Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183899
Published : 22/10/2016 16:45

اسیران کربلا کی بے مثال قربانیوں کے متعلق رہبر انقلاب کا نظریہ:

پیغام عاشورا کی بقاء میں جناب زینب(س) اور امام سجاد(ع) کا کردار

اگر جناب زینب(س) اور امام سجاد(ع) کی بے مثال قربانیاں نہ ہوتیں تو عاشورا آج اس شان و شوکت کے ساتھ زندہ اور تابندہ نہ رہتا۔

ولایت پورٹل:
فلسفۂ عاشورا کے دوام اورتوضیح وتبیین کے سلسلہ میں جناب زینب سلام اللہ علیہا اور امام سجادعلیہ السلام  کی مجاہدت و کردار کی اہمیت
شہیدوں کی یاد کے تحفظ کے سلسلہ میں لوگوں کا کردار بنیادی طور پر چہلم کی اہمیت اس میں ہے کہ اس دن،تدبیر الٰہی اور خاندان پیغمبراکرم(ص) کے توسط سے تحریک حسینی کی یاد ہمیشہ کے لئے زندۂ جاوید ہوگئی وار اس کام کی بنیاد قائم ہوگئی۔
اگر شہیدوں کے پسماندگان اور حقیقی ورثاء، گوناگوں مواقع جیسے کہ عاشور کے دن حسین بن علی علیہ السلام کی شہادت کے سلسلہ میں یاد اور آثار شہادت کی حفاظت کے لئے کوشاں نہ ہوں تو آنے والی نسلیں شہادت کے حاصلہ نتائج سے بہت زیادہ فائدہ نہیں اٹھا پائیں گی۔
یہ سچ ہے کہ خداوندعالم شہیدوں کو اسی دنیا میں زندہ رکھے گا اور شہید قہری طور پر تاریخ اور لوگوں کے دلوں میں باقی رہنے والا ہے لیکن خداوند عالم نے فطری طور پردیگر ذرائع کی مانند جو وسائل و ذرائع ہمارے اختیار میں دیئے ہیں، یہ وہی چیزہے جسے ہم استعمال کرسکتے ہیں جو ہمارے اختیار و ارادے کے تحت قرار پاتی ہیں، یہ ہم ہیں جو اپنے صحیح فیصلے کے ذریعہ شہیدوں کی یاد اور شہادت کے فلسفہ کو زندہ و باقی رکھ سکتے ہیں۔
اگرزینب کبری سلام اللہ علیہا اور امام سجادعلیہ السلام نے اپنی اسیری کے دوران چاہے وہ کربلا میں عصر عاشور ہو یا اس کے بعد کے دنوں میں راہ کوفہ وشام کے دوران اور خود شام اور اس کے بعد کربلا کی زیارت اور پھر مدینہ بازگشت کے دوران اور جب تک کہ یہ ہستیاں زندہ رہیں، برسوں تک اپنی مجاہدت نہ کی ہوتی، واقعہ کربلا کو اجاگر نہ کیا ہوتا نیز فلسفۂ عاشورا و مقصد حسین بن علی علیہ السلام اور دشمن کے مظالم بیان نہ کئے ہوتے تو واقعۂ عاشورا اب تک اس جوش و ولولہ اورآب وتاب کے ساتھ زندہ و باقی نہیں رہ سکتا تھا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18