Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183789
Published : 16/10/2016 16:44

آیت اللہ مرعشی اور ان کی خدمات

آپ کی وصیت کے مطابق وہ مصلٰی جس پر آپ نے ستر سال عبادت کی تھی، اور وہ لباس جو وہ عزائے امام حسین(ع) کے لئے زیب تن کیا کرتے تھے نیز کچھ مٹی جو آپ نے ائمۂ معصومین علیہم السلام اور امام زادگان کے مراقد سے جمع کررکھی تھی، کو آپ کے ساتھ قبر میں رکھا گیا۔


ولایت پورٹل:
سید شہاب الدین مرعشی نجفی آیت اللہ بروجردی کے بعد شیعہ مراجع تقلید میں سے ہیں،وہ 27 سال کی عمر میں درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے،مرعشی شیخ عبدالکریم حائری اور آقا ضیاءالدین عراقی کے شاگردوں میں سے تھے اور سیدعلی قاضی،سید احمد کربلائی اور میرزا جواد ملکی تبریزی سے فیض حاصل کیا۔ سیاسی فکر کے لحاظ سے امام خمینی کے حامی تھے اور یہی فکر ان کے نمایاں ترین شاگردوں میں دکھائی دیتی ہے۔
خاندان
آیت اللہ مرعشی کا نسب 33 واسطوں سے امام زین العابدین علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے۔ مرعشی سادات حسینی ہیں اور ان کے جد اعلی کا نام سید علی مرعشی ہے جو شام اور ترکی کی سرحدوں کے قریب واقع شہر مرعش میں رہتے تھے، یہ شہر ترکی میں واقع ہوا ہے۔ انھوں نے تیسری صدی ہجری میں ایران کی طرف ہجرت کی اور بظاہر مازندران میں شادی کی،ایران کے مرعشیوں کا مرکز طبرستان تھا اور شمالی خطے کے عوام کا تشیع کی طرف رجحان اس خاندان کی زحمتوں کے مرہوں منت ہے۔
آیت اللہ مرعشی کے پندرہویں جد امجد، سید قوام الدین المعروف بہ میر بزرگ ایک حکیم (= فیلسوف) اور فرمانروا تھے جو ساتویں صدی ہجری میں شہر آمل میں حکومت کرتے تھے اور اس وقت ان کا مزار اور صحن و سرا آمل کے سبزہ میدان میں واقع ہے، صفویہ کے دور کے بعد سے مرعشیوں کو ایک بار پھر فعال ہوئے اور اس خاندان کے حکام کے ساتھ رشتے کئے،شاہ عباس اول کی والدہ اسی خاندان کی ایک خاتون تھیں۔
سید الحکما شرف الدین مرعشی(متوفی سنہ 1316ہجری ) آیت اللہ مرعشی کے دادا ہیں، ان کی عمر 114 برس تھی اور 80 سال تک طبابت کی، کیمیاوی اصولوں سے مصنوعی دانت اور شہد کی مکھی کی ساخت کے بارے میں ان کو عجیب تخلیقی افکار و اقدامات کی نسبت دی گئی ہے۔
ان کی دادی المعروف بہ شمس الشرف خانم تبریز کے طباطبائی سادات اور اپنے زمانے کی باکمال خواتین میں شمار ہوتی تھیں، امیر عبدالغفار طباطبائی، ان کے فرزند آق قویونلو سلسلۂ حکومت کے قاضی القضات عبدالوہاب اور صفوی دور کی نمایاں شخصیات اور دیگر مشہور افراد کا تعلق اسی خاندان سے ہے۔
آپ کے والد سید محمود مرعشی(ولادت 1270 ہجری)، نے ایک بار سنہ 1311 ہجری قمری یے دوران تہران میں علویہ فاطمہ سبزواری بنت سید حسین حسینی کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے جن سے وہ «علی» نامی فرزند کے باپ بنے لیکن یہ رشتہ جاری نہ رہ سکا اور دوسری مرتبہ سنہ 1314 ہجری قمری میں آیت اللہ سید مہدی حسینی کی پوتی علویہ صاحبہ خانم کے ساتھ شادی کی۔ اس پیوند کے نتیجے میں انہیں خداوند متعال نے چار فرزند عطا کئے: شہاب الدین، ضیاء الدین، فاطمہ اور مرضیہ۔
خدمات
مرعشی نجفی نے ایک کتب خانے کی بنیاد رکھی جو آج کتب کی تعداد اور قدیم اسلامی کتب کے قلمی نسخوں کے لحاظ سے، ایران کا پہلا بڑا اور دنیائے اسلام کا تیسری بڑی لائبریری سمجھی جاتی ہے، وہ کبھی بھی سفر حج کے لئے مستطیع نہیں ہوئے۔ انھوں نے مرعشیہ، شہابیہ، مہدیہ اور مؤمنیہ نامی مدارس کی بنیاد رکھی۔
ان کی اہم ترین تالیفات میں تعلیقات احقاق الحق، مشجرات آل الرسول، طبقات النسابین اور حاشیہ بر عمدۃ الطالب شامل ہیں، انہوں نے اپنی کتابیں لکھنے کے لئے بعض ممالک کے دورے کئے اور مختلف ادیان و مذاہب کے علماء کے ساتھ مباحثے کئے
وفات
آیت اللہ مرعشی نجفی مورخہ 7 شہریور سنہ 1369ہجری شمسی / 7 صفر سنہ 1411 ہجری قمری / 29 اگست سنہ 1990کو 96 سال کی عمر میں وفات پاگئے اور اپنی وصیت کے مطابق، قم کے خیابان ارم میں واقع اپنے کتب خانے میں سپرد خاک کئے گئے۔
نیز ان کی وصیت کے مطابق وہ مصلٰی جس پر انھوں نے ستر سال عبادت کی تھی، اور وہ لباس جو وہ عزائے امام حسین(ع) کے لئے زیب تن کیا کرتے تھے نیز کچھ مٹی جو انھوں نے ائمۂ معصومین علیہم السلام اور امام زادگان کے مراقد سے جمع کررکھی تھی، کو ان کے ساتھ قبر میں رکھا گیا۔
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16