Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183901
Published : 22/10/2016 18:30

شیخ فضل اللہ نوری کی زندگی پر ایک نظر

اگرچہ آغاز میں شیخ فضل اللہ نوری مشروطیت کے سرگرم اراکین میں سے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ پارلمینٹ کے قوانین اسلامی اصولوں کے برعکس مغربی اصولوں کے مطابق ہیں تو وہ مشروطیت کی مخالفت کرنے لگے اور ایسی پارلیمینٹ کے قیام کے لیے جد و جہد شروع کی جس کے قوانین اسلامی اصول پر استوار ہوں۔

ولایت پورٹل:
شیخ فضل  اللہ ایرانی   تاریخ کے ایک عظیم مذھبی رہنما تھے جو ایران کے صوبہ مازندران کے ضلع نور  میں سن 1259 ہجری میں پیدا ہوۓ،ان کے والد، ملا عباس کحوری، اپنے دور کے مشہور علماء میں سے تھے، بچپن کا زمانہ گزرنے کے بعد شیخ نے دینی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے، اپنی ابتدائی تعلیم ضلع نور اور تہران میں حاصل کرکے دینی علوم کی تکمیل کےلیے نجف اشرف  چلے گئے اور آٹھ سال تک حوزہ نجف کے بڑے علماء  مثلا  میرزا حبیب اللہ رشتی اور  شیخ راضی سے انہوں نے  فیض حاصل کیا، 1292ہجری میں سامرا کا رخ کیا اور میرزا شیرازی( انگریزی سامراج کے خلاف مشہور مبارز) کے اہم شاگردوں کے زمرے میں آئے، ان علماء کی تعلیم اور اپنی محنت کے بل بوتے شیخ فضل اللہ  کا شمار اپنے زمانے کے مشہور مجتہدین اور فقہاء میں ہوتا ہے، 1300ہجری کو تبلیغ دین کے سلسلے میں ایران واپس آئے اور میرزا شیرازی کے کہنے پر 1303ہجری سے شہر تہران میں سکونت اختیار کی،اسی دوران،انہوں نے سامراجی حکومت کے خلاف پہلا  قدم اٹھایا اور اس کے بعد   تنباکو کی تحریک  زور پکڑنے لگی۔
شیخ فضل اللہ ان  ابتدائی  علماء میں سے تھے جو مشروطیت سے متعلق انگریزی سامراج کی سازشوں سے واقف ہوۓ   اور پھر انہوں نے  عوام اور دانشور طبقے کو ان حقائق سے باخبر کرنے کی کوشش کی، ان  اقدامات کی وجہ سے انگریزی سامراج نے ان کو اپنے راستے سے ہٹانے  کی تدبیریں سوچیں، چنانچہ ان کو مشروطیت کے مخالف دکھانے کی کوشش کی۔
مشروطیت کی مخالفت
اگرچہ آغاز میں شیخ فضل اللہ نوری مشروطیت کے سرگرم اراکین میں سے تھے مگر جب انہوں نے دیکھا  کہ  پارلمینٹ کے قوانین  اسلامی اصولوں کے  برعکس مغربی اصولوں کے مطابق ہیں تو وہ  مشروطیت کی مخالفت کرنے لگے اور ایسی پارلیمینٹ کے قیام کے لیے جد و جہد شروع کی جس کے قوانین اسلامی اصول پر استوار ہوں۔
انہوں نے کئی بار کہا تھا: "قسم سے میں مشروطیت کے مخالف نہیں ہوں،بلکہ میں  ان بےدین لوگوں کے خلاف ہوں جو اسلام کے خلاف سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اورجو انبیاء(ع) اور اولیاء(ع) کی شان  میں  گستاخی اور ان کی توہین کرتے ہیں۔
آپ کے قلمی آثار
شیخ فضل اللہ نے تبلیغی ، تعلیمی،سیاسی اور معاشرتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کئی علمی کتابیں بھی  تحریر فرمائیں اور کچھ کتابوں پر شرح اور حاشیہ بھی لگایا،آپ کے بعض آثار مندرجہ ذیل ہیں:
1- بیاض(دعاء کی کتاب)
2- رسالہ فقہی فی قاعدة ضمان الید
3- صحیفة قائمیة (صحیفة مهدویة)
4- تحریم مشروطیت
علمی مقام
دوست اور دشمن، سب شیخ فضل اللہ کے علمی  مقام سے واقف تھے ،آپ دینی علوم کے کے علاوہ دیگر کئی علوم میں مہارت رکھتےتھے، چنانچہ شیخ کے ایک آشنا کا بیان ہے کہ:شیخ کے علمی شرف کے سبھی دوست اور دشمن قائل ہیں ،جب تک میں شیخ سے نہیں ملا تھا، میں یہی سمجھتا تھا کہ ان کی معلومات کا دائرہ صرف حوزوی علوم ، فقہ و اصول تک ہی محدود ہے ، لیکن جب میری ملاقات شیخ سے ہوتی تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں کسی علم کے دریائے بیکراں کے پاس بیٹھا ہوا ہوں،آپ تو علمی میدان میں نابغہ روزگار شخصیت ہیں۔(۱)
سیاسی سرگرمیاں
نھضت تنباکو میں وہ سب سے پہلے روحانی تھے جس نے  میرزائے شیرازی  کی حمایت میں قدم اٹھایا اور میرزائے شیرازی کے نمائندہ کی حیثیت سے لوگوں کی ہدایت کرنے میں کوشاں  رہے-
عدالتخانہ کی قیام کےلیے ان کا کردار بہت اہم تھا،عبدالعظیم میں تہران کے  علماء کا ایک عظیم اجتماع عمل میں آیا جن میں شیخ  فضل اللہ پیش پیش تھے ، جس کے سبب شاہ ایران  کو مجبوراً عدالتخانہ کا  قیام عمل میں لانا پڑا۔
شہادت

1328 ہجری میں مشروطہ خواہاں کی عدالت میں مشروطہ مشروعہ کے  جرم میں شیخ کو پھانسی کی سزا ملی، ان کی شہادت کے بعد انگریزی سامراج کا اصلی چہرہ لوگوں کو معلوم ہوا اور بہت جلد دوسرے علماء بھی پارلمینٹ سے نکالے گئے اور دین اور سیاست الگ ہونے کی راہ ہموار ہوگئی-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
 مكتوبات ، اعلامیه ها ، ... و چند گزارش پیرامون نقش شیخ فضل الله نورى ، محمد تركمان ، ج 2 ، ص 326
tebyan.net


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18