Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183390
Published : 11/9/2016 22:14

غیبت امام زمانہ ﴿عج﴾کا فلسفہ

امام زمانہ(عج) کی غیبت کے سلسلے میں آئمہ معصومین(ع) سے متعدد اقوال نقل ہوئے ہیں، جن میں سے اھم کی طرف اس مقالہ میں اشارہ کیا گیا ہے،غرض قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ غیبت پر ایک سیر حاصل تبصرہ کیا گیاہے۔    

  •                                                     غیبت امام زمانہ ﴿عج﴾کا فلسفہ
تمھید:
انسان کی بنیادی ضرورتیں
اس دنیا میں پایا جانے والا ہر ذی روح اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ھمہ تن کوشاں رہتا ہے،اور ہر موجود کی ضرورتیں اس کے وجود اور غرض حیات کے اعتبار سے مختلف ھوتی ہیں زمین پر رینگنے والے چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں کی ضرورتیں ان کے مقصد تخلیق سے کبھی بڑی نہیں ہوتیں شیر کی ضرورتیں الگ ہیں اور بلی کی حاجتیں علیحدہ ،لھذا  روئے زمین کی سب سے طاقتور مخلوق انسان کی ضرورتیں ویسی ہی ہونی چاہئے جو اس کے غرض تخلیق کے شایان شان ہوں جہاں تک سوال ہے  اس موجود اعلیٰ کے مقصدخلقت کا، تو قرآن مجید صریحی انداز میں پیغام دے چکا ہے «و ما خلقت الجنّ و الانس الاّ لیعبدون»(1) ہم نے جنات اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے، اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہدف کتنا بڑا ہے اگرچہ بعض نادان اور عبادت سے نامانوس افراد اس کو کوئی بڑا کام نہیں سمجھتے بلکہ نماز ،روزہ ،حج اورزکاۃ کو بجا لانا ہی عبادت تصور کرتے ہیں اگرچہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے  لیکن مختصر لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ «ہر کام میں اتنا تعادل ہونا چاہئے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی ہوجائے»،لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے بلکہ اس وادی میں اٹھائے جانے والا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے ،جبکہ اس کے بعد بھی ایک اور منزل ہے جس کے لئے خود عبادت ایک راستہ سے زیادہ کوئی اھمیت نہیں رکھتی «يا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذي خَلَقَكُمْ وَ الَّذينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون»(2) اے بنی نوع بشر تم اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا ہے اور  ان کو بھی جوتم سے پہلے تھے، شاید تم  متقی بن جاؤ۔
در واقع عبادت اس براق کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ معراج قرب الٰہی یعنی تقویٰ تک کا سفر ممکن ہوجاتا ہے ،ظاہر ہے اس عظیم طولانی اور نورانی سفر کو اکیلے اور تن تنہا انجام نہیں دیا جاسکتا کوئی راہ آشنا رہبر ہونا چاہئے  جو اس دشوار اورطویل راستے کے نشیب و فراز کو جانتا ہو اور  جس کی معییت میں یہ  مرحلہ آسانی سے گذر جائے  لہذا عقل ایسے رہنما کو تلاش کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے لیکن اس مقام پر بھی خالق نے بر بنائے لطف  اپنے ناتواں بندوں پر ایک مزید احسان فرمایا اور کائنات کے سب سے پہلے بشر ہی کو پیشوائی کے لئے منتخب کیا تاکہ کل روز حساب کوئی دل و ضمیر کا اندھا یہ بہانہ نہ بنا سکے کہ پالنے والے ہم نے لاکھ ہاتھ پاؤں مارے لیکن خاطر خواہ   نتیجہ نہ ملا تو ہم کیا کرتے ؟
