Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183730
Published : 11/10/2016 19:12

جہاد حسینی میں خواتین کا کردار

کربلا میں بچوں اور خواتین کی موجودگی نے دشت نینوا کے منظر کو بہت پر کشش بنا دیا تھا، یہ مبلغین کا ایک گروہ تھا جسے امام حسین (ع) اپنے ہمراہ لے کر گئے تھے تاکہ اپنی شہادت کے بعدان مبلغین کو دشمن کے ہاتھوں ان کے مرکز شام روانہ کریں، یہ خود ایک عجیب اور غیر معمولی اقدام تھا جو امام (ع) نے اٹھایا تاکہ اس طرح اپنے قیام کی آواز کو پوری دنیا تک پھیلا سکیں۔


ولایت پورٹل:
آج کی دنیا․․․ ترقی پرست اور خودپسند ہونے کے ساتھ ساتھ ماضی شکن ہونے پر فخر کرتی ہے، گذشتہ اقدار و قوموں کو نگاہ تمسخر و تضحیک سے دیکھنا، گزری باتوں کو حرف غلط قرار دینا، عہد دیروز کو نسیان کدۂ گذشتگان کی زینت سمجھنا، بظاہر ارتقا پذیر فرد اور معاشرے میں «علامت» بن چکا ہے ۔ یقینا زندگی کے لئے نئی جہتوں کی تلاش، اجتہاد؛ حیات کا دوسرا نام ہے لیکن بے اساس اور بے چہرہ شناخت گاہوں میں اپنے انساب و قبائل کو ماضی کے حوالوں سے پہچنوانے والے عقائد کو ماضی پسندی اور رجعت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں؛ حالانکہ ان کے دل، ان کی زبانوں کے گواہ نہیں ہوتے ہیں پھر بھی وہ تضادات میں مبتلا سفسطۂ عقل ونظر کا اشتہار ہیں۔
روایات کہن کا احترام، احکام الٰہی کی پاسداری، فرمودات رسول اسلام (ص)اور آئمہ (ع) کی پیروی اور مشروع زندگی سے بےزار افراد کا عذر یہ ہے کہ اگر معین حدود سے تجاوز نہیں کریں گے تو جدید ترین نصاب زندگی سے آگاہ نہ ہوسکیں گے۔ یہ سارے قیاسی نظریات اور توہماتی عقائد ان ذہنوں کی اختراع ہیں جو جلالت خداوندی، عظمت نبوی(ص)، حق امام(ع)، کی وسعت اور احاطۂ عمل نہیں سمجھ سکے ہیں۔
اسلام پر چند اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام نے عورت کو گھر کی چاردیواری میں قیدی بنا دیا  ہے ۔
پردہ؛ عورت کی بارگاہ عصمت کو عقل انسانی کا پہلا سلام عقیدت ہے نہ کہ پاؤں کی بیٹری؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہندوستانی سماج کے معین کردہ ضابطوں میں مبتلا ہوگئے  اور خودساختہ عزت نفس کے نام پر عورت کو بڑی حد تک قید کردیا ۔ لیکن یہ سب کچھ ہندوستانی معاشرے کی میراث ہے، اس کا دینی حکم نہیں ہے جس نے عورت کو وسعت افلاک پر چھا جانے والے مرد کے متقابل حیثیت عطا فرمائی ہے۔
سید الشہدا (ع) کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار اور کامل کرنے میں خاندان عصمت و طہارت کی عظیم خواتین نے اہم کردار ادا کیا، انہوں نے لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کیا اور اموی حکومت کی ہیبت کا خاتمہ کرکے اس حکومت کے خلاف قیام کرنے والوں کے لئے راستہ ہموار کردیا، اگر وہ نہ ہوتیں تو کسی میں اس ظالم و فاسق حکومت کے خلاف زبان پر ایک کلمہ جاری کرنے کی بھی جرأت نہ ہوتی۔
کربلا میں بچوں اور خواتین کی موجودگی نے دشت نینوا کے منظر کو بہت پر کشش بنا دیا تھا، یہ مبلغین کا ایک گروہ تھا جسے امام حسین (ع) اپنے ہمراہ لے کر گئے تھے تاکہ اپنی شہادت کے بعدان مبلغین کو دشمن کے ہاتھوں ان کے مرکز شام روانہ کریں، یہ خود ایک عجیب اور غیر معمولی اقدام تھا جو امام (ع) نے اٹھایا تاکہ اس طرح اپنے قیام کی آواز کو پوری دنیا تک پھیلا سکیں اور ان کی آواز زمان و مکان کو چیرتی ہوئی ظالم و جابر حکومت کے ستونوں کو ہلاکر رکھ دے اور کسی میں جرأت پیدا نہ ہوکہ وہ یزید کے ناشائستہ اور اسلام مخالف اقدامات کا دفاع کرسکے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر نواسۂ رسول (ص)اور ان کے اصحاب شہید کردئیے جاتے اور خاندان وحی کی خواتین (جن میں جناب زینب (ع) سر فہرست و سربراہ تھیں) ا س ظالم و جابر اور طاغوتی صفت لشکر کا مقابلہ نہ کرتیں تو نواسۂ رسول (ص) کی شہادت رائیگاں چلی جاتی اور کوئی ایک فرد بھی ان کے خون کا انتقام لینے کے لئے کھڑا نہ ہوتا ۔ امام حسین (ع) یہ جانتے تھے کہ ان خواتین کے سوا کسی میں اس کام کے انجام دینے کی سکت نہیں ہے۔ اور خاندان عصمت و طہارت کو کربلا ہمراہ لے جانے کا فلسفہ بھی یہی تھا تاکہ نہ صرف یہ کہ یتیم بچے اورخواتین اسیر ہوکر مظلوم قرار پائیں؛ بلکہ اس الٰہی مقصد اور ایک عمیق مکتب فکر کی بنیاد ڈالنے میں مددگار ہوں جس کی خاطر امام مظلوم کربلا نے قیام کیا تھا۔
اس دور میں بھی مظلوم کربلا کی چاہنے والی خواتین، کربلا کی شیر دل خاتون سیدہ زینب  سلام اللہ علیھا کی سیرت پر عمل پیرا ہوکر کربلا کے اس پیغام کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں مسلسل مشغول ہیں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھ کر انجام دے رہی ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16