Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183720
Published : 11/10/2016 12:22

اسلام کی نظر میں خواتین کی عظمت

ہمارے سامنے دنیا کی قدیم قوموں میں ایک اہل یونان ہیں جن کے ابتدائی دور میں عورت ہر حیثیت سے پست و ذلیل سمجھی جاتی تھی، وہ لوگ عورت کو ادنی درجے کی مخلوق سمجھتے تھے، وہاں کا تمدن و معاشرہ تدریجا آگے بڑھتا رہا لیکن عورت کا درجہ نہیں بڑھ سکا، کچھ اور ترقی ہوئی تو علم و تہذیب کی روشنی میں یونانیوں نے عورت کوگھر کی ملکہ کا درجہ دے دیا۔
ولایت پورٹل:
اس بے اطمینانی کے دور میں اس سے بڑھ کرکیا موضوع ہوسکتا ہے کہ ہم اس صنف انسانیت کے بارے میں گفتگو اور عبارت آرائی کریں جس کوعورت و خاتون کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک عورت کے تین روپ ہوتے ہیں؛ ماں، بیٹی اور ان دونوں کے درمیان بہن یا شریک حیات؛ہر ماں، پہلے بیٹی اور پھر شریک حیات ہے لیکن ہر بیٹی ماں یا شریک حیات نہیں، گویا عورت کا مادی نقطہ عروج یہ ہے کہ ماں بن جائے۔

ماں کی عظمت کا کیاکہنا، آج کی دنیا میں ہر قوم، ماں کا احترام کرتی ہے، ہر مذہب نے ماں کو سرچشمہ خیر وبرکت بتایا ہے،لیکن قدرت کی اس شاہکار تخلیق پر عہد عتیق میں بڑی چیرادستیاں ہوئی ہیں، اسے صرف عورت کے حدود تک محدود رکھ کر افراط تو کبھی تفریط کا نشانہ بنایا گیا اور انسانی تمدن کے لئے یہ مسئلہ ہمیشہ سے الجھن کا سبب بنا رہا ہے کہ اجتماعی زندگی میں عورت کا کون سا مقام و مرتبہ معین کیا جائے کبھی اسے اتنا سر چڑایا کہ لائق پرستش قرار دے دیا گیا اور کبھی اتنا پست و حقیر گردانا گیا کہ برائیوں کی جڑ تک کہا گیا ۔
خواتین اور قدیم قومیں
ہمارے سامنے دنیا کی قدیم قوموں میں ایک اہل یونان ہیں جن کے ابتدائی دور میں عورت ہر حیثیت سے پست و ذلیل سمجھی جاتی تھی، وہ لوگ عورت کو ادنی درجے کی مخلوق سمجھتے تھے، وہاں کا تمدن و معاشرہ تدریجا آگے بڑھتا رہا لیکن عورت کا درجہ نہیں بڑھ سکا، کچھ اور ترقی ہوئی تو علم و تہذیب کی روشنی میں یونانیوں نے عورت کوگھر کی ملکہ کا درجہ دے دیا۔(1)
قدیم قوموں میں ہندوستان کی قومیں بھی آتی ہیں جہاں عورتوں کا درجہ ہمیشہ بلند رہا، خواہ اس کا کردار کچھ بھی رہا ہو جیسے سرسوتی اور لکشمی دیوی وغیرہ۔(2)
روم بھی قدیم تہذیب کا گہوارہ تھا، وہاں عورتوں پرمردوں کا تسلط اتنا زبردست اور گرفت ایسی مضبوط تھی کہ بعض حالات میں خود بیویوں کو قتل کردینا بھی جائز تھا، لیکن یہ نظریہ، ان کے درمیان زیادہ دن تک باقی نہ رہ سکا اور نکاح ایک قانونی معاہدہ بن گیا جس کے نتیجے میں معاشرے  کا یہ انجام ہوا کہ اکثر مالدار عورتوں کے شوہر، عملا غلام بن کر رہ گئے، طلاق کا رواج اتنا عام ہوگیا کہ رومی عورتیں اپنی عمر کا حساب اپنے شوہروں کی تعداد سے لگاتی تھیں۔(3)
اس طرح نہ جانے کتنی قومیں ابھریں، کتنے ہی رسم و رواج، رائج ہوئے، بےشمار تہذیب و تمدن نمودار ہوئے، لیکن عورت کسی قوم، کسی تہذیب وتمدن اورکسی رسم و رواج کے ذریعہ اپنا صحیح مقام نہیں پاسکی، کبھی عظمت کی بلندیوں پر پہونچا دی گئ توکبھی قعر مذلّت کے تحت الثریٰ میں ڈال دی گئی۔(4)
خواتین کی منزلت یہودیوں کی نظر میں
یہودیت و مسیحیت کی نظر میں احترام مادر، حضرت موسی و عیسی علیھما السلام کے باوجود (تحریف شدہ) توریت و انجیل میں عورت کی قدر و منزلت کو اتنا پست گردانا گیا کہ اس کو برائیوں کی جڑ کہا گیا۔
دین یہودیت میں اگر کوئی یہودی مرد کسی غیر یہودی عورت کی عصمت دری کرے تو وہ مستحق سزا و عقاب نہیں؛ کیونکہ دین یہودیت میں غیر یہودی عورت حیوان کے مانند ہے۔(5)
تحریف شدہ توریت نے  جو عورتوں کا کردار پیش کیا ہے وہ قابل مذمت ہے، توریت کی رو سے کوئی بھی عورت مثالی کردار نہیں رکھتی بلکہ از آدم (ع) تا ایں دم؛ عورتیں گنہگار، مکار و فریب کار، مسخ شدہ، نیز اخلاقی طور پر نیک کردار نہیں رہی ہیں۔(6)
