Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183859
Published : 20/10/2016 13:53

رہبر انقلاب اسلامی سے ممتاز اور خلاق طلباء کی ملاقات:

ایرانی طلباء کو علم و ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ،ایمان،عزت اور معنویت کی دولت سے مالا مال ہونا چاہئے

رہبرانقلاب اسلامی نے ایک بار پھر فرمایا ہے کہ امریکا کے بارے میں حسن ظن نہیں رکھا جاسکتا۔

ولایت پورٹل:
مملکت ایران کی تمام یونیورسٹیز کے ممتاز اور خلاق اسٹوڈنٹس نے بدھ کو رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی، رہبرانقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں ایران کی جانب سے استقامتی محاذ کی حمایت کے سلسلے میں امریکا کے حالیہ موقف پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکا اسلامی جمہوری نظام میں دینی معیارات کو ختم کرنا چاہتا ہے،رہبرانقلاب اسلامی نے شیطانی طاقتوں کی دشمنی اور عداوت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ چند روز قبل ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ جب تک استقامتی محاذ کے لئے ایران کی حمایت باقی رہے گی اس وقت تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایران پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں گی یا نہیں ، رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ وہی حقیقت ہے جس کے بارے میں ہم نے بارہا ایرانی حکام کو بتایا ہے،آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران بعض امریکی حکام کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ رہبرانقلاب اسلامی امریکا سے بدظن ہیں امریکی حکام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھارے اس قسم کے بیانات کے بعد بھی کیا تمہارے بارے میں حسن ظن رکھا جاسکتاہے ؟ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہم نے ایرانی حکام سے ملاقاتوں اور میٹنگوں میں بارہا کہا ہے کہ اگر آپ ایٹمی معاملے میں پیچھے ہٹیں گے تو( امریکی حکام) ایران کے میزائلی پروگرام کو مدا بنائیں گے ، اگر اس معاملے میں بھی پیچھے ہٹ گئے تو وہ استقامتی محاذ کی حمایت کا معاملہ اٹھائیں گے اور اس کے بعد بھی اگر آپ نے پسپائی اختیار کرلی تو وہ انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھاکر آگے بڑھیں گے اور اگر آپ لوگوں نے ان کی یہ ساری باتیں مان لیں تو وہ اسلامی نظام سے دینی معیاروں کو ختم کرنے کی بات کریں گے، رہبرانقلاب اسلامی نے یورپی یونین کے حالیہ بیان کا ذکرکرتے ہوئے جس میں ایران کی عظیم توانائیوں اور وسائل کا ذکرکیا گیا ہے فرمایا کہ ہم جو ایران کے قدرتی ذخائر و ذرائع، انسانی وسائل اور ترقی و پیشرفت کی باتیں کرتے ہیں تو وہ صرف رجزخوانی یا نعرے  نہیں ہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے کہ مغرب والے بھی جس کا اعتراف کرتے ہیں، رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی حکام،  اسلامی حکومت، اور ترقی و پیشرفت کے مواقع کے حامل ایرانی عوام کا ہر حال میں مقابلہ کریں گے اور اگر ایران کے ذہین طلبا اور اسکالر اس حقیقت کو صحیح معنوں میں درک کرلیں تو وہ اپنی تاریخی ذمہ داریوں کو اچھی طرح  ادا کرسکیں گے -  رہبرانقلاب اسلامی نے موجودہ دور کی بشریت  کے مصائب و مشکلات اور مادی افکار کی شکست  کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کو آج ایسے نئے افکار اور نئی باتوں کی ضرورت ہے جو انسانی مسائل اور بین الاقوامی مشکلات کو حل کرسکتی ہوں، آپ نے فرمایا کہ امریکا کے صدارتی انتخابات کے دونوں امیدواروں کی انتخابی مہم کے دوران دونوں طرف سے جو باتیں اور موضوعات اٹھائے جارہے ہیں وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ صاحبان حکومت و طاقت کے یہاں اخلاقیات، معنویت اور ایمان کا فقدان ہے، رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ کچھ ہی عرصے بعد امریکا کے انہی دونوں امیدواروں میں سے کوئی ایک، ایسے ملک کا صدر بن جائے گا جس کے پاس سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ، مادی طاقت اور بڑے بڑے ذرائع ابلاغ ہیں ، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ذہین طلبا اور اسکالروں پرحکام کی خصوصی توجہ کو اسلامی نظام کا ایک بڑا مقصد بتایا  اور فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک ترقی یافتہ ، طاقتور ، اخلاقی اعتبار سے ممتاز ، نئے افکار و بیان کا حامل ، صاحب عزت ، ایمان و معنویت سے سرشار اور نئے اسلامی تمدن کا علمبردار ملک ہونا چاہئے۔
سحر ٹی وی




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18