Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183766
Published : 14/10/2016 15:51

عاشورا کے دن لاکھوں حسینوں سے حسن نصر اللہ کا خطاب

مکتب اہل بیت(ع) کی بقاء ہی کربلا کا مقصد:حسن نصراللہ

میرے بھائی میں علی(ع) کا شیعہ ہوں اور کہتا ہوں کہ علی ابن ابی طالب ان چیزوں سے پاک ومنزہ ہیں،علی(ع)اس توہین اور ان گستاخیوں سے منزہ و پاک ہیں۔

ولایت پورٹل:
حزب اللہ کے جنرل سکریٹری سید حسن نصراللہ نے بیروت میں عاشور کے روز لاکھوں عزاداران حسینی سے خطاب کرتے ہوئے کہا:کربلا و عاشورا و محرم کے نام پر مکتب اہل بیت علیہم السلام کی توہین و تذلیل پر مبنی حرکات و اعمال پر سخت رد عمل کا اظہار کہ یہ زنجیر زنی کرنے والے امام حسین علیہ السلام اور جناب زینب سلام اللہ علیہا کے حرم مبارک کی حفاظت کیلئے کیوں نہیں آتے۔
ملت تشیع کے لئے لمحہ فکریہ سید حسن نصر اللہ کے اہم خطاب سے اقتباس
مکے سے کوفے پھرکربلا تک اور پھر جو کچھ کربلا میں رونما ہوا،شجاعت،حماسہ ،چلینجزاور خونین ٹکراؤ،اس کے بعد(عاشورہ کی) اندہ ناک صورتحال جیسے مراحل تک،گویا کہ کربلا کے ہر ہر مرحلے میں«صبر»حاکم نظر آتا ہے۔
کیاکربلا سےکوفے تک اور پھر وہاں سے دمشق وشام تک پھر وہاں سے واپس مدینہ تک ہر مرحلے میں صبر ،استقامت ،برداشت کا مظاہر نظر نہیں آتا ہے؟
ظاہر ہے کہ ہمارے ہاں جب ذاکرین و خطبا بہت سی باتوں کو مصائب کی شکل میں بیان کرتے ہیں اور ظاہر وہ مصائب ہی ہیں لیکن بعض اوقات مجلس و منبرکی ضرورت کیوجہ سے بہت سے مبالغے بھی ہوجاتے ہیں۔
ایک ایسے انداز میں انسانی پہلو کو بیان کریں تاکہ حاضرین گریہ کرسکیں ظاہر ہے کہ اس میں مکمل باریکی کا خیال نہیں رکھا جاتا ہاں!«کربلا والے» روتے بھی تھے ،مدد کو پکارتے بھی تھے، لیکن جو چیز نمایاں تھی وہ صبر ،استقامت ،رضاوتسلیم،چلینج کے آگے ڈٹ جانا ،تھا۔
بعض افراد (یہ غلط مصائب )پڑھتے ہیں کہ نعوذباللہ امام کی شہادت کے بعد حضرت زینب(س) کھلے سر خیموں سے باہر نکل آئیں ،حجاب کو اتاردیا!۔۔۔ نعوذبااللہ یہ کیا جھوٹ کہا جارہا ہے!
کیا اسے حسینی مجلس کہا جاسکتاہے ؟کیا حضرت زینب(س) کی شخصیت ایسی ہوسکتی ہے ؟کیا ہم دنیا کے سامنے جناب زینب(س) کا اس طرح من گھڑت تعارف پیش کرنا چاہتے ہیں؟
وہ جناب زینب(س) جس کے صبر کا کوئی ثانی نہیں،اسے اس طرح پیش کیا جائے،کیا جناب زینب(س)کی شخصیت ایسی ہوسکتی ہے؟یہ آپ کی تراشیدہ فرضی شخصیت ہے نہ وہ عظیم خاتون جسے ہم مانتے ہیں۔
یہ زینب بنت علی ابن ابیطالب نہیں ہوسکتیں یہ زینب بنت فاطمہ زہرا(س) نہیں ہوسکتیں!یہ زینب بنت رسول اللہ نہیں ہوسکتیں!۔
میرے بھائیوں! وقت ختم ہو چکاہے لیکن میں عرض کروں میں،میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اس قسم کے موضوعات سے پرہیز کروں ،اور میں اب بھی اس موضوع کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتا،لیکن چونکہ بعض جگہوں پر اہلبیت(ع)،امام حسین(ع)،رسول گرامی(ص)اور حضرت زینب(س)اور امام حسین(ع) کی بیٹیوں کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے۔
ایسی گستاخی کہ یقین جانئے! اسے برداشت ہی نہیں کیا جاسکتا،پہلے صورتحال ایسی نہیں تھی،جو کچھ اس وقت دیکھایا جارہا ہے پہلے ایسا نہیں تھا۔
یہ جھوٹ پر مبنی ہے!
