Sunday - 2018 مئی 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183707
Published : 9/10/2016 18:10

تاریخ کربلا میں خواتین کا کردار

جناب رباب نے بھی ابن زیاد کی محفل میں عاشورا کے واقعے کوتحریف سے بچایا،جب امام علیہ السلام کا سر مبارک ابن زیاد نے طشت میں رکھا اور جب اہل حرم دربار میں داخل ہوئے تو یہ خاتون دوسری خواتین کے درمیان سے اٹھی اورسر مقدس کو آغوش میں لیا اور اسکا بوسہ لیا اور کہنے لگی(واحسیناہ فلانسیت حسینا اقصدتہ اسنة الادعیاء غادروہ بکربلا ء صریعا لا سقی اللہ جانبی کربلاء)١٨ انہوں نے ان جملات کے ذریعے عاشورا کے دن جو مظالم اہل البیت پر ڈھائے گئے بیان کئے اورتحریف کے راستوں کو بند کر دیا۔

ولایت پورٹل:
عاشورا کا واقعہ تمام خصوصیات کا مجموعہ اور مختلف موضوعات پر مشتمل ہے ۔یہ واقعہ صبر ، استقامت ، شجاعت ، پرھیزگاری ،عقیدہ ،اخلاق اور طر ز زندگی سیکھاتا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایساواقعہ ہے جس میں چھوٹے اور بڑے،خواتین اور مرد سب شامل ہیں اور ہر ایک کا اپنا کردار ہے ،اس مختصر مقالے میں ہم واقعہ عاشورا میں خواتین کے کردار کے حوالے سے کچھ مطالب تحریر کرنے کی کوشش کریں گے۔
امام حسین علیہ السلام کے عراق کی طرف جانے سے پہلے کچھ لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کی حرکت کو مصلحت کے خلاف جانتے ہوئے امام حسین علیہ السلام سے منع کیا ان میں سے ایک آپ کے بھائی محمد بن حنیفہ تھے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کو اس سفر سے منع کرتے ہوئےعرض کی کہ آپ کا سفر کرنا خطرناک ہے اور مصلحت بھی نہیں ہے اور آپ کی جان خطرے میں ہے ،ان حالات میں اہل البیت علیھم السلام کو ساتھ لے جانا اس سے بھی خطرناک تر ہے،امام حسین علیہ السلام نے ان کو ایسے جواب دئیے کہ مزید وہ اس معاملے میں بات نہ کر سکے ۔حضرت نے معنوی پہلووں سے استدلال کر تے ہوئے چند مطالب پیش کئے ،اور اپنے نانا کے ساتھ عالم رویا میں ملاقات کا واقعہ بھی جو کہ قطعا حکم وحی ہے،١ ۔ لوگوں تک پہنچاتے ہوئے فرمایا : میں نے عالم خواب میں نانا رسول خدا [ص]کی زیارات کی ہے اور انہوں نے مجھ سے فرمایا : (ان اللہ شاء ان یراک قتیلا)٢ امام علیہ السلام کو لوگوں نے کہا :اگر ایسا ہے تو پھر کیوں گھر والوں اور بچوں کو اپنے ساتھ لے جارہے ہو؟امام علیہ السلام نے فرمایا:( ان اللہ شاء ان یراھن سبایا)٣۔نانا رسول خدا [ص]نے فرمایا: کہ خداوند متعال کی خوشنودی اور رضایت تمھاری شھادت اور تمھارے اہل البیت کی اسیری میں ہے اور خدا کی خوشنودی ہمیشہ مصلحت میں اندر چھپی ہوتی ہے اور مصلحت کا معنی ہے کہ انسان کا کمال تک پہنچنا اور بشریت کا کمال حاصل کرنا، اسی وجہ سے امام[ع] نے حکم خدا کی بنا پر جو الھام کے ذریعے حاصل ہو ا تھا اپنے اختیار سے خواتین اور بچوں کو بھی کربلا کا سفر کرنے کے لئے تیار کیا اور یہ کام خدا کی طرف سے ایک وظیفے کے طور پر انجام پایا ہے جس میں خواتین بھی اپنے وظیفوں پر عمل کریں ۔٤
