Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183692
Published : 8/10/2016 17:34

شیعہ مذھب کی تاریخ(۱)

شیعہ مفکرین کے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ شیعیت کی ابتداء عہد رسالت(ص)میں ہی ہوگئی تھی خود پیغمبر اکرم(ص) نے ہی اپنے دست مبارک سے شیعیت کا پودا لگایا اور خود اس کی آبیاری کرکے اسے پروان چڑھایا،اس نظریہ کی تائید میں مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔


ولایت پورٹل:
شیعہ کی تعریف اور اس کے مختلف معانی سے واقفیت کے بعد اب شیعیت کی تاریخ اور ابتداء کے سلسلہ میں تحقیق کی جائے،یہ مسئلہ عام اسلامی مذاہب خصوصاً،شیعہ مذہب کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور اس سلسلہ میں مختلف نظریات سامنے آئے ہیں،ایک نظریہ تویہ ہے کہ شیعیت کی ابتداء عہد رسالتمآب(ص) میں ہی ہوچکی تھی دوسرے نظریہ کے مطابق شیعیت کا آغاز رحلت پیغمبر اکرم(ص)کے بعد ابتدائی ایام سے تعلق رکھتا ہے،ان دو نظریات کے علاوہ اور نظریات بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں الگ فصل میں گفتگو کی جائے گی۔
پہلا نظریہ:
شیعہ مفکرین کے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ شیعیت کی ابتداء عہد رسالت(ص)میں ہی ہوگئی تھی خود پیغمبر اکرم(ص) نے ہی اپنے دست مبارک سے شیعیت کا پودا لگایا اور خود اس کی آبیاری کرکے اسے پروان چڑھایا،اس نظریہ کی تائید میں مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔
۱۔پیغمبر اکرم(ص)سے بہت سی روایات منقول ہیں جن میں آنحضرت ؐنے ایک گروہ کی »شیعہ علی«کے عنوان سے مدح و ستائش کی ہے۔(۱)ان احادیث کا مضمون یہ ہے کہ اس زمانہ میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جو حضرت علی(ع) سے خصوصی ربط رکھتے تھے آپ(ع) سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے اور آپ ؑکے قول و فعل کو نمونۂ عمل قرار دیتے نیز اس کی پیروی میں عمل بھی کرتے تھیکہ آپ(ع) کی رفتار و گفتارکو پیغمبر اکرم(ص)کی نگاہ میں پسندیدگی اور تائید حاصل ہے۔
۲۔بعض تاریخی مدارک و منابع کے مطابق سلمان،ابوذر ،مقداد اور عمار جیسے صحابہ عہد رسالتمآب(ص) میں شیعہ علی(ع) کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔
۳۔پیغمبر(ص) سے منقول حدیث یوم الدار،دعوت ذو العشیرہ،حدیث غدیر، حدیث منزلت،حدیث«علی مع الحق»،«انا مدینۃ العلم» جیسی احادیث واضح طور پر حضرت علی(ع) کی خلافت و امامت پر دلالت کرتی ہیں دیگر قرآنی آیات اورعقلی دلائل کے علاوہ یہی احادیث مسئلۂ امامت میں شیعوں کے نظریہ کی دلیل ہیں دوسری جانب حضرت علی کی بلافصل امامت ہی تشیع کی بنیاد اور محور ہے۔
حضرت علی(ع) اور آپ(ع) کے شیعوں کی مدح و ستائش سے متعلق احادیث نبوی کی جانب اشارہ کرنے کے بعد علامہ کاشف الغطاء فرماتے ہیں:ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب پیغمبر(ع) میں کچھ لوگ شیعہ علی(ع)تھے اور شیعۂ علی سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ(ع) سے محبت کرتے تھے یا آپ سے عداوت نہیں رکھتے تھے،اس لئے کہ کسی شخص سے محض محبت کرنا یا اس سے نفرت نہ کرنا اس شخص کا شیعہ کہلانے کے لئے کافی نہیں ہے عربی لغت میں شیعہ کے یہ  معنی نہیں ہیں بلکہ شیعہ کا مطلب محبت کرنے کے علاوہ اس کی پیروی کرنا،اس کے نقش قدم پر چلنا ہے اگر لفظ شیعہ کہیں کسی اور معنی میں استعمال ہو تو مجازاً استعمال ہوگا حقیقی معنی میں نہیں،اس بنا پر ان روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) کے درمیان ایسے افراد تھے جو حضرت علی(ع) سے خصوصی نسبت اور خاص ربط رکھتے تھے اور آپ(ع)کے قول و فعل کو پیغمبر(ص)کی مراد و مقصود اور آنحضرت(ص) کی تعلیمات کی تفسیر و تشریح مانتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ علی(ع) حامل اسرار نبوی(ص) ہیں۔(۲)
