Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183761
Published : 14/10/2016 14:45

کربلا کے بعد رونما ہونے والے انقلاب

حضرت امام حسین(ع) نے کربلا میں ظلم و ستم کے خلاف قیام کرکے دنیا کے پسماندہ ،دبے کچلے لوگوں کو سماج میں سر اٹھاکر جینا سکھادیا،اور آج تک جب بھی کسی ملک یا قوم میں انقلاب رونما ہوتا ہےاس میں کہیں نہ کہیں حسینی افکار کارفرما ہوتے ہیں،شاید جبھی محمد علی جوہر نے کہا تھا قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ،اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔
ولایت پورٹل:
واقعہ کربلا کے بعد کئ انقلابات نےجنم لیا جن کی فہرست ذیل میں ذکر کی جارہی ہے:

1۔انقلاب توّابین
یہ انقلاب کوفہ میں وجود میں آیا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا مستقیماً عکس العمل تھا وہ لوگ جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کا کربلا میں ساتھ نہیں دیا یا کسی وجہ سے ابن زیاد کے لشکر میں شامل ہو گئے تھے انہوں نے عاشورا کے بعد توبہ کرنا شروع کی اور کئی دنوں صحرا میں استغفار کرنے کے بعد اپنے آپ کو شہادت کے لیے وقف کر دیا کہ ابن زیاد سے امام علیہ السلام کے خون کا انتقام لیں گے اور اس راہ میں شہید ہو جائیں گے۔(1)
2۔انقلاب مدینہ
یہ انقلاب توابین کے انقلاب سے مختلف تھا اس کا مقصد بنی امیہ کے ظلم و ستم کے خلاف قیام کرنا تھا۔
اہل مدینہ بنی امیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور یزید کے گماشتہ کو مدینہ سے نکال باہر کیا اس قیام میں شریک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار پر مشتمل تھی،سپاہ شام کے ہاتھوں نہایت ہی ظلم و ستم کے  ذریعے اس انقلاب کو ختم کر دیا گیا کہ واقعہ حرہ جس کی ایک خونچکا داستان ہے جس میں مسجد نبوی میں خون سیلاب بن کر بہا اور ہزاروں ناموس مدینہ کی آبرو ریزی کی گئی۔(2)
3۔مختار ثقفی کا قیام
یہ قیام سن ۶۶ ہجری میں جناب مختار بن عبیدہ ثقفی کے ذریعے عراق میں امام حسین علیہ السلام کے خون کا انتقام لینے کی غرض سے وجود میں آیا،اور اپنے مقصد سے ہمکنار ہوا،مختار کے لشکر والوں نے ایک دن میں دوسو اسّی یزیدیوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا اور انہیں واصل جہنم کیا۔(3)
4۔مطرف بن مغیرہ کا قیام
یہ قیام سن ۷۷ ہجری میں وقوع پذیر ہوا۔
5۔ابن اشعث کا انقلاب
سن ۸۱ ہجری میں،عبد الرحمن بن محمد بن اشعث نے حجاج کے خلاف قیام کر کے عبد الملک مروان کو خلافت سے معزول کر دیا،یہ تحریک سن ۸۳ ہجری تک جاری رہی ابن اشعث نے ابتدا میں فوجی کامیابی حاصل کر لی تھی لیکن حجاج نے لشکر شام کی مدد سے اس پر غلبہ اختیار کر لیا۔(4)
6۔جناب زید بن علی(ع) کا قیام
سن ۱۲۲ ہجری میں زید بن علی [امام سجاد] (ع) نے کوفہ میں قیام کیا لیکن قیام تھوڑی مدت کے بعد سپاہ شام کے ذریعے کہ جو اس زمانے میں عراق پر مسلط تھے خاموش کر دیا۔(5)
---------------------------------------------------------------------
حوالہ جات:
1۔ تاریخ طبرى، ج 4، انقلاب توابین، ص 425 و 436۔
2۔ حوالہ سابق،انقلاب مدینه، ص 366 و 381۔
3۔ حوالہ سابق،ص 424۔
4۔حوالہ سابق،ص 189 و 203۔
5۔مقاتل الطالبین اصفهانى،ص 139۔
شفقنا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15