Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183777
Published : 15/10/2016 18:48

امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک کہاں دفن ہوا؟

نقل ہوا ہے کہ خلفائے فاطمی (جو چوتھی صدی کے نصف دوم سے ساتویں صدی کے نصف دوم تک مصر کے حکمراں رہے اور یہ لوگ اسماعیلی فرقہ کے پیرو تھے) امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک شام کے دروازۂ فرادیس سے،عسقلان،پھر قاہرہ لے گئے اور اس کے اوپر ’’تاج الحسین(ع)‘‘ کے نام سے معروف مقبرہ سن ۵۰۰ ہجری کے بعد تعمیر کرایا۔


ولایت پورٹل:
بطورخاص امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک اور بطور عام دیگر شہدائے کربلا کے سرہائے مبارک کے محل دفن کے بارے میں شیعہ و اہل سنت کی تاریخی کتابوں نیز اہل تشیع کی کتب روایات میں بے شمار اختلاف نظر آتا ہے گوکہ نقل شدہ اقوال کے لئے تحقیق کی ضرورت ہے لیکن اس وقت مشہور ترین قول (جو شیعوں کے یہاں تسلیم شدہ واقع ہوا ہے )یہ ہے کہ آپ (ع) کا سر مبارک کچھ عرصے بعد بدن اقدس سے ملحق ہوکے سرزمین کربلا میں دفن ہوا۔
زیادہ جانکاری کے لئے ہم ان نظریات کو بیان کرتے ہیں:
پہلا نظریہ:کربلا میں
یہ نظریہ مشہور علماء شیعہ کا نظریہ ہے اور علامہ مجلسی نے اس کے مشہور ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔(۱)
شیخ صدوق نے فاطمہ بنت امام علی علیہ السلام و خواہر امام حسین علیہ السلام سے سرمبارک کے بدن اقدس سے کربلا میں ملحق کئے جانے کی بابت ایک روایت نقل کی ہے۔(۲)
لیکن ملحق کئے جانے کی کیفیت کے بارے میں مختلف نظریات بیان کئے گئے ہیں:بعض علماء محدثین جیسے سید ابن طاؤوس اسے ایک امر الٰہی مانتے ہیں کہ خدا نے اپنی قدرت سے بہ صورت معجزہ انجام دیا ہے،انھوں نے اس کے متعلق چون و چرا کرنے سے منع فرمایا ہے۔(۳)   
کچھ نے یہ کہا ہے کہ امام سجادعلیہ السلام نے چہلم کے(۴)روز یا کسی دوسرے روز(کربلا سے) واپسی میں سر مبارک کو کربلامیں آپ(ع) کے جسد اطہر کے پہلو میں دفن کیا۔(۵)
لیکن اس سلسلہ میں کہ کیا واقعاً سر مبارک بدن اقدس سے ملحق کردیا گیا یا ضریح کے پہلو میں بدن اقدس کے قریب دفن ہوا کوئی واضح عبارت ہمیں نظر نہیں آئی ہے، اور اس مقام پہ بھی سید بن طاؤوس نے چون و چرا سے منع فرمایا ہے۔(۶)
بعض کا کہنا ہے کہ یزید کے زمانے میں سر مبارک کو دروازۂ دمشق پہ تین دن آویزاں کرنے کے بعد اتارا گیا اور حکومتی گنجینوں میں سے ایک گنجینہ میں رکھا گیا اور سلیمان بن عبد الملک کے زمانے تک اسی میں رہا پس اسے نکال کر کفن پہنانے کے بعد دمشق کے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیا اس کے بعد اس کے جانشین عمر بن عبد العزیز نے (جن کی حکومت ۹۹سے ۱۰۱ھجری تک رہی) اسے قبرستان سے نکالا اور پھر معلوم نہ ہوسکا کہ اس کے ساتھ کیا کیا ، لیکن اس کی ظواہر شریعت کی پابندی کے پیش نظر زیادہ احتمال یہی ہے کہ اسے کربلا روانہ کردیا۔(۷)
ہم آخر میں ذکر کردیں کہ بعض سنی علماء جیسے شبراوی ، شبلنجی اور سبط ابن جوزی نے بھی اجمالاً مانا ہے کہ سر مبارک کربلا ہی میں دفن ہوا ہے۔(۸)