اب جیسے جیسے کاروان انسانیت آگے بڑھتا رہا  یہ   سفر  کٹھن سے کٹھن محسوس ہونے لگا  ، لہذا اللہ تبارک و تعالیٰ اسی اعتبار سے اس امر گراں کے لئے ماہر افراد کا انتخاب کرتا رہا جو ہر دور میں اپنی کشتی میں سوار مسافروں کو ساحل نجات تک پہونچاتے رہے یہاں تک کہ اس کشتی کو ایک عظیم ناخدا کے حوالے کیا جو اپنے کمال و صبر اور راہنمائی میں بے نظیر تھا  جس نے تئیس سال تک اس  امت کو راہ نجات اور منزل کمال تک پہونچانے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں کیا اور اپنی  جان کو ہتھیلی پر رکھ کر اس   طوفان ظلم و استبداد میں خود کو ایک مشعل راہ بنائے رکھا  آخر کار وہ وقت آ پہونچا کہ جب اللہ کا یہ عظیم رہبر اپنے مرکز اصلی کی طرف لوٹ جائے ،لیکن کیا آپ کے جانے سے یہ کشتی یہیں ٹہر جائے گی یا اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے چونکہ اس قافلے کو ساحل صبح قیامت سے جا ملنا ہے لہذا اس دریا میں رکی ہوئی کشتی کو آگے بڑھانے کے لئے ایک ایسے ناخدا کی ضرورت ہے جو طوفانوں کے سینے کو چیرکر کشتی کی حفاظت کرنا جانتا ہو اور اس کو  ان سواروں سمیت  منزل مقصود ت پہونچا نے کا ہنرآتا ہو لہذا اللہ کے پیارے نبی نے اس کا انتظام کیا اور اپنے اہل بیت اور امت کے نجات دہندہ افراد کا تعرف کرایا  «ان مثل‏ اهل‏ بيتى‏ كمثل سفينة نوح من ركبها نجى و من تخلف عنها غرق‏»(3)، میرے اھل بیت کشتی نوح کی مانند ہیں جو اس میں سوار ہوگیا نجات پاجائے گا اور جو اس میں سوار نہیں  ہوا طوفان کی موجیں اسے اپنی چپیٹ میں لے لے گیں۔
ممکن ہے یہ سوال ذھن کے کسی گوشے میں کروٹیں لینے لگے کہ  اس قرآنی مسلمہ«ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین و کان اللہ بکل شئی علیماً »(4)، کی حقیقت کیا ہے ؟کیا پیغمبر اسلام کے بعد سلسلہ نبوت ختم نہیں ہو جاتا ؟ تو محض اس سوال کو خام خیالی کے علاوہ کچھ اور نہیں کہا جاسکتا ، مانا کہ سلسلہ نبوت ختم ہو گیا لیکن کیا ضرورت ہدایت بھی ختم ہوگئی ؟ اس طوفان زدہ کشتی کو کون نجات دیگا ؟کیا  اس کو گھاٹ کا منھ دیکھنا نصیب نہ ہوگا؟
دوسرا جواب یہ کہ :مسئلہ ختم نبوت مسلمانوں کے اہم عقائد میں سے ایک ہے اور ہر ایک اس حقیقت کو دل و جان سے جانتا  اور مانتا ہے  لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ  نہیں کہ قرآن مجید کی دوسری آیات کہ جو مذہب اسلام کا اصل و اساس شمار ہوتیں ہیں ان کو نظرانداز کر دیا جائے اور سنت الٰہی کی بنیادوں پر استوار مسئلہ ہدایت کے محل کو زمیں بوس کر دیاجائے چونکہ اس کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے طریقہ کار کو نہیں بدلتا  جب اس نے خلقت بشر سے پہلے بہ بانگ دہل یہ نعرہ بلند کیا «إِنَّ عَلَيْنا لَلْهُدى»(5)،‏ کہ تمہاری ہدایت کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے  اور حضرت آدم کو کہ جو پہلے بشر ہیں ہادی بنا کر بھیجا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اب میان راہ اس کاروان کو گمراہی کی تندوتیز آندھیوں کے حوالے کردے ؟لہذا اپنے آخری نبی کے ہاتھوں مشکل۔۔۔ صحیح ، مگر کارآمد سنت کا سنگ میل نصب کرایا اور قرآن مجید میں کیئے ہوئے اپنے  وعدہ«ُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْديلاً»(6)  کو «يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِم»(7)، کی شکل میں جلوہ گر فرمایا ،اور بشریت کو اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ تم میں سے کوئی یہ گمان نہ کرے کہ ہم اس میں کوئی تبدیلی کریں گے یہ وہ اصل ہے کہ جس کی بنیادوں پر ہم نے اس نظام احسن کی عمارت تعمیر کی  ہے اورہمیں یہ سلسلہ قیامت تک لے جانا ہے چاہے تم میں سے کوئی اس کی حکمت کو درک کرے یا نہ کرے ؟
مفھوم غیبت:
یہ  لفظ مادہ غاب ،یغیب کا مصدر ہے(8)،جس کے لغوی معنیٰ پوشیدہ اور آنکھوں سے اوجھل ہوجانا ہے  اور اصطلاح میں بھی «قاعدہ التطابق بین الدلالات»کے پیش نظر  اپنے معنیٰ لغوی سے ہمہ جہت مطابقت رکھتا ہے ،لہذا غائب ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو آنکھوں سے دور ہو جاے سبب  اصلی ہو یا عارضی ، اور یہ مفہوم ہر عاقل کے نزدیک واضح اور بدیہی ہے اب کوئی مسلمان اس سے نظریں نہیں چرا سکتا چونکہ قرآن مجید اللہ کی وہ حجت ہے جس کے سامنے تمام دلیلیں پستہ قد نظر آتی ہیں  ،اور اس ﴿ایمان بالغیب ﴾ کو متقین کی علامت قرار دیا ہے(9)،اور کہیں پر اس مفہوم کو اپنا ایک ایسا راز بتایا ہے کہ جو کسی پر بھی ظاہر نہیں ہو سکتا(10)، غرض اس مفہوم کو قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر بیان کیا ہے۔
دوسری بات یہ  ہے کسی چیز کا غائب ہو جانا اس کے عدم  ﴿نہ ہونے ﴾ کی دلیل نہیں ہوتی ،چونکہ ہم سب کا خالق و مالک ایسا غائب ہے کہ جو ازل سے ابد تک قابل رویت نہیں  ،اگر کوئی اس کو دیکھنے کی سعی لا حاصل کرے گا بھی تو وہ اپنے تمام وسائل  سمیت جل کر راکھ ہو جائے گا  اس کے علاوہ دیگر عقلی شواہد بھی ہماری اس  بات کی تائید کرتے ہیں  کہ ممکن ہے  ہماری ایک مطلوبہ چیز  ہماری آنکھوں کے سامنے ہو لیکن ہم اس کو نہیں پہچانتے تو وہ ہماری بنسبت غائب ہے  غرض ہر غائب چیز دیکھی  نہیں جاتی بلکہ اس کے آثار سے اس کی پہچان کی جاتی ہے جیسا کہ وجود خدا ،وہ غائب ازلی و ابدی ہے لیکن اس نے بہت سی علامتیں اپنے وجود کی عکاس بنائی  ہیں کہ جو خود اپنے آپ میں معرفت کا ایک اتاہ سمندر لئے ہوئے ہے ،ہمارا ذہن غائب،لیکن  اس کی تدبیر اس امر پر ایک قوی شاہد ہے کہ اس سطنت کا ایک حاکم ہے ،اسی طرح اللہ نے اس کائنات ہدایت کا آخری ناظم پردہ غیبت میں  رکھاہے اور اس کے ظہور کا زمانہ تمام  افراد نوع بشر کے لئے سعادت کا زمانہ ہوگا اگر چہ ہم اسکی غیبت کا فلسفہ نہیں جانتے لیکن ظہور کے ساتھ ساتھ ایسی نعمتیں ظاہر ہوں گی جو خود ان کے ظہور کے فلسفے کو بیان کریں گی .
فلسفہ غیبت:
امام زمانہ کی ولایت اور محبت ایک قلبی امر ہے اور اس کا اثر زمانہ ظہور میں آپکی نصرت کرکے اور ہمرکاب ہو کر جنگ کرنے میں ظاہر ہوگا لیکن ہر گز اس کا مطلب  یہ نہیں کہ وہ آپ کا دیدار اس زمانہ میں بھی کرے بلکہ آپ پر ایمان رکھنا اور مسلسل دعائے ظہور کرنا اس کے قلب  کے پختہ اور ایمان کے رسا ہونے کی دلیل ہے اصل چیز یہ ہے کہ انسان کو آپکی معرفت ہونا چاہئے چونکہ تاریخ کے دامن میں ایسے کردار محفوظ ہیں جو مسلسل بزم معصومین میں حاضر ہوتے رہے لیکن انجام بخیر نہ ہوا۔