واقعہ کربلا میں خواتین کے کردار کو ہم کئی مراحل میں پیش کرینگے ۔
١۔روز عاشورا سے پہلے خواتین کا کردار
عاشورا کے دن سے پہلے جن خواتین نے کردار اداکیا وہ درج ذیل ہیں ،
١۔زھیر بن قین کی زوجہ: یہ وہ خاتون ہے جس کا نام احترام وتعظیم کے لائق ہے وہ اپنے شوھر کے ساتھ مکہ آئی تھی۔اور عراق کی طرف جارہے تھے راستے میں امام حسین علیہ السلام سے انکی ملاقات ہوئی امام علیہ السلام کے خیمے کے ساتھ زھیراپنا خیمہ لگاتاہے ،اچانک امام علیہ السلام کا سفیر انکے پاس آیا اور سلام کرنے کے بعد ان سے مخاطب ہو کر کہا :اے زھیر بن قین: تجھے امام حسین علیہ السلام بلا رہے ہیں ،سب لوگ یہ بات سن کر حیران رہ گئے اور زھیر نے ان کو جواب نہیں دیا،لیکن اس کی بیوی جو کہ عمرو کی بیٹی تھی انہوں نے اپنے شوھر سے کہا : فرزندرسول خدا[ص] تجھے بلا رہے ہیں اور تم فرزندرسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جانے سے دریغ کیوں کر رہے ہو؟ سبحان اللہ ! کونسی رکاوٹ ہے جو تمھیں ان کی ملاقات سے روک رہی ہے اور انکے کلام کو سن کر واپس آنے کیلئے مانع بن رہی ہے ؟ زھیر اپنی بیوی کے کلام سے متائثر ہو ا اور امام کے دیدار سےمشرف ہو کر کچھ دیر بعد خوش وخرم واپس لوٹ آیا اور زوجہ سے مخاطب ہو کر کہا :تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو،ان کی زوجہ نے گریہ کرنا شروع کیا اور شوھر سے کہا:خداوند تمھارایاور ومددگار ہو،تم سے میری درخواست ہے کہ قیامت کے دن امام حسین علیہ اسلام کے پاس میری شفاعت کرنا۔٥
٢۔ام وھب :یہ خاتون عبد اللہ بن کلبی کی زوجہ تھی ۔عبد اللہ کا تعلق بنی علیم کے طایفے سے تھا اور کوفہ کا رہایشی تھا،یہ عورت اپنے شوھر کے ساتھ کوفہ سے راتوں رات سفر پر نکلی اور شاید آٹھویں محرم الحرام کو کربلا پہنچے ،عاشورا کے دن جب جنگ چھڑ گئی وہ غلام ابن زیاد کی لشکر سے جنگ کرنے کے لئے میدان میں آیا،حبیب بن مظاہر اسدی اور بریر بن خضیر ھمدانی ان دونوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوئے ۔امام علیہ اسلام نے ان کو اجازت نہ دی ،اسی دوران عبد اللہ نے امام علیہ السلام سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت مانگی اور تنھائی میں جنگ لڑی اور ان دونوں کو قتل کر دیا ،ان کی زوجہ نے شوھر کو جنگ کرتے ہوئے دیکھ کر خیمے کا ایک ستون اٹھایا اور میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئی اور یہ کہ رہی تھی :میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ،فرزند رسول[ص] پر جان قربان کرو،امام علیہ السلام نے اس خاتون سے مخاطب ہو کر فرمایا :خداوند آپ کو جزای خیر دے ،خواتین کے اوپر خداوند متعال نے جھاد واجب نہیں کیا ہے ۔٦
