Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183808
Published : 17/10/2016 17:10

پیغمبر اکرم(ص)اور حضرت علی(ع)کی افضلیت

احمد بن حنبل کے بیٹے عبد اللہ نے اپنے باپ سے پوچھا:خلفاء کی افضلیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟تو انہوں نے کہا:ابوبکر،عمر،عثمان ترتیب کے ساتھ ایک دوسرے سے برتر ہیں تو عبد اللہ نے کہا کہ تو پھر علی بن ابی طالب(ع)کہاں ہیں؟امام حنبل نے جواب دیا:اے میرے بیٹے علی بن ابی طالب(ع) اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس سے کسی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔


ولایت پورٹل:
گذشتہ احادیث سے امیر المومنین(ع) کی افضلیت بخوبی آشکار ہوجاتی ہے کیونکہ حضرت علی(ع)ہی پیغمبر اکرم(ص)کی نگاہ میں سب سے زیادہ محبوب تھے،رسول اکرم(ص)کی محبت یا نفرت کی وجہ نفسانی خواہشات یا وقتی جذبات نہیں ہو سکتے ہیں بلکہ اس کی اصل بنیادآپ(ص) کے علم وحکمت پر استوار ہے اس لئے آپ(ص) کے نزدیک حضرت علی(ع)کی سب سے زیادہ محبوبیت کی بھی صرف یہی وجہ ہے،اس کے علاوہ کثرت کے ساتھ ایسی حدیثیں بھی موجود ہیں جو دلالت التزامی یا دلالت مطابقی کے اعتبار سے آپ کی افضلیت پر دلالت کرتی ہیں جس کا استفادہ خود آیۂ مباہلہ(۱) سے بھی ہوتا ہے کیونکہ اس میں مولائے کائنات کو نفس پیغمبر(ص) قرار دیا گیا ہے،چونکہ  پیغمبر اکرم(ص)تمام انسانوں کے درمیان سب سے افضل ہیں لہٰذا جو آپ کا نفس ہوگا اس کے اندر بھی یہ خصوصیت ضرور پائی جائے گی۔
ام المؤمنین عائشہ سے سوال کیا گیا:رسول خدا(ص) کے اصحاب میں سب سے افضل کون ہے؟انہوں نے کہا ابوبکر،عمر،عثمان،طلحہ وزبیر تو ان سے دریافت کیاگیا توپھر علی(ع) کا کیا مرتبہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا تم نے مجھ سے پیغمبر اکرم(ص)کے اصحاب کے بارے میں سوال کیا تھا نہ کہ اس کے بارے میںکہ جو نفس پیغمبر(ص) کی منزل میں ہے پھر انہوں نے آیۂ مباہلہ پڑھی اور آخر میں کہا:پیغمبر(ص) کے اصحاب اس کی طرح کیسے ہوسکتے ہیں کہ جو گویا نفس پیغمبر(ص)کا ہے۔(۲)
احمد بن حنبل کے بیٹے عبد اللہ نے اپنے باپ سے پوچھا:خلفاء کی افضلیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟تو انہوں نے کہا:ابوبکر،عمر،عثمان ترتیب کے ساتھ ایک دوسرے سے برتر ہیں تو عبد اللہ نے کہا کہ تو پھر علی بن ابی طالب(ع)کہاں ہیں؟
امام حنبل نے جواب دیا:اے میرے بیٹے علی بن ابی طالب(ع) اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس سے کسی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔(۳)
پیغمبر اکرم(ص)نے جناب فاطمہ زہرا(س) سے فرمایا:«تمہارا شوہر میری امت میں سب سے بہتر ہے دوسروں سے پہلے اسلام لایا اور اس کا علم وحلم دوسروں پر برتر ی رکھتا ہے»،«ان زوجک خیر امتی اقد مھم اسلاماً واکثرھم علماً وافضلھم حلماً»۔(۴)
جب رسول اکرم(ص)کی خدمت میں ایک بھنا ہوا مرغ ہدیہ کے طور پر پیش کیا گیا توآپ نے خدا سے یہ دعا کی کہ اپنے سب سے محبوب بندے کو میرے پاس بھیج دے تاکہ وہ اسے میرے ساتھ کھا سکے،اسی وقت حضرت علی(ع)آپ کی خدمت میں پہونچے۔(۵)
جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم(ص)نے حضرت علی(ع)کے بارے میں یہ آپ سے فرمایا:«انه اولئکم ایماناً معی واوفاکم بعھد اللہ تعالیٰ واقومکم بامراللہ واعدلکم فی الرعیة واقسمکم بالسویة واعظکم عند اللہ مزیة»علی تم لوگوں میں سب سے پہلے میرے ساتھ صاحب ایمان لانے والے، سب سے زیادہ عہد خدا کو وفا کرنے والے،امر خدا کے لئے سب سی زیادہ قیام کرنے والے،رعایا کے درمیان عدالت سے کام لینے والے اور برابر سے تقسیم کرنے والے ہیں اور ان کا مقام ومرتبہ خدا کے نزدیک تم سب سے برتر وبالاہے۔