امید ہے کہ اس سال عاشورہ کے دن یہ لوگ ان(غلط) افعال کو انجام نہیں دینگے۔
مثال کے طور پر بعض علاقوں میں ــ نہایت افسوس کے ساتھ ــ عاشورہ کے دن وہ کیا کررہے ہوتے ہیں؟
امام بارگاہوں اور حسینیات کی بات نہیں کررہا ہوں، یہ مسئلہ خود کربلا میں بھی پیش آیا ہے۔
معاف کیجئے! میں بطور مثال یہ بتانا چاہتا ہوں کی صورتحال کہاں تک پیچیدہ ہوچکی ہے۔
وہ ایک اسٹریچر لاتے ہیں اس پر ایک (انسان)کی ڈمی رکھتے ہیں،تو یہ کون ہیں ؟
کہتے ہیں یہ امام حسین(ع) ہیں، پھر اس اسٹریچر کے اوپر شیرکے کپڑے پہنے ایک شخص چڑھ جاتا ہے،جب ان سے معلوم کیا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟تو جواب آتا ہے:یہ شیر ہے، اسد ہے،ظاہر ہے کہ یہ شیر کی ایک مکمل ڈمی بنابیٹھاہے جہاں دم سے لیکر اس کے دانت تک واضح ہیں۔
اب یہ شیر(ڈمی)بناشخص کون ہے جو لاش کے اپر بیٹھے اپنا سرپیٹ رہا ہے ؟یہ کون ہے ؟
تو کہتے ہیں:یہ علی ابن ابی طالب(ع)ہے۔
میرے بھائی میں علی(ع) کا شیعہ ہوں اور کہتا ہوں کہ علی ابن ابی طالب ان چیزوں سے پاک ومنزہ ہیں،علی(ع)اس توہین اور ان گستاخیوں سے منزہ و پاک ہیں۔
اس مسئلے سے جڑے ہوئے ایک فرد کو میں نے ڈائریکٹ بتادیا کہ کیا تم پسند کروگے کہ اس قسم کی گستاخی تمہارے باپ کے ساتھ کی جائے؟
تم ایسی گستاخی کو اپنے باپ کے لئے برداشت کروگے ؟کیسے پھر علی(ع) کے لئے برداشت کی جاسکتی ہے ؟
یہ مولاعلی(ع) حضرت زینب(س) اور اہلبیت(ع) کی شان میں کس قسم کی گستاخیاں کی جارہی ہیں ؟
وہ کیا کرنا چاہتے ہیں؟کیا اہلبیت(ع) ہمیں کتا دیکھنا چاہتے ہیں؟امام حسین(ع) کی قربانی اور عاشورہ کا پورا واقعہ کس چیز کی خاطر ہوا؟
کرامت،عزت،اور اللہ اور اس کے رسول(ص) ذلت کو ہم سے دور دیکھنا چاہتے ہیں،امام حسین(ع)،اہلبیت ہمیں صاحب عزت اور سر اٹھاکر چلنے والے دیکھنا چاہتے ہیں۔
کچھ لوگ کربلا لے جاکر بعض لوگوں کے گلے ہاتھوں اور پیروں میں زنجیر ڈال کر کتے کی طرح گھسیٹتے ہوئے حرم میں اور ضریح تک لے جاتے ہیں!