     ہاں!  اگر قوت عرفان  پایی  جاتی  ہو تو دیدار، مزید تقویت  ایمان اور معرفت کا سبب ہوگا ورنہ اگر صحیح معرفت کے بغیر ہر سال  یاہر ہفتہ اور دن بھی شرف زیارت نصیب ہو تو یہ عمل بے کار اور بے معنی ہوجائیگا ۔اس امر کی روشنی میں یہ بات کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص امام زمانہ کی صحیح معرفت رکھتا ہو اور آپکی نصرت کرنے کا ارادہ اپنے قلب و ذہن میں پروان چڑھائے لیکن زمانہ ظہورکو  درک  نہ کر سکے  تو اسکی وہی فضیلت ہے جو ان مومنین کو نصیب ہوگی جو حضرت کے ہمرکاب ہونگے «عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ:سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ و تَعَالى‏: «يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ‏»(11)، فَقَالَ: «يَا فُضَيْلُ، اعْرِفْ إِمَامَكَ؛ فَإِنَّكَ إِذَا عَرَفْتَ إِمَامَكَ، لَمْ يَضُرَّكَ تَقَدَّمَ هذَا الْأَمْرُ أَوْ تَأَخَّرَ؛ و مَنْ عَرَفَ إِمَامَهُ، ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ صَاحِبُ هذَا الْأَمْرِ، كَانَ بِمَنْزِلَةِ مَنْ كَانَ قَاعِداً فِي عَسْكَرِهِ؛ لَا، بَلْ‏  بِمَنْزِلَةِ مَنْ قَعَدَ تَحْتَ لِوَائِهِ»(12)۔
  فضیل بن یسار  کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق سے خدا وند عالم کے اس قول«ہم قیامت کے دن ہر گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے»، کے بارے میں پوچھا:تو آپ نے فرمایا :اے فضیل !تم اپنے امام کو پہچان لو اگر تم نے اس کو پہچان لیا تو  اس کا تقدم و تاخر تم کو کوئی ضرر نہیں پہونچائے گا اور یاد رکھو!جو شخص اپنے زمانے کے امام کو پہچان لے  پھر وہ ان کے قیام سے پہلے جا ں بحق ہوجائے تو اس کی مثال اس شخص کی ہے جو ان کے لشکر میں ہو ،بلکہ اس کی منزلت اس کی مانند ہے جو آپ کے پرچم تلے لڑ کر شہید ہوا ہو۔   
 امامؑ کا یہ  قول ان لوگوں کے لئے بشارت ہے جو امام کی زیارت  کرنا چاہیں لیکن میسر نہ ہو سکے لہذا اس امر میں فرج کے لئے دعا کرنا چاہئے اور دل برداشتہ نہیں ہونا چاہئے ۔
  «عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ الصَّادِقَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ(ع)  يَقُولُ‏ إِنَّ لِصَاحِبِ هَذَا الْأَمْرِ غَيْبَةً لَا بُدَّ مِنْهَا يَرْتَابُ فِيهَا كُلُّ مُبْطِلٍ فَقُلْتُ وَ لِمَ جُعِلْتُ فِدَاكَ قَالَ لِأَمْرٍ لَمْ يُؤْذَنْ لَنَا فِي كَشْفِهِ لَكُمْ‏  قُلْتُ فَمَا وَجْهُ الْحِكْمَةِ فِي غَيْبَتِهِ قَالَ وَجْهُ الْحِكْمَةِ فِي غَيْبَتِهِ وَجْهُ الْحِكْمَةِ  فِي غَيْبَاتِ مَنْ تَقَدَّمَهُ مِنْ حُجَجِ اللَّهِ تَعَالَى ذِكْرُهُ إِنَّ وَجْهَ الْحِكْمَةِ فِي ذَلِكَ لَا يَنْكَشِفُ إِلَّا بَعْدَ ظُهُورِهِ كَمَا لَمْ يَنْكَشِفْ وَجْهُ الْحِكْمَةِ فِيمَا أَتَاهُ الْخَضِرُ(ع) مِنْ خَرْقِ السَّفِينَةِ وَ قَتْلِ الْغُلَامِ وَ إِقَامَةِ الْجِدَارِ لِمُوسَى(ع)إِلَى وَقْتِ افْتِرَاقِهِمَا ، يَا ابْنَ الْفَضْلِ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ أَمْرٌ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى وَ سِرٌّ مِنْ سِرِّ اللَّهِ وَ غَيْبٌ مِنْ غَيْبِ اللَّهِ وَ مَتَى عَلِمْنَا أَنَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ حَكِيمٌ صَدَّقْنَا بِأَنَّ أَفْعَالَهُ كُلَّهَا حِكْمَةٌ وَ إِنْ كَانَ وَجْهُهَا غَيْرَ مُنْكَشِف‏»(13)۔