یہودیوں نے عورتوں کو گناہوں کا مصدر گردانا کیونکہ ابو البشر کو بہکانے والی عورت ہی تھی، اسی لئے وقت ولادت اس کو درد زہ سزا کی شکل میں دیا جاتا ہے۔(7)،لیکن وقت ولادت حیوانات بھی درد زہ میں مبتلاہوتے ہیں تو ان کی جدہ ماجدہ نے وقت تخلیق کون سا جرم کیا تھا؟
خواتین کی منزلت مسیحیت کی نظر میں
دین مسیحیت میں بھی عورت کو ایکپست و حقیر مخلوق جانا گیا، عورت مصدر شر، ہلاک کردینے والا فتنہ ہے، اگر تمام لکڑیاں قلم، اور تمام انسان لکھنے والے بن جائیں تب بھی عورت میں موجود برائیاں نہیں لکھی جا سکتیں ہیں۔(8)
اس طرح دین یہودیت و مسیحیت میں عورت پر ظلم کیا جاتا رہا ہے اور اس کی عزت وکرامت کو روندا جاتا رہا  حتی کبھی یہ احمقانہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا عورت بھی انسان ہے؟ خواتین اور مغربی تہذیب: مغرب کی موجودہ آزادی نے عورت کو بازار میں بکنے والی چیز کے مانند بنا دیا، جس کو انسان جب چاہے خرید سکتا ہے اور جب چاہے فروخت کرسکتا ہے، مغربی تہذیب میں عورت ہر جہت سے آزاد ہے، وہ اپنے سرپرست کو اپنے رہنے کے لئے مکان کا کرایہ، کھانے کا پیسہ، کپڑے دھلنے  کی اجرت بھی ادا کرتی ہے؛ کیونکہ جس معاشرہ میں وہ زندگی گزار رہی ہے وہاں آزادی مطلق ہے، ان کا نظریہ یہ ہے کہ وہ صرف و صرف جینے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اس لئے وہ زندگی کی ہر لذت و شہوت کو بغیر کسی قید و شرط کے حاصل کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔(9)
مغربی تہذیب کا دعوی ہے کہ اس نے عورت کو آزادی مطلق دے رکھی ہے، لیکن یہ آزادی کے نام پر ایک دھوکہ ہے؛ کیونکہ مغربی تہذیب میں عورت کی عزت و آبرو کو اس کی آزادی کے نام پر خاک میں ملا دیا گیا ہے، مردوں کی غیرت کو پامال کردیا گیا ہے، زندگی کےگھریلو نظام کو ختم کر دیا گیا ہے اور اب آنے والی نسل نقصان و گھاٹے میں ہے ۔
«أَ لَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَكَّنّاهُمْ فِي اَلْأَرْضِ ما لَمْ نُمَكِّنْ لَكُمْ وَ أَرْسَلْنَا اَلسَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً وَ جَعَلْنَا اَلْأَنْهارَ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمْ فَأَهْلَكْناهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَ أَنْشَأْنا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْناً آخَرِينَ»۔(10)
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوں کو تباہ کردیا ہے، جنہیں تم سے زیادہ زمین میں اقتدار دیا تھا اور ان پر موسلادھار پانی بھی برسایا تھا، ان کے قدموں میں نہریں جاری کی تھیں، پھر ان کے گناہوں کی بنا پر انہیں ہلاک کردیا اور ان کے بعد دوسری نسل جاری کردی۔
مغرب میں عورت کو اتنا پست و حقیر گردانا گیاکہ جس کی کوئی انتہا نہیں؛ یہاں تک کہ علما و فلاسفہ کے درمیان عورت کے متعلق احمقانہ سوالات کئے گئے، جیسے کہ کیا عورت بھی مردکی طرح ذی روح ہے؟ اور اگر ذی روح ہےتو کونسی روح، روح انسانی یا روح حیوانی؟(11)
اسلام کی نظر میں خواتین کی منزلت و عظمت
عورت کسی مصور کا شاہکار نہیں، عورت شہنشاہیت و ملوکیت کی پیداوار نہیں، عورت فرعونیت و نمرودیت کا پرتو نہیں، عورت ادیب اور شاعر کا تخلیقی کارنامہ نہیں؛ عورت فطرت کا شاہکار، قدرت کا پروقار تحفہ اور خداوند قدوس کی تخلیق کا اعلیٰ نمونہ ہے، عورت انسانیت کی آبرو اور اسلام کی زینت ہے، اسلام نے عورت کو از آدم تا ایں دم مردوں کے لئے زینت بنایا ہے؛ آئیے اسلامی نقطۂ نظرسے عورت کے بلند و حقیقی مقام کے سلسلے میں چند نکات پر تو جہ کریں:
الف) عورت بھی مرد جیسی انسان ہے، جنسی اعتبار سے دونوں برابر کا حق رکھتے ہیں:
«يا أَيُّهَا اَلنّاسُ اِتَّقُوا رَبَّكُمُ اَلَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ وَ خَلَقَ مِنْها زَوْجَها وَ بَثَّ مِنْهُما رِجالاً كَثِيراً وَ نِساءً وَ اِتَّقُوا اَللّهَ اَلَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَ اَلْأَرْحامَ إِنَّ اَللّهَ كانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً»۔(12)