یہ کونسا مذہب ہے؟یہ کونسی منطق ہے؟یہ کونسی شریعت ہے؟یہ کون سا دین ہے؟کیا ہمارا یہ عمل اہلبیت(ع) کے فرامین کے مطابق ہے؟
ایسے اعمال یقیناً اہلبیت(ع) کی بدنامی کا سبب ہیں،در واقع یہ لوگ،ہر دن قتل حسین کے مرتکب ہورہے ہیں۔
اگرچہ ظاہری طور پر وہ یہی دعوی کرتے ہیں کہ ہم تو امام حسین(ع) پر آنسو بہا رہے ہیں ، ان کی مظلومیت کے تصور سے کبیدہ خاطر ہیں
اس قسم کے اعمال کہاں ہیں دین میں ؟کیا ہم نے یہ عمل اہلبیت(ع) سے لیا ہے؟کیا یہ امام نے ہمیں بتایا ہے؟کہاں کس حدیث سے یہ لیا گیا ہے ؟
میرے بھائیوں!کمزورسی ہی سہی، کوئی ایک روایت تو لے آو،چلو تاریخ سے ہی کوئی ایک جھوٹی مثال ہی لے آو۔
کیا ہمارے آئمہ نے ہمیں ایسا کرنے کا  حکم دیا ہے یا پھر یہ تم ہو جوخود سے کررہے ہو؟
کیا ہمارے آئمہ نے کربلا اور عاشورہ کو اس انداز میں پیش کرنے  کو کہا ہے؟
کیا ہمارے آئمہ نے اپنی شان و منزلت کو اس انداز میں پیش کرنے کا ہم سے مطالبہ کیا ہے؟
کیا کربلا ایسی ہے جس طرح ہم خیال کرتے ہیں؟کیا جناب زینب(س) کی شخصیت ایسی ہے جیسی ہم تصور کرتے ہیں؟
لہذا یہ ایک انتہائی دکھ کی بات ہے، یہ شرم  کا مقام ہے اور تکلیف دہ بات ہے۔
آخر کیا بات ہے کہ تم لوگ مقدس مقامات کے دفاع میں نظر نہیں آتے؟تم لوگ روضہ زینب(س) کے دفاع میں نظر کیوں نہیں آتے،آخرکیاوجہ ہے؟
آخر کیوں کچھ لوگ اس بات پر بضد ہیں کہ وہ  اپنے خون کو ایک غیر ضروری کام کی خاطر  بہائیں گے؟
میں بہت انکساری اور سکون سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں ــ اس جھنجھٹ میں نہیں داخل ہونا چاہتا ــ میرے بھائی ایک غیرضروی و متنازعہ مسئلے میں کیوں ؟میرا مطلب تطبیر (قمہ زنی )وغیرہ سے ہے۔
لیکن یہ لوگ اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب اسلام و مسلمین ،مقدس مقامات ،شیعہ مقدس مقامات ،تشیع اور آئمہ(ع) کے مزارات،حوزہ ہائے علمیہ اور آئمہ (ع) کی علمی میرا ث خطرے میں ہوتی ہے؟
یہ لوگ اس وقت کہاں ہوتے ہیں؟ یہ لوگ اس وقت نظر کیوں نہیں آتے؟
یہ لوگ ہمیں کسی اور وادی میں لے جانا چاہتے ہیں،ہم نے بہت رعایت کی ،نظر انداز کرتے رہے،میں ان افراد میں سے تھا جنکا یہ کہنا تھا کہ اس موضوع کو موعظہ حسنہ اور باہمی بات چیت سے حل کیا جائے۔
لیکن صورتحال انتہائی دکھ ،شرم اور تکلیف دہ مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
کربلا صبر جمیل کا نام ہے ،کربلا آبرومند صبر کا نام ہے،کربلا صابرین کی فتح کا نام ہے،کربلا سر اٹھاکر صبر کرنے والوں کا نام ہے۔
مضبوط صاحبان ایمان کے صبرکا نام ہےجنہوں نے اسلام  اور اس امت کی حفاطت کی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21