Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183827
Published : 18/10/2016 17:9

شیعیت کی تاریخ کے متعلق غلط افواہیں

عبد اللہ بن سبا کے ذریعہ شیعیت کے آغاز کا مسئلہ نہ تاریخی لحاظ سے ثابت ہے اور نہ ہی اس کا کوئی معتبر مدرک و ماخذ ہے اسی کے ساتھ یہ نظریہ تاریخی حقائق اور معقول بنیادوں سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا لہٰذا پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ایک افسانہ سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:
گذشتہ فصل میں ہم نے تشیع کے آغاز اور شیعیت کی تاریخ کے بارے میں صحیح نظریہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ تشیع کی تاریخ اسلام کی تاریخ کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور خود بانی اسلام نے ہی تشیع کی بنیاد رکھی ہے،ہم نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا تھا کہ شیعیت کے آغاز کے بارے میں بعض مصنفین اور اہل نظر کی الگ رائے ہے اور ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ایک الگ فصل میں ان باطل اور غلط نظریات کا جائزہ لیا جائے گا چنانچہ اس فصل میں انہیں نظریات کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔
ان نظریات کو نقل کرنے یا ان پر تنقیدی گفتگو سے قبل یہ وضاحت کردینا مناسب ہے کہ گذشتہ فصل کی بحث اور صحیح نظریہ کی حمایت میں پیش کئے جانے والے دلائل کے بعد دوسرے باطل نظریات سے بحث کی چنداں ضرورت نہیں ہے لیکن چونکہ اس کتاب کا مقصد مسائل کی مکمل وضاحت اور انہیں واضح طریقہ سے پیش کرنا ہے لہٰذا بہتر ہے کہ دوسرے نظریات پر بھی تحقیقی نگاہ ڈال لی جائے۔
عبد اللہ بن سبا کا افسانہ
بعض مصنفین کے مطابق شیعیت خلافت عثمان کے آخری دور میں وجود میں آئی اور شیعیت کا موجد «عبد اللہ بن سبا» نامی شخص ہے ، ان مصنفین کے مطابق عبد اللہ بن سبا ایک یہودی تھا جو تیسری خلافت کے دور میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بظاہر مسلمان ہوگیا لیکن درحقیقت اس کا اصل مقصد اسلامی عقائد میں تبدیلی کرنا تھا چنانچہ اس نے حضرت علی ؑکی خلافت بلافصل کا نظریہ پیش کیا اس کے ساتھ ساتھ عصمت کو امامت کی لازمی شرط قرار دیا اس طرح امامت جو کہ ایک عام سیاسی ضرورت تھی اس میں تقدس کا رنگ بھر دیا، عبد اللہ بن سبا نے ہی سابقہ خلفاء کی خلافت کے غاصبانہ ہونے کا اعلان کرکے لوگوں کو خلیفۂ وقت کے خلاف بھڑکایا اور آخر کار باغیوں کے ہاتھوں خلیفۂ سوم قتل ہوگئے اس طرح ان لوگوں کے خیال میں شیعیت عبد اللہ بن سبا کے ذہن کی ایجاد ہے اور اس کا قرآن و سنت، امیر المؤمنین حضرت علی(ع) یا پیغمبر اکرم(ص) کے بزرگ اصحاب کی سیرت اور رفتار و گفتار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ نظریہ متعدد وجوہات سے ناقابل قبول ہے اور مختلف جہات سے تنقید کے لائق ہے۔(۱)اس نظریہ کا لازمہ یہ ہے کہ ہم خلافت اسلامیہ کو معاشرہ کے حقائق اور واقعات و حالات سے بے خبر تسلیم کریں یا یہ تسلیم کریں کہ انھیں اسلام و مسلمین کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی یا پھر مجبورا یہ ماننا پڑے گا کہ ان میں  اتنی صلاحیت ہی نہ تھی کہ وہ سازشوں کا مقابلہ کرسکیں چنانچہ انھوں نے کچھ نہیںکیا حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ خلیفہ اور حکومتی کارندے مخالفین کے ساتھ بہت سختی سے پیش آتے تھے چاہے وہ مخالفین بزرگ اصحاب ہی کیوں نہ ہوں ۔چنانچہ جناب ابوذر غفاری کو ربذہ جلا وطن کیا گیا ۔ جناب عمار یاسر کو کوڑے لگائے گئے،شدید جسمانی اذیتیں پہنچائی گئیں،ایسے حالات میں یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ امت مسلمہ کے درمیاں اتنی بڑی سازش پروان چڑھتی رہی اور ارباب حکومت خاموش تماشائی بنے رہے؟ خلافت کی جانب سے ان لوگوں کے خلاف کسی بھی رد عمل کا ظاہر نہ ہوناکیا اس نظریہ کے باطل ہونے کی دلیل نہیں ہے ؟
۲۔مورد بحث نظریہ نہ صرف یہ کہ خلافت اور خلیفہ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے بلکہ پوری امت مسلمہ اور پیغمبر اکرمؐکے تمام بزرگ اصحاب پر انگشت نمائی کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ کیا واقعا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ پوری امت مسلمہ ایک یہودی کی سازش سے بے خبر رہی یا سازش کے تئیں غفلت برتتی رہی اور آخر کار سازش کا شکار ہوکر ایک یہودی کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی ؟ خصوصا عبد اللہ ابن سبا کی داستان میں ابوذر ، عمار یاسر ، محمد بن حذیفہ ، محمد بن ابی بکر ، صعصعہ بن صوحان اور مالک اشتر جیسی بزرگ شخصیتوں کا نام دیکھ کر تویہ باورکیا جاسکتا کہ یہ حضرات بھی اس کی فتنہ انگیزیوں کا شکار ہوئے اور قتل عثمان نیز جنگ جمل جیسے واقعات کو ہوا دینے والے یہی افراد تھے !!!
