ورنہ کسی فاتح کی تاریخ  میں ایسا نہیں ملتا کہ اس نے اپنے مفتوحہ علاقہ کی  حرمت کا خیال رکھا ہو اور خود اپنے سب سے بڑے دشمن کےہی گھر کو دوسروں کی جاں بخشی کے لئے جائے  امن  قرار دے ہو یہ وہ سب مثالیں ہیں جو تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں ! لیکن جن کے پاس نور بصیرت نہ ہو تو ان کو نور الہی کی شعائیں نظر نہیں آتیں   غرض ! اسلام ہی سب سے بڑی امن اور عافیت کی آغوش ہے کہ جس کے سائے میں دم توڑتی انسانیت کو سکون مل سکتا ہے۔
--------------------------------------------------------------------------------------
حوالہ جات:

1۔ سورة البقرة : آیت 30 ۔
2۔ علامہ مجلسی ، مرآة العقول فی شرح اخبار آل الرسول ، ج 10 ، ص 65 ۔
3۔ موسوعة الامام المهدی ، مرکز ابحاث العقائدیة ، ص 122 ۔
4۔ دیوان مجروح سلطانپوری ۔
5۔ سورة القصص ؛ آیت 77 ۔
6۔ سورة القصص : آیت 83 ۔
7۔ سورة البقرہ : آیت 11 ۔
8۔ سورة الهود : آیت 117 ۔
9۔ تصنيف غرر الحكم و درر الكلم‏ ۔حدیث 332
10۔ سورة مائدة : آیت 32 ۔
11۔ سورة غافر : آیت 26 ۔
12۔ سورة الانبیاء : آیت 107 ۔
13۔ شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ ، ج 4 ، ص 362 ۔
سجاد ربانی 23 مئی 2013
حوزہ علمیه قم المقدسة ایران

از:مجلہ فکر و عمل


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16