علامہ طباطبائی بھی شیعیت کی ابتداء کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:تشیع کا آغاز جو ابتداء میں شیعۂ علی(ع) سے مشہور ہوا عہد رسالتمآب(ص) سے تسلیم کرنا چاہئے،اسلام کی دعوت کا آغاز اور ۲۳؍سال پر محیط ارتقاء بہت سے امور کا تقاضا کرتا ہے چنانچہ اصحاب پیغمبر(ص)کے درمیان ایسے گروہ(شیعہ)کا وجود بھی فطری ہے۔
علامہ طباطبائی نے اس کے بعد ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے جن سے حضرت علی(ع) کی امامت،صحابہ کے درمیان آپ کی امتیازی شخصیت اور پیغمبر اکرم(ص) سے آپ کا خصوصی ربط و تعلق واضح ہوتا ہے،پھر علامہ طباطبائی تحریر فرماتے ہیں:بدیھی چیز ہے کہ ایسے امتیازی خصوصیات اور متفق علیہ فضائل وکمالات نیز پیغمبر اکرم(ص)کا امیر المومنین سے گہرے محبت آمیز برتاؤ کے باعث فضیلت وحقیقت کے عاشق وفریفتہ اصحاب کو علی(ع) سے محبت کرنے اور اتباع کے ذریعہ آپ کی قربت اختیار کرنے پر آمادہ کرتے تھے اور دوسری جانب یہی فضائل وکمالات کچھ لوگوں کو آپ کی دشمنی اور حسد میں مبتلا کرتے تھے ان تمام باتوں کے علاوہ«شیعۂ علی» اور«شیعہ اہلبیت(ع)»کا نام پیغمبر اکرم(ص)کے کلام میں بہت زیادہ نظر آتا ہے۔(۳)
اس نظریہ کے بارے میں غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ عہد رسالت میں مسلمانوں کے درمیان امامت کامسئلہ زیر بحث تھا اور ایک گروہ نے حضرت علی(ع) کی امامت کو قبول کرلیا دوسرے گروہ نے قبول نہیں کیا اس لئے پہلے گروہ کو شیعہ کہا گیا تاکہ یہ کہا جاسکے کہ اس دور میں امامت کامسئلہ اس طرح سے پیش ہی نہیں ہو اتھا اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی اختلاف رونما ہوا تھا بلکہ اس نظریہ سے مراد یہ ہے کہ اس دور میں بھی ایک ایسا گروہ تھا جو علی(ع) کے بارے میں احادیث نبوی پر توجہ اور پیغمبر(ص) کے نزدیک آپ کی شان ومنزلت کو پیش نظر رکھتا تھا اور آپ کو اسرار نبوی کا حامل اور آنحضرت(ص) کے معارف کا شارح سمجھتا تھااور اسی بناء پر آپ سے محبت کرتا اور آپ کی اتباع کو ہی پیغمبر(ص) کی پیروی سمجھتا تھا۔
اسی گروہ کو پیغمبر اکرم(ص)کی رحلت کے بعد علی(ع) کا مخصوص طرفدار اور پیرو شمار کیا جاتا تھااور اسی گروہ کو پیغمبر(ص) نے «شیعۂ علی » کہا ہے۔(۴)
حوالہ جات:
(۱)اصل و اصول الشیعہ، ص۱۱۱ تا ۱۱۳، مطبوعہ قاھرہ و ص۱۲۱تا ۱۲۲، مطبوعہ دار الاضواء ؛ علامہ سید محسن امین ،اعیان الشیعة ، ج۱، ص۲۳؛ شیخ محمد حسین مظفر ، تاریخ الشیعة ، ص۸،۹؛شیخ جواد مغنیه ، الشیعة و التشیع ، ص۱۶؛علامہ طباطبائی ،شیعہ در اسلام ، ص۵تا۷؛ استاد سبحانی ،بحوث فی الملل و النحل ج۶، ص۱۰۶تا ۱۱۲؛ اور سید طالب خرسان نے نشأۃ التشیع ،ص۲۴تا۲۹میں اسی نظریہ کو اپنایا ہے ۔
(۲)گذشتہ فصل میں ان احادیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
(۳)شیعہ در اسلام،۵تا۷۔
(۴)ابن خلدون نے کتاب تاریخ ج؍۳،ص؍۳۶۴،ڈاکٹر ابراہیم حسن نے»تاریخ اسلام« ج؍۱،ص؍۳۷۱،احمد امین مصری نے »ضحی الاسلام«ج؍۳،ص؍۲۰۹ گلدزیر نے»العقیدۃ والشریعۃ فی الاسلام«ص؍۱۷۴ میں یہی نظریہ اختیار کیا ہے،ملاحظہ فرمائیں»نشأۃ التشیع«ص؍۳۱۔۳۲۔
نوٹ:اس سلسلہ کی مزید کڑیاں قارئین کی خدمت میں عنقریب پیش کی جائیں گی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22