Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183864
Published : 20/10/2016 17:44

کربلا کے بعد سیاسی،سماجی حالات پر رہبر انقلاب کا تبصرہ:

واقعہ کربلا کے بعد،سیاسی و سماجی حالات(۱)

کربلا کے بعد اہل بیت(ع) کے دوستداروں کے علاقہ یعنی حجاز(خصوصاً مدینہ) میں اسی طرح عراق(بالخصوص کوفہ) میں گھٹن کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ائمہؑ سے امت کا رفت وآمد کاسلسلہ اورارتباط کا نظام کمزور ہوگیا تھا،جو لوگ ائمہؑ کے طرف دار اور بنی امیہ کی حکومت کے مخالف شمار ہوتے تھے وہ کمزور ہوچکے تھے اور تردد کی حالت میں زندگی بسر کررہے تھے۔

ولایت پورٹل:
واقعہ عاشورہ کے رونما ہونے کے بعد پورے عالم اسلام میں جہاں تک اس واقعہ کی خبر پہنچی خصوصاً حجاز و عراق میں شیعوں اور ائمہ(ع) کے چاہنے والوں پر خوف وہراس طاری ہوگیا تھا انہیں اچھی طرح محسوس ہوگیا تھا کہ یزید اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے اس حد تک گر سکتا ہے،یعنی عالم اسلام میں عظمت و قداست کے حوالے سے مشہور فرزند رسول حسین بن علی(ع) کو قتل کرسکتا ہے،کوفہ و مدینہ میں اس خوف و وحشت کے آثار زیادہ نمایاں تھے،کچھ عرصہ گزرنے کے بعد چند حوادث(کہ ان میں سے ایک واقعۂ حرّہ بھی ہے) کے رونما ہونے سے یہ خوف و ہراس اور زیادہ بڑھ گیا تھا اور اہل بیت(ع) کے دوستداروں کے علاقہ یعنی حجاز(خصوصاً مدینہ) میں اسی طرح عراق(بالخصوص کوفہ) میں گھٹن کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔ائمہؑ سے امت کا رفت وآمد کاسلسلہ اورارتباط کا نظام کمزور ہوگیا تھا،جو لوگ ائمہؑ کے طرف دار اور بنی امیہ کی حکومت کے مخالف شمار ہوتے تھے وہ کمزور ہوچکے تھے اور تردد کی حالت میں زندگی بسر کررہے تھے۔
امام جعفرصادق(ع) سے روایت نقل ہوئی کہ جب آپ اپنے سے پہلے ائمہ کے بارے میں گفتگو کرتے تو فرماتے تھے:«اِرْتَدَّ النَّاسُ بَعْدَ الْحُسَیْنِ اِلَّا ثَلَاثَۃٌ»۔(۱)
امام حسین(ع) کے بعد لوگ مرتد ہوگئے تھے سوائے تین آدمیوں کے۔
ایک روایت میں ہے کہ پانچ آدمی کے علاوہ سب مرتد ہوگئے تھے بعض روایات  میں باقی رہ جانے والوں کی تعداد سات بیان ہوئی  ہے۔
امام زین العابدین(ع) ، ایک روایت میں (کہ جس کے راوی ابوعمر مہدی ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے امام زین العابدین(ع)  سے سنا کہ آپ(ع)  نے فرمایا:«مَا بِمَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ عِشْرُوْنَ رَجُلاً یُحِبُّنَا»،مکہ  و مدینہ میں بیس آدمی بھی ہمارے دوستدار نہیں ہیں۔
یہ دو حدیثیں میں نے اس لئے نقل کی ہیں تاکہ ائمہ(ع) کے سلسلہ میں عالم اسلام کے مجموعی حالات واضح ہوجائیں یعنی گھٹن کے اس ماحول نے ایسی فضا بنادی تھی کہ ائمہ(ع) کے طرفدار متفرق پراگندہ اور مایوس و مرعوب تھے اوران سب کے لئے کسی تحریک کا امکان نہیں تھا۔ البتہ امام جعفر صادق(ع)  کی اسی روایت میں آیا ہے:«ثُمَّ اِنَّ النَّاسَ لَحِقُوْا وَکَثُرُوْا»،رفتہ رفتہ لوگ ملحق ہوتے گئے اور ہمارے چاہنے اور ماننے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔
اگر ہم اسی مسئلہ کو جو کہ بیان ہوا ہے اس ترتیب سے کچھ تفصیل کے ساتھ بیان کریں کہ شہادت امام حسین(ع) کے بعد کچھ لوگ خوف زدہ اور مرعوب ہوگئے تھے لیکن اتنے خوف زدہ نہیں تھے کہ پیروانِ اہل بیت(ع) کا نظام کلی طورپر درہم برہم ہوجائے،اس کی دلیل یہ ہے کہ جب اسیرانِ کربلا کو کوفہ لایا گیا تو وہاں کچھ ایسے حالات دیکھنے میں آئے کہ جن سے شیعوں کے منظم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
البتہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ «خفیہ طریقہ سے شیعہ منظم تھے» تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آج کل کی مانند مکمل طور پر منظم گروہ کی شکل میں تھے بلکہ اس سے مراد اعتقادی رابطہ ہوتا ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے اور انہیں فداکاری پر ابھارتا ہے اور پوشیدہ کاموں کی انجام دہی پر برانگیختہ کرتا ہے،نتیجہ میں انسان کے ذہن میں ایک مجموعہ کا نقشہ کھینچ دیتا ہے۔
