Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183693
Published : 8/10/2016 18:4

شیعہ مذھب کی تاریخ(۲)

رسول اکرم(ص)کی رحلت کے بعد اس طرز فکر کانتیجہ یہ ہواکہ مسئلہ امامت وخلافت کے بارے میں مسلمان دوحصوں میں تقسیم ہو گئے،ایک گروہ اس سلسلہ میں اپنے کو نبوی نصوص کا پابند نہیں سمجھتا تھا ان لوگوں کا تعلق سقیفہ سے تھا اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا امامت سے متعلق اپنے کونصوص نبوی کا پابند سمجھتا تھااور یہی لوگ شیعہ ہیں اس طرح اسلام میں شیعیت کی ابتداء ہوئی۔


ولایت پورٹل:پچھلے مضمون میں ہم نے بیان کیا تھا کہ شیعہ مذھب کے وجود میں آنے کا پہلا نظریہ یہ ہے کہ شیعہ مذھب رسول اسلام(ص) کے زمانہ سے ہی وجود میں آگیا تھا۔
مذھب شیعہ کی ابتداء کے متعلق دوسرا نظریہ:
محققین ومورخین کا ایک گروہ شیعیت کی پیدائش کو پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد مسئلہ خلافت وامامت کے بارے میں اختلاف یا بہ الفاظ دیگر سقیفۂ بنی ساعدہ کے واقعہ سے منسلک تسلیم کرتاہے،اس لئے کہ پہلی مرتبہ سقیفۂ بنی ساعدہ میں ہی پیغمبر اکرم(ص) کے جانشین اور مسلمانوں کی رہبری کے سلسلہ میںدونظریے سامنے آئے انصار کے ایک گروہ نے سعد بن عبادہ کانام خلافت ورہبری کے لئے پیش کیا جب کہ مہاجرین کے ایک گروہ نے خلافت کے لئے ابوبکر کے نام کی تائید کی اور دونوں گروہوں کے درمیان گفتگو کے بعد ابوبکر کے حق میں فیصلہ ہوگیا ان کے علاوہ بنی ہاشم اور بعض انصار ومہاجرین پر مشتمل مسلمانوں کاایک گروہ اور تھا جو علی(ع) کی امامت کا معتقد تھا یہی گروہ«شیعہ علی» تھا یہیں سے «شیعہ»اسلام میںایک مذہب کے عنوان سے سامنے آیا۔
تیسرا نظریہ:
اس سلسلہ میں تیسرا نظریہ یہ بھی پایا جاتا ہے جو سابقہ دونظریوں پر مشتمل ہے اور ان دونوں کو ایک حقیقت کے دو رخ یادومرحلہ قرار دیتا ہے اس تیسرے نظریہ کی بنیاد پر سابقہ دونوں نظریے ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ دونوں نے مسئلہ کو ایک خاص زاویہ نگاہ سے دیکھا ہے اپنے مقام پر دونوں نظریے صحیح اور روائتی وتاریخی شواہد ودلائل سے ہم آھنگ ہیں پہلے نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ عقیدۂ تشیع اور شیعی رجحان کا آغاز عہد رسالتمآب(ص) میں ہوگیا تھا۔
سب سے پہلے جس شخص نے یہ نظریہ پیش کیا وہ سرورکائنات حضرت محمد مصطفی(ص) کی ذات گرامی تھی لیکن اس زمانہ میں مسلمان« شیعہ»اور «غیر شیعہ» دوفرقوں میں تقسیم نہیں ہوئے تھے،دوسرے نظریے کا ماحصل یہ ہے کہ خلافت وامامت کے بارے میں ایسا اختلاف جس کے باعث مسلمانوں میں تقسیم ہوگئی اور ایک گروہ نے شیعہ کے عنوان سے علی(ع) کی خلافت وامامت کی طرفداری کی جبکہ اس کے مقابلہ میں دوسرے گروہ نے ابوبکر کو پیغمبر(ص) کو بلا فصل خلیفہ منتخب کرلیا ایسا اختلاف رحلت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد ہی رونما ہوا لہٰذا مذہب شیعہ کا وجود بھی اسی تاریخ سے وابستہ ہے،ظاہر ہے کہ ان دونوں نظریات میں کوئی ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہے اور دونوں اپنے اپنے مقام پر درست ہیں۔
