Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183900
Published : 22/10/2016 17:37

محبت،تربيت کا ایک بنیادی اصول

محبت، بچوں کي ذہني نشو و نما اور روحي تعادل کے مھم اسباب ميں سے ہے، ان کي ذاتي خوبياں اور مزاج کافي حد تک اس محبت کي مرہون منت ہوتے ہيں جو انہيں دوران تربيت اپنے والدین یا اساتید سے ملي ہے، گھر کي محبت بھري فضا اور محبت سے مملوء ماحول بچوں ميں نرم جذبات اور فضائل کے رشد کا سبب ہے جو بچے محبت بھرے ماحول ميں تربيت پاتے ہيں وہ کمال تک پہچتے ہيں۔

ولایت پورٹل:
محبت لوگوں ميں ميل ملاپ اور يکجہتي کا سبب ہے،اگر محبت کا جذبہ نہ ہوتا تو لوگوں ميں انس و محبت نہ ہوتي، کوئي  بھي انسان کسي دوسرے کي ذمہ داري قبول کرنے کو تيار نہ ہوتا اور ايثار و قرباني جيسے لفظوں کا وجود نہ ہوتا-
محبت و الفت پيدا کرنے والے کام تمام انسانوں کے ليے نہايت ضروري ہيں،خاص طور پر تعليمي و تربيتي اداروں کے ليے، اس ليے کہ محبت ہي ايسي شئ ہے جو جسم و روح کي سلامتي کے ساتھ ساتھ انسان کي اخلاقي برائیوں اور کمزوريوں کي اصلاح کرکے روابط کو متعادل بناتی ہے۔ خداوند عالم نے قرآن مجيد ميں متعدد مقامات پر اپني محبت کا ذکر فرمايا ہے:«فان اللہ يحب المتقين»۔
(سورہ آل عمران آيہ 76) اللہ متقين کو دوست رکھتا ہے-
«فان اللہ يحب المحسنين» (سورہ آل عمران آيہ 138) اللہ نيک عمل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
انسانوں سے رابطہ کي زبان، خاص طور پر بچوں سے رابطہ کي زبان محبت ہوني چاہيے، غصہ و تندي و سختي سے کسي کي تربيت نہيں کي جا سکتي۔
تربيت ميں محبت کي اہميت اس ليے بھي بڑھ جاتي ہے کہ محبت، اطاعت سکھاتي ہے اور محبت والے ايک دوسرے سے جڑ جاتے ہيں۔
چنانچہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہے:«المرء مع من احب»، انسان اس کا ساتھ ديتا ہے جسے پسند کرتا ہے۔
محبت و اطاعت ميں معيت (ساتھ رہنا) کا رابطہ پايا جاتا ہے، محبت کے ظہور کے ساتھ اطاعت و ہمراہي کا جذبہ پيدا ہو جاتا ہے، اگر بچے کے دل ميں والدين کي محبت بيٹھ گئی تو بچہ ان کا مطيع و فرماں بردار بن جائے گا اور اس کے اوپر جو ذمہ دارياں ڈالي جائیں گي وہ ان سے فرار نہیں کرے گا۔
محبت، بچوں کي ذہني نشو و نما اور روحي تعادل کے مھم اسباب ميں سے ہے، ان کي ذاتي خوبياں اور مزاج کافي حد تک اس محبت کي مرہون منت ہوتے ہيں جو انہيں دوران تربيت اپنے والدین یا اساتید سے ملي ہے، گھر کي محبت بھري فضا اور محبت سے مملوء ماحول بچوں ميں نرم جذبات اور فضائل کے رشد کا سبب ہے جو بچے محبت بھرے ماحول ميں تربيت پاتے ہيں وہ کمال تک پہچتے ہيں،اچھے ڈھنگ سے سيکھتے ہيں اور دوسروں سے محبت کرتے ہيں اور سماج و معاشرہ ميں بہتر انساني اقدار کے حامل ہوتے ہيں، مہر و محبت ہي ہے کہ جو زندگي کو پر لطف اور با معنا بناتی ہے اور بچوں کي استعداد میں بالیدگی و رشد کا سبب بنتي ہے اور اس کے اندر سعي و کوشش اور تخليقي صلاحيتيں پيدا کرتي ہيں۔
محبت کي بنياد پر،بچوں اور نوجوانوں کي تربيت کرنا،انساني اور اسلامي طريقوں ميں سے ہے،پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم بچوں سے بہت محبت فرمايا کرتے تھے اور ان سے اچھا سلوک کرتے تھے اور ہميشہ فرماتے تھے:«احبوا الصبيان وارحموھم»۔
بچوں سے محبت کرو اور ان کے ساتھ الفت و محبت سے پيش آؤ۔
والدين کو چاہيے کہ وہ قلبي طور پر اپنے عمل سے بچوں کو يہ يقين دلائیں کہ وہ انہيں دوست رکھتے ہيں، ان کي يہ بات بچوں پر مثبت اثر ڈالے گي اور کچھ ہي عرصہ ميں اس کے مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
والدين، بچوں ميں ايسي تبديلي لانا چاہتے ہيں جو ان کي ذات کو تعمير کرے اور مخصوص اعتقادات ان کے اندر جنم ليں تو ظاہر ہے کہ يہ کام بغير محبت اور دوستي کے کيسے ممکن ہو سکتا ہے؟ جن کا مقصد انہيں رشد و کمال کي طرف لے جانا ہے۔
tebyan.net


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21