عبد اللہ بن فضل ہاشمی سے روایت ہے کہ میں نے امام صادق(ع) کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام صاحب الزمان(ع) کے لیے غیبت، ایک حتمی امر ہے جس میں باطل عقائد سے مملو اس میں شک کریں گے  ،میں نے عرض کی: میری جان آپ(ع) پر قربان جائے ایسا کیوں ؟تو آپ نے فرمایا  :ایک ایسے راز کی وجہ سے جس کو تمہارے سامنے بیان نہیں کیا جاسکتا ،میں نے عرض کی:تو ان کی غیبت میں ایسی کون سی حکمت پوشیدہ ہے تو آپ(ع) نے فرمایا : امام زمانہ(ع) کی غیبت میں بھی وہی حکمتیں مضمر ہیں جو سابقہ نبیوں کی غیبتوں میں تھیں، خلاصہ کلام یہ کہ حقیقی فلسفہ آپ(ع) کے ظہور کے بعد ظاہر ہوگا جیسا کہ موسی (ع)کےسامنے  کشتی کا ڈوبنا ،بچہ کا قتل کردیا جانا ،اور دیوار کا بنانا ،ان  سب کا فلسفہ اس وقت سمجھ میں آیا جب موسیٰ خضر سے جدا ہوئے ،اے فضیل!یہ غیبت امور الہی میں سے ایک امر ہے اور اس کے اسرار میں سے ایک سر ہے ،اور اللہ نے جن چیزوں کو پوشیدہ رکھا ہے  یہ ان میں سے ایک ہے اور  جب  ہم یہ  جان  لیں کہ وہ حکیم ہے تو ہم پر واجب ہے کہ اس  بات پر ایمان لے آئیں  کہ اس کے تمام افعال میں حکمت ضرور ہوتی ہے اگرچہ ہم ان کے  فلسفہ کو نہ جانتے ہوں
اور ایک دوسری روایت  میں زرارہ سے   اس طرح نقل  ہوا ہے:«عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ(ع) قَالَ‏ لِلْقَائِمِ غَيْبَةٌ قَبْلَ قِيَامِهِ قُلْتُ‏ وَ لِمَ قَالَ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ الذَّبْح‏»(14)،امام صادق(ع) نے فرمایا :قائم آل محمد(ع) کے قیام سے پہلے انھیں ایک غیبت درکار ہے  میں نے عرض کی:کیوں ؟ فرمایا:کیوں کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔
اگرچہ اس حدیث میں  صریحاً بیان ہوا ہے کہ آپ کو جان کا خوف ہوگا لیکن کلام الامام ،امام الکلام ہوتا ہے جس طرح قرآن کی تفسیر کے ذریعہ اس کے معنیٰ روشن ہوتے ہیں  اسی طرح اس کلام کی بھی تاویل کرنا پڑے گی تنہا جان کا خوف ایک ہادی کو اس پر عائد فرائض سے سبکدوش نہیں کرسکتا جب کہ عوام الناس  کا مستقبل  اس کے وجود  و حضور پر منحصر  ہو۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ:ہم یہ بات  مانتے ہیں کہ ایک  ہادی کا وجود ہی کسی قوم کے   لازوال مستقبل  کا آئنہ دار ہوتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک  بڑے مقصد کو نظر انداز کرکے ایک  ایسے کام کو انجام دیا جائے جس کو انجام دینے والے  کثیر تعداد میں موجود ہوں،ماشآء اللہ!  
یہ علماء کی جماعتیں ، جن کی تربیت پر زمانہ رسالت مآب سے ہی  ایک خاص توجہ دی گئی، واعظ اور خطباء سے پر یہ  میدان وعظ و خطابت، یہ لوگ  کس دن کام آئیں گے ،بیچاروں کو کہیں شکوہ نہ رہ جائے کہ ہم کو کام کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ،اللہ نے امام زمانہ(ع)کو اس  بلند و اکمل ہدف کے لیے  جو تمام نبیوں(ع) کی بعثت کا سبب ،اور انکی  آرزو اور تمنا ہے جو اللہ کا ارادہ تکوینی ہے «وَ نُريدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَ نَجْعَلَهُمُ الْوارِثين»(15)،اس لیے آپ(ع) کو  اپنے خزانہ غیبت میں پنہاں کررکھا ہے چونکہ آپ ہی اللہ کی آخری حجت ہیں آپ ہی کے وجود سے اس زمین کا استقرار وابستہ ہے اب آپ (ع) کے علاوہ کوئی نہیں  جو اللہ کے اس ارادے کی تکمیل کرسکیے لہذا اس لیے آپ کی غیبت ایک حتمی امر ہے۔
