Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183752
Published : 13/10/2016 17:38

عصر حاضر کی سب سے معتبر تفسیری کتاب المیزان

تفسیر قرآن کی یہ روش کوئی نئی اختراع نہیں تھی بلکہ یہ پہلے اختلاف کے ساتھ موجود تھی،اس تفسیر میں اس روش پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے اسی وجہ سے یہ تفسیر قرآن بالقرآن کے ساتھ مشہور ہو گئی ہے اور تفسیر میزان کی ہر آیت کی تفسیر میں یہی روش رہی ہے جبکہ دیگر تفاسیر میں اس روش سے کم استفادہ کیا گیا ہے۔

ولایت پورٹل:المیزان فی تفسیر القرآن عربی زبان کی شیعہ تفاسیر میں سے جامع اور مفصل ترین تفسیر مانی جاتی ہے کہ جسے آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائی نے لکھا ہے،یہ تفسیر چودھویں صدی کی تفاسیر میں سے شمار ہوتی ہے، یہ تفسیر ترتیبی اور روش کے لحاظ قرآن کی تفسیر قرآن کے ساتھ تفسیر ہے،علمی مطالب ،دقت اور عمق کی وجہ سے شیعہ و سنی علما کے درمیان مخصوص اہمیت کی حامل تفسیر ہے،قرآن کی تحقیق اور قرآن فہمی میں اسے معتبر منبع مانا جاتا ہے،بہت ہی مختصر مدت میں اس تفسیر کے متعلق دسیوں کتابیں ،سینکڑوں مقالے،ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری کیلئے تھیسس کافی تعداد میں لکھے جا چکے ہیں۔ اعجاز قرآن، قصص انبیا، روح و نفس، استجابت دعا، توحید، توبہ، رزق، برکت، جہاد اور احباط جیسے عمیق عناوین کی تحقیق اس کے اہم ترین موضوعات میں سے ہیں کہ جن کی تحقیق کرتے ہوئے ان سے متعلق آیات کے ذریعے مطالب بیان کئے گئے ہیں،اس تفسیر کی مقبولیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے اتنی کم مدت میں فارسی،انگلش،اردو،ترکی اور اسپین کی زبانوں میں اسے ترجمہ کیا جا چکا ہے۔
بنیادی طور پر تفسیر میزان قرآن کے ساتھ قرآن کی تفسیر کے اصول پر لکھی گئی ہے،اس کا مطلب ہے یہ کہ قرآن کی تفسیر کا پہلا معیار خود قرآن ہے۔ علامہ طباطبائی یقین رکھتے ہیں کہ جب خود قرآن تبیاناً لِکُلّ شئ،ہر چیز کا بیان گر)کے ساتھ اپنی تعریف کرتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنا معنی بیان کرنے میں کسی دوسرے کا محتاج ہو،یہ صحیح ہے کہ قرآن کا ظاھر اور باطن ہے اور ہم قرآن کی تاویل اور باطنی معنا کے سمجھنے میں قرآن کے شارحین اور حقیقی مفسرین پیغمبر اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے بیان کے محتاج ہیں لیکن بنیادی طور پر ہم قرآن فہمی میں کسی دوسری چیز کے محتاج نہیں ہیں۔
جہاں محکم آیات مشکل اور متشابہ آیات کی تفسیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہاں اسباب نزول،مفسرین کی آرا اور احادیث دوسرے درجے میں قرار پائیں گی۔
تفسیر قرآن کی یہ روش کوئی نئی اختراع نہیں تھی بلکہ یہ پہلے اختلاف کے ساتھ موجود تھی۔اس تفسیر میں اس روش پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے اسی وجہ سے یہ تفسیر قرآن بالقرآن کے ساتھ مشہور ہو گئی ہے اور تفسیر میزان کی ہر آیت کی تفسیر میں یہی روش رہی ہے جبکہ دیگر تفاسیر میں اس روش سے کم استفادہ کیا گیا ہے۔
تعارف تفسیر:

بنیادی طور پر تفسیر میزان قرآن کے ساتھ قرآن کی تفسیر کے اصول پر لکھی گئی ہے،اس کا مطلب ہے یہ کہ قرآن کی تفسیر کا پہلا معیار خود قرآن ہے۔ علامہ طباطبائی یقین رکھتے ہیں کہ جب خود قرآن تبیاناً لِکُلّ شیء،ہر چیز کا بیان گر)کے ساتھ اپنی تعریف کرتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنا معنی بیان کرنے میں کسی دوسرے کا محتاج ہو، یہ صحیح ہے کہ قرآن کا ظاھر اور باطن ہے اور ہم قرآن کی تاویل اور باطنی معنا کے سمجھنے میں قرآن کے شارحین اور حقیقی مفسرین پیغمبر اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے بیان کے محتاج ہیں لیکن بنیادی طور پر ہم قرآن فہمی میں کسی دوسری چیز کے محتاج نہیں ہیں۔
جہاں محکم آیات مشکل اور متشابہ آیات کی تفسیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں وہاں اسباب نزول ، مفسرین کی آرا اور احادیث دوسرے درجے میں قرار پائیں گی۔
تفسیر قرآن کی یہ روش کوئی نئی اختراع نہیں تھی بلکہ یہ پہلے اختلاف کے ساتھ موجود تھی،اس تفسیر میں اس روش پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے اسی وجہ سے یہ تفسیر قرآن بالقرآن کے ساتھ مشہور ہو گئی ہے اور تفسیر میزان کی ہر آیت کی تفسیر میں یہی روش رہی ہے جبکہ دیگر تفاسیر میں اس روش سے کم استفادہ کیا گیا ہے۔
یہ تفسیر ہر لحاظ سے اہمترین خصوصیات کی حامل ہے مثلا:
1۔گذشتہ تفسیروں میں عام طور پر ایسا ہوتا کہ جب کسی آیت میں مختلف احتمالات ہوتے تو مفسر صرف احتمالات کو ترجیح دئے بغیر نقل کرتا جبکہ اس تفسیر میں ایسا نہیں ہے بلکہ ایسے موارد میں دیگر آیات و قرآئن کی مدد سے کسی ایک معنا کو ترجیح اور مقصود کو واضح کیا ہے۔
2۔استجابت دعا، توحید، توبہ، رزق، برکت، جہاد، احباط جیسی دینی اور قرآنی اصطلاحات کو دیگر آیات کی مدد سے واضح اور توضیح دی گئی ہے۔
3۔تفسیر میزان سے پہلے ایک موضوع سے متعلق آیات کو ایک جگہ ذکر کر کے ان سے ایک نتیجہ حاصل کرنے کی روش نہیں تھی لیکن علامہ بہت سے مقامات پر اس روش کو بروئے کار لائے ہیں۔ مثلا احباط سے متعلق تمام آیات کو ایک جگہ ذکر کر کے اس سے بیان کیا کہ قرآن کی اس سے مراد کیا ہے۔
4۔قصص انبیا سے آگاہی کیلئے علامہ کا کام ایک بہترین مآخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔اسکے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کے ساتھ مقائسہ کیا اور ان میں تحریف شدہ مقامات کے وضاحت کی ہے۔
5۔تفسیر میزان کی واضح خصوصیات میں سے ایک جانب شبہات کی طرف توجہ ،مخالفین کے اعتراضات اور ان کی تحقیق ہے تو دوسری جانب علمی ،فلسفی اور کلامی ابحاث کا لحاظ کرتے ہوئے مختلف ادوار کے ساتھ دین کی تطبیق کی کوشش ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16