اے انسانو! اپنے پروردگار کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے اور اسی نفس میں سے اس کا جوڑا بنایا ہے اور ان سے بہت سے مرد و عورتوں کو پھیلا دیا ہے، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس سے تم اپنی حاجتوں کو طلب کرتے ہو اور رشتہ داروں کے بہ نسبت (قطع تعلق کرنے سے بھی) ڈرو، بیشک خدابہترین اعمال کا بہترین مراقب و دیکھنے والا ہے۔
خداوند تبارک و تعالیٰ کے نزدیک مرد اور عورت تخلیق کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھتے ہیں، دین الہی ہر دور میں صنف خواتین کو ذلت و رسوائی سے بچانے کے لئے ایک مثال ضرور قائم کرتا ہے، اسلام نے عورت کے لئے سماج میں جو مقام معین کیا ہے، اس کا احساس قرآن مجید پڑھ کر نہیں ہوتا ہے تو ایک عمر گذرنے پر ضرور ہوتا ہے، ایک نوجوان جو موجودہ معاشرے  سے بالکل متاثر ہے اس کی دلی خواہش ہوتی ہے اس کی شریک حیات بھی اس کے دوش بدوش تفریح گاہوں میں برابر شریک رہے، اس غفلت میں وہ زندگی کا ایک طویل عرصہ گذارتا ہے لیکن جب جوانی کا نشہ اترتا ہے اور گھریلو زندگی کی پرسکون فضا تلاش کرتا ہے تو اس سے محروم رہتا ہے، وہ خوداور اس کی شریک حیات اب کلب اور تفریح گاہوں میں نہیں جاتے لیکن ماشاء اللہ صاحبزادی جوان ہوگئی ہے، ماں باپ کے بتائے ہوئے راستے پر چل نکلتی ہے، صاحبزادے بھی اسی ماحول کے ہیں،ابھی یہ معاشرہ اپنی انتہا کو نہیں پہونچا ہے؛اس لئے کہ میچول اکسچینچ کے قاعدے پر بھائی اپنی بہن کو لے کر نکلا ہے اور کسی دوست سے اس کی بہن کا میچول اکسچینچ ہوگیا، دونوں ماں باپ اب کچھ نہیں بول سکتے ہیں اس لئے کہ اولاد اپنے والدین کے اطوار سے بخوبی واقف ہیں، اب عمر کا تقاضا یہ ہے کہ منھ سے کچھ نہ بولئے اور دل ہی دل میں اپنے معاشرے کا ماتم کیجئے۔
اسلام؛ خدا کا دین ہے اس لئےمرد و عورت کے نفسیات کے مطابق معاشرت کے اصول مرتب کئے گئے، اگرچہ دونوں متحد النوع ہیں مگر مختلف الجنس ہیں، جنسی اختلاف کے پیش نظر ہی شارع مقدس نے دونوں کے لئے الگ الگ ضابطۂ اخلاق مرتب کئے، انہیں اصول و ضوابط پر جب بھی مرد و عورت چلے تو گویا انہوں نے زندگی کی صحیح قدروں کو پالیا اور عورت کی عظمت و منزلت کو چار چاند لگ گئے۔
جناب آسیہ،فرعون کی بیوی ہوکر بھی آج دنیا کی نگاہوں میں سربلند اور دین اسلام کی چار عظیم عورتوں میں سے ایک ہیں، اسی طرح جناب مریم(ع) کے شرف و عظمت کا کیا کہنا، آپ بھی اسلام کی چار عظیم ترین خواتین میں سے ایک ہیں۔(13)
اسی طرح اسلام نے عورتوں کو ان کا جائز مقام، اس وقت بھی دیا جب دنیا میں خواتین پست ترین، مخلوق سمجھی جاتی تھیں یا انہیں اتنا چڑھایا گیا کہ انسانیت کی حدود سے باہر نکل گئیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جب سے مغربی تہذیب دنیا میں ابھری ہے اس نے شہوانی قوتوں کا سہارا لے کر اپنی عریاں اور بے شرم تہذیب کی اشاعت کی تحریک چلائی ہے، افسوس یہ ہے کہ ناعاقبت اندیش مسلمان بھی استحریک کو قرآن وحدیث کے موافق ثابت کرنے کی کوشش میں لگ گیا، اور اب تو معاملہ تقریباََ ایک صدی پرانا ہوگیا، جس کا زہر کئی پشتوں میں سرایت کرتاہوا موجودہ دور تک پہنچ گیا ہے، اب اگر کوئ اسلامی نقطہ سے عورتوں کے بارے میں کچھ بولنا بھی چاہتا ہے تو مریض اذہان، اُسے ہذیان سمجھتے ہیں۔
عورت کو عورت کانام دے کر مرد نے اپنی عیاشانہ فطرت کا ثبوت دیا ہے، مرد و عورت کے درمیان جو ربط ہے اسے قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھئے:
«وَ مِنْ آياتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجاً لِتَسْكُنُوا إِلَيْها وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَ رَحْمَةً إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ»۔(14) 
