Thursday - 2018 مئی 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183715
Published : 10/10/2016 16:30

حضرت عباس(ع)معصومین کی نگاہ میں

امام زمانہ (عج) ارشاد فرماتے ہیں:سلام ہو ابوالفضل عباس بن امیرالمؤمنین (ع) پر، بھائی کے عظیم ہمدرد پر جن کی راہ میں آپ نے اپنی جان کا نذرانہ دیا، اور گذشتہ کل پر آئندہ کل کے اجر و پاداش کو ترجیح دی، وہی جو بھائی کے فدائی تھے اور بھائی کی حفاظت کی اور بھائی کو پانی پہنچانے کی کوشش کی اور آپ کے ہاتھ منقطع ہوئے۔ خداوند متعال ابوالفضل (ع) کے قاتلوں پر لعنت کرے۔

ولایت پورٹل:

ساقی دشت کربلا کی نیک صفات
ابوالفضل علیہ السلام نے بزرگوں کے دل و فکر کو مسخر کیا، ہر جگہ اور ہر وقت حریت پسندوں کے لئے زندہ جاوید ترانہ بن گئے؛ کیونکہ اپنے بھائی کے لئے ایک عظیم قربانی رقم کی، اس بھائی کے لئے جو ظلم و جور کے خلاف اٹھے تھے اور مسلمانوں کے لئے عزت جاویداں کمائی اور اسلام کو دائمی و ابدی عظمت عطا کی۔
دیکھتے ہیں کہ ہمارے بزرگ الہی پیشوا کیا فرماتے ہیں ساقی دشت نینوا کی شان میں؟:
۱. امام سجاد علیہ السلام
تقوی اور فضیلت کی چوٹی پر رونق افروز امـام عـلى بـن الحسین، حضرت زین العابدین علیہ السلام اپنے چچا عباس کے لئے اللہ کی بارگاہ سے طلب رحمت کیا کرتے تھے اور بھائی حسین (ع) کے لئے ان کی قربانیوں کو نیکی کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے اور ان کی جانبازیوں کی مسلسل تعریف و ستائش فرمایا کرتیےتھے۔
فرماتے ہیں:اللہ تعالی میرے چچا عباس پر رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے قربانی دی اور آزمائش کی گھڑی سے نہایت خوبصورت انداز میں عہدہ برآ ہوئے۔ انھوں نے اپنے آپ کو بھائی پر قربان کردیا حتی کہ اس راہ میں آپ کے دونوں ہاتھ قلم ہوئے۔ خداوند متعال نے ان دنیاوی ہاتھوں کی جگہ جعفر طیار بن ابی طالب علیہما السلام، کی طرح انہیں بھی دو بال عطا فرمائے جن کے ذریعے وہ جنت میں محو پرواز رہتے ہیں۔  عباس کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں وہ منزلت و مرتبت حاصل ہے کہ روز قیامت تمام شہداء ان کے مقام پر رشک کھاتے ہیں۔(۱)
یہ امام معصوم کے کلمات ہیں جن سے علمدار کربلا کے حقیقی پہلو عیاں ہوتے ہیں۔ وفا و اطاعت میں ایسے کہ کائنات کے لئے مثال ٹہرے۔ کبھی اپنے زمانے کے امام (ع) سے آگے نہیں بڑھے اور کبھی امام (ع) کی رائے کے سامنے اپنی رائے کو ترجیح نہیں دی۔ عارف تھے اور معرفت خدا و رسول و امام کے مالک تھے۔ جوشیلے نوجوان نہیں تھے بلکہ عارف و اطاعت گزار تھے۔
۲ـ امام صادق علیہ السلام
امام صادق علیہ السلام رئیس مذہب جعفری ہیں، انسانی علوم کا بے مثل چہرہ ہیں، امین ائمہ و رسول اللہ (ص) ہیں، ہزاروں شاگردوں کے استاد ہیں مذاہب اربعہ کے امام آپ (ع) کی شاگردی پر فخر کرتے ہیں اور اپ حضرت ابوالفضل (ع) کی شان میں ارشاد فرماتے ہیں:
میرے چچا عباس علیہ السلام نافذ بصیرت اور ایمان محکم کے مالک تھے۔ اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا بہترین انداز سے آزمائش سے عہدہ برآ ہوئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔(۲)
کلام امام (ع) کے اہم نکتے:
الف ـ دوراندیشی اور ہوشیاری
تـیـزبـیـنـى، اور ہوشیاری فکر کی استواری اور رائے کے استحکام کا نتیجہ ہے اور انسان صرف اسی صورت میں یہ استواری اور استحکام حاصل کرسکتا ہے کہ روح و نفس کی تہذیب و تزکیہ کرے، خلوص نیت کا مالک ہو، غرور اور نفسانی خواہشات کو اپنے آپ سے دور کرے اور انہیں اپنے باطن پر مسلط نہ ہونے دے۔
تیزبینی اور بصیرت ابوالفضل العباس کی برجستہ ترین خصوصیات میں میں سے ہے،تیزبینی اور فکر کی گہرائی کی بدولت ہی امام ہدایت اور سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی حمایت و پیروی کے لئے اٹھے اور شرف و کرامت کی چوٹیاں سر کردیں اور تاریخ کے صفحات پر امر ہوگئے،پس جب تک انسانی اقدار محترم ہیں انسان حضرت عباس کی بے مثل شخصیت کے سامنے سر تعظیم خم کرتا رہے گا۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہمارے چچا عباس بن علی علیہ السلام نافذ بصیرت اور ایمان محکم کے مالک تھے۔ اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا اور نہایت خوبصورتی سے آزمائش سے عہدہ برآ ہوئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔
ب ـ ایمانِ محکم
حضرت عباس (ع) کی ایک اہم صفت آپ (ع) کے ایمان محکم سے عبارت ہے۔ ایمان محکم کی نشانی یہ ہے کہ آپ (ع) نے اپنے بھائی ریحانةالرسول (ص) کے ساتھ مل کر جہاد کیا جس سے مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا و خوشنودی کا حصول تھا اور یہ حقیقت روز عاشورا آپ (ع) کی رجز خوانی سے ظاہر و ثابت ہے کہ آپ (ع) کربلا میں دنیا کے لئے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لئے آئے تھے اور جانتے تھے کہ امام (ع) کی محبت کا اللہ کی اطاعت میں مضمر ہے اور یہ کہ امام حسین (ع) کا ساتھ دینا در حقیقت اللہ تعالی کے دین کی حمایت ہے، ایمان محکم دلیل یہی تو ہے۔
ج -  امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ جہاد
امام صادق علیہ السلام نے اپنے مختصر سے ارشاد میں قہرمان کربلا چچا عباس علیہ السلام کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضرت عباس (ع) نے اپنے بھائی کے ہمراہ جہاد کیا۔ اس جہاد کے سپہ سالار سید الشہداء سبط رسول خدا  (ص) اور سرور نوجوانان بہشت امام حسین بن علی علیہ السلام تھے۔ جہاد بھائی کی مقصد کے لئے ہورہا ہے اور بھائی نے فرمایا ہے کہ یہ جہاد امت محمد (ص) کی اصلاح، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے احیاء اور دین محمد (ص) کو انحراف سے بچانے کے لئے ہے۔ اپنے عظیم بھائی کے اس عظیم ہدف کے لئے جہاد میں شرکت ایک عظیم فضیلت تھی جو عباس (ع) نے ہاتھ سے نہ جانے دی۔ آزمائش کی گھڑی سے سرخرو ہوکر عہدہ برآ ہوئے، روز عاشور مردانگی اور اطاعت و وفا کے انمٹ نقوش چھوڑ دیئے اور شہید ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔
د ـ فداكا ری اور جانفشانی
امام صادق علیہ السلام امام وقت بھائی امام حسین علیہ السلام کے راستے میں چچا عباس علیہ السلام کی فداکاری اور جان نثاری کی شہادت دے رہے ہیں جنہوں نے باطل کے خلاف لڑتے ہوئے خالصانہ انداز میں جانفشانی کی، کفر و باطل کے پیشواؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھائی کی پشت پناہی کی اور تاریخ کے عظیم ترین جانباز بن گئے؛ عظیم فداکاریاں کیں اور بھائی کے ساتھ مل کر شدید ترین دشواریاں برداشت کیں۔
امام صادق علیہ السلام زیارت جاری رکھتے ہوئے چچا عباس کی اعلی صفات اور اللہ کی بارگاہ میں آپ (ع) کی منزلت بیان فرماتے ہیں:
میں گواہی دیتا ہوں اور خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں کہ آپ بدر کے مجاہدین کے راستی پر گامزن ہوئے اور اللہ کے راستے میں راہ خدا کے مجاہدین اور خدا پسند روشن ضمیروں اور اللہ کے دوستوں کی طرح اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا اور اللہ کے دوستوں کے مدافعین اور اس کے اولیاء کے مددگاروں کے حامیوں کی مانند لئے آگے بڑھے اور ان ہی کی مانند جِدّ و کوشش کی، پس خداوند متعال وہ مکمل ترین، بہترین اور والاترین پاداش آپ کو عطا فرمائے جو وہ اپنے اولیائے امر کے فرمانبرداروں اور اپنی دعوت کو لبیک کہنے والی ہستیوں کو عطا فرمایا کرتا ہے۔(۳)
امـام صـادق علیہ السلام گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالی کو گواہ قرار دیتے ہیں کہ حضرت عباس عالم کے احرار کے باپ سیدالشہداء علیہ السلام کی راہ میں لڑتے ہوئے بدر کے مجاہدین کے راستے پر گامزن تھے؛ ان شجاع جوانمردوں کے راستی پر گامزن تھے جنہوں نے اپنے خوں سے اسلام کی دائمی فتح کو یقینی بنایا، وہ جو اپنے مقصد کے برحق ہونے پر یقین رکھتے تھے اور آگہی و بصیرت کے ساتھ شہادت کا انتخاب کیا اور توحید کا پرچم تاریخ کی چوٹی پر لہرایا اور کلمہ توحید کی صدا آفاق و انفس تک پہنچادی ۔ ابوالفضل العباس (ع) بھی اسی راستے پر گامزن ہوئے اور اسلام کو اموی اوباش اور ابوسفیان زادے کی چنگل سے نجات دلانے کے لئے میدان کارزار میں اترے وہی ابوسفیان زادہ جو کلمہ الہی کو مٹادینا چاہتا تھا اور اسلام کی بساط لپٹینا اور اسلام کا پرچم گرانا چاہتا تھا۔ آپ (ع) اپنے بھائی کے ہمراہ اس کے خلاف اٹھے اور اس راہ میں شہادت پائی۔
ابـوالفـضـل (ع) اپنے بھائی اور حریت پسندان عالم کے باپ سیدالشہداء حسین بن علی (ع) کی سپہ سالاری میں سفاک اموی طاغوت کے خلاف اٹھے اور ان ہی بھائیوں اور ان کے خاندان و انصار و اعوان کے قیام ہی کی برکت سے کلمہ حق کی تثبیت ہوئی اور اسلام فتحمند ہوا اور حق و حقیقت کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑی۔
قتل حسین اصل میں مرگ يزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

