Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183805
Published : 17/10/2016 11:41

ہم عراقی قوم کے گنہگاروں کو فرار ہونےکاموقع نہیں دیں گے:عراقی رضاکار فوج

عراقی حکومت پانچ ہزار سال پرانے تاریخی ورثے کے حامل شہر موصل کو داعشی دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے پرعزم ہے جس پر جون دوہزار چودہ سے داعش نے قبضہ کرکے اس شہر کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے،داعش نے پچھلے اٹھائیس ماہ کے دوران حضرت یونس اور حضرت شیث علیہ السلام جیسے برگزیدہ انبیائے کرام کی قبروں سمیت متعدد مقدس مقامات اور تاریخی عمارتوں کو تباہ اور اقلیتوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کا قتل عام کیا ہے۔

ولایت پورٹل:انٹیلی جینس کارروائیوں کے اختتام کے بعد، شمالی عراق کے صوبے نینوا کے صدر مقام موصل کی آزادی کے لیے بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے،عراق کے وزیر اعظم اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف حیدر العبادی نے ہفتے کی شب عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے اعلی کمانڈروں کے اجلاس میں موصل کی آزادی کے لیے جاری آپریشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا،اس اجلاس کے بعد عراق کی عوامی رضاکار فورس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ موصل آپریشن کے مختلف سیکٹروں کی انٹیلی جینس کا کام مکمل کرلیا گیا ہے اور عوامی رضاکاروں کے مختلف دستے آپریشن شروع کرنے کے لیے پوری طرح تیاری کی حالت میں ہیں،اس سے قبل شمالی عراق کی کرد فورس کے کمانڈروں نے اعلان کیا تھا کہ اس نے پیش مرگہ رضاکار فورس کے پچاس ہزار افراد کا دستہ موصل کی آزادی کے آپریشن میں شرکت کے لیے تیار کرلیا ہے۔دوسری جانب موصل کی آزادی کے آپریشن سے قبل انقرہ اور بغداد کے درمیان جاری لفظی جنگ میں شدت کے بعد، عوامی رضاکار فورس میں شامل سب سے طاقتور دستے، عصائب اہل الحق کے سیکریٹری قیس خزعلی نے ترکی کو موصل آپریشن میں شرکت کی بابت سخت خبردار کیا ہے۔انہوں نے عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے تحت عراق کی عوامی رضا کار فورس حشد الشعبی کو عراقی سرزمین میں موجود ترک فوجیوں کے خلاف کارروائی کا قانونی حق دے دیا گیا ہے۔عراق کے سیکورٹی ادارے پچھلے چند روز سے موصل کی آزادی کے لیے بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور یہ آپریشن کسی بھی وقت شروع کیا جاسکتا ہے،عراقی حکومت پانچ ہزار سال پرانے تاریخی ورثے کے حامل شہر موصل کو داعشی دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے پرعزم ہے جس پر جون دوہزار چودہ سے داعش نے قبضہ کرکے اس شہر کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے،داعش نے پچھلے اٹھائیس ماہ کے دوران حضرت یونس اور حضرت شیث علیہ السلام جیسے برگزیدہ انبیائے کرام کی قبروں سمیت متعدد مقدس مقامات اور تاریخی عمارتوں کو تباہ اور اقلیتوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں بے گناہوں کا قتل عام کیا ہے،داعشی دہشت گرد گروہ نے ہزاروں نوجوان عورتوں اور لڑکیوں کی عصمت دری کا بھی ارتکاب کیا ہے،تمامتر گھناونے جرائم کا اتکاب کرنے والے والی داعشی دہشت گرد اب امریکہ اور سعودی عرب کے تعاون سے شام کی جانب فرار ہورہے ہیں،بعض خبروں میں کہا گیا کہ داعشی دہشت گردوں نے موصل میں تیل کے کنوؤں کو بھی آگ لگانا شروع کردی ہے جس سے ان کے حوصل پست ہوجانے کی نشاندھی ہوتی ہے،عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کا کہنا ہے کہ اس موصل کے گرد محاصرہ تنگ کردیا ہے اور وہ قوم کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو فرار ہونے کا موقع نہیں نہیں دے گی۔
sahartv


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14