ترجمہ:اللہ کے لطف کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اس نے تمہارے درمیان مودت و رحمت رکھ دی ہے۔اس امر میں متفکرین کے لئے واضح نشانیاں ہیں۔
مذکورہ آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ زوجیت کا مقصد؛ سکون کا حصول اور مودت و رحمت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔اسی طرح پروردگار فرماتا ہے:«هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَ أَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَّ»۔(15)،:وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔
لباس کا مقصد ہی پوشیدگی ہے، یہ جسم کی محافظت کرتا ہے، زمانےکے سرد و گرم سے بچاتا ہے، عفت و حیا کے جوہر ابھارتا ہے، صرف مرد کا وجود کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب تک عورت کے وجود سے اس کی تکمیل نہ ہوجائے۔
ب) عورت بھی مرد کی طرح، اپنے اعمال کی ذمہ دار ہے:«وَ مَنْ يَعْمَلْ مِنَ اَلصّالِحاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولئِكَ يَدْخُلُونَ اَلْجَنَّةَ وَ لا يُظْلَمُونَ نَقِيراً»۔(16)
ترجمہ:جو بھی نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اگر صاحب ایمان بھی ہو تو ان سب کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔
اسلام دین ایمان و عمل ہے، اس نے قومیت یا جماعت کی بنیاد پر نجات کا پیغام نہیں دیا ہے جیسا کہ اہل کتاب کا خیال تھا کہ صرف یہودی اور عیسائی ہی جنت میں جاسکتے ہیں یا پھر بعض مسلمانوں کا خیال ہے کہ مسلمان جہنم میں نہیں جاسکتے ہیں، قرآن واسلام کا کھلا ہوا اعلان ہے کہ اگر برائی کروگے تو اس کی سزا بھی برداشت کرنا پڑےگی، اور نیک عمل کروگے تو اس کا انعام بھی ملے گا۔
اس طرز فکر کو بہترین دین سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت کئی طریقوں سے کی جاسکتی ہے؛ پہلے عمل کا ذکر کیا اور اس کے بعد ایمان کی شرط لگائی گئی ہے اس کے بعد اسلام و تسلیم کاذکر کیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ حسن عمل و کردار کی شرط لگائی ہے جس سے اس امر کی مکمل وضاحت ہوجاتی ہے کہ نہ ایمان عمل کے بغیر کارآمد ہوسکتا ہے اور نہ عمل ایمان کے بغیر، مولائے کائنات (ع) نے اسی نکتہ کونہایت حسین الفاظ میں واضح فرمایا ہے: بالاعمال یستدل علی الصالحات، و بالصالحات یستدل علی الایمان؛۔(17) ترجمہ: ایمان سے نیک اعمال کی طرف رہنمائی ہوتی ہے اور نیک اعمال سے ایمان کا پتہ چلتا ہے۔نیز خداوندعالم ارشاد فرماتاہے:«وَ لَهُنَّ مِثْلُ اَلَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ»۔(18)
ترجمہ:عورتوں کو شوہروں پر ویسا ہی شرعی و قانونی حق ہے جیسا شوہروں کو ان پر حاصل ہے۔
ج) عورت؛ حقوق فردی و اجتماعی میں برابر کی شریک ہے:«يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا اَلنِّساءَ كَرْهاً وَ لا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ ما آتَيْتُمُوهُنَّ إِلاّ أَنْ يَأْتِينَ بِفاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَ عاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَ يَجْعَلَ اَللّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً- وَ إِنْ أَرَدْتُمُ اِسْتِبْدالَ زَوْجٍ مَكانَ زَوْجٍ وَ آتَيْتُمْ إِحْداهُنَّ قِنْطاراً فَلا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئاً أَ تَأْخُذُونَهُ بُهْتاناً وَ إِثْماً مُبِيناً»۔(19)
ترجمہ:(طلاق دینے کےبعد) تمہارے لئے جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور خبردار! جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لینے کے لئے سخت گیری و بہانہ جوئی نہ کرو۔مگر یہ کہ وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں  اور زندگانی دنیا میں ان کے ساتھ، مناسب و  نیک برتاؤ کرو؛ اگر چہ وہ تم کو ناپسند ہوں؛ عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے۔