بعض محققین نے اس نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان دونوں نظریات کو ایک مکمل نظریہ اور مسلسل حقیقت کے دو پہلو یا دو مرحلے قرار دیا ہے،علامہ سید محسن امین نے پہلے یہ بیان فرمانے کے بعد کہ»شیعی عقیدہ اور نقطۂ نظرعھد پیغمبر(ص) میں ہی وجود میں آچکا تھا اور اسی دور میں مسلمانوں کے ایک گروہ کو شیعہ کہا جاتا تھا« فرماتے ہیں کہ مسئلہ خلافت کے سلسلہ میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف کے باعث تشیع کا ظہور ہواہے۔علامہ محسن امین فرماتے ہیں:گذشتہ بحث سے معلوم ہوگیاکہ عہد پیغمبر(ص) میں ہی مسلمانوں کے ایک گروہ کو« شیعہ علی»شمار کیا جاتا تھا پھر مسئلہ امامت کے بارے میں اختلاف کے نتیجہ میںاس کا ظہور ہوا اس لئے کہ اس گفتگو میں انصار نے مہاجرین سے کہا:«ہم دونوں(انصارومہاجرین)میں سے رہبر منتخب ہونا چاہیئے لیکن مہاجرین نے اس دلیل کی بنیاد پر کہ ہم پیغمبر(ص)کے قبیلہ کے ہیں اور امامت قریش میں رہنا چاہیئے انصار کی بات قبول نہ کی جبکہ بنی ہاشم اور انصار ومہاجرین کے ایک گروہ نے امامت علی(ع)کو تسلیم کرلیا یہ وہی شیعہ تھے»۔ (۱)
ہاشم معروف حسنی بھی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:«تشیع کامسلمانوں کے ایک فرقہ کے لحاظ سے رحلت پیغمبر(ص) سے قبل کوئی وجود نہیںتھا لیکن امامت کے بارے میں شیعہ عقیدہ کی بنیاد یعنی امامت کے باب میں نص کی ضرورت اور پیغمبر اکرم(ص) کے ذریعہ اپنے خلیفہ کے عنوان سے علی(ع)کی تعیین، ظہور اسلام کے ساتھ روز اول سے ہی موجود اس کے بعد انہوں نے حضرت علی(ع) کی امامت کے نصوص ذکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے»۔
«تشیع فقہاء ومتکلمین ومحدثین کے نزدیک، اپنے معروف معنی میں،اپنے امتیازی خصوصیات کے ساتھ مذکورہ نصوص کے باعث عہد رسالتمآب(ص) میں ہی وجود میں آچکی تھی اور صحابہ کا ایک گروہ تاریخ اسلام کے پہلے مرحلہ میں وفات پیغمبر(ص) کے بعد اسی عقیدہ پر ثابت قدم رہا خود حضرت علی(ع) نے اسلام ومسلمین کی مصالح کی خاطر اس ماحول میں مصلحت آمیز رویہ اختیار کیا»۔(۲)
مفکر شہید آیت اللہ باقر الصدر (رہ) بھی اسی نظریہ کے حامی ہیں شہید صدر تشیع اور شیعہ کے درمیان فرق تسلیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تشیع کی بنیاد عہد رسالت (ص) میں خود آنحضرت(ص) کے ہاتھوں پڑ گئی تھی تشیع یعنی یہ عقیدہ کہ پیغمبر اکرم(ص)نے اپنے بعد امت اسلامیہ کی رہبری کے لئے چارہ سازی کی ہے اور ابتداء سے ہی امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کو اس اہم ذمہ داری کے لئے آمادہ کرنے کے لئے ہمیشہ اپنی خصوصی تربیت کے زیرسایہ پروان چڑھایا اور دوسری جانب متعدد مواقع پر مختلف انداز میں مسلمانوں کے سامنے اعلان کیا،اپنے نظریہ کے ثبوت میں شہید صدر(رہ) نے دو طرح کے نصوص سے استدلال کیاہے،ایک وہ نصوص جن سے حضرت علی(ع) کی بہ نسبت پیغمبر اکرم(ص)کے خصوصی تعلق اور نگاہ پیغمبر(ص) میں آپ کی قدر ومنزلت کاا ظہار ہوتا ہے دوسرے وہ نصوص جو رحلت پیغمبر(ص)کے بعد علی(ع) کی امامت ورہبری پر دلالت کرتی ہیں۔
