Friday - 2019 January 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183902
Published : 22/10/2016 19:13

کیا امام حسین علیہ السلام کو اپنی شہادت کا علم تھا ؟ اگرتھا تو کیوں آپ اپنے پاؤں چل کر،کربلاتشریف لے گئے؟

معتبر مدارک و مصادر بتاتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کو اپنی شہادت نیز ظاہری فتح و ظفر حاصل نہ ہونے کا علم تھا،آپ کے قیام کا مقصد حکومت یزید کے باطل ہونے کا اعلان،دین کا احیاء، فکری انحرافات و شبہات کو برطرف کرنا اور حکومت یزید کے مہلک ضربات سے اسلام کو نجات دینا تھا، امام حسین علیہ السلام کا کمال یہ تھا کہ آپ نے تدبیر و عقلانیت کے ساتھ کوفیوں کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے اپنی حقانیت کو اس طرح نمایاں کیا کہ ہر ایک پہ حجت تمام ہوگئی اور اپنے انقلاب کو مظلومیت سے اس طرح ملادیا کہ ظالموں کا گھناؤنا چہرہ طول تاریخ میں باقی رہے اور مٹنے یا ہلکا ہونے نہ پائے،لہٰذا یہ رنگ الٰہی شہادت و اسیری سے زندۂ جاوید ہوگیا۔