جس زمانہ میں خاندانِ رسول(ص)کوفہ میں تھے اس وقت ایک رات کو قیدخانہ میں ایک پتھر آیا اس پتھر کو اٹھاکر دیکھا تو اس کے ساتھ ایک کاغذ بندھا ہوا تھا، اس کاغذ پر لکھا تھا:«کوفہ کے حاکم نے ایک شخص کو(شام میں) بھیجا ہے تاکہ تم لوگوں کے انجام و حالات کے بارے میں وہ اپنی ذمہ داری معلوم کرے،اگرکل شام تک تم لوگوں نے تکبیر کی آواز سنی تو سمجھ لینا کہ تم سب یہیں قتل کردئیے جائوگے اور تکبیر کی آواز نہ سنی تو سمجھ لینا کہ تمہارے اچھے دن آگئے ہیں اور اب تمہارے حالات بہتر ہوجائیں گے»۔(۲)
جب ہم اس داستان کو سنتے ہیں تو اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس نظام(تحریک علوی) کا ایک رکن اور چاہنے والا حکومت وقت کے سسٹم میں دخالت رکھتا ہے اور اس کے اندرونی حالات سے واقف ہے اور قیدخانہ تک اس کی رسائی ہے اور یہ جانتا ہے کہ قیدیوں کے لئے کیا تجویز کیا جائے گا اور تکبیر کی آواز سے اہلبیت(ع) تک خبر پہنچا سکتا ہے جہاں اتنی سختیاں تھیں وہاں ایسے حالات بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
دوسرا نمونہ عبداللہ بن عفیف اَزدی ہیں جو کہ نابینا تھے، انہوں نے اسیروں کے کوفہ میں داخل ہوتے ہی اپنے ردعمل کا اظہار کردیا تھا جس کے نتیجہ میں ان کی شہادت ہوئی۔
کوفہ و شام میں اس قسم کے لوگ پائے جاتے تھے کہ جو اسیروں سے ملاقات کے وقت ان سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے تھے یا روتے تھے یا آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرتے تھے، ایسے حادثات یزید کے دربار میں بھی پیش آئے اور ابن زیاد کے دربار میں بھی رونما ہوئے۔
اس واقعہ سے اگرچہ شدید خوف دہشت کا ماحول ہوگیا تھا لیکن اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کا نظام کلی طور پر درہم برہم نہیں ہوا تھا اور نہ وہ کمزور ہوئے تھے لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد دوسرے حوادث رونما ہوئے اور ان حوادث سے زیادہ گھٹن کا ماحول بن گیا۔ اس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حدیث«اِرْتَدَّ النَّاسُ بَعْدَ الْحُسَینِ»،کا تعلق ان حوادث کے زمانہ سے ہے یا حوادث کے بعد کے زمانہ سے ہے یا ان حوادث کے درمیانی فاصلوں سے مربوط ہے۔
شیعہ حضرات اس مدت میں کہ جس میں(کسی اہم اورتباہ کن حادثہ پیش آنے سے قبل اپنے امور کو مرتب کررہے تھے اور اپنی پرانی حیثیت کو حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ایسے موقع کے بارے میں طبری نقل کرتا ہے:«فَلَمْ یَزَلِ القَومُ فِی جَمْعِ آلَۃِ الْحَرْبِ وَالْاِسْتِعْدَادِ لِلْقِتَالِ»۔
وہ لوگ (یعنی شیعہ) اسلحہ جمع کرتے تھے اور خود کو جنگ کے لئے تیار کرتے تھے نیز خفیہ طور پر شیعوں اور غیرشیعہ لوگوں کو خونِ حسینؑ کا انتقام لینے کی ترغیب کرتے تھے چنانچہ لوگ گروہ درگروہ ان کی دعوت کا مثبت جواب دیتے تھے۔ یہ تحریک اسی طرح چلتی رہی یہاں تک یزید بن معاویہ دنیا سے چلا گیا۔
ہم دیکھتے ہیں کہ گھٹن اور خوف و ہراس کی فضا کے باوجود ایسے کام انجام پذیر ہوتے رہتے تھے (جیسا کہ طبری نے نقل کیا ہے) شاید اسی وجہ سے، کتاب «جهادالشیعة»(۳)کی مولفہ جو کہ شیعہ نہیں اور امام زین العابدین(ع) کے بارے میں حقیقت بیں نہیں ہے لیکن اس نے ایک حقیقت ادراک و اظہار کیا ہے،وہ کہتی ہے کہ:امام حسین(ع) کی شہادت کے بعدشیعہ منظم ہوگئے انہیں ان عقائد اور سیاسی روابط نے ایک دوسرے سے جوڑ دیا، چنانچہ ان کی اپنی جماعتیں اور رہبر و قائد تھے، ان کے سرباز تھے اور توّابین کی جماعت اس تنظیم کا اولین مظہر ہے۔
پھر ہم یہ محسوس کرتے ہیں باوجودیکہ شیعی تنظیم و تشکیل واقعۂ عاشورہ کے بعد کمزور ہوگئی تھی لیکن شیعی تحریکیں اس کمزوری کے باوجود مجاہدانہ سرگرمیوں میں مشغول تھیں اور ازسرنو اسے پہلی صورت میں لانے کی کوشش کررہی تھیں، یہاں تک کہ «حَرّہ» کا واقعہ پیش آیا،میری نظر میں تاریخ تشیّع میں حرّہ کا واقعہ ایک عظیم موڑ ہے اوراس حادثہ نے کاری ضرب لگائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ بحارالانوار، ج۴۶ص۱۳۴، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۴ص۱۰۴۔
۲۔ اس داستان کو ابن اثیر نے اپنی تاریخ «الکامل» میں نقل کیا ہے۔
۳۔ مولف کا نام سمیرۃ مختار اللیثی ہے۔
نوٹ : یہ تبصرہ جاری ہے۔
از:۲۵۰ سالہ انسان ،رہبر انقلاب کے افکار پر مشتمل کتاب

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18