دوسرا نظریہ:نجف اشرف میں
حضرت علی علیہ السلام کی قبر مطہر کے پہلو میں:علامہ مجلسی کی عبارت نیز روایات کی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ سر مبارک نجف اشرف میں حضرت علی علیہ السلام کی قبر مطہر کے پہلو میں دفن ہوا ہے۔(۹)
امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے فرزند اسماعیل کے ہمراہ نجف میں اپنے جد گرامی حضرت علی علیہ السلام پر نماز پڑھنے کے بعد امام حسین علیہ السلام پہ سلام بھیجنے والی روایتیں صراحت و وضاحت کے ساتھ امام صادق علیہ السلام کے زمانے تک نجف اشرف میں سر مبارک کے موجود ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔(۱۰)
دوسری رواتیں بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں ، یہاں تک کہ اہل تشیع کی کتابوں میں قبر مطہر حضرت علی علیہ السلام کے پاس ایک زیارت سر مبارک امام حسین علیہ السلام کے لئے ذکر ہوئی ہے۔(۱۱)
سر مبارک کے اس جگہ پہ منتقل ہونے کی کیفیت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ روایت نقل ہوئی ہے کہ دوستداران اہل بیت ؑمیں سے ایک شخص نے اسے شام سے سرقہ کیا اور حضرت علی علیہ السلام کے قبر کے پہلو میں دفن کردیا۔(۱۲)
البتہ اس نظریہ پہ اشکال یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے زمانے تک حضرت علی علیہ السلام کی قبر مطہر عموم کے لئے غیر معروف تھی۔
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ سر مبارک کچھ عرصے تک دمشق میں رہنے کے بعد کوفہ میں ابن زیاد کے یہاں واپس بھیج دیا گیا، اس نے لوگوں کی شورش کے خوف سے حکم دیا کہ اسے کوفہ سے باہر پہچا کر حضرت علی علیہ السلام کی قبر مطہر کے پاس دفن کردیا جائے۔(۱۳)
اس نظریہ پر بھی وہی اشکال سابق وارد ہوتا ہے۔
تیسرا نظریہ:کوفہ میں
اس قول کو سبط ابن جوزی نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ عمرو بن حریث مخزومی نے سر مبارک ابن زیاد سے لیا اور اسے غسل و کفن دینے اور خوشبو لگانے کے بعد اپنے گھر میں دفن کردیا۔(۱۴)
چوتھا نظریہ:مدینہ میں
ابن سعد صاحب طبقات کبریٰ نے اس قول کو مانا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ یزید نے سر مبارک کو حاکم مدینہ عمروبن سعید کے پاس بھیجا اور اس نے تکفین کے بعد قبرستان بقیع میں آپؑ کی مادرگرامی حضرت فاطمہ صلواۃ اللہ علیہا کی قبر مطہر کے پہلو میں دفن کردیا۔(۱۵)
اس قول کو بعض دیگر علمائے اہل سنت (جیسے خوارزمی نے مقتل الحسین علیہ السلام میں اور ابن عماد حنبلی نے شذوزات الذہب میں)نے تسلیم کیا ہے۔(۱۶)
پانچواں نظریہ:شام میں
شاید کہا جاسکتا ہے کہ اہل سنت کی بیشتر روایتیں شام میں سر مبارک کے دفن کئے جانے کو بیان کرتی ہیں اس نظریہ کے قائل افراد کے درمیان بھی اختلاف ہے اور مختلف اقوال بیان ہوئے ہیں  مثلاً :
الف:دروازۂ فرادیس کے پہلو میں،جہاں بعد میں مسجد الرأس کی تعمیر ہوئی ہے۔
ب:مسجد جامع اموی کے پہلو کے ایک باغ میں
ج:دار الامارہ میں
د:دمشق کے ایک قبرستان میں
ھ:دروازۂ تو ما کے پہلو میں۔(۱۷)
چھٹا نظریہ:رقہ میں
