Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183672
Published : 6/10/2016 16:41

کربلا میں امام حسین (ع) کے ہمراہ کتنے اصحاب تھے؟

لیکن مشہور قول (جواب بھی شہرت رکھتا ہے )یہ ہے کہ آپ کے انصار کی تعداد کربلا میں بہتر تھی جو ۳۲؍سوار اور چالیس پیادہ میں تقسیم تھی۔


ولایت پورٹل:
مختلف کتابوں نے روز عاشورا،امام حسین(ع)  کے اصحاب کی الگ الگ تعداد بیان کی ہے۔(۱)بعض محدثین مثلا طبری نے اس تعداد کو ۱۰۰کے قریب بتایا ہے جس میں اولاد امام علی علیہ السلام سے پانچ افراد بنی ہاشم سے سولہ اور کچھ مختلف قبیلوں سے کچھ اور تعداد کا ذکر نظر آتا ہے۔(۲)
بعض محدثین نے جیسے ابن شہر آشوب نے ۸۲؍افراد کی تعداد لکھی ہے۔(۳)
چھٹی اور ساتویں صدی کے بزرگ شیعہ عالم،ابن نما نے اصحاب امام ؑکی تعداد ۱۰۰؍پیادہ اور ۴۵؍ سوار بتائی ہے(۴)سبط ابن جوزی نے بھی اسی تعداد کی تائید کی ہے۔(۵)
امام باقرعلیہ السلام کی ایک روایت بھی (جو شیعوں کی کتب روایت میں نقل کی گئی ہے)اسی قول کی تائید کرتی ہے۔(۶)
سب سے عجیب مسعودی کا قول ہے کہ جس نے کربلا میں امام کے وارد ہونے کے وقت آپ کے اصحاب کی تعداد ۵۰۰،سوار اور ۱۰۰،پیادہ افراد ذکر کی ہے۔(۷)
لیکن مشہور قول (جواب بھی شہرت رکھتا ہے )یہ ہے کہ آپ کے انصار کی تعداد کربلا میں بہتر تھی جو ۳۲؍سوار اور چالیس پیادہ میں تقسیم تھی۔
حوالہ جات:
(۱)ہم یہاں سے لے کر اس سوال کے آخر تک سارے جوانوں کو کتاب»تاریخ امام حسین علیہ السلام«، ج۳، ص:۲۴۲، ۲۵۰سے نقل کریں گے،یہ عظیم کتاب جس کی اب تک پانچ جلدیں انتشارات آموزش و پرورش کے توسط سے چھپ چکی ہیں امام ؑسے متعلق مختلف واقعات کے بارے میں آغاز سے لے کر دور معاصر تک عاشورا کے موضوع پہ لکھی گئی کتابوں کی عبارات پر مشتمل ہے۔
(۲) تاریخ طبری ، ج:۵، ص: ۳۹۳۔
(۳) المناقب ، ج:۴، ص:۹۸۔
(۴) مثیر الاحزان ، ص ۲۷ و۲۸۔
(۵) تذکرۃ الخواص ، ص ۱۴۳۔
(۶)بحار الانوار ، ج۴۵، ص ۴۔
(۷)مروج الذہب ، ج:۳، ص ۷۰۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16