اور اگر چاہتے ہو کہ پہلی بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے کر آؤ اور پہلی والی بیوی کو (مہر میں) کثیر مال دے چکے جس کو واپس لینا چاہو تو ہرگز اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم تہمت و کھلے گناہ کی بنیاد پر مال واپس لینا چاہتے ہو؟
زمانہ جاہلیت میں عرب کے درمیان چند ظالمانہ طریقے رائج تھے:
(۱) سوتیلی اولاد، باپ کی منکوحہ کے سر پر کپڑا ڈال کر اسے میراث بنا لیتی تھی۔
(۲) سوتیلی ماں کے تمام ترکہ پر قبضہ کر لیا جاتا تھا اور اسے ا س کے شوہر کےترکہ سے محروم کردیا جاتا تھا۔
(۳) اسے عقد ثانی کا بھی حق نہیں تھا  کہ اس طرح اپنا مال بھی لے کر چلی جائے گی۔
(۴) عقد ثانی کی اجازت اس صورت میں دیتے تھے کہ ترکہ کا مال چھوڑ دے اور پھر چلی جائے۔
(۵) عورتوں پر اس طرح سختی کرتے تھے کہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لئے کل مہر یا کچھ مہر وغیرہ واپس کردیں۔
اسلام نے عورت کو محترم ثابت کرنے کے لئے ان تمام طریقوں پر پابندی عائد کردی اور یہ طے کردیا کہ دولت کی خاطر کسی طرح کا جبر جائز نہیں ہے، اگروہ بدکاری بھی کرلیں تو ان کے ساتھ معاشرت کا برتاؤ، صحیح اور مناسب ہوناچاہئے نیز اس میں کسی طرح کا ظلم و جبر نہیں ہونا چاہئے۔
اسلامی احکام میں کوئی شعبہ دوسرے شعبہ سے بالکل جدا اور مختلف نہیں ہے، بلکہ ہر شعبہ میں دوسرے شعبہ کا لحاظ رکھاگیا ہے اس مقام پر بھی عقد ومیراث کے مسائل کے ساتھ اخلاقی نکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ عقد ثانی تمہارا بنیادی حق ہے، طلاق لینے   کا تمہیں اختیاردیا گیا ہے؛ لیکن یہ زندگی کے پیچیدہ مسائل کا حل ہے دولت کا کاروبار نہیں؛ لہذا خبردار! اس اختیار کو بطور کاروبار اختیار نہ کرنا:«لِلرِّجالِ نَصِيبٌ مِمَّا اِكْتَسَبُوا وَ لِلنِّساءِ نَصِيبٌ مِمَّا اِكْتَسَبْنَ؛»۔(20)ترجمہ:مردوں کے لئے وہ حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے اور عورتوں کے لئے بھی وہ حصہ ہے جو انہوں نے کمایا ہے۔
د) عورت کی عزت و کرامت، اسلام میں محفوظ ہے:«وَ عاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ․․․؛»۔(21)
اور زندگانی دنیا میں ان کے ساتھ، مناسب و  نیک برتاؤ کرو۔
ح) عورت کو  سیاسی حصہ داری اور اپنی رائے دہی کا مکمل حق ہے:«يٰا أَيُّهَا اَلنَّبِيُّ إِذٰا جٰاءَكَ اَلْمُؤْمِنٰاتُ يُبٰايِعْنَكَ عَلىٰ أَنْ لاٰ يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْئاً وَ لاٰ يَسْرِقْنَ وَ لاٰ يَزْنِينَ وَ لاٰ يَقْتُلْنَ أَوْلاٰدَهُنَّ وَ لاٰ يَأْتِينَ بِبُهْتٰانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَ أَرْجُلِهِنَّ وَ لاٰ يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبٰايِعْهُنَّ وَ اِسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اَللّٰهَ إِنَّ اَللّٰهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ»۔(22)
اے  پیغمبر(ص)! اگر ایمان لانے والی عورتیں آپ (ص) کے پاس اس امر پر بیعت کرنے کے لئے آئیں․․․
مذکورہ آیت کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ایک صالح کردار اور صالح معاشرہ تعمیر کرنے کے لئے ہر شخص کی کمزوری پر نگاہ رکھی ہے اور اسے دور کرنے کا انتظام کیا ہے، مردوں سے بیعت لی تو اس شرط کے ساتھ کہ میدان جہاد سے فرار کریں گے، اس لئے کہ اس قسم کا خطرہ انہیں کے کردار میں رہتا ہے اور عورتوں سے بیعت لی تو ان شرائط کے ساتھ:
1۔کسی کو خدا کا شریک نہیں بنائیں گی؛ کیونکہ عورتیں اکثر اوقات وہمیات میں پڑ کر شرک کی حد تک پہنچ جاتی ہیں․
2۔چوری نہیں کریں گی؛کیونکہ وہ شوہر ہی کے مال میں چوری کرلیتی ہیں ۔
3۔زنا نہیں کریں گی؛کیونکہ اس کا خطرہ انکی لگاوٹ کی طرف سے زیادہ ہوتاہے۔
4۔ اولاد کو قتل نہیں کریں گی؛ کیونکہ وہ تربیت کی زحمت کے پیش نظر، یا جسمانی ساخت کو برقرار رکھنے کے لئے اولاد کو ختم کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے ۔