رقہ، فرات کے ساحل پر ایک شہر تھا ، کہا جاتا ہے کہ یزید نے امام ؑکا سر مبارک آل ابی محیط کے لئے (جو حضرت عثمان کے قرابتدار اور اس وقت اسی شہر میں ساکن تھے )بھیجا اور ان لوگوں نے اسے ایک گھر میں دفن کردیا جو گھر بعد میں مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔ (۱۸)
ساتوں نظریہ:قاہرہ میں
نقل ہوا ہے کہ خلفائے فاطمی (جو چوتھی صدی کے نصف دوم سے ساتویں صدی کے نصف دوم تک مصر کے حکمراں رہے اور یہ لوگ اسماعیلی فرقہ کے پیرو تھے) امام حسین علیہ السلام کا سر مبارک شام کے دروازۂ فرادیس سے،عسقلان،پھر قاہرہ لے گئے اور اس کے اوپر ’’تاج الحسین(ع)‘‘ کے نام سے معروف مقبرہ سن  ۵۰۰ ہجری کے بعد تعمیر کرایا۔(۱۸)
مقریزی نے سر مبارک کے عسقلان سے قاہرہ منتقل ہونے کا دقیق سن ۵۴۸ ہجری بتایا ہے اور کہا ہے کہ عسقلان سے سر مبارک باہر لاتے وقت یہ دیکھا گیا کہ خون ابھی تازہ ہے،خشک نہیں ہوا ہے اور اس سے مشک کی سی خوشبو مشام کو آرہی ہے۔(۱۹)
علامہ سید محسن امین عاملی (معاصر شیعہ عالم دین )لکھتے ہیں کہ سر مبارک کے عسقلان سے مصر لائے جانے کے بعد سر مبارک کے دفن کی جگہ پر ایک عظیم بارگاہ تعمیر کی گئی اور اس کے پہلو میں ایک بڑی مسجد بھی بنائی گئی،میں نے سن ۱۳۲۱ہجری میں وہاں کی زیارت کی اور بے شمار مرد و عورت کو وہاں زیارت اور تضرع و زاری کی حالت میں دیکھا،پھر وہ کہتے ہیں کہ ایک سر کے عسقلان سے مصر لائے جانے کے متعلق کوئی شک و شبہہ نہیں ہے ، لیکن کیا وہ امام حسین علیہ السلام کا سر تھا یا کسی اور شخص کا ؟ اس بارے میں شبہہ برقرار ہے۔(۲۰)
علامہ مجلسی نے بھی اہل مصر کی ایک جماعت کے حوالے سے مصر میں مشہد الکریم نام کی ایک عظیم بارگاہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔(۲۱)
-------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حوالہ جات:
۱۔ بحار الانوار ، ج۴۵،ص ۱۴۵۔
۲۔سابق حوالہ،ج، ۴۵،ص۱۴۰، شیخ صدوق،امالی،ص ۲۳۱۔
۳۔ سید ابن طاؤوس، اقبال الاعمال،ص ۵۸۸۔
۴۔شہید قاضی طباطبائی،تحقیق دربارۂ اولین اربعین حضرت سید الشہداؑء ،ج۳، ص ۳۰۴۔
۵۔لہوف،ص ۲۳۲(گوکہ صراحت کے ساتھ امام سجادعلیہ السلام کا نام نہیں لکھا ہے)۔
۶۔اقبال الاعمال، ص ۵۸۸۔
۷۔امینی،محمد امین،مع الرکب الحسینی(ع)،ج۶،ص ۳۲۴،مقتل الخوارزمی،ج۲،ص ۷۵۔
۸۔ایضاً،ص ۳۲۴و ۳۲۵۔
۹۔ بحار الانوار ،ج۴۵،ص ۱۴۵۔
۱۰۔سابق حوالہ،ج،۴۵،ص،۱۷۸،کامل الزیارات،ص ۳۴اور کافی،ج۴،ص ۵۷۱۔
۱۱۔سابق حوالہ، ج،۴۵،ص ۱۷۸، اور رجوع کریں،کتاب’’مع الرکب الحسینی(ع)‘‘ ج۶،ص ۳۲۵سے ۳۲۸۔
۱۲۔سابق حوالہ، ج۴۵،  ص ۱۷۸۔
۱۳۔تذکرۃ الخواص،ص ۲۵۹، مع الرکب الحسینی(ع)،ص ۳۲۹ ۔
۱۴۔ابن سعد،طبقات،ج۵، ص ۱۱۲۔
۱۵۔مع الرکب الحسینی(ع)، ج۶، ص ۳۲۰و ۳۳۱۔
۱۶۔ حوالہ سابق ،ج۶، ص ۳۳۱، ۳۳۵۔
۱۷۔حوالہ سابق، ج۶،ص ۳۳۴، تذکرۃ الخواص،ص ۲۶۵۔
۱۸۔ البدایۃ و النھایۃ، ج۸، ص ۲۰۵۔
۱۹۔مع الرکب الحسینی(ؑع)، ج:۶، ص، ۳۳۷۔
۲۰۔امین عالمی،سید محسن،لواھج الاشجان فی مقتل الحسین علیہ السلام، ص ۲۵۰۔
۲۱۔ بحار الانوار ، ج۴۵، ص ۱۴۴۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16