Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183810
Published : 17/10/2016 18:42

مفاتیح الجنان

مفاتیح الجنان یعنی جنت کی کنجیاں،شیعیان عالم کے یہاں دعاؤں کی رائج ترین کتاب کا نام ہے جس کو شیخ عباس قمی نے تالیف کیا ہے،یہ کتاب دعاؤں،مناجات، زیارات، سال و ماہ اور ایام کے مخصوص اعمال و عبادات، دینی آداب و رسوم اور بعض حکایات کا مجموعہ ہے کہ جو رسول اللہ(ص)، آئمہ معصومین(ع) اور علماء سے نقل ہوئے ہیں۔


ولایت پورٹل:
مفاتیح الجنان یعنی جنت کی کنجیاں،شیعیان عالم کے یہاں دعاؤں کی رائج ترین کتاب کا نام ہے جس کو شیخ عباس قمی نے تالیف کیا ہے،یہ کتاب دعاؤں،مناجات، زیارات، سال و ماہ اور ایام کے مخصوص اعمال و عبادات، دینی آداب و رسوم اور بعض حکایات کا مجموعہ ہے کہ جو رسول اللہ(ص)، آئمہ معصومین(ع) اور علماء سے نقل ہوئے ہیں۔
مفاتیح الجنان سے قبل دعاؤں کی دوسری کتابیں شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان رائج تھیں،مفاتیح کے مؤلف نے اس کتاب کو سابقہ کتب منجملہ سید بن طاؤس کی اقبال الاعمال، مصباح کفعمی اور علامہ مجلسی کی زاد المعادسے اقتباس کیا ہے۔
مفاتیح الجنانتالیف و اشاعت کے بعد قلیل سے عرصے میں ہمہ گیر ہوئی۔ موجودہ زمانے میں پوری دنیا کے شیعیان اہل بیت(ع) کے گھروں، مساجد اور مقدس مقامات پر قرآن کے ساتھ ساتھ مفاتیح الجنان بھی موجود ہے اور خاص دینی اور مذہبی مواقع اور مناسبتوں میں مستحب اعمال کے لئے اس کی طرف رجوع کیا جاتا ہے،فارسی میں مفاتیح الجنان کا مشہور ترین ترجمہ مہدی الہی قمشہ ای کا ترجمہ ہے۔
مفاتیح الجنان کے مؤلف نے اپنی کتاب«باقیات الصالحات»کو مفاتیح ميں ضمیمے کے طور پر شامل کیا ہے جو مختلف اشاعتوں میں مفاتیح کے حاشیے پر درج ہوئی ہے۔
مؤلف جناب محدث قمی نے یہ کتاب مفتاح الجنان نامی کتاب کی اصلاح کی غرض سے لکھی ہے جو ان کے زمانے میں رائج تھی اور اس میں بغیر سند کی دعائیں تھیں، موصوف اس بارے میں یوں فرماتے ہیں«دوستوں کا اصرار تھا کہ مفتاح الجنان کی مستند دعاؤں کو الگ کرکے دوسری معتبر دعاؤں کے ہمراہ تحریر کروں»۔
اس کے باوجود محدث بزرگوار نے دعاؤں کی سند درج نہیں کی ہے بلکہ ہر دعا کا ماخذ ذکر کیا ہے۔[
اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مندرجہ بعض دعائیں معصومین(ع) سے نقل نہیں ہوئی ہیں بلکہ بعض علماء کی تحریر کردہ ہیں، جن کی ایک مثال دعائے عدیلہ ہے۔
کتاب کی اجمالی فہرست
مفاتیح الجنان کے آغاز پر قرآن کریم کے چند سورتیں اور بیشتر چھوٹیں سورتیں درج ہیں جس کے بعد یہ کتاب مختلف حصوں پر مشتمل ہے:
باب اول: دعائیں
باب دوئم: سال کے اعمال
باب سوئم: زیارات
کتاب باقیات الصالحات

