Thursday - 2018 مئی 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183790
Published : 16/10/2016 17:25

تفسیر نمونہ

تفسیر نمونہ فارسی زبان میں لکھی گئی قرآن مجید کی تفسیر ہے جسے آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی زیر سرپرستی حوزہ علمیہ قم کے مایہ ناز مفسرین کی ایک گروہ لکھی ہے،اس کتاب کی تالیف میں تقریبا 15 سال کا عرصہ لگا۔

ولایت پورٹل:
تفسیر نمونہ فارسی زبان میں لکھی گئی قرآن مجید کی تفسیر ہے جسے آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی زیر سرپرستی حوزہ علمیہ قم کے مایہ ناز مفسرین کی ایک گروہ لکھی ہے،اس کتاب کی تالیف میں تقریبا 15 سال کا عرصہ لگا جس میں مؤلفین نے کوشش کی ہے کہ قرآنی آیات کی سادہ اور عام فہم زبان میں ترجمہ اور تفسیر پیش کریں۔ کتاب کے دیباچے میں مؤلف، عوام الناس کیلئے قرآن کی تفسیر پیش کرنے کو اس کتاب کی تدوین کا ہدف قرار دیتے ہیں۔ اس کتاب کا عربی اور اردو زبان میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔ اردو زبان میں اس کا ترجمہ مرحوم مولانا صفدر حسین نجفی صاحب نے کیا ہے۔
مؤلفین
حوزہ علمیہ قم کے دس مؤلفین اور آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے اس کتاب کو تدوین کیا ہے:
۱۔محمدرضا آشتیانی
۲۔محمدجعفر امامی
۳۔داود الھامی
۴۔اسداللہ ایمانی
۵۔عبدالرسول حسنی
۶۔سید حسن شجاعی
۷۔سید نوراللہ طباطبائی
۸۔محمود عبداللھی
۹۔محسن قرائتی
۱۰۔محمد محمدی اشتہاردی

کتاب کی خصوصیات
اس تفسیر کی اہم ترین خصوصیت اس کا سادہ اور عام فہم ہونا ہے،اس کی دیگر خصوصیات کتاب کی پہلی جلد کے مقدمے میں یوں بیان ہوئی ہیں:
۱۔قرآن چونکہ کتاب زندگی ہے، اس لئے آیات کی ادبی و عرفانی وغیرہ تفسیر کے زندگی کے مادی، معنوی، تعمیر نو کرنے والے، اصلاح کنندہ، زندگی سنوارنے والے اور بالخصوص اجتماعی مسائل کی طرف توجہ دی گئی ہے، اور زیادہ تر انہی مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے جو فرد اور معاشرے کی زندگی سے نزدیک تعلق رکھتے ہیں۔
۲۔آیات میں بیان کئے گئے عنوانات کو ہر آیت کے ذیل میں جچی تلی اورمستقل بحث کے ساتھ پیش کیاگیا ہے۔مثلاسود، غلامی، عورتوں کے حقوق، حج کا فلسفہ، قمار بازی کی حرمت کے اسرار، شراب، سور کا گوشت، جہاد اسلامی کے ارکان و اہداف وغیرہ کے موضوعات پر بحث کی گئی ہے تاکہ قارئین اس ایک اجمالی مطالعے کے لئے دوسری کتب کی طرح رجوع کرنے سے بے نیاز ہوجائیں۔
۳۔کوشش کی گئی ہے کہ آیات ذیل میں ترجمہ رواں، سلیس منہ بولتا لیکن گہرا اور اپنی نوع کے لحاظ سے پر کشش اور قابل فہم ہو۔
۴۔لا حاصل ادبی بحثوں میں پڑنے کے بجائے خصوصی توجہ اصلی لغوی معانی اور آیات کے شان نزول کی طرف توجہ دی گئی ہے کیونکہ قرآن کے دقیق معانی سمجھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں زیادہ مؤثر ہیں۔
۵۔مختلف اشکالات، اعتراضات اور سوالات جو بعض اوقات اسلام کے اصول و فروع کے بارے میں کئے جاتے ہیں ہر آیت کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کا جچا تلا اور مختصر ساجواب دیدیا گیا ہے،مثلا(شبہ اکل و ماکول (وہ جانور جو دوسرے جانوروں کو کھاجاتے ہیں)، معراج، تعداد ازواج، عورت اور مرد کی میراث کا فرق، عورت اور مرد کے خون بہامیں اختلاف ، قرآن کے حروف مقطعات،احکام کی منسوخی،اسلامی جنگیں اور غزوات، مختلف الہی آزمائشیں اور ایسے ہی بیسیوں سوالوں کے جوابات اس طرح دئیے گئے ہیں کہ آیات کا مطالعہ کرتے وقت محترم قاری کے ذہن میں کوئی استفہامی علامت باقی نہ رہے۔
۶۔ایسی پیچیدہ علمی اصطلاحات جن کے نتیجہ میں کتاب ایک خاص صنف سے مخصوص ہوجائے،سے دوری اختیارکی گئی ہے،البتہ ضرورت کے وقت علمی اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد اس کی واضح تفسیر و تشریح کردی گئی ہے۔
خلاصہ اور ترجمہ
اس کتاب کا عربی اور اردو زبان میں بھی ترجمہ ہوا ہے، اردو زبان میں اس کا ترجمہ مرحوم مولانا صفدر حسین نجفی صاحب نے کیا ہے جو بارہا پاکستان اور ایران سے شائع ہوچکا ہے۔
اسی طرح احمدعلی بابایی نے اس کتاب کا خلاصہ5 جلدوں میں«برگزیدہ تفسیر نمونہ» کے نام سے نشر کیا ہے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 مئی 24