Tuesday - 2018 مئی 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183780
Published : 15/10/2016 20:8

شھید اور شھادت سے متعلق رہبر انقلاب کا نظریہ:

بھشت اور رضائے پروردگار،شھید کی زحمتوں کا ثمرہ ہیں

ہر انسان کے لئے شہادت کی یہ امتیازی خصوصیت ہے،واقعاً اگر خداوندعالم کسی کی اس دعا کو قبول کرے کہ اس کی موت کو شہادت قرار دیدے تو سب سے بڑی امتیازی خصوصیت اس کو عطا کی ہے اور اس سرمایہ کے مقابلہ میں جو ہاتھ سے چلا جارہا تھا اور ختم ہوتا جارہا تھا خداوند عالم نے اپنی بہشت و رضایت کو (اس مرنے والے کے لئے)قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل:
شہید نے اپنی جان بیچ کر اس کے مقابلہ میں بہشت اور رضائے الٰہی کو خریدا ہے جو اہم ترین ثمرہ ہے،راہ خدا میں شہادت کو ہم اس زاویۂ دید سے نگاہ کریں، شہادت،دانا افراد کی موت ہے جو نہیں چاہتے کہ یہ جان، مفت ان کے ہاتھوں سے چلی جائے اور اس کے عوض انہیں کچھ نہ ملے،یہ جان ہمارا اصلی سرمایہ ہے،موت اور شہادت،بڑھاپا اور جوانی نہیں دیکھتی،کتنے ایسے افراد ہیں جو راہِ خدا میں نہیں مارے جاتے لیکن عین جوانی میں اس دنیا سے مرکے چلے جاتے ہیں،کتنے ایسے جوان ہیں جو مرجاتے ہیں اور حقیقت میں یوں ہی ان کے ہاتھ سے جان رخصت ہوجاتی ہے،اگر خدا کا راستہ نہ اپنائیں۔ اگر ان کی راہ الٰہی راہ نہ ہو اور ان کی موت، راہ خدا و ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ میں واقع نہ ہو تو یہ عمر بھر کا سرمایہ (جو بہت عزیز ہے)ان کے ہاتھ سے چلا جائے گااور اس کے بدلے انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا۔ البتہ اگر ان کے پسماندگان اور ورثہ صبر کریں تو خداوندعالم انہیں جزائے خیر سے نوازے گا۔ البتہ اس مرنے والے کو جو مرگیا ہے اس کی قبض شدہ روح و جان کے عوض کچھ بھی نہ دیا جائے گا۔
کتنے (اللہ والے)ایسے ہیں جو جوانی یا اس کے بعد راہ خدا میں شہید ہوئے (جیسے محراب عبادت اور میدان جنگ میں شہید ہونے والے)یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو بیچ دیا ہے، ہر انسان کے لئے شہادت کی یہ امتیازی خصوصیت ہے،واقعاً اگر خداوندعالم کسی کی اس دعا کو قبول کرے کہ اس کی موت کو شہادت قرار دیدے تو سب سے بڑی امتیازی خصوصیت اس کو عطا کی ہے اور اس سرمایہ کے مقابلہ میں جو ہاتھ سے چلا جارہا تھا اور ختم ہوتا جارہا تھا خداوند عالم نے اپنی بہشت و رضایت کو (اس مرنے والے کے لئے)قرار دیا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 مئی 22