امیر المومنین حضرت علی(ع) کی قدر ومنزلت بیا ن کرنے والی چند نصوص یہ ہیں۔
۱۔حاکم نیشاپوری نے مستدرک میں ابواسحاق سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے قاسم بن عباس سے سوال کیا کہ کس دلیل کے باعث علی(ع)پیغمبر(ص)(کے علوم)کے وارث ہوگئے؟انہوں نے جواب دیا،اس لئے کہ علی ہمیشہ دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ پیغمبر(ص) کے ساتھ رہے«لانه اولنابه لحوقا واشدّنا به لزوماً»۔(۳)
 ۲۔ابو نعیم اصفہانی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ،پیغمبر اسلام(ص) نے ستّر ایسے عہد علی(ع) کے حوالہ کئے جو کسی اور کے حوالہ نہ کئے تھے،«ان النبی عهد الی علی بسبعین عھدا لم یعھد الی غیرہ»۔(۴)
۳۔نسائی نے حضرت علی(ع)سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:پیغمبر(ص) کے نزدیک میرا جو مقام تھاوہ کسی کانہ تھا میں ہر شب پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر ہوتا،اگر آپ حالت نماز میں ہوتے تو« سبحان اللّٰہ»کہتے میں داخل ہوجاتا اور حالت نماز میں نہ ہوتے تو اذن دخول مرحمت فرماتے۔(۵)
۴۔نسائی نے ایک اور حدیث امیر المومنین(ع) سے نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:«میرا اور پیغمبر(ص) کا ایسا رابطہ تھاکہ میں جب بھی کوئی سوال کرتا آپ جواب مرحمت فرماتے تھے اور اگر سوال نہیں کرتا تھاتو آنحضرت خود آغاز سخن فرماتے اور حقائق میرے حوالہ فرماتے»۔(۶)
۵۔نسائی نے  ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ:خدا کی قسم پیغمبر(ص) سے سب سے زیادہ نزدیک شخص علی(ع) تھے«ان اقرب الناس عھدا الی رسول اللہ علی»۔(۷)
۶۔امیر المومنین(ع) پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ اپنے رابطہ کے بارے میں خطبہ قاصعہ میں فرماتے ہیں:«ولقد کنت اتبعه اتباع الفصیل اثر امه،یرفع بی کل یوم من اخلاقه علما ویامرنی الاقتداء به»میں ان کے ہمراہ اس طرح چلتا تھا جس طرح ناقہ کابچہ اپنی ماں کے ہمراہ چلتا ہے وہ روزانہ میرے لئے اپنے اخلاق کا ایک نشانہ پیش کرتے اور پھر مجھے اس کے اقتداء کرنے کا حکم دیاکرتے تھے۔(۸)
مذکورہ نصوص اور ان کے مشابہ دیگر رروایات اس حقیقت کاا علان کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص)کو روز اول سے ہی اپنے بعد امت مسلمہ کی رہبری کا مکمل خیال تھا اوراس منصب کے لئے علی(ع) کو مناسب ترین فرد سمجھتے تھے اسی لئے اس عظیم ذمہ داری کے لئے ان کی تربیت فرمارہے تھے لیکن آپ نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کی بلکہ مختلف حالات ومواقع پر آپ کی امامت ورہبری کا اعلان کرتے رہے،اس سلسلہ میں چند نصوص مثلاًحدیث یوم الدار،حدیث ثقلین،حدیث غدیر بطور نمونہ پیش کئے جا سکتے ہیں ان کے علاوہ بہت سے نصوص نبوی اس پر دلالت کرتی ہیں۔(۹)