امام صادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کی زیارت جاری رکھتے ہوئے آپ (ع) کی الہی پاداش کے بارے میں فرماتے ہیں:
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نصیحت و خیرخواہی کا حق ادا کیا اور آپ نے اپنی انتہائی کوششیں کردیں، پس خداوند متعال نے آپ کو شہیدوں کے درمیان مبعوث فرمایا؛ آپ کی روح کو سعیدوں کی ارواح کے ہمراہ کردیا؛ آپ کو وسیع ترین بہشتی منزل میں جگہ عطا فرمائی اور بہترین کمرے آپ کے سپرد کئے اور آپ کے نام کو علیّین کے زمری میں عالمگیر کردیا اور انبیاء، شہداء، صالحین کا رفیق قرار دے کر ان کے ہمراہ محشور فرمایا اور کیا خوب رفقاء ہیں یہ۔
میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے سستی نہیں کی، پسپا نہیں ہوئے، اپنے امر میں بصیرت کے ساتھ آگے بڑھے جبکہ آپ صالحین اور انبیاء کی پیروی کررہے تھے۔ پس ہمارا اللہ آپ، اپنے نبی (ص) اور اپنے اولیاء (ع) کو بزگزیدگان اور طاہرین کے مقام پر مجتمع فرمائے کہ وہی ہے مہربانوں کا مہربان ترین۔(۴)
زیارت کے اس آخری حصے میں ہم اس حقیقت سے واقفیت حاصل کرتے ہیں کہ کیا مقام و منزلت ہے امام صادق علیہ السلام کے نزدیک حضرت عباس علمدار کی؟ اسی بنا پر امام صادق علیہ السلام اپنے چچا کے لئے بہترین مقامات و درجات کی التجا کرتے ہیں اپنے پروردگار سے۔
۳ـ حضرت مہدی عَجَّلَ اللہ تَعالی فَرَجَہ الشَّریف
دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے والے اور دنیا پر حق و عدل کے غلبے کے سلسلے میں اللہ کے وعدوں کو سچا دکھانے والے نیز بنی نوع انسان کو نجات دلانے والے امام غائب  حضرت امام زمانہ مہدی آل محمد عَجَّلَ اللہ تَعالی فَرَجَہ الشَّریف ، قائم آل محمد (ص)، چچا عباس علمدار (ع) کی شان میں اپنے نہایت حسین کلام کے ضمن میں ارشاد فرماتے ہیں:
سلام ہو ابوالفضل عباس بن امیرالمؤمنین (ع) پر، بھائی کے عظیم ہمدرد پر جن کی راہ میں آپ نے اپنی جان کا نذرانہ دیا، اور گذشتہ کل پر آئندہ کل کے اجر و پاداش کو ترجیح دی، وہی جو بھائی کے فدائی تھے اور بھائی کی حفاظت کی اور بھائی کو پانی پہنچانے کی کوشش کی اور آپ کے ہاتھ منقطع ہوئے۔ خداوند متعال ابوالفضل (ع) کے قاتلوں پر لعنت کرے۔(۵)
امام عصر عَجَّلَ اللہ تَعالی فَرَجَہ الشَّریف اپنی چچا کے بنیادی اوصاف یوں بیان فرماتے ہیں:
۱ ـ بھائی سیدالشہداء (ع) کے ساتھ ہمدردی اور ہمراہی نیز ہمدلی جو تاریخ میں ضرب المثل ٹہرے۔
۲۔ تقوی کے ذریعے آخرت کا سامان فراہم کرنا، دنیا پرستی سے پرہیز کرنا اور ہدایت و نور کے امام کی مدد کرنا۔
۳۔ اپنے اور اپنے بھائیوں کی جانیں سید جوانان بہشت امام حسین علیہ السلام کی راہ میں قربان کرنا۔
۴۔ خون کا نذرانہ دے کر بھائی کی حفاظت کرنا۔
۴ ـ بھائی اور بھائی کے اہل خانہ کو پانی پہنچانے کی کوشش کرنا ایسے حال میں جب اموی بادشاہ یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کے لشکر نے امام (ع) اور آپ کے خاندان و اصحاب پر پانی بند کردیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:

1- ذخـیـرة الداریـن ، ص 123 بـہ نـقـل از عـمـدة الطالب ۔
2- ذخیرة الدارین ، ص 123 بہ نقل از عمدة الطالب ۔
3- مفاتیح الجنان ، زیارت حضرت عباس ( علیہ السّلام )
4- مفاتیح الجنان شیخ عباس قمى و دیگر كتب ادعیہ و زیارات ۔
5- المزار، محمد بن مشہدى ، از بزرگان قرن ششم ۔
از: عابد حافظی(hafezy12.blogfa)


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 مئی 24