    آپ کی جان کو خطرہ درواقع ارادہ الہی کے ٹوٹ جانے کے مترادف ہوتا  اگرچہ  وہ اپنی حجت کی اچھی طرح حفاظت کرنا جانتا ہے وہ فرعون وقت کے گھر میں بھی موسی کی پرورش کروا سکتا ہے،لیکن اللہ اپنے کام ممکن طریقوں ہی سے انجام دیتا  ہے  یہ وہ اسباب تھے جو اجمالاً احادیث میں ذکر ہوئے ہیں کچھ ایسے فلسفے ہم یہاں بیان کررہے ہیں جن کا سرچشمہ بھی احادیث معصومین(ع)اور قرآن پاک کی آیات ہیں۔    
الف :غیبت اللہ کا ایک ایسا قدم ہے جو ناشکری امت کو درس عبرت دینے کے لئے اٹھایا گیا ہے
چونکہ جس امت میں کوئی ہادی ہو اور لوگ اس سے خاطر خواہ  فائدہ نہ اٹھائیں ،اپنے واجبات کو ادا نہ کریں اور حرام سے نہ بچیں ،غرض اس کی تبلیغ کا انکے اوپر کوئی اثر نہ ہو بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اس کو اذیتیں دیں اور طرح طرح کی  مشکلات  ایجاد کریں تو اللہ ایسی قوم کی رسی ڈھیلی کردیتا ہے اور معصوم کے وجود پر فیض کو ان کے درمیان سے اٹھا لیتا ہے تاکہ اللہ کی اس عظیم نعمت کے فقدان پر ان کے ضمیر کو ایک ٹہوکہ لگے اور یہ خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں اور اپنے کھوئے  ہوئے انسانی و الہٰی اقدار تک پہونچ جائیں«وَ أَعْتَزِلُكُمْ وَ ما تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَ أَدْعُوا رَبِّي عَسى‏ أَلاَّ أَكُونَ بِدُعاءِ رَبِّي شَقِيًّا»(16)۔
«فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ ما يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ وَ كُلاًّ جَعَلْنا نَبِيًّا»(17)، یہ دونوں آیتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے اس قطعی فیصلے کی عکاس ہیں جو آپ نے اپنی امت کی  تادیب و ناشکری کی بنا پر کیا ،یعنی میں تم لوگوں کو اور جن چیزوں کو تم اپنی مدد و نصرت کے لئے پکارتے ہو چھوڑ کر الگ اور تم سے دور چلا جائوں گا اور  اس طرح میں اپنے معبود کی عبادت  سے محروم نہ رہوں گا ،اور جب ابراہیم نے ان کو اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ان کو نبی بنایا۔
جب اعتزال یعنی امت میں رہنے کے باوجود امر تبلیغ کو ترک کردینا  ﴿جبکہ ایک نبی(ع) کا وجود محض تبلیغ کے لئے ہوتا ہے ﴾امت کی تادیب و تنبیہ کے لئے ہو تا ہے تو یہ غیبت بھی اسی باب   سے ہے اور جس طرح  ترک دعوت و تبلیغ کی کوئی حد معین نہیں ہے  اسی طرح اس   امر میں  بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا بلکہ صرف یہ کہا جاسکتا ہے  کہ جب امت اپنے گمراہ کن اعمال و افکار پر پشیمان ہوجائے اور اس کا خفتہ ضمیر بیدار ہوجائے ،تاریخ ہمارے سامنے سینکڑوں شاہد پیش کر سکتی ہے کہ اہل بیت رسول نے امر تبلیغ و ہدایت میں کتنی مشکلات اٹھائیں ہیں اور لوگوں نے اس حق کو کہ جو اللہ نے بصورت اجر رسالت انکے ذمہ کیا تھا کسطرح ادا کیا بلکہ اب تک انکے نام لیواؤں کا قتل عام ،دربدری،اور قید وسلاسل کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے امام زمانہ کے لئے ان سب امور کا واقع  ہونا  دوسرے تمام آئمہ سے کہیں زیادہ تھا چونکہ نبئ کریم (ص)اور دیگر آئمہ(ع)خصوصاً امامین صادقین(ع) سے