Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183793
Published : 16/10/2016 19:0

ایام عزا میں سیاہ لباس پہننے کا فلسفہ کیا ہے؟

ائمہ طاہرین(ع)بالخصوص حضرت سید الشہداء(ع) کی عزاداری میں سیاہ لباس سے جسم تاریک لیکن روح روشن رہتی ہے ظاہر میں وہ سیاہ لیکن باطن میں سفید ہوتا ہے.

ولایت پورٹل:سیاہ رنگ مختلف جہتوں سے گونا گون آثار و خواص رکھتا ہے، اور ان خواص میں سے ہر ایک کے اعتبار سے کسی خاص مورد میں فرد یا مخصوص گروہ اپنے خاص مقصد کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں، سیاہ رنگ ایک جہت سے پوشش کا رنگ ہے یعنی سیاہ رنگ ، پوشیدہ و مخفی کرنے کا سبب بنتا ہے اور بعض اوقات اس طرح کے کام کے لئے اس رنگ کے لباس کا استعمال کیا جاتا ہے۔(۱)
دوسرے اعتبار سے سیاہ رنگ،ہیبت و تشخص کا رنگ ہے اسی لئے شخصیات کا رسمی لباس عموماً سیاہ یا سرمئی ہوتا ہے، تاریخی منقولات میں ایسے بہت سے موارد مل سکتے ہیں کہ فرد یا گروہ ، حکومت یا کسی مسئلہ کی ہیبت اور تشخص کو نمایاں کرنے کے لئے اسی رنگ کا استعمال ہوتا رہا ہے۔(۲)
سیاہ رنگ کے آثار و خواص میں سے ایک یہ بھی ہے کہ فطری طور پر یہ رنگ حزن آور ، دلگیر اور عزا و ماتم سے مناسبت رکھنے والا رنگ ہے اسی وجہ سے دنیا کے بہت سے لوگ دوستوں اور عزیزوں کی موت پہ غم و اندوہ کے اظہار کے طور پر اس رنگ کا استعمال کرتے ہیں ، لیکن توجہ رہے کہ ایام سوگواری میں سیاہ رنگ کے انتخاب کی (وجہ مذکورہ کے علاوہ )منطقی و عاطفی وجہ بھی ہے اور وہ اس حقیقت سے عبارت ہے کہ جو شخص اپنے عزیزوں کے ماتم میں سیاہ لباس پہنتا اور درو دیوار کو سیاہ پوش کرتا ہے وہ اپنے اس عمل سے یہ کہنا اور سمجھانا چاہتا ہے کہ تم میری آنکھوں کی روشنی کا موجب اور میری نگاہوں کی چمک کا باعث تھے ۔قلب خاک میں تمہارے پیکر کا دفن ہوجانا چاہ مغرب میں ماہ و خورشید کے غروب ہوجانے کے مانند ہے،جس نے سینۂ حیات کو میری نگاہوں میں تیرہ و تار کردیا اور زمین و زمان کو سیاہی و ظلمت میں ڈبودیا ہے،جیسا کہ حضرت زہرا صلواۃ اللہ علیہا، رسول خدا(ص)کی رحلت کے آٹھویں دن آپ(ع)کی قبر پر تشریف لے گئیں اور فریاد بلند کی«یَااَبَتَاہُ اِنْقَطَعَتْ بِکَ الدُّنْیَا بِاَنْوَارِھَا وَزَوَتْ زَھْرَتُھَا وَکَانَتْ بِبَہْجَتِکَ زَاھِرَۃٌ فَقَدْ اِسْوَدَّ نَھَارُھَا فَصَارَ یَحْکِیْ حَنَادِ سُہَا رُطَبَھَا وَیَابِسَہَا۔۔۔وَالْأَسیٰ لَازِمُنَا»۔(۳)
اے بابا! آپ(ع) گئے اور آپ(ع)کے جانے سے دنیا نے اپنی ساری روشنی ہم سے واپس لے لی اور اپنی نعمت و خوشی ہم سے چھین لی، دنیا آپ(ع)کے حسن و جمال سے روشن و منور تھی لیکن اب آپ(ع) کے چلے جانے سے دنیا کا روز روشن سیاہ اور اس کا خشک و تر بے انتہا تاریک راتوں کی حکایت کرنے والا ہوگیاہےاور حزن و اندوہ ہمیشہ کے لئے ہمارے ساتھ ہے۔
بی مہر رخت،روز مرا نور نماندہ است
و ز عمر، مرا جز شب دیجور نماندہ است

ترجمہ:آپ کے جمال رخ کے بغیر میرا دن بے نور ہوکر رہ گیا ہے اور زندگی میں شب دیجور کے سوا کچھ نہیں رہ گیا ہے۔
اس بناپر سیاہ پوشی اس رمز و راز کے باعث جو اس رنگ میں چھپا ہوا ہے ، ایک فطری رسم اور منطقی روایت کے عنوان سے حزن و اندوہ کا اعلان کرتی ہے ا ور پیروان اہل بیت(ع) ایام عزا میں سیاہ لباس زیب تن کرتے ہیں، کیونکہ سیاہ لباس ان حضرات کے حضور عشق و محبت کی نشانی،حق و باطل کی جنگ میں سرورِ آزادگان (امام حسین علیہ السلام) کی حمایت کا اعلان اور معنوی زندگی کے افق کے تیرہ وتار ہونے کا اظہار ہے۔(۴)
ائمہ طاہرین(ع)بالخصوص حضرت سید الشہداء(ع) کی عزاداری میں سیاہ لباس سے جسم تاریک لیکن روح روشن رہتی ہے ظاہر میں وہ سیاہ لیکن باطن میں سفید ہوتا ہے،شیخ محمود شبستری نے گلش راز میں کیا اچھی بات کہی ہے:
سیاہی گربدانی نور ذات است
یہ تاریکی درون آب حیات است
چہ میگویم کہ ہست این نکتہ باریک
شب روشن میان روز تاریک

ترجمہ:اگر تم سمجھ سکو تو سیاہی وجود کی روشنی ہے ، تاریکی میں باطن آب حیات ہے،میں کیا کہوں کہ یہ نکتہ بہت باریک ہے کہ تاریک دن کے بیچ رات روشن ہے.
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حوالہ جات:
۱۔ ملاحظہ کریں، یاد داشت ہائی در زمینہ فرہنگ و تاریخ ، ص: ۲۷۲، ۲۷۳۔
۲۔ابن اثیر معروف مورخ لکھتا ہے کہ ابو مسلم خراسانی نے ایک روز خطبہ پڑھا ایک شخص نے کھڑے ہوکر پوچھا یہ سیاہ علامت جو تمہارے اوپر دیکھ رہا ہوں کیسی ہے ؟ اس نے کہا ابو زبیرنے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص)نے فتح مکہ کے وقت سیاہ عمامہ سر پر رکھا اور یہ ہیبت اور حکومت کا لباس ہے ۔(ترجمہ الکامل ، ج:۹، ص: ۱۱۴)
۳۔بحار الانوار ، ج:۴۳، ص: ۱۷۴،۱۸۰۔
۴۔ملاحظہ کریں،سیاہ پوشی در سوگ ائمہ نور ، ص: ۳۱، ۵۳۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22