Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183883
Published : 22/10/2016 8:7

یمن میں ناکام جنگ بندی کے نتائج

یمن میں اب تک کئی بار جنگ بندی عمل میں آچکی ہے لیکن سعودی عرب معمول کے مطابق ابتدائی گھنٹوں میں ہی اسے پامال کردیتا ہے،یمن میں بیس اکتوبر کی صبح سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں توسیع کے امکان کے ساتھ جنگ بندی کا آغاز ہوا۔

ولایت پورٹل:
یمن کے خلاف سعودی عرب کی نابرابری کی جنگ جلد ہی بیسویں مہینے میں داخل ہو جائے گی تاہم بڑی طاقتوں کو اس جنگ کے جاری رہنے پرکوئی تشویش نہیں ہے، یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد شیخ کی کوششوں سے یمنی گرہوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور منعقد ہو چکے ہیں تاہم یمنی گروہوں کے درمیان قومی مذاکرات کے نتیجے میں جو عارضی جنگ بندی ہوئی تھی وہ آل سعود کی خلاف ورزیوں کے باعث ناکامی سے دوچار ہوگئی ہے،بیس اکتوبر سے نافذ ہونے والی جنگ بندی سعودی بادشاہ سلمان سے یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی کی درخواست کے بعد شروع ہوئی تھی لیکن سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن کے کچھ علاقوں پر بمباری شروع کردی تاکہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کی آل سعود کی دیرینہ روایت باقی رہے اس کے بعد یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودیوں کے حملوں کے جواب میں جنوبی اور مغربی یمن کے لحج اور حجہ صوبوں میں سعودی ایجنٹوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی سعودی ایجنٹ ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، یمن میں عارضی اور محدود جنگی بندی اور اس کی ناکامی کے اصلی عامل پر سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ بحران یمن کے موجودہ بازیگر اس ملک کے داخلی گروہ نہیں ہیں بلکہ اصلی کھلاڑی سعودی عرب ہے، اگرچہ اس ملک کے مستعفی و مفرور صدر منصور ہادی ریاض کی نمائندگی میں قومی مذاکرات میں شامل ہیں لیکن سعودی عرب خود کو مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کا پابند نہیں سمجھتا، بحران یمن میں جنگ بندی اسی وقت مفید اور تعمیری ثابت ہوسکتی ہے جب اس پر عمل درآمد کی ضمانت ہو،عالمی نظام میں اہم مسائل خاص طور پر انسانی اور سیکورٹی بحرانوں کے بارے میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کی ضمانت اس وقت ہوتی ہے جب بڑی طاقتیں ان فیصلوں کی حقیقی حمایت کریں  لیکن یمن میں جنگ بندی کا فیصلہ ان مسائل کے زمرے میں آتا ہے جنھیں  بڑی طاقتوں کی حقیقی حمایت حاصل نہیں ہے، بحران یمن ، مغربی طاقتوں کے اقدار اور مفادات کے تضآد کا واضح مصداق ہے جہاں اقدار بڑی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں، بنا برایں جنگ بندی ، اس پرعمل درآمد سے پہلے ہی ناکام ہوجاتی ہے- بحران یمن میں جنگ بندی کی ناکامی کا پیغام یہ ہے کہ ان اکیس ملین مظلوم اور نہتھے یمنی عوام کے لئے بحرانی صورت حال جاری رہے گی جنھیں انسان دوستانہ امداد کی شدید ضرورت ہے اور اسی طرح یہ اقوام متحدہ کی لاپرواہی بھی شمار ہوتی ہے، جنگ بندی اقوام متحدہ کی نگرانی میں شروع ہوتی تو ہے لیکن فورا ہی اس کی خلاف ورزی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ادارہ بڑی طاقتوں کی حمایت کے بغیر اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کی طاقت وتوانائی نہیں رکھتا۔
Sahartv


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16