Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183809
Published : 17/10/2016 18:1

محدث قمی شیخ عباس (رہ) کی سوانح حیات اور ان کی خدمات

آقا بزرگ تہرانی جو شیخ عباس قمی کے دوستوں میں سے ہیں موصوف کے بارے میں کہتے ہیں: وہ انسان کامل اور عالم فاضل کا اعلی نمونہ تھا اور تمام اچھے صفات جیسے حسن خلق اور تواضح وغیرہ کا حامل تھا،سلیم الذات اور شریف النفس تھے اور غرور اور شہرت طلبی سے دوری اختیار کرتے اور ایک زاہدانہ زندگی گزارتے تھے،میں جتنا عرصہ ان کے ساتھ رہا ان سے مانوس ہوئے اور میری جان اور روح ان کی جان اور روح میں گھل مل گئے تھے۔


ولایت پورٹل:
شیخ عباس قمیاور محدث قمی عباس بن محمد رضا قُمی (۱۲۹۴-۱۳۵۹ ہجری قمری) کے مشہور نام ہیں۔ آپ چودھویں صدی کے شیعہ محدث، تاریخ دان اور خطبا میں سے ہیں۔ مفاتیح الجنان، سفینۃ البحار و منتہی الآمال ان کی مشہور تألیفات ہیں۔ محدث قمی نے سن ۱۳۵۹ ہجری قمری کو نجف اشرف میں وفات پائی اور حضرت علی علیہ السلام کے جوار میں دفن ہوئے۔  
پیدایش
شیخ عباس قمی سن ۱۲۹۴ قمری کو قم میں پیدا ہوئے، ان کے والد محمد رضا قمی ایک متدین اور دینی امور میں لوگوں کیلئے ایک مرجع کی حیثیت رکھتے تھے جن سے وہ اپنے دینی وظائف سے آگاہ ہوتے تھے، انکی والدہ بانو زینت بھی ایک متدین اور پارسا خانون تھیں، محدث قمی ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ میں جس مقام پر پہنچا ہوں وہ میری ماں کی مرہون منت ہے کیونکہ انکی ہمیشہ کوشش یہی تھی کہ مجھے باوضو اور دودھ پلائے۔
اساتید
شیخ عباس قمی نے ابتدائی تعلیم قم میں حاصل کی جہاں انہوں نے درج ذیل اساتید سے کسب فیض کیا: میرزا محمد ارباب قمی شیخ ابوالقاسم قمی سید احمد طباطبایی قمی محدث قمے کی سسر شیخ محمد حسین قمی استاد خط نستعلیق۔
حصول تعلیم کیلئے سفر
محدث قمی نے اعلی تعلیم کیلئے مختلف اسلامی ملکوں کا سفر کیا:
نجف اشرف روانگی
شیخ عباس قمی سن ۱۳۱۶ قمری ۲۲ سال کی عمر میں نجف اشرف چلے گئے،جہاں انہوں نے درج ذیل استاتید سے کسب فیض کیا:
سید محمد کاظم طباطبائی یزدی صاحب کتاب فقہی العروۃ الوثقی میرزا حسین نوری جو محدث نوری سے معروف ہیں، صاحب کتاب المستدرک میرزا محمدتقی شیرازی جو میرزای دوم سے معروف ہیں۔ سید حسن صدر کاظمی اور سید ابوالحسن نقوی لکھنوی۔
شیخ عباس قمی نجف میں اقامت کے دوران سن 1318 ہجری قمری کو حج کیلئے مکہ تشریف لے گئے۔
ایران واپسی