مسلسل احادیث موضوع مہدویت پر لوگوں کے درمیان عام تھی کہ آپ(ع) آئینگے اور اس دنیا سے ظلم و استبداد کاخاتمہ کرینگے ،امام صادق(ع)کا قول ہمارے اس دعوے کی ایک محکم دلیل ہے آپ (ع) نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا كَرِهَ لَنَا جِوَارَ قَوْمٍ‏ نَزَعَنَا مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِم»(18)، خداوند عالم کی نگاہ میں جب کسی قوم میں ہمارا رہنا مناسب نہیں ہوتا تو اللہ ہم کو اس قوم سے جدا کر دیتا ہے ۔
ب :بندش زمانہ کا  استقلال تبلیغ میں آڑے آنا
جو شخص بھی کسی معاشرے کی اصلاح کے لئے قدم اٹھاتا ہے اس کے لئے کچھ ہم فکر اور اس کے مقصد کے پشت پناہ افراد کا ہونا ضروری ہے جو اس سے کئے گئے عہدوپیمان کے تئیں محکم ارادہ رکھتے ہوں اور اس عہدوپیمان کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور ان کے ذاتی معاملات میں ان کو آزاد چھوڑ دے  چونکہ ان کےعہد کے ساتھ اس کے مشن کی بقا و دوام وابستہ ہے لہذا امام زمانہ(ع) کو اللہ نے اس حکومت کے لئے پیدا کیا جس کی آرزو ہر دور کے  مظلوم کرتے آئیں ہیں اگر آپ خود ہی کسی کی بیعت کرلیں تو وہ  مومنین کی دل شکنی ہوگی ،چونکہ حالات  آپ(ع) کے سامنے بھی یہی ہوتے تو ممکن تھا کہ آپ(ع) کو تقیہ کرنا پڑتا لیکن آپ(ع) کے باب میں سنت الٰہی یہ ہے کہ آپ(ع) کسی کی بیعت نہ کریں اور نہ ہی تقیہ کریں ،«عن ابی عبد اللہ ،قال:یقوم القائم و لیس فی عنقہ  بیعۃ لاحد»(19)۔  
امام صادق(ع) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :قائم آل محمد جب قیام کریں گے تو ان کی گردن میں کسی کی بھی بیعت کا قلادہ نہیں ہوگا۔
ج : معاشرہ کے افراد کی ذہنی اور فطری استعداد کی تکمیل
چونکہ ہر انسان کی فکری صلاحیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے اس دنیا میں ایسے دو آدمی نہیں ملیں گے جنکی استعداد مساوی ہو ﴿ظاہراً  یہ غیر معصوم کی صفت ہے چونکہ ان کا سر چشمہ علم  مختلف جگہوں سے پھوٹتا ہے ﴾اور اسی استعداد کی بنا ء پرایمان کے درجات اور عرفان میں اختلاف سامنے آتا ہے  حتیٰ انبیاء اور اوصیاء اور اولیاء میں بھی یہ اختلاف مراتب پایا جاتا ہے ،«تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنا بَعْضَهُمْ عَلى‏ بَعْضٍ مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجات»(20)۔
یہ سب ہمارے بھیجے ہوئے رسول ہیں جنہیں ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے ،ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے باتیں کیں ،اور بعض ایسے ہیں جنکے درجات کو ہم نے بڑھایا۔
یا رسول اللہ(ص) سے روایت ہے :« لو علم أبا ذر ما فى‏ قلب‏ سلمان‏ لكفره او لقتله»(21)، اگر ابوذر سلمان کے دل میں موجود معارف کو جان لیں تو انہیں کافر کہتے یا قتل کردیتے ۔
اور  یہ بات روایات سے ثابت ہے کہ آپ(ع) جب ظہور فرمائیں گے تو اپنے علم لدنی  کے ذریعے لوگوں سے کلام کریں گے اور معارف حقہ کو پہونچائیں گے جس کے سبب حقائق سے پردہ اٹھے  گا  ،دین اور اسکی اقدار کو دوبارہ زندہ کریں گے ، ان خرافات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں  گے کہ  جن پر لوگ اعتقاد رکھتے ہوں گے، یہاں تک کہ لوگ یہ خیال کریں گے کہ آپ(ع) کوئی نیا دین لے کر آئیں ہیں ،چونکہ ان احکام کو اجرا کرنا اور ان معارف سے لوگوں کو روشناس کرانا بہت زیادہ استعداد فکری کا خواہاں ہے شاید آپکی  غیبت کا دوام اسی لیے ہو کہ لوگ ان حقائق سے قدرے آشنا ہوجائیں تاکہ قبول حق میں کوئی دشواری درپیش نہ  آئے ۔
