Wed - 2019 January 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183898
Published : 22/10/2016 16:18

کیا شیعہ مذہب کا آغاز واقعہ کربلا کے بعد ہوا؟

شہید صدر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:حقیقت یہ ہے کہ شیعیت کبھی بھی روحی اور قلبی حدود میں محدود اور سیاست سے جدا نہیں رہی، تشیع کا نظریہ روز اول سے ہی اسلام کے دامن میں موجود تھا کہ تشیع پیغمبر اکرم(ص) کے بعد امت مسلمہ کی فکری،سماجی اور سیاسی قیادت کے لئے صرف حضرت علی(ع) کو اہل سمجھتی ہے۔

ولایت پورٹل:
گذشتہ نظریہ کے بارے میں پیش کئے گئے تجزیہ سے یہ واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین(ع)کے بعد تشیع کے آغاز کے نظریہ کی حقیقت کا بھی بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔(۱)
تفصیل کے لئے پرھیں:شیعیت کی تاریخ کے متعلق غلط افواہیں
بلاشبہ واقعہ کربلا شیعیت کی سیاسی و معنوی حیات کا موڑ ہے لیکن خود واقعہ (خصوصاًامام حسین(ع) اور آپ کے جانثار ساتھیوں کے تعلق سے انہیں شیعی عقائد و نظریات کی دین ہے جن کا آغاز عہد رسالت سے ہوچکا تھا اور جو سن  ۶۱  ہجری تک مختلف تاریخی مراحل سے گذرچکے تھے۔
ایک مصنف نے واقعہ کربلا کے بعد شیعیت کے آغاز کے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے تشیع کے مندرجۂ ذیل تین مراحل تحریر کئے ہیں، مصنف کے مطابق تشیع کا تیسرے اور اصل مرحلہ کا آغاز واقعہ کربلا کے بعد ہی ہوا ہے۔
۱۔روحی و قلبی تشیع: یعنی علی ابن ابی طالب(ع) سے محبت کرنا،تشیع کے اس مرحلہ کا آغاز، بلا شبہ حیات پیغمبر(ص) میں ہی ہوگیا تھا اور اس کی بنیاد وہ بے شمار احادیث و روایات ہیں جو آپ کی ولایت کے بارے میں پیغمبر اکرم(ع) سے منقول ہیں جیسے حدیث یوم الدار(دعوت ذو العشیرہ)،حدیث غدیر وغیرہ۔
۲۔سیاسی تشیع: یعنی یہ عقیدہ کہ حضرت علی(ع) دیگر تمام اصحاب کی بہ نسبت خلافت کے سب سے زیادہ اہل اور حقدار ہیں،بہ الفاظ دیگر،امیرالمؤمنین(ع) کی خلافت و امامت کی بنیاد نص نہیں بلکہ آپ(ع) کے وہ فضائل و کمالات تھے جو آپ کی فضیلت پر دلالت کرتے ہیں چنانچہ یہ چیز سقیفہ میں نظر آئی۔
۳۔تشیع بطور ایک اسلامی فرقہ: واقعہ کربلا کے بعد تشیع کے نام سے ایک اسلامی فرقہ وجود میں آگیا ورنہ اس سے قبل تشیع نامی کوئی فرقہ نہیں تھا۔ (۲)
گذشتہ نظریات کی تبیین و تشریح اور تجزیہ و تنقید کے سلسلہ میں جو دلائل پیش کئے گئے ہیں ان کی  روشنی میں یہ نظریہ بھی قابل قبول نہیں ہوسکتا اس لئے کہ سابقہ مطالب سے یہ بات بخوبی واضح ہوچکی ہے کہ«تشیع» کی اصطلاح خود پیغمبر اکرم(ص) کے عہد میں ہی شہرت پاچکی تھی، بعض اصحاب اسی نام سے مشہور تھے اور یہ وہی اصحاب تھے جنہوں نے وفات پیغمبر(ص)کے بعد خلافت کے مسئلہ پر حضرت علی ؑکی حمایت کی تھی البتہ ان اصحاب نے مولائے کائنات کی افضلیت کو ہی دلیل نہیں بنایا تھا بلکہ نصوص سے بھی استدلال کیا تھا۔
مہاجرین و انصار میں سے بارہ افراد کے ابوبکر کے خلاف احتجاج سے یہ بات واضح طور پر عیاں ہوجاتی ہے۔(۳)اس لئے یہ نظریہ تاریخی اور اسلامی حقائق سے قطعا مطابقت نہیں رکھتا،شہید صدر علیہ الرحمہ مذکورہ نظریہ پر تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حقیقت یہ ہے کہ شیعیت کبھی بھی روحی اور قلبی حدود میں محدود اور سیاست سے جدا نہیں رہی، تشیع کا نظریہ روز اول سے ہی اسلام کے دامن میں موجود تھا کہ تشیع پیغمبر اکرم(ص) کے بعد امت مسلمہ کی فکری،سماجی اور سیاسی قیادت کے لئے صرف حضرت علی(ع) کو اہل سمجھتی ہے۔
جن حالات میں شیعیت کا آغاز ہو اہے وہ ایسے نہیں تھے کہ شیعہ نظریہ صرف روحی او رقلبی دائرہ کے اندر محدود رہ جاتا اور اس میں سیاسی پہلو نہ پایا جاتا رہا ہو،اس تفکر میں شروع سے ہی روحی وقلبی اورسیاسی دونوں پہلو ایک ساتھ موجود تھے۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔کامل مصطفی الشیبی نے«الصلۃ بین التصوف و التشیع»،ص ۲۳میں یہی نظریہ اختیار کیا ہے، ملاحظہ فرمائیں،التشیع، ص ۴۳۔
۲۔ ڈاکٹر عبد اللہ بن فیاض،تاریخ الامامیة، ص۳۸تا ۴۷۔
۳۔ملاحظہ فرمائیں:خصال شیخ صدوق،ابواب الاثنی عشر،حدیث، ۴۔
۴۔نشاۃ التشیع، ص۹۱۔۹۲۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 16