ولایت پورٹل:
کیا امام حسین علیہ السلام کو اپنی شہادت کا علم تھا ؟ اگرتھا تو کیوں آپ اپنے پاؤں چل کر قتل گاہ کی جانب تشریف لے گئے ؟ اہل تشیع کی احادیث و روایات کی بناپر، ائمہ طاہرین(ع) خدا کی طرف سے عطا کردہ علم غیب سے بہرمند تھے،خداوند متعال فرماتا ہے:«عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَداً اِلَّامَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَسُوْلٍ»۔(۱)
یہ آیت بتاتی ہے کہ علم غیب خدا سے اختصاص رکھتا ہے اور خدا کے علاوہ اسے کوئی نہیں جانتا لیکن اس بات کا امکان ہے کہ پروردگار متعال کی رضا و خوشنودی سے پیغمبر(ص) کو اس کا علم ہوجائے اور اس کا بھی امکان ہے کہ دوسرے لوگ خدا کی طرف سے یا پیغمبروں کے بتانے سے اس سے آگاہ ہوجائیں۔
علامہ طباطبائی (صاحب تفسیر المیزان )اس سلسلہ میں کہتے ہیں:امام حسین علیہ السلام (شیعۂ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق) پیغمبر اکرم(ص) کے تیسرے جانشین اور ولایت کلی کے مالک ہیں،حقائق خارجی اور حوادث و واقعات کا (ادلۂ نقلیہ و براہین عقلیہ کی روشنی میں )امام(ع) کو جو علم ہوتا ہے اس کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:یہ ہے کہ امام  ہر حال میں (اذن خدا سے) عالم وجود کے حقائق سے آگاہ ہوتا ہے خواہ وہ محسوسات کے دائرے میں آتے ہوں یا دائرۂ حس سے باہر ہوں جیسے آسمانی مخلوقات  ماضی کے واقعات اور مستقبل کے امور و حالات۔
دوسری قسم:عام علم کی ہے کہ پیغمبر ؐنیز امام ؑدیگر افراد کے مانند اختیار کی رہگذر میں اور عام علم کی بنیاد پر گامزن ہوتے ہیں اور جو مناسب سمجھتے ہیں اسے انجام دیتے ہیں۔(۲)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ امام(ع)کو جو ناقابل تغیر واقعات و حادثات کا قطعی علم ہوتا ہے اس سے جبر لازم نہیں آتا ہے جس طرح افعال انسان کے متعلق علم خدا سے جبر لازم نہیں آتا،اس لئے کہ خدا کی مشیت کا انسانوں کے اختیاری افعال سے جو تعلق ہوتا ہے وہ ارادہ و اختیار کے راستے سے ہوتا ہے یعنی خدا کو علم ہوتا ہے کہ انسان اپنے ارادہ و اختیار سے کون سے افعال انجام دے گا۔
امام حسین علیہ السلام کے متعلق بھی ہم جانتے ہیں اور بطور متواتر ثابت ہے کہ رسول اکرم(ع) اور امام علی علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر دی تھی،اور یہ روایات تاریخ و حدیث کی معتبر ترین کتابوں میں موجود ہیں،صحابہ،ازواج اور اعزاء و اقربائے پیغمبر(ص)ان روایات کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سن چکے تھے۔
اسی طرح جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا نیز جس وقت مکہ میں سفر عراق کا فیصلہ کیا تو اسلام کی بزرگ اور نمایاں شخصیتیں خوف و تشویش میں پڑ گئیں اور بڑی فکر مند ہوگئیں،اس بات کے مد نظر کہ وہ یقین سے جانتے تھے کہ پیغمبر اسلام(ص)کی احادیث کے مطابق،شہادت امام حسین علیہ السلام کے انتظار میں ہے،اور اس زمانے کے حالات بھی بہت تشویش ناک ہیں، جہان اسلام پر بنی امیہ کا غلبہ ہے،لوگوں کے دلوں میں ان کے ظلم وستم کا خوف و ہراس طاری ہے اور نفوس مسلمین میں رعب و دہشت سمائی ہوئی ہے وہ اس  بات سے کہ بنی امیہ کی ظالم حکومت سے مقابلہ کے لئے اٹھا جاسکے مایوس اور ناامید تھے،نیز عہد امیر المؤمنین(ع) و امام حسن علیہ السلام میں اہل کوفہ جن منزلوں سے گذرچکے تھے ان سب باتوں سے واضح ہوچکا تھا کہ امام حسین علیہ السلام مرگ و شہادت کی جانب سفر کررہے ہیں اور حالات کے دوسرے انداز میں اختتام پذیر ہونے کا امکان و احتمال بہت کمزور تھا۔
امام حسین علیہ السلام باربار اپنے قتل ہونے کی خبر دے رہے تھے لیکن آپ(ع) نے یزید کو برخاست کرنے،اسلامی ممالک پہ قبضہ کرنے اور حکومت تشکیل دینے کی بات نہیں کی،اگرچہ آپ(ع) ہر ایک کو اپنی نصرت و مدد کا،بیعت و اطاعت یزید سے انکار کا نیز اس کے خلاف انقلاب و شورش بپا کرنے کا مکلف اور ذمہ دار سمجھتے تھے،البتہ آپ جانتے تھے کہ اس طرح کا انقلاب برپا نہ ہوپائے گا،اور آپ کو خود ہی چند ساتھیوں کے ساتھ قیام کرنا اور شہید ہوجانا ہے،اسی لئے آپ(ع) اپنی شہادت کا لوگوں سے اعلان و اظہار کررہے تھے،کبھی ان لوگوں سے جو آپ ؑسے درخواست گزار تھے کہ سفر نہ کریں اور عراق تشریف نہ لے جائیں فرماتے تھے:میں نے رسول خدا(ص)کو خواب میں دیکھا ہے اور خواب میں مجھے ایک ماموریت (ذمہ داری)دی گئی ہے کہ اگر میں اسے انجام دوں تو زیادہ مناسب اور سزاوار ہے۔(۳)
کشف الغمہ میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ہم جس منزل پہ اترتے اور قیام کرتے میرے پدر بزرگوار جناب یحییٰ بن زکریاؑ کی شہادت کا ذکر کرتے چنانچہ ایک روز فرمایا:خدا کے نزدیک دنیا کی پستی و خواری یہ ہے کہ جناب یحییٰ کا سر مطہر کاٹاگیا اور بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کے پاس ہدیہ کے طور پر لے جایا گیا۔(۴)
مذکورہ بالا بیان کے مطابق تاریخ کے معتبر مدارک و مصادر بتاتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کو اپنی شہادت نیز ظاہری فتح و ظفر حاصل نہ ہونے کا علم تھا،آپ کے قیام کا مقصد  حکومت یزید کے باطل ہونے کا اعلان،دین کا احیاء، فکری انحرافات و شبہات کو برطرف کرنا اور حکومت یزید کے مہلک ضربات سے اسلام کو نجات دینا تھا، امام حسین علیہ السلام کا کمال یہ تھا کہ آپ نے تدبیر و عقلانیت کے ساتھ کوفیوں کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے اپنی حقانیت کو اس طرح نمایاں کیا کہ ہر ایک پہ حجت تمام ہوگئی اور اپنے انقلاب کو مظلومیت سے اس طرح ملادیا کہ ظالموں کا گھناؤنا چہرہ طول تاریخ میں باقی رہے اور مٹنے یا ہلکا ہونے نہ پائے،لہٰذا یہ رنگ الٰہی شہادت و اسیری سے زندۂ جاوید ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔وہ غیب کا جاننے والا ہے اور کسی کو اپنے غیب سے آگاہ نہیں کرتا ہے مگر اسی پیغمبر کو جس سے وہ راضی ہو ۔ سورۂ جن،آیت: ۲۶۔
۲۔ علی ربانی خلخالی، چہرہ درخشان حسین بن علی علیہ السلام ،ص :۱۳۴، ۱۴۰۔
۳۔ تاریخ طبری ، ج:۲، ص: ۲۹۲، الحسن و الحسین سطبا رسول اللّٰہ،ص ۹۱و ۹۲۔
۳۔ قمقام،ص ۳۵۹، نظم در السمطین،ص ۲۱۵،مزید معلومات کے لئے ذیل کی کتابوں کی طرف رجوع کریں:(۱)مقتل خوارزمی،فصل ۸، ص۱۶۰،اور، فصل ۹، ص ۱۸۷، و فصل ۱۰، ص :۲۱۸، ص ۱۹۱و ۱۹۲،(۲) طبری، ج۴، ص۳۱،(۳)کامل،ج۳، ص۲۷۸،(۴) قمقام زخار،ص ۳۳۳؛ اور اسی کتاب کا ص۲۶۳۔ ۲۶۴، (۵)تاریخ ابن اعثم،ص ۳۴۶۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2019 January 18