Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183835
Published : 18/10/2016 20:11

آیت اللہ العظمی خوئی ماضی قریب کے ایک عظیم مرجع تقلید

سید ابوالقاسم سنہ 1330 ہجری میں 13 سال کی عمر میں اپنے بھائی سید عبداللہ خوئی کے ہمراہ نجف اشرف میں اپنے والد سے جا ملے، عربی ادب اور منطق سیکھنے کے بعد حوزہ علمیہ کے اعلی علمی سطوح کو طے کیا، سید خوئی 21 سال کی عمر میں شیخ الشریعۂ اصفہانی کے درس خارج میں حاضر ہوئے اور دوسرے علوم میں بھی نامور اساتذہ سے استفادہ کیا۔ ان اساتذہ میں سے بعض کا انہوں نے اپنی عظیم 20 جلدی کاوش«معجم رجال الحدیث»میں ذکر کیا ہے۔

ولایت پورٹل:
سید ابوالقاسم موسوی خوئی (ولادت 29 نومبر 1899ء، مقام ولادت: ایران، شہر خوی – وفات: 8 اگست 1992ء، مقام وفات: نجف اشرف، اپنے زمانے کے نمایاں ترین شیعہ فقہاء اور مراجع تقلید میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے نجف اشرف کے بڑے اساتذہ سے فیض حاصل کیا اور خود بھی نمایاں شاگردوں کی تربیت کی اور ان کے بعد کی نسل کے بہت سے مراجع تقلید ان کے شاگرد ہیں۔
وہ حوزات علمیہ میں رائج بہت سے اسلامی علوم میں معدودے چند بے مثل اساتذہ میں شمار ہوتے تھے اور ان کی فقہی، اصولی، رجالی اور تفسیری آراء حوزات علمیہ کی مقبول ترین آراء سمجھی جاتی ہیں،حوزہ میں کوئی بھی تدریسی مسند ان کی آراء سے بے اعتناء نہیں ہوسکتی۔
علوم اسلامی کے بہت سے موضوعات میں انہوں نے گرانقدر آثار تخلیق کئے ہیں جن میں البیان فی تفسیر القرآن اور معجم رجال الحدیث بہت زیادہ نمایاں اور مشہور ہیں، دنیا بھر کے کروڑوں شیعہ عرصۂ دراز تک ان کی تقلید کرتے رہے ہیں اور انہوں نے دنیا بھر میں اسلام کی ترویج کی طرف اپنی خاص توجہ کی بناء پر بہت سے ممالک میں بہت سے علمی و تربیتی مراکز یادگار کے طور پر چھوڑے ہیں۔
ولادت اور نسب
سید ابوالقاسم خوئی نے 15 رجب سنہ 1317ہجری کو ایران کے صوبہ مغربی آذربائیجان کے شہر خوی میں ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کا سلسلۂ نسب امام موسی کاظم(ع) تک پہنچتا ہے،ان کے والد سید علی اکبر خوئی مشہور زمانہ عالم دین شیخ عبداللہ مامقانی کے شاگرد تھے، وہ حصول علم کے بعد اپنے آبائی وطن واپس لوٹ گئے اور وہیں اپنے دینی اور علمی فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوئے، لیکن کچھ عرصہ بعد خوی کو نجف اشرف میں سکونت اختیار کرنے کی غرض سے ترک کردیا۔
تعلیمی مراحل
سید ابوالقاسم سنہ 1330 ہجری میں 13 سال کی عمر میں اپنے بھائی سید عبداللہ خوئی کے ہمراہ نجف اشرف میں اپنے والد سے جا ملے، عربی ادب اور منطق سیکھنے کے بعد حوزہ علمیہ کے اعلی علمی سطوح کو طے کیا، سید خوئی 21 سال کی عمر میں شیخ الشریعۂ اصفہانی کے درس خارج میں حاضر ہوئے اور دوسرے علوم میں بھی نامور اساتذہ سے استفادہ کیا۔ ان اساتذہ میں سے بعض کا انہوں نے اپنی عظیم 20 جلدی کاوش«معجم رجال الحدیث»میں ذکر کیا ہے۔ 
وفات
آیت اللہ العظمی خوئی (رہ) نے اپنی پوری زندگی تدریس اور طلباء پروری میں خرچ کی ،نیز دنیا میں موجود شیعوں کی بھرپور حمایت فرمائی،لیکن8 اگست 1992ء  کو علم و فقاہت کا یہ آفتاب ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا،آپ کی کل زندگی ۹۴ برس تھی ،آپ کو مسجد خضراء، صحن شریف علوی میں سپرد خاک کیا گیا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18