5۔کوئی بہتان نہیں باندھیں گی؛ کہیں غیر کی اولاد کو شوہر کے سر نہ ڈال دیں کہ یہ کام عورت کرسکتی ہے، جیسا کہ آزاد معاشرے میں دیکھنے میں آرہا ہے۔
(البتہ واضح رہے کہ مذکورہ باتیں ضروری نہیں کہ  ہر عورت میں پائی جاتی ہوں، کسی میں کچھ تو کسی میں کچھ باتیں ہوتی ہیں یہاں صرف ایک کلی حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے)
خواتین اور اسلامی تہذیب:
تاریخ اسلام نے بہت سے نمونے پیش کئے ہیں جن میں عورتیں ہر میدان میں برابر کی شریک نظر آتی رہی ہیں:
خواتین و جہاد:
آج کی دنیا․․․ ترقی پرست اور خودپسند ہونے کے ساتھ ساتھ ماضی شکن ہونے پر فخر کرتی ہے، گذشتہ اقدار و قوموں کو نگاہ تمسخر و تضحیک سے دیکھنا، گزری باتوں کو حرف غلط قرار دینا، عہد دیروز کو نسیان کدۂ گذشتگان کی زینت سمجھنا، بظاہر ارتقا پذیر فرد اور معاشرے میں «علامت» بن چکا ہے ۔ یقینا زندگی کے لئے نئی جہتوں کی تلاش، اجتہاد؛ حیات کا دوسرا نام ہے لیکن بے اساس اور بے چہرہ شناخت گاہوں میں اپنے انساب و قبائل کو ماضی کے حوالوں سے پہچنوانے والے عقائد کو ماضی پسندی اور رجعت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں؛ حالانکہ ان کے دل، ان کی زبانوں کے گواہ نہیں ہوتے ہیں پھر بھی وہ تضادات میں مبتلا سفسطۂ عقل ونظر کا اشتہار ہیں۔
روایات کہن کا احترام، احکام الٰہی کی پاسداری، فرمودات رسول اسلام (ص)اور آئمہ (ع) کی پیروی اور مشروع زندگی سے بےزار افراد کا عذر یہ ہے کہ اگر معین حدود سے تجاوز نہیں کریں گے تو جدید ترین نصاب زندگی سے آگاہ نہ ہوسکیں گے۔ یہ سارے قیاسی نظریات اور توہماتی عقائد ان ذہنوں کی اختراع ہیں جو جلالت خداوندی، عظمت نبوی(ص)، حق امام(ع)، کی وسعت اور احاطۂ عمل نہیں سمجھ سکے ہیں۔
اسلام پر چند اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قیدی بنا دیا  ہے ۔
پردہ؛ عورت کی بارگاہ عصمت کو عقل انسانی کا پہلا سلام عقیدت ہے نہ کہ پاؤں کی بیٹری؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہندوستانی سماج کے معین کردہ ضابطوں میں مبتلا ہوگئے  اور خودساختہ عزت نفس کے نام پر عورت کو بڑی حد تک قید کردیا ۔ لیکن یہ سب کچھ ہندوستانی معاشرے کی میراث ہے، اس کا دینی حکم نہیں ہے جس نے عورت کو وسعت افلاک پر چھا جانے والے مرد کے متقابل حیثیت عطا فرمائی ہے ۔
جہاد حسینی میں خواتین کا کردار:
سید الشہدا (ع) کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار اور کامل کرنے میں خاندان عصمت و طہارت کی عظیم خواتین نے اہم کردار ادا کیا، انہوں نے لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور اموی حکومت کی ہیبت کا خاتمہ کرکے اس حکومت کے خلاف قیام کرنے والوں کے لئے راستہ ہموار کردیا، اگر وہ نہ ہوتیں تو کسی میں اس ظالم و فاسق حکومت کے خلاف زبان پر ایک کلمہ جاری کرنے کی بھی جرأت نہ ہوتی۔
کربلا میں بچوں اور خواتین کی موجودگی نے دشت نینوا کے منظر کو بہت پر کشش بنا دیا تھا، یہ مبلغین کا ایک گروہ تھا جسے امام حسین (ع) اپنے ہمراہ لے کر گئے تھے تاکہ اپنی شہادت کے بعدان مبلغین کو دشمن کے ہاتھوں ان کے مرکز شام روانہ کریں، یہ خود ایک عجیب اور غیر معمولی اقدام تھا جو امام (ع) نے اٹھایا تاکہ اس طرح اپنے قیام کی آواز کو پوری دنیا تک پھیلا سکیں اور ان کی آواز زمان و مکان کو چیرتی ہوئی ظالم و جابر حکومت کے ستونوں کو ہلاکر رکھ دے اور کسی میں جرأت پیدا نہ ہوکہ وہ یزید کے ناشائستہ اور اسلام مخالف اقدامات کا دفاع کرسکے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر نواسۂ رسول (ص)اور ان کے اصحاب شہید کردئیے جاتے اور خاندان وحی کی خواتین (جن میں جناب زینب (ع) سر فہرست و سربراہ تھیں) ا س ظالم و جابر اور طاغوتی صفت لشکر کا مقابلہ نہ کرتیں تو نواسۂ رسول (ص) کی شہادت رائیگاں چلی جاتی اور کوئی ایک فرد بھی ان کے خون کا انتقام لینے کے لئے کھڑا نہ ہوتا ۔ امام حسین (ع) یہ جانتے تھے کہ ان خواتین کے سوا کسی میں اس کام کے انجام دینے کی سکت نہیں ہے۔ اور خاندان عصمت و طہارت کو کربلا ہمراہ لے جانے کا فلسفہ بھی یہی تھا تاکہ نہ صرف یہ کہ یتیم بچے اورخواتین اسیر ہوکر مظلوم قرار پائیں؛ بلکہ اس الٰہی مقصد اور ایک عمیق مکتب فکر کی بنیاد ڈالنے میں مددگار ہوں جس کی خاطر امام مظلوم کربلا نے قیام کیا تھا۔
