Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183860
Published : 20/10/2016 17:2

کیا شیعہ مذہب کا آغاز حضرت علی (ع)کے دور حکومت سے ہوا؟

بعض حضرات کے نزدیک تشیع کا آغاز مولائے کائنات حضرت علی(ع) کی خلافت ظاہری کے دور میں ہوا البتہ ان لوگوں کے درمیان بھی اختلاف ہے کچھ قائل ہیں کہ شیعیت کے آغاز کا تعلق جنگ جمل سے ہے اور بعض حضرات نے جنگ صفین سے رشتہ جوڑا ہے۔

ولایت پورٹل:
بعض حضرات کے نزدیک تشیع کا آغاز مولائے کائنات حضرت علی(ع) کی خلافت ظاہری کے دور میں ہوا البتہ ان لوگوں کے درمیان بھی اختلاف ہے کچھ قائل ہیں کہ شیعیت کے آغاز کا تعلق جنگ جمل سے ہے اور بعض حضرات نے جنگ صفین سے رشتہ جوڑا ہے۔
الف:جنگ جمل: اس قول کی بنیاد «ابن ندیم» کی عبارت ہے، ابن ندیم اپنی کتاب«الفهرست»  میں محمد بن اسحاق سے نقل کرتے ہیں کہ جب طلحہ و زبیر نے قتل عثمان کا بدلہ لینے کے لئے علی (ع) مخالفت کی اور علی (ع) بھی ان کے مقابلہ میں آگئے تاکہ ان کے سر حکم خدا کے سامنے خم کردیں تو آنحضرت (ع)کے پیروؤں کو«شیعہ » کہا جانے لگا خود حضرت علی(ع) بھی اپنے طرفداروں کو اپنا شیعہ کہتے تھے اور آپ(ع) نے ہی شیعوں کو چار اسماء کے ذریعہ تقسیم فرمادیا تھا:
۱۔اصفیاء۔
۲۔اولیاء۔
۳۔شرطۃ الخمیس۔
۴۔اصحاب۔(۱)
اس نظریہ کا تجزیہ اوراس کو رد کرنے کے لئے چند نکات کا تذکرہ ضروری ہے۔
۱۔ابن ندیم سے پہلے (۲)ابو عبد اللہ البرقی نے علم رجال سے متعلق اپنی کتاب میں پیروان علی(ع) کے چاروں طبقات یا اصناف کا انھیں الفاظ میں تذکرہ کیا ہے کہ جن الفاظ میں ابن ندیم نے کیا ہے، بلکہ ابو عبد اللہ البرقی نے سلمان فارسی ، مقداد بن اسود ، ابوذر غفاری نیز دیگر اکابر اصحاب امیر المومنین کا تعارف و تذکرہ«اصفیاء»کے عنوان سے کیا ہے (۳)اور چونکہ سلمان و ابوذر کی وفات جنگ جمل سے قبل ہوگئی چکی تھی اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ پیروان علی(ع)کے لئے«شیعہ»کی اصطلاح جنگ جمل سے پہلے رائج اور مشہور و معروف ہو چکی تھی۔
۲۔ابن ندیم کے قول کاگزشتہ نظریہ سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سابقہ نظریہ کے دلائل اور دیگر شواہد کے پیش نظر ابن ندیم کی بات ہرگز قابل قبول نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ ابن ندیم کا قول تحریف یا تغیر کا شکار ہوگیا ہو۔
۳۔اس نظریہ کی توجیہ میں صرف اتنی بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ مذہب شیعہ اگر چہ پہلے سے ہی موجود تھا لیکن حکومت علوی کے سیاسی و سماجی حالات کے دوران اس اصطلاح کو پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملا اور ان حالات کے درمیان جنگ جمل کے واقعہ کی اہمیت کا بہر حال انکار نہیں کیا جاسکتا۔
ب: جنگ صفین:حضرت علی(ع)کی حکومت کے دوران تشیع کے آغاز کے سلسلہ میں ایک قول جنگ صفین اور حکمیت سے تعلق رکھتا ہے ،حکمیت کے واقعہ کے بعد امیر المومنین کے طرفداردو حصوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک گروہ خوارج کہلایا جو صفین سے واپسی پر کوفہ سے ایک منزل پہلے «حروراء»نامی مقام پر ٹھہر گیا اور دوسرا گروہ وہ تھا جو امیر المومنین ؑکے ہمراہ کوفہ میں داخل ہوا پھر اسی دوسرے گروہ نے امام کی خدمت میں پہنچ کر آپ کے ہاتھوں پر دوبارہ بیعت کی اور آپ کے دوستوں سے دوستی اور دشمنوں سے دشمنی کا عہد و پیمان کیا۔
معروف متشرق مونتگر می واٹ اسی نظریہ کا قائل ہے۔(۴)بظاہر اس نے بھی یہ نظریہ طبری کی عبارت سے اخذ کیا ہے،طبری کی عبارت یہ ہے:«لما قدم عليّ الکوفه و فارقته الخوارج و ثبت الیه الشیعة فقالوا فی اعناقنا بیعة ثانیةنحن اولیاء من والیت و اعداء من عادیت»۔
