Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183778
Published : 15/10/2016 19:45

پیغمبر اکرم(ص) اورامیر المؤمنین(ع) کی محبت

ملک الموت جس طرح انبیائے کرام پر رحم کرتا ہے اسی طرح حضرت علی ؑکے چاہنے والے کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آتا ہے۔

ولایت پورٹل:
ہم نے شیعہ کے اصطلاحی معنی کی وضاحت کے ذیل میں یہ بیان کیا تھا کہ شیعہ کے ایک معنی خاندان رسالت خاص طور سے حضرت علی(ع) کی محبت ودوستی بھی ہے۔
اہل بیت(ع) پیغمبر اکرم(ص)کی محبت اور دوستی پرتاکید کرنے والی آیات وروایات تاکید کرتی ہے ان کے علاوہ پیغمبر اکرم(ص)بکثرت ایسی احادیث منقول ہیںجن میںحضرت علی(ع)کی محبت کو ضروری قرار دیا گیا ہے حتی کہ آپ کی محبت کوا یمان کا معیار اور آپ کی دشمنی اور عداوت کو نفاق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
طبری نے آیۂ کریمہ:’’ولتعرفنّھم فی لحن القول‘‘ (تم منافقین کو ان کی گفتگو کے انداز سے پہچان لیتے ہو)کی تفسیر کے ذیل  میں ابن مردویہ اور ابن عساکر کے حوالے سے ابو سعید خدری سے یہ روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ’’لحن القول‘‘ سے مرادحضرت علی(ع) کی عداوت اور دشمنی ہے۔(۱)
دوسری روایت میںجسے ابن مردویہ نے عبد اللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے یوں نقل ہوا ہے:’’ما کنانعرف المنافقین علی عھد رسول اللہ الا ببغضھم علی بن ابی طالب‘‘(۲)’’رسول اکرم(ص)کے دور میں ہم منافقین کو صرف ان کی علی (ع)دشمنی کی بنیاد پر ہی پہچانتے تھے۔
نسائی( متوفی ۳۰۳ ہجری)نے اپنی کتاب خصائص امیر المومنین میں ’’الفرق بین المومن والمنافق‘‘کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کیا ہے اور رسول اکرم(ص) سے تین حدیثیں نقل کی ہیں کہ آ نحضرت (ص)نے فرمایا ہے:امیر المؤمنین سے مومن کے علاوہ کوئی محبت نہیں رکھے گا اور منافق کے علاوہ آپ کا کوئی دشمن نہ ہوگا۔(۳)
خطیب خوارزمی نے بھی اپنی کتاب’’المناقب‘‘کے چھٹے باب کو حضرت علی(ع) اور اہلبیت(ع) کی محبت کے بارے میں موجود روایات سے مخصوص کیا ہے اوراس سلسلہ میں تقریباً تیس روایتیں نقل کی ہیں۔(۴)
ان میں سے بعض روایات کا مضمون یہ ہے:
۱۔علی بن ابی طالب(ع) کی محبت تمام لوگوں کے اوپر واجب ہے۔(۵)
۲۔اگر تمام انسان علی بن ابی طالب(ع) کی محبت پر اتفاق کرلیتے تو خداوندعالم جہنم کو خلق نہ کرتا۔(۶)
۳۔اگر کوئی شخص اتنے دن تک عبادت کرے جتنے دن جناب نوح اپنی قوم کے درمیان رہے تھے اور کوہ احد کے برابر خد اکی راہ میں سونا خیرات کرے، ہزار بار پیدل حج کرنے جائے اور صفا ومروہ کے درمیان راہ خدا  میںقتل بھی کردیا جائے لیکن وہ حضرت علی(ع)سے محبت نہ کرتا ہو تو اس کے مشام میں جنت کی خوشبو بھی نہیں پہنچ سکتی ہے اور وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