اس دور میں بھی مظلوم کربلا کی چاہنے والی خواتین، کربلا کی شیر دل خاتون سیدہ زینب  سلام اللہ علیھا کی سیرت پر عمل پیرا ہوکر کربلا کے اس پیغام کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں مسلسل مشغول ہیں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر انجام دے رہی ہیں ۔
خواتین اور مورڈن سیاست:
تاریخ اسلام نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو عورتوں کے لئے نمونۂ حیات بنا کر پیش کیا؛  آپ ایسی خاتون تھیں جنہوں نے احقاق حق کے لئے مسجد نبوی (ص) سے ایک ایسے جہاد کا آغاز کیا جس کا انجام کربلا بنا۔ ایک ایسی جنگ کی شروعات کی جس کا اختتام ذلت بنی امیہ کی شکل میں نمودار ہوا۔
ایک ایسی کردار سازی فرمائی جو زینب کبری (ع) کے عظیم الشان اور ناقابل تسخیر کردار کی شکل میں نمودار ہوا، اگر عورت گھر کی قیدی ہوتی تو حق کے لئے گونجتی ہوئی آواز حق بلند نہ کرتی اور اگر پردے کی پابند نہ ہوتی تو دشمن اس کے کردار کی عزت کے سامنے سرنگوں نہ ہوتے۔ یہ اعتدال پسندی ہے جو عدالت کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے نہ رجعت پسندی ہے اور نہ ترقی پسندی کے نام پر یہ نام نہاد بےلگامی۔
خواتین آج بھی،موجودہ دور کے غیر اسلامی سماج میں،غیر مطمئن ہیں،ساری دنیا میں مختلف نقطۂ نظر سے اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرتی رہتی ہیں، ان کے حقوق کیا ہیں؟ ابھی تک ان کا صحیح طور پر تعین نہیں ہوسکا ہے۔
دنیا کی تمام عورتوں کو اسلام دعوت دے رہا ہے، اسلام نے عورت کا مرتبہ اس کے تصور سے کہیں زیادہ بلند کردیا ہے، اسلام میں مرد، صرف اپنی زوجہ سے چند امور میں برتر ہے، اولاد پر برتری میں ماں اور باپ برابر کے شریک ہیں، لیکن عورت  کے قدموں کے نیچےکبھی بہشت نظر آتی ہے تو کبھی: لاتقل لھما اف؛ کی منزل میں مرد کے دوش بدوش رہتی ہے، یہ مرتبہ دنیا کی کسی قوم نے عورت کو نہیں دیا ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط، بلکہ ایک اعتدال اور میانہ روی ہے، انصاف ہے، تحفظ حقوق ہے، یہ صرف اسلام کا عطیہ ہے اور عورت صرف اسلام کے دائرے میں رہ کر عورت نظر آتی ہے۔
صرف و صرف چند سطروں میں اسی حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا تھا اور ہمارے معاشرے کے خودساختہ اصول و قوانین نے ماضی اور حال میں عورت کوکیا بنا دیا ہے ۔
تو پہلے ماضی میں: جہاں دنیا کے مشترک سماج نے عورت کو واقعا ایک قیدی سے بدتر بنا دیا۔(23)
اور پھر حال میں: جہاں عورت تجارتی ضرورتوں کا اشتہار بن گئی۔(24)
اور اب اسلام میں: جہاں ایک ہستی کو خواتین عالم کے لئے سیادت و قیادت کے قابل سمجھا گیا۔(25)
وہ جوبیٹی تھیں․․․ افضل الانبیاء  کی مگر رسول اعظم(ص) اپنی تمام تر عظمتوں کے ساتھ ان کی تعظیم فرماتے تھے۔جب ہم جناب سیدہ (ع) کی حیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو آپ ایک مکمل خاتون نظر آتی ہیں؛  آپ(ص) پہلی ہی منزل  میں اتنی عظیم المرتبت بیٹی نظرآتی ہیں کہ پدر بزرگوار رسول خدا (ص) خود بیٹی کی تعظیم کرتے ہیں، یہ تعظیم جناب معصومہ (ع) کی نسبی نسبت نہیں کروا رہی ہے کیونکہ رسول اکرم (ص)نے (اصحاب کی جواب نہ دے پانے پر) اپنی بیٹی سے ایک سوال پوچھا تھا کہ بیٹی یہ بتاؤکہ عورت کے حق میں سب سے بہترین شئے کیا ہے؟ تو جناب سیدہ سلام اللہ علیھا نے جواب دیا تھا کہ عورت کے لئے سب سے بہترین شئے یہ ہے کہ وہ نہ کبھی کسی نامحرم کو دیکھے اور نہ کوئی نا محرم اس کو دیکھے، یہ سن کر رسول اکرم(ص) اتنا خوش ہوئے کہ جناب سیدہ (ع) کو اپنے گلے سے لگا لیا اور فرمایا: یہ میری بیٹی، میرا جز ہے۔(26)،جناب سیدہ(ع) کا یہ جواب صرف اپنے بابا کے لئے نہ تھا بلکہ مستقبل میں پیدا ہونے والی عورتوں کے لئے بھی درس ہے کہ وہ جانیں  پردہ کیا ہے؟ اس کی اہمیت کیا ہے؟ پردہ عورتوں کے لئے ضروری بتاکر  عورتوں کی گرانی قدر کو بھی بتا دیا نیز یہ بھی واضح کردیا کہ پردہ عورتوں کے لئے عزت و شرف کا زیور ہے ۔