محدث قمی نے سن 1322ہجری قمری کو محدث نوری کے وفات کے بعد نجف کو ترک کرکے ایران کا رخ کیا،آپ بہت بڑے شیعہ علماء میں سے تھے،ایران میں قیام کے دوران کئی بار عتبات عالیات کی زیارت کیلئے تشریف لے گئے اور دبارہ حج سے مشرف ہوئے،سن 1332ہجری قمری کو محدث قمی نے مشہد مقدس کی طرف سفر کیا اور وہیں پر زندگی گزارنے لگے،حاج شیخ آقا حسین قمی کے کہنے پر انہوں نے مشہد میں قیام کا ارادہ کیا اور سن 1354 ہجری قمری تک وہیں مقیم رہے،موصوف اپنی کتاب فوائد الرضویۃ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ بہت زیادہ گرفتاریوں اور سختیوں کی وجہ سے جن تفصیل طولانی ہے، میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام جو غریبوں کی پناگاہ اور متقیوں کا امام ہے، سے پناہ مانگوں۔
مشہد مقدس میں انکے بعض اساتید درج ذیل ہیں:
۱۔آقا بزرگ حکیم شہیدی۔
۲۔میرزا محمد خراسانی فرزند آخوند خراسانی۔
۳۔شیخ مرتضی آشتیانی۔
۴۔آقا حسین قمی۔
۵۔میرزا عبدالجواد ادیب نیشابوری۔
مشہد میں 22 سالہ قیام کے دوران انہوں نے مختلف کتابیں لکھی اور بہت زیادہ مجالس اور محافل سے خطاب کئے جو ہر خاص و عام میں مقبول ہوئے، انہوں نے ان مجالس اور محافل میں امریکیوں کی مخالفت اور لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی خاطر تقاریریں کیں جس کی وجہ سے مشہد کے ڈیموکریٹک حذب کی جانب سے قتل کی دھمکی بھی ملی۔
دوبارہ نجف روانگی
شیخ عباس قمی مسجد گوہرشاد کے واقعے، جس میں بہت سارے لوگ قتل ہوئے اور حاج آقا حسین قمی کو جلاوطن کیا گیا، کے بعد سن ۱۳۵۴ قمری کو نجف اشرف چلے گئے اور زندگی کے آخری ایام تک وہی پر قیام پذیر ہوئے۔
ذاتی اور اخلاقی خصوصیات
 آقا بزرگ تہرانی جو شیخ عباس قمی کے دوستوں میں سے ہیں موصوف کے بارے میں کہتے ہیں: وہ انسان کامل اور عالم فاضل کا اعلی نمونہ تھا اور تمام اچھے صفات جیسے حسن خلق اور تواضح وغیرہ کا حامل تھا،سلیم الذات اور شریف النفس تھے اور غرور اور شہرت طلبی سے دوری اختیار کرتے اور ایک زاہدانہ زندگی گزارتے تھے،میں جتنا عرصہ ان کے ساتھ رہا ان سے مانوس ہوئے اور میری جان اور روح ان کی جان اور روح میں گھل مل گئے تھے۔
آپ کے شاگرد
۱۔شیخ آقا بزرگ طہرانی
۲۔سید احمد موسوی مستنبط
۳۔سید احمد معروف به سید آقا تستری جزائری
۴۔شیخ حسین مقدس مشہدی
۵۔شیخ میرزا حیدر قلی خان سردار کابلی
۶۔سید شہاب الدین مرعشی نجفی
۷۔شیخ عبدالحسین رشتی
۸۔حاج ملا علی واعظ خیابانی تبریزی
۹۔سید علی مدد قائنی خراسانی
۱۰۔سید علی نقی فیض الاسلام طہرانی
۱۱۔شیخ محمد تقی مقدس طہرانی
۱۲۔شیخ محمد صادق صدر الشریعۃ تنکابنی
۱۳۔شیخ محمدعلی اردوبادی
۱۴۔شیخ محمد مہدی شرف الدین واعظی تستری
۱۵۔سید محمد ہادی میلانی
۱۶۔سید مصطفی صفایی خوانساری
۱۷۔سید میرزا مہدی شیرازی
۱۸۔شیخ یوسف بیارجمندی حائری
۱۹۔شیخ یوسف بن عبد علی رجایی مغزی.