۳۔جن خصوصیات کے ساتھ عبد اللہ بن سبا کا تذکرہ ہوتا ہے اگر ایسی واقعاًکوئی شخصیت موجود تھی توعلویوں کے مخالفین کے اقوال یا تحریروں میں اس کا کوئی ذکر کیوں نہیں ملتا حالانکہ مخالفین نے علویوں کو بد نام کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا تھا اگر ایسا شخص واقعا موجود ہوتا یا یہ داستان حقیقت پر مبنی ہوتی تو بلاشک و شبہ سب سے زیادہ معاویہ اوراس کے حمایتی اور اس کے ہرکارے علویوں اور شیعوں کو بدنام کرنے کے لئے جگہ جگہ اسی داستان کے تذکرے کرتے نظر آتے لیکن کسی تاریخ میں ایسا کوئی اشارہ بھی نہیں ملتا۔
۴۔عموما کسی بھی مذہب کے ماننے والے اس مذہب کے بانی یا تبلیغ و ترویج میں شریک اہم شخصیات کا تذکرہ عزت و احترام سے کرتے ہیں اور ایسے افراد کو مذہب کے پیرو ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیںاس کے جب کہ مذہب شیعہ کے اہم علماء و مصنفین نے جہاں کہیں عبد اللہ بن سبا کا تذکرہ کیا ہے وہاں یا تو سرے سے عبد اللہ بن سبا کے وجود کا ہی انکار کیا ہے یا برے الفاظ اور لعن و نفرین کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا ہے۔
۵۔ تاریخی لحاظ سے بھی عبد اللہ ابن سبا کی داستان کا صرف ایک ہی ماخذ ہے اور وہ ہے «تاریخ طبری»اگرچہ ابن اثیر،ابو الفداء اور ابن کثیر جیسے مؤرخین نے بھی تذکرہ کیا ہے لیکن ان سب کا ماخذ طبری ہی ہے اور طبری نے بھی اس داستان کو سیف بن عمر تمیمی سے نقل کیا ہے جو علم رجال کے علماء کے نزدیک وضع حدیث سے متہم ہے۔
اس نے تاریخ اسلام کے بارے میں وہ کتابیں لکھیں ہیں (۲) جن میں بے شمار بے بنیاد اور فرضی باتیں تحریر کی ہیں۔ عبد اللہ بن سبا کی داستان بھی انہیں بے بنیاد اور فرضی تحریروں کا حصہ ہے۔
۶۔شیعہ احادیث اور ملل و نحل کی کتابوں میں عبد اللہ بن سبا کو «غالی» اور حضرت علی(ع)کی الوہیت کا قائل  کہا گیا ہے انہیں کتب میں یہ بھی مرقوم ہے کہ مولائے کائنات اس کے ساتھ بہت سختی سے پیش آئے اور آپ نے پہلے اس کی جلاوطنی پھر قتل کا حکم صادر فرمایا اسی کے نام کی مناسبت سے غالیوں کا ایک فرقہ«سبئیہ» کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، واضح سی بات ہے کہ ان باتوں کا طبری کے ذریعہ اختراع کی گئی عبد اللہ بن سبا کی داستان سے کوئی تعلق نہیں ہے،خلاصہ کلام یہ کہ عبد اللہ بن سبا کے ذریعہ شیعیت کے آغاز کا مسئلہ نہ تاریخی لحاظ سے ثابت ہے اور نہ ہی اس کا کوئی معتبر مدرک و ماخذ ہے اسی کے ساتھ یہ نظریہ تاریخی حقائق اور معقول بنیادوں سے بھی کوئی مناسبت نہیں رکھتا لہٰذا پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ایک افسانہ سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔(۳)
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
حوالہ جات:
(۱)رشید رضا ، السنۃ و الشیعۃ ص۴،۶، علی سامی النشار نے«نشأۃ الفکر الفلسفی فی الاسلام» ؍ص۱۸، محمد ابوزہرہ نے المذاہب الاسلامیہ ،ص۶۴ کے علاوہ بعض مستشرقین بھی اس نظریہ کے حامی ہیں ، مزید تفصیلات کے لئے نشأۃ التشیع ص۵۰، الامام الصادق و المذاہب الاربعہ ،ج۴، ص۴۵۶سے ، ص۴۶۰، بحوث فی الملل و النحل ج۶، ص، ۱۲۷، ۱۲۸ملاحظہ فرمائیں ۔
(۲)حاکم نیشاپوری  سیف بن عمر کے بارے میں کہتے ہیں کہ«اس کی جانب کفر کی نسبت و تہمت دی جاتی ہے اور اس کی روایات کی کوئی قیمت نہیں ہے»ابن معین اس کے بارے میں کہتے ہیںکہ اس کی حدیث ضعیف ہیں اور ان میں کوئی اچھائی نہیں ہے ۔«نسائی نے بھی اس کو ضعیف قرار دیا ہے ۔سیوطی نے سیف بن عمر کو«وضاع الحدیث»کثرت سے حدیث گڑھنے والا قرار دیا ہے،ملاحظہ فرمائیں:بحوث فی الملل و النحل ج۶،ص۱۳۳۔
(۳)الف:الفتوح و الردۃ، ب:الجمل مسیر عایشہ و علی۔
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18