وہ جو زوجہ تھیں․․․ مولائے کائنات(ع) کی مگر ایسی کہ ازدواجی زندگی کے آخری لمحے تک عدل کل، علی(ع) کو ان کی ذات سے کوئی گلہ نہ ہوسکا۔ اس منزل میں بھی آپ (ع) مکمل نظر آتی ہیں کہ اگر آپ معصومہ(ع) ہیں تو اللہ نے معصوم شوہر کا انتظام کیا، اگر خود سیدة النساء العالمین ہیں تو شوہر سید الوصئین ملا؛ پھر معصومۂ عالم نے شوہر کے گھر میں اس طرح زندگی گزاری کہ کسی کو گلہ و شکایت نہ ہوئی، گھر کے امور کو انجام دینے کے لئے کنیز بھی تھی مگر جناب سیدہ(ع) نے سارا کام کنیز کے سر نہیں لادا بلکہ تمام امور کو تقسیم کیا، گھر میں فاقہ بھی ہوتا تو پدر بزرگوار سے شکایت نہیں کی، بلکہ اللہ پر توکل فرمایا، فاقوں کے باوجود اللہ کو نہ بھولیں، ذکر الہی و عبادت کا ایسا اہتمام ہوتا تھا کہ فرشتے بھی اس در پر حاضری کو اپنا شرف سمجھتے تھے اور اس گھر کی دربوسی کو اپنے لئے فخر سمجھتے تھے۔
وہ جو ماں تھیں ․․․ جوانان جنت کے سرداروں کی؛ جن کے قدموں کے نیچے سب اپنی جنت ڈھونڈتے ہیں، ان کی جنت ان کی والدہ کے قدموں کے نشان تھی، جناب سیدہ (ع)؛ اس تیسری منزل پر بھی مثالی خاتون کی حیثیت سے نظر آتی ہیں یعنی آپ(ع) نے اپنے بچوں کی تربیت اس طرح فرمائی کہ بہترین معصوم بچوں کی ماں قرار پائیں، نیزایسی تربیت دی کہ وہ بچے نہ صرف معصوم رہے بلکہ تمام خلائق کے امام(ع) قرار پائے اور بیٹیوں کی ایسی تربیت فرمائی کہ خود زہرا(ع) تھیں تو وہ ثانیٔ زہرا (ع) قرار پائیں۔ والسلام مع الاکرام
 حوالہ جات:
1۔ویل،دورانت، قصة الحضارة، دارالفکر، بیروت، 1408 ھ، ج ۱ ص 360۔
2۔المفکر الهندی الکبیر،وحید الدین خان، المرأة بین شریعة الاسلام والحضارة الغربیة، ترجمہ، سید رئیس احمد، دار الوفاء، 1414 ھ 1994 م، طبع اول، ص 126۔
3۔غفاری، عبدالرسول عبد الحسن، المرأة المعاصرة، ج ۱ ،ص 24۔
4۔ سابق حوالہ۔
5۔ویل،دورانت،قصة الحضارة، دارالفکر، ج ۱ ،ص 369۔
6۔توریت تکوین، 3/ 1-6۔
7۔توریت تکوین، 3/ 6-23۔
8۔ویل،دورانت،قصة الحضارة، دارالفکر،ج 6 ۱ ص 187۔
9۔مجلة الحضارة الاسلام، دوم، محرم 1381 ھ، 1961 م، ص 1079۔
10۔سورة الانعام،آیت:6۔
11۔احمد قطب، شبھات الاسلام، بیروت، دارالفکر، 1418 ھ، ص 110۔
12۔سورة النساء،آیت:1۔
13۔شوکانی،محمد بن علی بن محمد،فتح القدیر الجامع بین الروایة والدرایةمن علم التفسیر، دار الفکر بیروت، ج ۱ ص 340۔
14۔سورة الروم،آیت:21۔
15۔سورة البقرة،آیت: 187۔
16۔سورة النساء،آیت: 124۔
17۔علامہ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، موسسة الوفا، بیتروت، لبنان،ج 65، ص363۔
18۔سورة البقرة،آیت: 228۔
19۔سورة النساء،آیت: 19۔
20۔سورة النساء،آیت: 32۔
21۔سورة النساء،آیت: 19۔
22۔سورة الممتحنة،آیت: 12۔
23۔المفکر الهندی الکبیر، وحید الدین خان، المرأة بین شریعة الاسلام والحضارة الغربیة، ترجمہ، سید رئیس احمد،ص 126۔
24۔ عثمان محمد ناعورہ، تاریخ المرآة بین الحضارتین الاسلامیة و المغربیة، دارالنوادر، دمشق، 1428ھ، 2007م، ص 73۔
25۔شقیر،ڈاکٹر شیخ محمد، المرآة فی الفکر الاجتماعی للاسلام، دارالھادی، 1425ھ، 2004م، طبع اول، ص 34۔
26۔علامہ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج 21، ص279۔
با تشکراز:مجلہ فکروعمل شمارہ 7،مؤلف:سید پرویز حیدر زیدی، مقیم قم المقدسة



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22