طبری کی عبارت میں موجود جملہ«و ثبت الیه الشیعة» خود بتا رہا ہے کہ جنگ صفین میں مولائے کائنات کی حمایت میں جنگ کرنے والے «شیعہ»کے نام سے مشہور تھے دوسری بیعت تومحض سابقہ بیعت کو مستحکم کرنے کے لئے تھی، اس طرح طبری کی اس عبارت کا جو مطلب نکلتا ہے وہ بھی پہلے اوردوسرے نظریات کی تبین و توجیہ کے سلسلہ میں پیش کئے جانے والے دلائل و شواہد سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ صفین کا واقعہ بھی جمل کے واقعہ کی مانند تشیع کی تشہیر و ترویج اور شیعیان علی(ع) کی بہتر شناخت میں موثر تھا نہ کہ تشیع کے آغاز میں بعض حضرات اس نظریہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ جنگ صفین کے بعد جو خوارج وجود میں آئے انہوں نے حضرت علی(ع)کی شخصیت اور امامت کے بارے میں ایسے عقائد و نظریات پیش کئے جو شیعوں کے نزدیک امامت سے متعلق نظریات سے مکمل طور پر متصادم تھے، خوارج نے حکمیت کے فیصلہ کوغلط قرار دیااوراس بات کے قائل ہوگئے کہ امام سے خطا ہوسکتی ہے اس کے بر خلاف شیعوں نے اصرار کیا کہ امام معصوم ہوتا ہے اس سے خطا کا امکان نہیں ہے، خوارج نے یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ امام نے اپنی خواہشات اور ہویٰ و ہوس کا اتباع کرتے ہوئے حکمیت کا فیصلہ کیا جب کہ شیعوں کے نزدیک،مقام امامت ان باتوں سے بالاتر ہے اور امام ان چیزوں سے منزہ ہوتا ہے۔ خوارج امام کے نصب کئے جانے کے قائل  نہ تھے اور نہ ہیان کے نزدیک امامت کے لئے نص ضروری نہیں تھی اور نہ ہی ان کے ا عتبار سے امام کا قریش سے ہونا ضروری تھا جب کہ شیعوں نے وصایت و وراثت کا نظریہ پیش کیا۔(۵)
مذکورہ نظریہ اس انداز میں بیان کیا جانا صاف طور پر نص کے مقابل اجتہاد کی مانند ہے اس لئے کہ شیعوں کے عقائد و نظریات خوارج کی ضد میں وجود میں نہیں آئے ہیں بلکہ روز اول سے ہی مشہور و معروف تھے اور قرآن و سنت نیز واضح عقلی دلائل سے ماخوذ ہیں، بطور نمونہ چند دلائل کا تذکرہ ہم گذشتہ فصل میں کر چکے ہیں مزید دلائل انشاء اللہ آئندہ بیان کئے جائیں البتہ یہاں امیر المومنین حضرت علی(ع)کے خطبہ کا ایک اقتباس پیش کررہے ہیں، آپ فرماتے ہیں:
۱۔«لا یقاس بآل محمد من ھذہ الامة احد و لا یسویّ بھم من جرت نعمتھم علیہ ابداً»
۲۔«هم اساس الدین و عماد الیقین»
۳۔«الیھم یفئي الغالي و بھم یلحق التالي»
۴۔«و لھم خصائص حق الولایة و فیھم الوصیة و الوارثة»(۶)
صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ خوارج کی پیدائش یا اس کے مانند دیگر سماجی حالات شیعی عقائد کی تشریح و تبیین میں موثر ہیں کہ ایسے حالات کے باعث شیعی عقائد کے بارے میں علم کلام کی روشنی میں بحث و گفتگو کا موقع ملانہ یہ کہ ایسے حالات تشیع کے آغاز کا سبب بنے ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مذکورہ نظریہ اور عبد اللہ بن سبا کے افسانہ کے سلسلہ میں مندرجۂ ذیل کتب کی طرف رجوع فرمائیں، اصل الشیعہ و اصولھا ، علامہ کاشف الغطاء ، الغدیر جلد / ۹، علامہ امینی ، نظریة الامامة فی علم الکلام ، ج/۳، ڈاکٹر طہٰ حسین و احمد محمود صبحی ، عبد اللہ بن سبا،علامہ مرتضی عسکری ، الشیعۃ و التشیع ، شیخ محمد جواد مغنیہ،بحوث فی الملل و النحل ج/۶، آیۃ اللہ جعفر سبحانی ، نشاۃ التشیع ، سید طالب خرسان ، الامام الصادق و المذاهب الاربعة ج/۶، اسد حیدر ، الشیعة بین الاشاعرۃ و المعتزلة هاشم معروف الحسینی ص/۱۲۱۔
۲۔ابن ندیم کی وفات ۳۷۸میں جب کہ برقی کی وفات ۲۷۴یا ۲۸۰ میں ہوئی۔
۳۔رجال برقی، ص/۳ ۔
۴۔نشاۃ التشیع ص/۳۷ ،نقل از:watt,w.m.islam and integration of society ,london,1961,p.104
۵۔نهج البلاغة،خطبہ/۳۔
۶۔نهج البلاغة،خطبہ/۲۔
 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18