اس بنا پر تشیع کوئی ایسی نئی چیز نہیں ہے کہ جو اسلام کے ظاہر ہونے کے بعد مختلف حوادث زمانہ کی بنا پر ظاہر ہوگئی ہو بلکہ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جو اسلام کے ساتھ ساتھ فطری طور پر عالم وجود میں آیا ہے۔
شہید صدر(رہ)نے رسول خدا(ص)کے بعد شیعیت اور مسلمانوں کے درمیان ایک گروہ کے عنوان سے اس کی شہرت کے اسباب کا تذکرہ کرنے کے بعد پیغمبر اکرم(ص)کی خلافت وجانشینی کی گفتگو کرتے ہوئے یہ یاد دہانی کی ہےکہ:پیغمبر اکرم(ص) کے صحابہ کے درمیان دو قسم کے افکار رائج تھے ایک طرز فکر یہ تھا کہ آنحضرت(ص) کی رفتار وگفتار کے سامنے ہر طرح سے تسلیم رہیں اور اس سلسلہ میں کسی دوسرے کے لئے اظہار خیال کی گنجائش نہیں ہے،اور دوسرا طرز فکریہ تھا کہ بعض کاموں میں خاص طور سے جن چیزوں کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی اور سماجی زندگی سے ہے نص کے سامنے پوری طرح سر تسلیم خم نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ لوگ اپنے لئے رسول خدا(ص)کی رفتار وگفتار کے بالمقابل اظہار خیال کے قائل تھے اس کے بعد انہوں نے اس طرز تفکر کے کچھ نمونے ذکر کئے ہیں جن کے درمیان عمر بن خطاب سر فہرست تھے اور آخر میں یہ نتیجہ نکالاہے کہ رسول اکرم(ص)کی رحلت کے بعد اس طرز فکر کانتیجہ یہ ہواکہ مسئلہ امامت وخلافت کے بارے میں مسلمان دوحصوں میں تقسیم ہو گئے۔ 
ایک گروہ اس سلسلہ میں اپنے کو نبوی نصوص کا پابند نہیں سمجھتا تھا ان لوگوں کا تعلق سقیفہ سے تھا اور دوسرا گروہ  ان لوگوں کا تھا امامت سے متعلق اپنے کونصوص نبوی کا پابند سمجھتا تھااور یہی لوگ شیعہ ہیں اس طرح اسلام میں شیعیت کی ابتداء ہوئی۔
حوالہ جات:
(۱)اعیان الشیعہ،ج؍۱،ص؍۲۳۔
(۲)ھاشم معروف الحسنی»الشیعة بین الاشاعرہ والمعتزلة«،ص؍۴۸۔۵۳ ۔
(۳)المستدرک علی الصحیحین،۸؍۳،۱۶۳،حدیث ۴۶۳۲،دار الکتاب العلمیة،بیروت،خصائص امیر المؤمنین،۱۶۱۔
(۴)حلیة الاولیاء،ج؍۱،ص۶۸،دار الکتاب العربی،بیروت۔
(۵)السنن الکبریٰ ،ج؍۵،ص؍۱۴۰،حدیث ۸۴۹۹،کتاب الخصائص،۱۶۶،۱۶۷۔
(۶)گذشتہ حوالہ،ص؍۱۴۲،کتاب الخصائص،ص؍۱۷۰۔۱۷۱،اس حدیث کو بھی حاکم نے مستدرک میںنقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ شیخیں کے شرائط مطابق صحیح ہے،المستدرک،۳؍۱۳۵،ج؍۱،۴۶۳۰ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت سن ۱۴۱۱ہجری۔
(۷)گذشتہ حوالہ،ص؍۱۵۴،باب۵۴ ۔
(۸)نھج البلاغة ڈاکٹر صبحی صالح خطبہ۱۹۲۔
(۹)نشأۃ التشیع والشیعة،ص؍۶۳۔۷۹۔
نوٹ:اس سلسلہ کی مزید کڑیاں قارئین کی خدمت میں عنقریب پیش کی جائیں گی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20