٣۔طوعہ: یہ وہ خاتون ہے جس نے حسین علیہ السلام کے سفیر کیساتھ ہمدردی کی جب کوفہ والوں نے مسلم بن عقیل کے ساتھ بے وفائی کی اور انہیں اکیلا چھوڑا اور حضرت ہانی کی شھادت کے بعد مسلم کوفہ کی گلیوں اور کوچوں میں گھوم رہے تھے اور رات کی تاریکی میں کوفہ سے باہر گلیوں میں کسی گھر کے دروازے کے باہر ایک بوڑھی خاتون بیٹھی ہوئی تھی ان کے پاس پہنچے ،حضرت مسلم ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اس خاتون کی طرف متوجہ ہوئے ۔طوعہ نے حضرت مسلم کو پہچاننے کے بعد ان کو پناہ دی ،ان کو اپنے گھر  لے گئی اور انہیں کھانا کھلایا لیکن اس بات پر  خوف زدہ تھی کہ ان کا بیٹا کہیں اس واقعے سے باخبر نہ ہو جائے ،لیکن اس کا بیٹا ابن زیاد کا آدمی تھا،مسلم بن عقیل کو گھر میں دیکھ لیتا ہے اور جا کر ابن زیاد کو خبر دیتا ہے  ۔٧
 جب کوئی بھی مرد ان کی حمایت کے لئے حاضر نہیں تھا اس وقت اس عورت نے مسلم ابن عقیل کی حمایت کی اور اس بات کو جانتی تھی کہ اگر ابن زیاد کو معلوم ہوا تو شاید ان کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود مسلم کو اپنے گھر میں لاتی ہے اور غذا فراہم کرتی ہے ،یہ اس خاتون کی فداکاری تھیں ۔
٢۔روز عاشوراکے دن خواتین کا کردار:
عاشورا کے دن پانچ خواتین خیام امام حسین علیہ اسلام سے قتل گاہ کی طرف باہر نکلیں،
١۔مسلم بن عوسجہ کی کنیز۔٨
عاشورا کے دن یہ خاتون اپنے شوھر کے سرھانے آئی اور خداوند سے شھادت کی تمنا کی اور وہیں پر شمر کے غلام نے شھید کر دیا۔
٣۔عبد اللہ بن عمر کی ماں۔ بیٹے کی شھادت کے بعد خیمے کے ستوں کو ہاتھ میں لئے دشمن کی طرف روانہ ہوئی،امام علیہ السلام اسے واپس لے آئے ۔
٤۔عمر بن جنادہ کی ماں۔جس نے اپنے بیٹے کی شھادت کے بعد ان کے سر کو اٹھایا اور دشمن کی طرف پھینک دیا اور اس سر کے ذریعے ایک دشمن کو مار ڈالا یہ عورت کہہ رہی تھی ۔خدا کی راہ میں دی ہوئی قربانی کبھی واپس نہیں لونگی اس کے بعد تلوار اٹھا کر دشمن کی طرف روانہ ہوئی لیکن امام علیہ السلام نے اسےواپس خیمے میں لے آئے ۔
۵۔بکر بن وائل:شروع میں اپنے شوھر کے ساتھ ابن زیاد کی فوج میں تھی اور جب ابن زیاد کی فوج کی بے شرمی و بے حیائی دیکھی تو تلوار ہاتھ میں لے کر خیموں کی طرف آئی اور بکر بن وائل کے قبیلے کو مدد کے لئے طلب کیا ١٠۔
٣۔کربلا سے کوفہ تک خواتین کا کردار:
عاشورائی خواتین نے امام حسین علیہ السلام کی شھادت کے بعدبھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کیا۔دشمن جب خیموں کو لوٹنے اور آگ لگانے کے لئے آئے،یہ پاکیزہ خواتین جانتی تھیں کہ یہ لوگ کسی پر رحم کرنے والے نہیں ہیں ،ان کے پلید اور ناپاک ہاتھ ان کی طرف پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے زیورات ان کی طرف پھینک دئیے،اس مقام پر حضرت زینب [س] امام سجاد علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں اور فرمایا: خیموں کے اندر جل جائیں یا باہر نکلیں ؟امام علیہ السلام نے فرمایا:خیموں کوچھوڑ دیں اور باہر نکلیں ۔
اہل بیت علیھم اسلام کے خاندان اور اصحاب کے گھرانے نے مصیبتیں برداشت کیں اس کے باوجود گیارہویں رات خداوند متعال کو یاد کیا اور خدا کی عبادت میں مصروف رہے ۔امام سجاد علیہ اسلام فرماتے ہیں :میری پھوپھی زینب [س] نے تمام تر مشکلات اور مصیبت کے باوجود عاشوراکی رات اور گیارھویں محرم کی رات بھی نماز شب ترک نہیں کی ١١
امام حسین علیہ السلام کو حضرت زینب[س] کے خلوص اور ان کی بندگی پر اس قدر اعتماد تھا کہ امام علیہ السلام نے وداع کے دوران ان سے مخاطب ہو کر فرمایا:(یا اختاہ لاتنسینی عند نافلة الیل)١٢ میری بہن مجھے نماز شب میں نہیں بھولنا۔اہل حرم نے عمر بن سعد سے کہا کہ انہیں مقتل لے جائیں اور اس نے اس درخواست کو قبول کیا ،گیارہوں محرم کو جب اہل بیت کا قافلہ اونٹوں پر سوار ہو کر قتل گاہ سے گزرا ،اور جب ٹکڑے ٹکڑے ہوئے جسموں ،بے سر بدنوں اور خون میں ڈوبے ہوئے جسموں کو دیکھا تو سب نے اپنے آپ کو اونٹوں سے گرا دیا اوراپنے عزیزوں کو سینے سے لگا لیا۔١٣
کوفہ کے راستے میں بھی خواتین صبر وحوصلے سے کام لیتی رہیں ، حضرت زینب[س] نے نہ فقط معمولی حالات میں بلکہ سخت ترین بحرانی حالات میں بھی پردے اور عفت کا اہتمام کیا، کربلا کے اسیروںکو بغیر کجاوے اونٹوں پر سوار کر کے کوفہ میں لے گئے۔
٤۔کوفہ میں خواتین کا کردار:
حضرت زینب [س] کا کربلا کے واقعے کے بعد وہی مقام تھا جس طرح امام حسین علیہ السلام کا تھا ،کاروان کے چھوٹے بڑے ہر ایک کی نظریں حضرت زینب[س] پر تھیں ،یہ زینب[س] تھیں کہ دشمنوں کو ذلیل وخوار کیا اور اگر یہ نہ ہوتیں تو یہ عظیم قربانی ضائع ہو جاتی،حضرت زینب و ام کلثوم اور امام سجاد علیہ اسلام کے خطبوں نے حقیقت کو برملا کر دیا ۔جب اسیروں کا قافلہ کوفہ کے نزدیک پہنچا تو کسی خاتون نے امام سجاد علیہ السلام سے پوچھا آپ کون ہیں ؟امام سجاد علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:(نحن اسارا آل محمد)کوفہ وا لے رونے لگے اس وقت امام سجادعلیہ السلام نے فرمایا : تم لوگ ہماری لئے رورہے ہو تو پھر کس نے ہمارے عزیزوں کو شھید کیا ہے ؟١٤
امام حسین علیہ السلام یہ جانتے تھے کی بنی امیہ انکی ناموس اوراصحاب کی خواتین پر ظلم اور انکو اسیر کرینگے۔حضرت زینب [س] نے مختلف شھروں سے گزرتے وقت کئی مقامات پر خطبے دئے اور انہی خطبوں کے ذریعے حقایق روشن کرتی رہیں اور دشمنوں اورظالموں کے مظالم سے پردہ اٹھاتی رہیں ۔
