Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183840
Published : 19/10/2016 8:21

داعش کی نابودی کے ساتھ موصل کی آزادی شروع

عراق میں داعش کے آخری گڑھ موصل کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کے دوسرے روز بھی عراقی افواج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر تابڑ توڑ حملے جاری رکھے۔

ولایت پورٹل:
رپورٹ کے مطابق عراق کے فوجی ذرائع سے ملنے والی خبروں میں کہا جارہا ہے کہ عراقی افواج نے تین جانب سے موصل کی جانب تیز رفتار پیشقدمی کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رکھا،عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے پیر کی صبح موصل کو آزاد کرانے کی کارروائیاں شروع کرنے کا فرمان جاری کیا تھا۔
موصل شہر کی آزادی کی کارروائیوں میں عراقی فوج،پولیس،عوامی رضاکارفورس اور کرد پیشمرگہ ملیشیا کے تقریبا ساٹھ ہزار جوان شریک ہیں،عراقی افواج نے کارروائیوں کے پہلے ہی دن موصل کے آس پاس دسیوں دیہاتوں، قصبوں اور چھوٹے شہروں کو آزاد کرالیا،العراقیہ ٹیلی ویژن چینل نے خبردی ہے کہ عراقی افواج نے موصل شہر کے قریب تیل کے دسیوں کنوؤں کو آزاد کرالیا ہے۔
خبروں کے مطابق اس وقت موصل کے جنوب میں القیارہ کے قریب واقع عین جحش کے علاقے میں مجموعی طور پر چھپن تیل کے کنویں ہیں جن پر عراقی افواج نے کنٹرول کرلیا ہے،اس درمیان عراقی ذرائع نے خبردی ہےکہ داعش کی عورتوں کے ونگ کی سرغنہ ام حفصہ عمری کو موصل کی آزادی کی کارروائیوں کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔
داعش کی عورتوں کے ونگ کی سرغنہ ام حفصہ عمری جو کشتی کے ذریعے اپنی کئی ساتھیوں کے ہمراہ فرار کررہی تھی،موصل کے مضافات میں بادوش ڈیم کے قریب ہوائی حملے میں ہلاک ہوگئ،امریکی وزارت جنگ پنٹاگون نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ عراقی افواج موصل کی آزادی کی کارروائیوں میں اپنے طے شدہ منصوبوں سے کافی آگے چل رہی ہیں۔
پنٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ موصل کے اطراف سے جو خبریں آرہی ہیں ان کے پیش نظر عراقی افواج نے ابتدائی ایام کے اپنے اہداف حاصل کرلئے ہیں۔
دوسری جانب عراق میں پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی ادارے کے آپریشنل شعبے کے سربراہ نے کہا ہے کہ چند روز قبل کرد پیشمرگہ ملیشیا پر داعش کے ذریعے کئے گئے کیمیائی حملے کو دیکھتے ہوئے یہ ادارہ موصل کی جنگ کے دوران داعش کے ذریعے ممکنہ کیمیائی حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی تعداد میں ماسک تیار کررہا ہے۔
عالمی ریڈ کراس کمیٹی نے بھی کہا ہے کہ وہ موصل سے محفوظ مقامات کی جانب پناہ لینے والے افراد کی دیکھ بھال کے لئے تیار ہے۔
جبکہ بعض امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا خدشہ پایا جا رہا ہے کہ موصل سے باہر نکلتے وقت ہزاروں افراد محاذ جنگ کے درمیان کہیں پھنس نہ جائیں -اور پھر دہشت گرد عناصر انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال نہ کریں۔
ابنا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18