جابر اس کے بعد کہتے ہیں کہ آیۂ شریفہ:«ان الذین آمنوا وعملوا الصالحات اولئک ھم خیر البریة»حضرت علی(ع)کے بارے میں نازل ہوئی ہے،وہ مزید کہتے ہیں:جب کبھی بھی حضرت علی(ع)تشریف لاتے تھے تو لوگ کہتے تھے:«خيرالبرية» آگئے۔
اس سلسلہ میں بہت روایات موجود ہیں جن کو اس مقام پر نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے مذکورہ تمام باتوں کے پیش نظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیعیت کی بنیاد اسلام کے سورج کے طلوع وظہور کے ساتھ آنخصرت(ص) کی دست مبارک سے رکھی گئی تھی یعنی آنخصرت(ص) نے توحید ونبوت کے اعلان کے ساتھ امامت کو بھی پیش کردیا تھا اور دوسری جانب اپنے رفتاروگفتار سے حضرت علی(ع)کی شخصیت کی عظمت کو سب کی نگاہوں میں اس طرح واضح اور آشکار کردیا تھا کہ اس دور کے بعض مسلمان آپ کے فضائل وکمالات کے شیدا ہوگئے تھے ایسے افراد مسلمانوں کے درمیان مولائے کائنات کے شیعوں کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے۔
اس رجحان میں اس لئے بھی  مزید اضافہ ہورہا تھا کہ رسول خدا(ص) علی الاعلان حضرت علی(ع)کے شیعوں کی تعریف کرتے تھے اور انھیں قیامت میں کامیاب ہونے والوں میں قرارد یتے تھے۔
رسول اکرم(ص)کی وفات کے بعد جب آپ(ع)کی خلافت اور جانشینی کا مسئلہ سامنے آیا تو جو حضرات عہد رسالت میں آپ(ع) کے سب سے زیادہ گرویدہ تھے اور آپ کے شیعہ سمجھے جاتے تھے انہوں نے امامت کے بارے میں موجود نصوص اور حضرت علی(ع)کی شخصیت کی عظمت کی بناپر آپ کی بلافصل خلافت اور امامت کی حمایت کی اور یہ لوگ دوسروں کی حکومت وخلافت کو ناحق سمجھتے تھے،اگرچہ انہوں نے اپنے مولا کی پیروی اور اسلام ومسلمین کی مصلحتوں کے تحت صبر وتحمل سے کام لیا اور رواداری کا راستہ اپنایا اور منطقی انداز سے استدلال  کے علاوہ اور کوئی کام نہیں انجام دیا بلکہ جہاں تک مسلمانوں اور اسلام کی مصلحتوں کا تقاضا تھا وہ خلفاء کے ساتھ تعاون بھی کرتے رہے ۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورۃ آل عمران:آیت۶۱۔
۲۔۔بیہقی،محاسن،ج۱،ص۳۹،الامام الصادق ومذاھب الاربعة،ج۱،ص۵۷۴۔
۳۔طبقات الحنابلة،ج۲،ص۱۲۰،الامام الصادق ومذاھب الاربعة،ج۱،ص۵۷۵ ۔
۴۔خوارزمی،خطیب،المناقب، فصل،۹،ج۱۱۱،ص۱۰۶۔
۵۔حوالہ سابق حدیث ،ص،۱۱۳،۱۱۴،۱۰۷،۱۰۸،حدیث کی سند اور دلالت کے بارے میں بہت بحث کی گئی ہے اس حدیث کے بار ے میں زیادہ تفصیلی بحث میر حامد حسین ھندی کی کتاب «عبقات الانوار»میں مذکورہے۔
۶۔گذشتہ حوالہ،ج۱۱۱،۱۲۰،ص۱۱۲ دیگر صحابہ پر حضرت علی(ع)کی افضلیت کے بار ے میں مفصل بحثیں کی گئی ہیں اور آپ کی افضلیت کا عقیدہ صرف شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ بہت سے معتزلی علماء(خاص طور سے بغداد کے علمائے معتزلہ)کا یہی نظریہ ہے،ابن ابی الحدید نے نہج البلاغہ کی شرح میں متعدد مقامات پرتفصیل سے روشنی ڈالی ہے،معتزلہ کی سب سے اہم شخصیت جس نے اس بارے میں گفتگو کی ہے وہ ابو جعفر اسکافی ہیں انہوں نے اپنی کتاب «نقض عثمانیة الجاحظ»،اور«المعیار والموازنة» کو اسی بارے میں تالیف کیا ہے اور مستحکم دلائل کے ساتھ دوسروں پر حضرت علی(ع)کی افضلیت ثابت کی ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16