Friday - 2018 مئی 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183803
Published : 17/10/2016 11:29

ترکی اور سعودی،داعش کےخلاف عراقی مہم کو کمزور کرناچاہتےہیں

امریکہ کےایک معروف سیاسی تجزیہ نگار نے کہاہےکہ امریکہ کی کٹھ پتلی ترک وسعودی حکومت نے دہشتگردوں کو اسلحہ ومالی امداد فراہم کرکے داعش کے خلاف بغداد کی مہم کو مجروح کیا ہے۔

ولایت پورٹل:
پریس ٹی وی کےساتھ انٹرویو میں امریکی ناشر اورپالیٹکس فسٹ کے ایڈیٹر «مارکس پپاڈوپولس»نے کہاکہ امریکہ کی کٹھ پتلی ترک وسعودی حکومت نے دہشتگردوں کو اسلحہ ومالی امداد فراہم کرکے داعش کے خلاف بغداد کی مہم کو مجروح کیا ہے۔
انہوں نےکہاکہ ایک طرف بغداد حکومت داعش کے کینسر سے خود کو آزاد کرانے کی  کوشش کررہی ہے جبکہ دوسری طرف ترکی اورسعودی عرب داعش کےخلاف جنگ  میں بغداد کی مہم میں روڑے اٹکانے کی کوشش کررہےہیں۔
انہوں نےیہ بیان کرتے ہوئے کہ امریکہ اورسعودی عرب تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو موصل سے شام منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں کہاکہ شمالی شام میں ترک فوج کی موجودگی داعش کو ایک محفوظ راستہ فراہم کرنے کا کام کرےگی۔
انہوں نےکہاکہ امریکہ اورسعودی عرب کو اسٹریٹجک شہر حلب کو آزادکرانے کی شامی فوج کی مہم میں رکاوٹیں ڈالنے کیلئے داعش دہشتگرد گروہ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اس بات پر تبصرہ کرتے ہوئےکہ  کیوں مغربی ممالک حلب سے متعلق اتنے فکر مند ہیں کہاکہ اس اسٹریٹجک شہر کی آزادی بشارالاسد کیلئےایک غیر معمولی سیاسی فتح ہوگی ۔
انہوں نےکہاکہ اگر تکفیری دہشتگرد گروہ داعش موصل سے اخراج کرکے ترکی کےسائے میں حلب  میں داخل ہوتی ہے تو یہ شامی فوج کیلئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نےکہاکہ مغرب اوراسکے علاقائی اتحادی منجملہ ترکی اورسعودی عرب کو حلب کو آزادکرانے کی شامی فوج کی مہم میں رکاوٹیں ڈالنے کیلئے اس وقت دہشتگردوں کی ضرورت ہے اس لئے وہ داعش کو ایک  تاش کے اِکے کی طرح استعمال کررہے ہیں ۔
پپاڈو پولس نےکہاکہ شام اورعراق دونوں ممالک دہشتگردی کی ایک ایسی لعنت کےخلاف برسرپیکار ہیں  جو نہ صرف مشرق وسطیٰ کیلئے خطرناک ہے پھر بھی بڑی عالمی طاقتیں بالخصوص برطانیہ ،امریکہ ،ترکی اورسعودی عرب اس خطرے سے نمٹنے کی مہم کو ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہےہیں ۔
قابل ذکر ہےکہ گذشتہ برس کے آخری مہینے میں ترکی نے اپنے فوجی شمالی عراق میں اتار دئےتھے جس کےبعد انقرہ اوربغداد کےتعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں ۔
ترکی کا کہناہےکہ اس کی فوجیں داعش کا مقابلہ کرنے اورعراق کی فورسز کو ٹریننگ دینے کے بہانے تعینات کیا ہےتاہم بغداد نے ترکی کےاس اقدام کو عراق کی ارضی سالمیت اوراقتدار اعلی کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے ترک فوجیوں کے فوری انخلا کامطالبہ کیا ہےلیکن انقرہ ان مطالبات کو مسترد کرتے آرہی ہے۔
ترکی کے وزیر اعظم نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہاکہ شمالی عراق سے ترک فوجیوں کے انخلا پر عراقی حکومت کے اصرار کے باوجود ان کی فوجیں  شمالی عراق میں داعش کا مقابلہ کرنے اوراس علاقےمیں آبادی کے تناسب کو بگڑنےسے روکنے کیلئے موجود رہے گیں ۔
واضح رہےکہ ترکی نے گذشتہ برس اپنے ڈیڑ سو فوجی کم سےکم 20 ٹینکوں کے ہمراہ موصل کےقریب تعینات کئے ہیں اوراس  نے اپنے اس اقدام کیلئے بغداد سے اجازت نہیں لی ہے۔
Newsnoor



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 مئی 25