آپ کے قلمی آثار
۱۔مفاتیح الجنان شیخ عباس قمی کی مشہورترین قلمی آثار میں سے ہے جو دعاؤں، زیارتوں اور پیامبر اکرم(ص) و ائمہ اطہار(ع) سے منقول مناجات پر مشتمل ہے اورتقریباً تمام شیعیان حیدر کرارکے گھروں میں موجود ہے۔
۲۔تحفۃ الاحباب،(علم رجال)
۳۔الدر النظیم فی لغات القرآن العظیم
۴۔کحل البصر فی سیرۃ سید البشر
۵۔کتاب نقد الوسائل شیخ حر عاملی
۶۔تقسیم بدایۃ الہدایۃ اثر شیخ حر عاملی
۷۔شرح کتاب الوجیزۃ شیخ بہائی
۸۔فیض القدیر فیما یتعلق بحدیث الغدیر
۹۔علم الیقین (علامہ مجلسی کی کتاب حق الیقین کا خلاصہ)
۱۰۔مقالید الفلاح فی عمل الیوم و اللیلہ
۱۱۔مقلاد النجاح (خلاصه کتاب مقالید الفلاح)
۱۲۔بحارالانوار کی گیارویں جلد کا خلاصہ
۱۳۔شرح کلمات قصار نہج البلاغۃ
۱۴۔ہدیۃ الانام الی وقایع الایام (کتاب فیض العلوم کا خلاصہ)
۱۵۔فیض العلام فی وقایع الشهور و الایام (دنوں اور مہینوں کے واقعیات کے بارے میں)
۱۶۔سفینۃ البحار و مدینۃ الحکم و الآثار؛ یہ کتاب بحارالانوار کا موضوعی خلاصہ ہے۔
۱۷۔تحفۃ الاحباب فی تراجم الاصحاب. (حضرت محمد(ص) اور ائمہ اطہار(ع) کے اصحاب کے بارے میں)
۱۸۔فوائد الرجبیۃ فیما یتعلق بالشہور العربیۃ
۱۹۔الدرۃ الیتیۃ فی تتمات الدرۃ الثمینۃ
۲۰۔ہدیۃ الزائرین و بہجۃ الناظرین ( قبور ائمہ اطہار علیہم السلام کی زیارت اور اس کے ثواب کے بارے میں اور اماموں کے روضوں میں مدفون علماء اور مؤمنین کی نشاندہی)
اللئالی المنثورۃ فی الاحراز و الاذکار المذکورۃ. (دعا اور دوسرے مستحبات کے بارے میں)
۲۱۔الفصول العلیہ فی المناقب المرتضویہ ( علی بن ابی طالب(ع) کے مناقب اور مکارم اخلاق)
۲۲۔سبیل الرشاد
۲۳۔حکمۃ بالغہ و مأۃ کلمۃ جامعۃ،(عقاید اور اصول دین کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام کے مختصر جملات)
۲۴۔ذخیرۃ الابرار فی منتخب انیس التجار
۲۵۔غایۃ القصوی فی ترجمۃ العروۃ الوثقی(آیت الله سید محمد کاظم یزدی کی کتاب العروة الوثقی کا فارسی ترجمہ)
۲۶۔التحفۃ الطوسیۃ و النفحۃ القدسیۃ(امام رضا علیہ السلام کی زیارت اور آپ کے روضہ اقدس سے مربوط بعض فوائد)
۲۷۔نفس المہموم (مقتل امام حسین(ع)
۲۸۔نفثۃ المصدور. (نفس المہموم کا تکملہ)
۲۹۔الانوار البہیہ فی تاریخ الحجج الالہیہ.
۳۰۔گناهان کبیره و صغیره کے بارے میں ایک کتابچہ۔
۳۱۔منازل الآخرۃ
۳۲۔شیخ طوسی کی کتاب مصباح المتہجد کا ترجمہ.
۳۳۔نزہۃ النواظر
۳۴۔مقامات العلیہ (معراج السعادۃ کا خلاصہ)
۳۵۔ترجمہ جمال الاسبوع
۳۶۔منتہی الآمال فی تواریخ النبی و الآل (معصومین(ع) کی تاریخ)
۳۷۔تتمۃ المنتہی فی وقایع ایام الخلفاء
۳۸۔تتمیم تحیۃ الزائر
۳۹۔الکنی و الالقاب(علما اور شعراء وغیرہ کے حالات زندگی)
۴۰۔ہدیۃ الاجباب فی المعروفین بالکنی و الالقاب(کتاب الکنی و الالقاب کا خلاصہ)
۴۱۔فوائد الرضویہ فی احوال علماء المذہب الجعفریہ(شرح حال علمای شیعہ)
۴۲۔بیت الاحزان فی مصائب سیدۃ النسوان
وفات اور مدفن
محدث قمی نے پیر کی رات ۲۲ ذی الحجہ سن ۱۳۵۹ قمری کو ۶۵ سال کی عمر میں نجف اشرف میں وفات پائی،سید ابوالحسن اصفہانی نے حرم امیر مؤمنین علیہ السلام میں انکی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد ان کے اپنے استاد محدث نوری کے جوار میں حضرت علی علیہ السلام کے روضہ اقدس میں دفن ہوئے۔ 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17