Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183702
Published : 9/10/2016 15:49

شیعہ مذھب کی تاریخ(۳)

تاریخی اور حدیثی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ عہد رسالت میں بعض لوگ شیعہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے،البتہ اس معنی میں نہیں کہ مسلمان دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ لوگ سنی اور کچھ لوگ شیعہ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت علی(ع) سے اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے رسول اکرم(ص) کی رفتار وکردار کوآپ کے رفتار و کرادر میں مجسم دیکھتے تھے اس لئے آپ کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیتے تھے۔


ولایت پورٹل:
ہم نے پچھلے دو مضامین میں شیعہ مذھب کی تاریخ کے حوالے سے تین نظریات پیش کئے،اور اب یہاں پر صحیح نظریہ کی تحقیق اور تجزیہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
شیعہ مذھب کی تاریخ(۱)
شیعہ مذھب کی تاریخ(۲) 
مذکورہ تینوں نظریات کے درمیان تاریخ تشیع کی ابتداء کے بارے میں تیسرا نظریہ سب سے زیادہ مستحکم ہے،البتہ شہید صدر(رہ) کے نظریہ کایہ حصہ کہ آپ نے صرف تشیع کی پیدائش کوہی دور رسالت سے قرار دیا ہے اور شیعوں کے نام سے منظرعام پر آنے والے افراد کی تاریخ کو عہد رسالت کے بعد قرار دیا ہے یہ قابل غور بات ہے،کیونکہ تاریخی اور حدیثی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ عہد رسالت میں بعض لوگ شیعہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے،البتہ اس معنی میں نہیں کہ مسلمان دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ لوگ سنی اور کچھ لوگ شیعہ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت علی(ع) سے اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے رسول اکرم(ص) کی رفتار وکردار کوآپ کے رفتار و کرادر میں مجسم دیکھتے تھے اس لئے آپ کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیتے تھے،استاد محمد کرد علی نے اپنی کتاب«خطط الشام» میں اس بارے میں بھی یہ کہا ہے:پیغمبر(ص) کے دور میں ہی کچھ بزرگ صحابہ حضرت علی(ع)کے دوستوں کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے جیسے سلمان فارسی جن کابیان ہے کہ : ہم نے اس بات پر پیغمبر اکرم  کی بیعت کی ہے کہ ہم مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں گے اور علی بن ابی طالبؑ کی اقتدا کریںگے اور ان سے محبت کریں گے یا ابو سعید خدری کہتے تھے کہ لوگوں کو پانچ فرائض کا حکم دیا گیا تھا جس میں سے انہوں نے چار کو انجام دے دیا لیکن ایک کو چھوڑ دیا،جن چار فریضوں پر عمل کیا ہے وہ یہ ہیں:نماز،زکات،روزہ ماہ رمضان اور خانہ کعبہ کا حج اور ایک فریضہ جسے انہوں نے چھوڑ دیا ہے وہ علی بن ابی طالبؑ کی و لایت ہے اسی طرح جناب ابوذر غفاری،عمار بن یاسر،حذیفہ یمانی،خزیمہ بن ثابت ا نصاری ، ابوایوب انصاری،خالد بن سعید اور قیس بن سعد بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں۔(۱)
ابو حاتم رازی اپنی کتاب«الزینة» میں تحریر کرتے ہیں کہ «شیعہ»رسول خدا(ص) کے دور میں چارا صحاب کالقب تھا جن کے نام یہ ہیں:سلمان فارسی،ابوذر غفاری،مقداد بن اسود اورعمار یاسر۔(۲)
فرق الشیعہ کے مولف بھی تحریر کرتے ہیں:سلمان فارسی،ابوذر غفاری،مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر وہ پہلے افراد تھے جنھیں «شیعہ» کہا جاتا تھا۔(۳)
خلاصہ کلام یہ کہ شیعیت اوراس کی تاریخ کے بارے میں مندرجہ ذیل باتوں کا استفادہ ہوتا ہے:
۱۔تشیع کے یعنی:حضرت علی(ع) کی بلافصل اور منصوص امامت وخلافت کا عقیدہ۔
۲۔تشیع یعنی حضرت علی(ع)کی محبت کا واجب ماننا۔
۳۔تشیع یعنی حضرت علی(ع) کو دوسرے تمام صحابہ پیغمبر(ص) سے افضل ماننے کا عقیدہ۔
۴۔رسول اکرم(ص)کے دور میں بعض صحابہ کا شیعۂ علی(ع) کے نام سے معروف ومشہور تھے۔
۵۔رسول اکرم(ص) کی وفات کے بعد آپ کے جانشین اور مسلمانوں کے امام وقائد کے بارے میں صحابہ کے درمیان اختلاف پید اہوا اور بعض مہاجرین وانصار نے حضرت علی(ص) کی حمایت کی جس کے نتیجہ میں شیعہ دنیا میں ایک مذہب کی شکل دنیا کے میںسامنے آیا۔
    آخری نکتہ تاریخ کے مسلمات اور قطعی حقائق میںشامل ہے لہٰذا اس کے لئے کسی تاریخی سند اور کتاب کے حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔
    چوتھے نکتہ کے شواہد اس سے پہلے ذکر کئے جاچکے ہیں،ابتدائی تین نکات کے کچھ دلائل بھی پہلے گذر چکے ہیں۔
نوٹ:ابھی مزید وضاحت کے لئے کچھ اور دلائل اور شواہد بعد والے حصوں میں پیش کئے جائیں گے۔
 حوالہ جات:
 (۱)خطط الشام،۶؍۲۵۱۔۲۵۲،الامام الصادق والمذاھب الاربعة،۱؍۲۳۸۔
(۲)اعیان الشیعہ،۱؍۱۸۔۱۹۔
(۳)فرق الشیعة،ص؍۱۷۔۱۸۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20