د: لوگوں کا امتحان اور آزمائش
ہمیشہ خداوند عالم کی یہ  سنت رہی ہے کہ وہ ہر قوم کا امتحان لیتا رہا  ہے تاکہ جو لوگ گمراہ ہیں وہ ہلاک ہوجائیں اور جو صالح افراد ہیں صراط مستقیم پر آجائیں ،لہذا وہ چیزیں جن کے ڈریعہ اللہ نے سابقہ امتوں کا امتحان لیا ہے  بھوک پیاس ،اعزاء و اقارب کی موت ،کفار کے ہاتھوں اپنے آبائی وطن کو خیرآباد کہنا ،اور بعض انبیاء(ع) کا اپنی امتوں کے درمیان سے غائب ہوجانا ،جیسے حضرت موسیٰ  ،عیسیٰ ،اور ان کے علاوہ دوسرے نبیوں کا غائب ہوجانا۔  
       کسی بھی امت کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ اس میں مبعوث  پیغمبر اس کے درمیان نہ رہے  ،اب جبکہ شریعت اسلامی ،سب سے افضل اور سب سے کامل شریعت ہے اور  اس کے ماننے والے اپنی شریعت سے نسبت کی بناء پر  امت مرحومہ کہلاتے ہیں تو یہ بڑی ناانصافی ہوگی کہ جو امتیں  منزلت و رتبہ کے اعتبارسے  اس سے کم ہیں ان کا امتحان  لے لیا جائے اور اس سب سے افضل امت کو بغیر کسی سخت  امتحان کے امت مرحومہ کا طمغہ عطا کردیاجائے لہذا خداوند عالم نے  ابتداء  دوررسالت  میں ہی پیغمبر اکرم کو  تین سال تک   شعب ابی  طالب میں  امت کی نظروں سے دور  رکھا  ،یہ پہلا امتحان تھا   اور اس کے بعد آنحضرت کے حقیقی وارث کو پردہ  غیبت میں بھیج دیا تاکہ«یومنون بالغیب»، کی عملی تفسیر ظاہر ہو سکے ۔  
اس کے علاوہ بھی بہت سی حکمتیں ہو سکتی  ہیں لیکن امام صادق(ع) کے قول کے مطابق یہ سب راز اسی وقت ظاہر ہونگے جب آنے والا آئیگا  آخر میں ہم اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم ویسا بن جائیں  جیسا ہمارے امام(ع) چاہتے ہیں۔
حوالہ جات:
1۔سورة الذاریات:آیت 56۔
2۔ سورة البقرة:آیت ۲۱ـ
3ـ اصول کافی ،شیخ کلینی ،ج۲ ،ص۲۳۵ ،ناشر حوزی علمیة قم ،۱۳۶۳ ھجری شمسی ـ
4ـ سورة الاحزاب:آیت ۴۰ ـ
5ـ سورة اللیل:آیت ۱۳ ـ
6۔سورة الاحزاب:آیت 63 ۔
7ـ سورة الاسراء:آیت ۷۱ـ
9ـ المنجد ،مادہ غ۔ ی ،ب ـ
10ـ سورة البقرة:آیت ۳ ,  الَّذينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ مِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُون‏ـ
11ـ عالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلى‏ غَيْبِهِ أَحَداً ،سورة الجن:آیت ۳۶ ـ
12ـ سورة الاسراء:آیت ۷۱ ـ
13ـ اصول کافی ،شیخ کلینی ،ج ۲ ،ص ۲۵۰ ،دار الحدیث ،تهران ـ
14ـ کمال الدین و تمام النعمة ،شیخ صدوق ،ج ۲ ،ص ۴۸۲ ،ناشر ،اسلامیة ،تهران ۱۳۹۵ ھجری ـ
15ـ حواله سابق،ج ۲ ،ص ۴۸۱ ـ
16ـ سورة القصص:آیت ۵ ـ
17ـ سورة مریم:آیت ۴۸ ـ
18ـ سورة مریم:آیت ۴۹ ـ
19ـ علل الشرائع، شیخ صدوق ،ج۱ ،باب ۱۷۹،ص۲۴۴ـ
20ـ الغیبة النعماني، ابن أبي زينب، محمد بن ابراهيم،ص 191 ،ناشر: نشر صدوق،تهران، 1397 هجری۔
21۔ سورة البقرة:آیت 253۔
22۔شرح الاصول الکافی ،صدر الدین شیرازی ،ج ۲ ص ۵۴۷ ،موسسہ مطالعات و تحقیقات فرھنگی ،تھران  ۱۳۸۳ شمسی۔
مؤلف:سجاد ربانی،قم القدسة 10مئی ۲۰۱3 عیسوی، از مجلہ فکر و عمل


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15