یہ مؤلف کی مستقل کتاب ہے جو انھوں نے بعد میں کتاب میں شامل کی ہے اور یہ کتاب مفاتیح کے حاشیئے پر لکھی گئی ہے اور چھ ابواب پر مشتمل ہے، اس کے آخر میں اسی ضمیمے کے ملحقات درج کئے گئے ہیں۔
اس حصے کے مندرجات:
پہلا باب: اعمال شب و روز کا خلاصہ، جس میں شب و روز کے مختلف اوقات کے اعمال اور دعاؤں نیز نماز شب کی کیفیت و آداب کو مندرج کیا کیا ہے۔
دوسرا باب: اس باب میں معصومین(ع) کے لئے نماز ہدیہ، لیلۃ الدفن کی نماز، حاجات کی نمازیں، استغاثہ کی نمازیں ، ایام ہفتہ کی نمازیں اور بعض دیگر مستحب نمازیں مندرج ہیں۔ مؤلف نے استخارہ کی اقسام بھی اسی باب میں بیان کی ہیں۔
تیسرا باب: یہ باب مختلف بیماریوں اور تکالیف اور آلام و اسقام سے شفاء اور بخار وغیرہ کے خاتمے کے لئے کی دعاؤں اور عوذات (تعویذوں) پر مشتمل ہے۔
چوتھا باب: یہ باب کتاب شریف الکافی کی منتخب دعاؤں پر مشتمل ہے اور اس باب کی بیشتر دعائیں مشکلات اور دشواریوں ـ جیسے: قلت رزق، وغیرہ جیسے دنیاوی دنیاوی حوائج کی برآوردگی وغیرہ پر مشتمل ہے۔
پانچواں باب: یہ باب بعض مختصر احراز اور دعاؤں پر مشتمل ہے جنہيں مہج الدعوات و مجتنی سے منتخب کیا گیا ہے۔ اس باب میں بلاؤں سے دور رہنے کی دعائیں (احراز) نیز چند مناجاتیں اور وسعت رزق کی دعائیں شامل ہیں۔
چھٹا باب: بعض سورتوں اور آیات کریمہ کے خواص، چند دعاؤں اور متفرقہ موضوعات پر مشتمل ہے، اس باب میں قرآن کی بعض سورتوں اور آیات کے خواص بیان کئے گئے ہیں جو روزمرہ مشکلات و مسائل کے حل ہونے اور حاجات کے برآوردہ ہونے کے لئے ہیں،مطلوبہ افراد کو خواب میں دینے کے عمل، مطالعہ کے آداب، دعائے عقیقہ اور قرآن کریم سے استخارہ کی مختلف قسموں کو اسی باب میں بیان کیا گیا ہے۔
تراجم
فارسی میں مفاتیح کا رائج ترین اور معروف ترین ترجمہ مہدی الہی قمشہ ای کا ہے۔ علاوہ ازیں سید ہاشم رسولی محلاتی اور حسین استاد ولی کے تراجم بھی شائع ہوئے ہیں۔
دوسری زبانوں میں بھی مفاتیح کے تراجم موجود ہیں اور انگریزی میں اس کتاب کے کم از کم چار تراجم دستیاب ہیں اور فرانسیسی، ترکی اور ہسپانوی زبانوں میں بھی اس کے تراجم موجود ہیں۔
اردو زبان میں مفاتیح کے متعدد تراجم موجود ہیں جن میں تین تراجم برقی کتب کی صورت میں دستیاب ہیں جنہیں ورڈ کی صورت میں انٹرنیٹ سے بآسانی اخذ کیا جاسکتا ہے:
۱۔ترجمہ: حافظ سید ریاض حسین نجفی
۲۔ترجمہ: ناظم علی خیر آبادی
۳۔تر جمہ: ہئیت علمی مؤسسہ امام المنتظر

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12