بشیر بن خزیم اسدی کہتے ہیں: جب زینب [س] نے خطبہ دینا شروع کیا توگویا ایسا لگ رہا تھا کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام خطبہ دے رہا ہو ،میں نے کبھی پردہ دار خاتون کو ان کی طرح گویاتر نہیں دیکھا۔حضرت زینب [س] خطبہ دی رہی تھیں اور لوگ حیران تھے۔اورجب عبید اللہ بن زیاد نے کہا کہ میں خدا کا شکر گزار ہوں جس نے تم لوگوں کوذلیل کیا اور تمھارے مردوں کو مار دیا اورتمھارے جھوٹ کو ظاہر کر دیا ۔حضرت زینب[س]نےجواب میں فرمایا:میں خدا کی شکر گزارہوں جو تمام تعریفوں کا سزوار ہے جس نے ہمیں ہر قسم کی پلیدیوں سے پاک و منزہ کیا ،اور فاسقوں کو رسوا کیا اور یہ تم لوگ ہو جو جھوٹ بول رہے ہو نہ ہم ۔ابن زیاد نے کہا تم نے دیکھا کہ تمھارے بھائیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا ؟ آپ نے فرمایا :(ما رایت الا جمیلا ) میں نے اچھائیوں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔١٧
جناب رباب نے بھی ابن زیاد کی محفل میں عاشورا کے واقعے کوتحریف سے بچایا،جب امام علیہ السلام کا سر مبارک ابن زیاد نے طشت میں رکھا اور جب اہل حرم دربار میں داخل ہوئے تو یہ خاتون دوسری خواتین کے درمیان سے اٹھی اورسر مقدس کو آغوش میں لیا اور اسکا بوسہ لیا اور کہنے لگی(واحسیناہ فلانسیت حسینا اقصدتہ اسنة الادعیاء غادروہ بکربلا ء صریعا لا سقی اللہ جانبی کربلاء)١٨ انہوں نے ان جملات کے ذریعے عاشورا کے دن جو مظالم اہل البیت پر ڈھائے گئے بیان کئے اورتحریف کے راستوں کو بند کر دیا۔١٩
ان ہستیوں نے اپنے انقلابی خطبوں کے ذریعے بنی امیہ کے مکار چہرے کو ظاہر کر دیا اور اس اسیری کو آزادی میں تبدیل کر دیا ۔اسی طرح شام میں یزید کے دربار میں بھی حضرت زینب[س] نے دندان شکن خطبے دئیے اور فرمایا: اے یزید آیا تو نے ابھی آسمان اور زمین کی فضا کو ہم پر تنگ کیا ہے اور ہمیں اسیروں کی طرح شھر بہ شھر پھرایا ہے ۔گمان کرتا ہے کہ ہم خدا کے نزدیک خوار اور ذلیل اور تو اس کے نزدیک عزیز ہے؟اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں آزاد ہونے والے !آیا یہ انصاف ہے کہ تم نے اپنی لونڈیوں کو اور خواتین کو پردے میں رکھا ہوا ہے  اور رسول خدا کی بیٹیوں کو اسیر بنا کر شھر بہ شھر پھرائے جارہے ہو۔۔۔۔۔۔۔ خدایا ہمارا انتقام تو ہی ان ظالموں سے لینا٢٠
اس طرح سے ان خواتین نے انقلاب لایا کہ یزید  نےکبھی اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا ، کہ اس کی بیوی بھی اسے چھوڑ کر ھسین علیہ السلام کے غم میں صف ماتم بچھائے گی اور غم حسین میں رونا شروع کر ے۔حضرت زینب[س] نے دشمن کے محل میں ہی دشمن کو شکست دی اور اپنے بھائی پر تین دن تک دشمن کے محل میں عزا پرپا کی۔
 محمد لطیف مطہری
http://latifkachuravi.blogfa.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 مئی 20