۴۔جو شخص علی سے محبت کرتا ہے اس نے پیغمبر اکرم(ص)سے محبت کی ہے اور جو شخص ان سے دشمنی رکھے وہ پیغمبر اکرم(ص)کا دشمن ہے۔(۷)
۵۔ملک الموت جس طرح انبیائے کرام پر رحم کرتا ہے اسی طرح حضرت علی ؑکے چاہنے والے کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آتا ہے۔(۸)
۶۔جو شخص یہ خیال کرے کہ وہ پیغمبر اکرم(ص)اور جو کچھ آپ(ص) خداوندعالم کی طرف سے لے کرآئے ہیں ان سب پر ایمان رکھتا ہے لیکن حضرت علی بن ابی طالب(ع) کا دشمن ہے تووہ جھوٹا ہے اور مومن نہیں ہے۔(۹)
شبلنجی شافعی نے مندرجہ ذیل دوحدیثوں کو صحیح مسلم اور ترمذی سے نقل کیا ہے۔
۱۔مسلم نے روایت کی ہے کہ حضرت علی(ع)نے فرمایا ہے:’’والذی فلق الحبة وبرأ النسمة انه لعهد النبي الامي بانه لایحبني الا مومن ولا یبغضنی الا منافق‘‘
۲۔ترمذی نے ابو سعید خدری سے یہ روایت نقل کی ہے انہوں نے کہا ہے:کنا نعرف المنافقین ببغضھم علیاً(۱۰)ہم منافقین کو ان کی علی(ع)کی دشمنی کی بنیاد پر پہچانتے تھے۔
حضرت علی(ع)کی محبت کے واجب ہونے کے بارے میں رسول اکرم(ص) سے منقول احادیث ہت زیادہ ہیں جن کو اس مقام پرنقل کرنا ممکن نہیں ہے لہٰذا ہم ان ہی احادیث پر اکتفا کر رہے ہیں۔
مذکورہ روایات کی بنا پر سچے مسلمان حضرت علی(ع) کی محبت کو اپنے اوپر واجب سمجھتے تھے لیکن جولوگ دنیا کے غلام اور ہویٰ وہوس کے پجاری تھے اگر چہ وہ بظاہر اپنے کو مسلمان کہتے تھے اور مسلمانوں کے درمیان رہتے تھے مگر ان کے دل میں حضرت علی(ع) کا بغض موجود تھا جسے بسا اوقات ظاہر بھی کرتے رہتے تھے اسی لئے  حضرت علیؑ کی محبت اور عداوت ایمان اور نفاق کی پہچان بن گئی۔
صحابہ کے درمیان کچھ لوگ دوسروں کے مقابلہ میں حضرت علی(ع)سے زیادہ محبت کا اظہار کرتے تھے  کیونکہ آپ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص)نے سب سے زیادہ تاکید کی تھی اورآپ ہی ہر اعتبار سے ان سب سے زیادہ لیاقت کے مالک تھے اور کیونکہ آپ کی رفتار وکردار پر رسول خداؐ کی رضایت کی مہر ثابت تھی اس لئے انہوں نے آپ کو اپنا آئیڈیل بنا رکھا تھا اسی لئے انہیں شیعۂ علی کہا جاتا ہے۔
...................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ابن جریر طبری،تفسیر طبری،ج۵،ص ۲۱۳۔
۲۔سورہ محمد:آیت۳۰۔
۳۔سیوطی ،تفسیردر منشور،ج۷،ص۴۴۳۔
۴۔گذشتہ حوالہ،۴۴۴
۵۔’’انی افترضت محبۃ علی بن ابی طالب علی خلقی عامۃ‘‘خصائص امیر المومنین علی بن ابی طالب(ع) ص؍۱۵۵۔۱۵۷۔
۶۔’’لواجتمع الناس علی حب علی بن ابی طالب لما خلق اللہ النار‘‘المناقب،خوارزمی،ص؍۶۴۔۷۹۔
۷۔’’من احب علیاً فقد احبنی ومن ابغض علیاً فقد ابغضنی’‘۔
۸۔’’ان ملک الموت یترحّم علیٰ محبی علی ابن ابی طالب کما یترحّم علی الانبیاء’‘
۹۔’’من زعم انہ آمن بی وبما جئت بہ وھو یبغض علیاً فھو کاذب لیس بمؤمن‘‘نورالابصار،ص؍۱۶۰۔
۱۰۔طبری ،محب الدین،ریاض النضرہ،باب ۴،ص ۱۴۹ اور، میلانی،حسین،قادتنا کیف نعرفھم ج،۱،ص ۶۴۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21